ہالینڈ میں مساجد اور قرآن پر پابندی کی تجویز

ہالینڈ میں ملک کی مقبول انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی ملک بھر میں مساجد اور قرآن پر پابندی لگا دینا چاہتی ہے ۔ پارٹی کے رہنما  گیرٹ وائلڈرز کا کہنا ہےکہ   اسلام کے خلاف لڑا جانا چاہیے ۔ ہالینڈ میں اس سال مارچ میں پارلیمانی  انتخابات ہوں گے۔ فریڈم پارٹی کے رہنما نے اعلان کیا ہے کہ  کامیابی کی صورت میں وہ ملک بھر میں تمام اسلامی علامات کو ختم کریں گے اور مساجد و قرآن پر پانبدی لگا دیں گے ۔

انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست فریڈم پارٹی نے صرف ایک صفحے پر مشتمل  انتخابی منشور جاری کیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ہالینڈ سے تمام اسلامی علامات اور ’’ اسلامیات‘‘ کو  مکمل طور پر اُلٹ دیا جائے گا ۔  پارٹی کی تجویز کے مطابق  تمام مساجد، اسلامی سکول اور پناہ گزینوں  کے مراکز بند کر دیے جائیں گے۔ اسلامی ملکوں سے ہجرت کرکے آنیوالے مہاجرین کو دور رکھنے اور ملک میں داخل نہ ہونے دینے  کے لیے ہالینڈ کی سرحدیں مکمل طور پر بند کر دی جائیں گی۔  خواتین کے لیے عوامی جگہوں پر ہر قسم کے حجاب و سکارف اوڑھنے پر اور قرآن پر پابندی  لگا دی جائے گی ۔ 

فریڈم پارٹی کے رہنما  گیرٹ وائلڈرز نے اپنی فیس بک پر قومی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنے پارٹی منشور کی تشہیر کرتے ہوئے  اپنے گیارہ  نکاتی پروگرام میں اسلام کو  سر فہرست رکھا ہے اور کہا ہے کہ وہ اسلامی رجحانات کے اظہار پر مکمل پابندی لگا دیں گے کیونکہ یہ ملکی دستور کے منافی اور متضاد ہیں۔ اسی انتخابی منشور میں  گیرٹ وائلڈرز نے ہالینڈ کو یورپی یونین سے الگ کرنے پر زور دیتے ہوئے ہالینڈ کی جانب سے غیر ممالک کو دی جانے والی ترقیاتی امداد   کو ختم کرنے اور ان وسائل کو ملک میں پولیس اور سیکورٹی سروسز کے لیے  استعمال کرنے کا اعلان بھی کیا ہے ۔

یورپ کے ایک دو ملکوں میں رونما ہوئے  دہشت گردی کے حالیہ واقعات کو جواز بناتے ہوئے فریڈم پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں لکھا ہے کہ  اسلام نے یورپ کو تباہی کے کنارے پرلا کھڑا کیا ہے اور دہشت گردی کے اِن واقعات نے اسلام  کے اصل چہرے کو بے نقاب کردیا ہے۔ اب اِس کا جواب دینے کا وقت آ گیا ہے۔ فریڈم پارٹی اس کے لیے اپنے تمام ذرائع بروئے کار لائے گی ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ شدت پسندی کا پرچار کرنے والے  انتہا پسند اماموں کا ملک میں داخلہ بند کردیا جائے گا اور جو ملک میں موجود ہیں اُن پر پابندی لگا دی جائے گی۔ اسی طرح دوہری شہریت رکھنے والے غیر ملکی پس منظر کے حامل  افراد کی ’’ ڈچ شہریت ‘‘ منسوخ کرکے انہیں ملک بدر کردیا جائے گا ۔

پارٹی رہنما  گیرٹ وائلڈرز نے کہا ہے کہ انہیں اپنے انتخابی منشور پر بڑا فخر ہے۔  فریڈم پارٹی اسلام کے خلاف لڑ رہی ہے اور یورپی یونین سے ہالینڈ کو باہر نکال کر اس کی سرحدیں بند کردینا چاہتی ہے۔ اس طرح بچائی جانے والی کھربوں ڈالر کی رقم اپنے لوگوں کی بہبود کے لیے صرف کرنا  چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہالینڈ کے لوگوں کے لیے  اُن کا یہی  پیغام ہے کہ ’’ ہالینڈ دوبارہ خود ہمارا اپنا ملک ہونا چاہیئے ۔‘‘ ہالینڈ میں دو روز قبل کیے گئے ’’ ایسپوس موری ‘‘ بیورو کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ اگر  آج انتخابات ہوں تو گیرٹ وائلڈرز کی فریڈم پارٹی پارلیمنٹ کی  ایک سو پچاس نشستوں میں سے ستائیس نشستیں حاصل کرکے ملک  کی  واحد بڑی پارٹی بن سکتی ہے۔ جب کہ  موجودہ حکمران لبرل پارٹی کو صرف پچیس نشستیں مل سکتی ہیں۔ یعنی وہ  سنہ 2012 میں کرائے گئے پچھلے انتخابات میں حاصل کی گئی اپنی اکتالیس نشستوں کو برقرار نہیں رکھ سکے گی ۔

ایک اور سروے میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ  لوگ چاہتے ہیں کہ   انتخابات کے نتیجے میں سنگل بڑی پارٹی بن کر ابھرنے کی صورت میں فریڈم پارٹی حکومت اور کابینہ میں شامل ہو لیکن ترپن فیصد عوام گیرٹ وائلڈرز کو ملک کے  وزیر اعظم  کے طور پر دیکھنا  پسند نہیں کرتے ۔ فروری  2009 میں برطانیہ کے وزیر داخلہ  جیکوئی سمتھ نے  گیرٹ وائلڈرز کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی ۔ وائلڈرز وہاں  اپنی تیار کردہ، اسلام مخالف  ایک فلم ’’ فتنہ ‘‘ دکھانا چاہتے تھے۔ برطانیہ کے اس اقدام پر رد عمل  کا اظہار کرتے ہوئے  گیرٹ وائلڈرز کو ڈنمارک میں مسلمانوں اور اسلام مخالف ڈینش پیپلز پارٹی  کئی بار مدعو کر چکی ہے۔ گیرٹ وائلڈرز نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں اور اسلام مخالف  اپنے متعصبانہ و منافقانہ نظریات کا اظہار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی تھی ۔

(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار  www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)