آج ترکی کہاں کھڑاہے

ترکی تیزرفتار سیاسی تبدیلیوں کا سامنا کررہا ہے۔ یہ سیاسی تبدیلیاں خطے اور اندرون ملک دونوں طرف برپا ہیں۔ 2002 میں جو ترکی انصاف وترقی پارٹی (AKP) کو ورثے میں ملا، اُس ترکی اور اِس ترکی میں اب واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے۔ ترکی کے دہانے پر اسّی کی دہائی سے 2003 تک تین بڑی جنگیں برپا ہوئیں جس میں لاکھوں انسان ہلاک ہوئے لیکن ترکی اِن تنازعات میں عملی اور ظاہری طور پر خاموش رہا۔

ایران وعراق جنگ ، پھر پہلی خلیجی جنگ جس میں امریکہ نے عراق کو کھوکھلا کر ڈالا۔ ترکی اس جنگ میں بطور مصالحت کار کوشش کرتا رہا کہ جنگ اس خطے کا مقدر نہ بنے۔ چوں کہ ترکی معاشی، اقتصادی، انسانی اور جمہوری ترقی کے سفر پر گامزن تھا۔ اور پھر دوسری خلیجی جنگ جس میں امریکہ زبردستی عراق پر چڑھ دوڑا، اس جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی اور اندرونی سیاست ہی بدل دی۔ امریکہ کا اہم ترین اتحادی ترکی، نیٹو کا رکن، اس جنگ میں نہ صرف لاتعلق رہا بلکہ اس نے امریکہ کی اربوں ڈالرز کی امداد ٹھکرا دی کہ ہم امریکی افواج کو سرزمین ترکی سے عراق میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ لیکن اب ترکی اُس زمانے کا ترکی نہیں رہا۔ جنگیں اس کی سرحدوں پر لڑی جارہی ہیں۔ شام کی خانہ جنگی جس میں ترکی ایک اتحادی کے طور پر بھی شامل ہے اور اس میں اپنے لیے ایک کردار کی تلاش میں بھی کہ وہ شام کے اندر ترکمان قوم کا محافظ بن کر اپنا حصہ حاصل کرے۔ اسی طرح موصل، عراق میں بھی جہاں ترک افواج براہِ راست آپریشن میں شامل ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر بڑی جنگ مذہبی دہشت گردی کی ہے جو اَب سرحد پار کرکے انقرہ، استنبول اور ازمیر جیسے بڑے شہروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

دھماکے اور خودکش حملے، سفارت کاروں کا قتل، پُرامن لوگوں کا لقمۂ اجل بنانا، ترکی کو گھائل کرتا جا رہا ہے۔ یہ کہنا کہ ترکی کو نظر لگ گئی ہے، بالکل غلط ہے۔ ترکی کو درحقیقت ’’ہاتھ لگ گئے‘‘ ہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں بکھر جانے والی ترک قوم نے یہ سبق حاصل کیا تھا کہ جنگیں اور علاقائی تنازعات مسائل کا حل نہیں بلکہ خود مسئلہ ہیں، اس لیے دوسری جنگ عظیم میں ترکی جنگ سے لاتعلق رہا اور پھر سرد جنگ میں امریکہ کا اہم اتحادی ہوتے ہوئے بھی، سابق سوویت یونین اور مشرقی یورپ کو چھوتی سرحدوں کے باوجود علاقائی تنازعات اور عالمی طاقتوں کا آلۂ کار بننے سے گریز کرتا رہا کہ اسی میں ترکی کی بقاء تھی۔ یہی ترکی 2002 تک دنیا کے لیے ایک مثال بن کر ابھرا۔ اسی امن پالیسی نے ترکی کو معاشی اور اقتصادی ترقی کی منازل کو چھونے کے قابل بنا ڈالا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس سیاسی سفر نے اسے ایک شاندار جمہوری ملک اور جمہوری سماج میں ڈھلنے کے قابل بھی بنایا۔

جدید اور شاندار فوج رکھنے کے باوجود ترکی کے اندرفوجی تسلط Militarization نہیں بلکہ جمہوریت پسندی Democratization پنپنے لگی۔ ترک ریاست سیکولر اور ڈیموکریٹک سفر کرتے کرتے ایک سوشل ویلفئر اسٹیٹ  Social Welfare State بنتی چلی گئی۔ 2002 تک ترکی کی اندرونی سیاست میں سوشل ڈیموکریسی بہت طاقتور جڑیں پکڑنے کے بعد پھل دینے لگی تھی۔ اس کے لیے جہاں سیاسی جماعتوں نے اپنا اپنا حصہ ڈالا، وہاں ترکی کے دانشوروں اور مفکروں نے بھی اپنی فکر سے سماج کو آمرانہ خیالات سے نکال کر انسانی اور جمہوری خیالات سے آبیاری کی۔ ترکی میں سوشل ڈیموکریسی  ری پبلکن پیپلزپارٹی (CHP) کی مرہونِ منت ہے، جس کے بانی ترک قوم کے بانی اتاترک ہیں۔ اس پارٹی کا سفر ترک قوم پرستی کے تنگ نظر خیالات سے سوشل ڈیموکریسی کی طرف نوّ ے سالوں کی تاریخ رکھتا ہے۔ بعد میں اسے عصمت اِنونو نے پروان چڑھایا اور سب سے بڑھ کر بلند ایجوت نے جنہوں نے ترکی کو جمہوریت اور سوشلزم کے اسکینڈے نیوین تصور سے قریب کردیا۔ انہوں نے پہلے ری پبلکن پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے یہ فریضہ انجام دیا اور پھر ایک نئی پارٹی DSP (ڈیموکریٹک لیفٹ پارٹی) بناکر یہی کام کیا۔

ترکی کی نوے سالہ سیاسی تاریخ کا مطالعہ ہم پر آشکار کرتا ہے کہ اس قوم کی ترقی، جدیدیت، ڈیموکریٹائزیشن، سیکولرائزیشن اور معاشی ترقی کے سفر کے سبب ہوئی۔ قومیں کبھی بھی معجزوں سے ترقی نہیں کرتیں۔ ترک قوم کے نوے سالوں کا مطالعہ ہمیں آگاہ کرتا ہے کہ اس قوم کا جمہوری، معاشی طور پر مضبوط اور امن پسند ملک بننے کا سفر کس قدر کٹھن تھا۔ پچھلی دہائی کے آغاز میں ترکی کی جمہوری، سماجی اور معاشی ترقی کی داستان ہمارے ہاں پہنچی تو اکثر لوگوں نے اسے معجزہ قرار دیا۔ ایسا نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب ترکی جنگوں ، تنازعات اور خون وآگ کے دہانے تک کیسے پہنچا۔ چار سال قبل ایک عالمی نشریاتی ادارے کو میں نے اس حوالے سے ایک انٹرویو دیا، جس کو ترکی کے معروف اخباروں نے بھی شائع کیا اور فرنٹ پیج پر جگہ دی۔ اس وقت ترکی میں مذہبی دہشت گردی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ترکی کے مستقبل کے حوالے سے خطرات کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے اسے میں نے Pakistanization of Turkey قرار دیا۔ کہ جیسے پاکستان نے 1979 میں امریکی سرپرستی میں افغان جہاد میں ہراول دستے کا فریضہ سرانجام دیا تھا، آج ترکی ایسے ہی شام کے حوالے سے کردار ادا کررہا ہے اور اس کے نقصانات شام کو جو ہونے ہیں وہ تو ہوں گے ہی، سب سے بڑا نشانہ خود ترکی بنے گا۔ علاقائی تنازعات میں حصہ داری کرکے۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے مابین اس قوم کو کمزور کرکے اس خطے کو جنگ میں جھونکنا چاہتی ہیں جس میں ترکی تک میدانِ جنگ پھیلانا درکار ہے اور اس طرح روس کے دہانوں تک خطے کو جنگ زدہ کرنا شامل ہے۔ امریکہ، ترکی، سعودی عرب، قطر، کویت سمیت متعدد ممالک اس اتحاد میں شامل ہیں جو شام کے مسلح باغیوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس مداخلت کا حتمی نشانہ ترکی بنے گا۔

راقم کی اس رائے کو ترکوں نے بہت سنجیدگی سے لیا ۔ ذرا دیکھیں، آج ترکی اور روس مل کر خطے میں ان خطرات کا مقابلہ کررہے ہیں۔ آئیں ذرا غور کریں، ترکی اور خطہ کس تیزی سے سیاسی تبدیلیوں سے دوچار ہے۔ نومبر 2015 کو ترکی کے ساحلی شہر انطالیہ میں G20 کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر پوتن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو کانفرنس کے دوران خلائی شٹل کے ذریعے اتاری گئی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا، ’’یہ دیکھیں ISIS کے دہشت گردوں سے خریدا گیا تیل کن آئل ٹینکرز کے ذریعے کہاں پہنچایا جارہا ہے۔‘‘ انہوں نے اس کانفرنس سے روس واپسی پر بھی کہا کہ یہ تیل ترکی پہنچایا جا تا ہے اور پھر ترک بندرگاہ جیہان سے مغربی ممالک کو۔ اسی تنازعہ میں ترکی نے روسی جیٹ طیارہ مار گرایا۔ ماسکو انتظامیہ کے مطابق، اس کے طیاروں نے ایسے ایک ہزار ٹرک ان حملوں میں تباہ کیے جو شام کے دہشت گردوں کے زیرانتظام علاقے سے تیل لاد کر ترکی سے یورپ تک جیہان پائپ لائن کے ذریعے پہنچاتے تھے۔ روسی طیارہ گرائے جانے کے بعد روس ترکی جس طرح ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہوئے، آج وہ صورتِ حال بالکل بدل چکی ہے۔

روس ترکی تعلقات میں بہتری کا آغاز اور خطے کے حوالے سے تبدیل ہوتی ترک پالیسی گزشتہ سال اپریل میں بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے رنگ لائی جس میں ترکی کے معروف کمالسٹ لیڈروں نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ماسکو سے رابطہ اور انقرہ میں قائم حکومت کو آگ کے اس کھیل سے آگاہ کیا جس کے شعلے انقرہ اور استنبول کو چھونے لگے تھے۔ اگست 2016 میں ترک صدر  طیب اردوآن کا دورۂ ماسکو اسی بیک ڈور ڈپلومیسی کا نتیجہ تھا جو 15جولائی 2016 کی ناکام فوجی بغاوت سے بہت پہلے شیڈول ہوچکا تھا اور اس بغاوت سے پہلے صدر طیب اردوآن نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور دمشق حکومت کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ ایک پریس کانفرنس میں دے دیا تھا۔ روسی طیارہ گرائے جانے اور انطالیہ میں G20 کانفرنس میں ترکی اور روس ایک دوسرے کے سامنے جنگی حالت میں کھڑے نظر آتے تھے اور اب شام میں دہشت گردوں کے خلاف باہم صف آراء ہیں۔ یقیناًیہ معاملات کو حل کرنے کی طرف اہم اقدامات ہیں۔

لیکن کیا ان اقدامات کے بعد ترکی اپنی 2002 والی پوزیشن میں واپس آجائے گا۔ یہ سوال سب سے اہم ہے۔ اور اس کے ساتھ کیا روس، ترکی کی سلامتی کا محافظ بن کر سامنے آیا ہے کہ اپنے علاقائی مفادات کے لیے۔  اگر ہم ترک سیاست اور ترکی روس تعلقات کے پانچ سو برسوں کی تاریخ سے آگاہ ہوں تودونوں کے جوابات زیادہ مشکل نہیں ہیں ۔ ترکی کی طاقت، اس کے اندرونی استحکام، ترقی اور جمہوریت سے ہے جو پارلیمانی جمہوریت اور سوشل ڈیموکریسی سے جڑی ہوئی ہے۔ آج ترکی کے اندر ایک طبقہ صدارتی نظام کو ترکی کی بقا تصور کرتا ہے تو دوسرا طبقہ پارلیمانی جمہوریت ، آزاد پریس اور عوامی جمہوریت کو۔ اس کا جواب بھی موجود ہے کہ 2002 کے ترکی اور 2017 کے ترکی میں کیا فرق ہے۔

15جولائی 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی مسلسل ایمرجینسی کے تحت چل رہا ہے۔ کیا اسی طرح ترکی کو آگے چلنا ہے؟ کیا 15جولائی 2016 کی ناکام بغاوت کے ترکی میں جمہوری قوت Democratic Authority مضبوط ہوئی ہے کہ اختیارات کا ارتکاز Centralized Authority؟ ایک ملٹی ڈیموکریٹک ریاست میں ایمرجینسی کس قدر قوم اور سماج کو متحد رکھ سکتی ہے۔ آج کے ترکی میں آئے روز دھماکے، دہشت گردی کے واقعات کو قبل از 2002 اور بعد از 2002 کی سیاسی صورتِ حال میں دیکھیں تو راز کھلتا ہے کہ کیا ترکی زیادہ استحکام، سلامتی، ترقی، جمہوریت اور امن اپنے ہاں لیے ہوئے ہے۔ جس ترکی کو دنیا حیرت سے دیکھتی تھی، 2002 سے قبل کا ترکی یا بعد از 2002 سے آج تک۔ چودہ سال ایک پارٹی کی مسلسل حکومت اِس ترکی کی قیادت کررہی ہے جو آج ہمارے سامنے موجود ہے۔