2017: یورپ میں تبدیلیوں کا سال
سال رواں کے دوران ہالینڈ، فرانس اور جرمنی میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ امکان ہے کہ اٹلی میں بھی انتخابات ہوں گے ۔ ماہرین ابھی سے کہہ رہے ہیں کہ ان انتخابات میں جو کوئی بھی اقتدار سنبھالتا ہے ایک بات یقینی ہے کہ یورپ کا سیاسی جغرافیہ بدل جائے گا۔ ان انتخابات کے یورپ کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے لیے یورپ میں پھیلتی ہوئی قومیت پرستی اور یورپی یونین کے متحدہ ڈھانچے کی مخالف تحریکیں بھر پور کردار ادا کریں گی ۔
گزشتہ سال برطانیہ نے یورپی یونین سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد امریکی انتخابات نے یورپ میں ایک سیاسی کھلبلی مچا دی ہے۔ ان دونوں واقعات کا یورپی یونین کے اتحاد پر گہرا اثر مرتب ہؤا ہے۔ فرانس ، ہالینڈ اور جرمنی کے ساتھ ساتھ اٹلی میں امسال کرائے جانے والے انتخابات کے سلسلے میں انتخابی تحریکوں میں قومیت پرستی کا رجحان فروغ پارہا ہے۔ یورپی یونین کے خلاف احتجاج کرنے والی عوامی آوازوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ خواہ یہ آوازیں لگانے والی سیاسی پارٹیاں اقتدار میں نہ آئیں، ان کی جدوجہد کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا ۔ مبصرین متفق ہیں کہ یورپی اتحاد پر شک و شبہ کا اظہار کرنے والی پارٹیاں خود اقتدار میں تو نہیں آ سکتیں لیکن وہ ان ممالک میں حکومت سازی کے عمل میں نہ صرف شامل ہوں گی بلکہ حکومت میں کچھ حصہ داری بھی حاصل کرلیں گی۔ پھر بر سر اقتدار پارٹیوں کو حکومتیں چلانے کے لیے بہت ہی محتاظ رہنا ہوگا اور پھونک پھونک کر قدم اٹھانےہوں گے ۔ اس لیے 2017 کا سال فرانس، ہالینڈ اور جرمنی کے سیاستدانوں کے لیے ایک بہت اہم سال ہوگا۔ جس میں یورپی اتحاد، ملکوں کے قومی بجٹ، امیگریشن اور خارجہ پالیسیوں ، نیٹو میں ان ملکوں کا کردار، غیر ممالک کے لیے ترقیانی امداد وغیرہ سبھی کچھ تبدیل ہو سکتا ہے ۔ یورپ بھر کے لیے یہ سب کچھ ایک بہت بڑا دھچکہ ہوگا ۔
فرانس میں 23 اپریل اور 7 مئی کو کرائے جانے والے مرحلہ وار صدارتی انتخابات میں دائیں بازو کی قومیت پرست نیشنل فرنٹ کی مارینے لی پن امیدوار ہیں تو ان کے مد مقابل ریپبلکن پارٹی کے سابق وزیر اعظم فرانکویس فیلون ہیں ۔ لی پن کی کامیابی ( جیسا کی آثار دکھائی دیتے ہیں ) یورپ کو منقسم کر دینے کی شروعات کر سکتی ہے ۔ وہ روس کی حد درجہ حامی ہیں ۔ اگرچہ اُن کی کامیابی پر سوالیہ نشان بھی لگایا جا رہا ہے۔ لیکن اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ انتخابات کے بعد فرانسیسی سیاست پر بھرپور طریقے سے اثر انداز ہونے کی طاقت حاصل کر لیں گی ۔ کیونکہ ریپبلکن یورپی یونین کو متحد رکھنے کی کوشش کریں گے اور اس سے لی پن خود کو مضبوط بنانے کے لیے کافی کچھ حاصل کرنے اور ریپبلکن پر پیچھے سے وار کرنے کی اہلیت حاصل کر سکتی ہے ۔ فرانسیسی انتخابات میں قومی داخلہ پالیسی، مہاجرین، قومیت پرستی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ فرانسیسی تمدنی و ثقافتی اقدار کا پلڑا یورپی سیاست سے کہیں زیادہ بھاری ہے ۔ روس کے ساتھ لی پن جیسی قومیت پرست رہنما دوستی اور یکجہتی کا اظہار کررہی ہے۔ اس کے مقابلے میں اُن کے مد مقابل امیدوار فرانکویس فیلون محتاط اور ایک دوررس پالیسی اپنائے ہوئے ہیں جو فرانس کے موجودہ سوشلسٹ صدر فرانکولس ہولینڈ کی پالیسیوں سے مختلف ہے۔ وہ اسی وجہ سے روس کے معاملے میں زیادہ کھل کر بات نہیں کرتے ۔ کیونکہ انہیں خوف ہے کہ اس طرح سچ باہر آجائے گا اور روس کے متعلق اُن کی روائتی معاندانہ پالیسیاں سامنے آ جائیں گی اور اس کا فائدہ لی پن ہی کو ہوگا ۔
لی پن اور فیلون دونوں کے درمیان صرف روس ہی نہیں یورپی یونین، نیٹو اور قومی اقتصادی پالیسیوں پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے ۔ فالین ان میں تبدیلیوں کے خواہاں ہیں جسے انہوں نے اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنایا ہے ۔ وہ سرکاری اخراجات میں زبردست کمی کرنے کے حامی ہیں اور ہفتہ وار اوقات کار کو 35 گھنٹوں تک کرنے کے خلاف ہیں اور اس وجہ سے وہ کافی مقبول بھی ہیں۔ لی پن اسی معاملے پر اُن کے خلاف حملہ زن ہے ۔ مبصرین متفق ہیں کہ اگر دوسرے انتخابی مرحلے میں لی پن کو فیلون کا سامنا کرنا پڑا تو لی پن کے لیے یہ ایک زبردست موقع ہوگا کیونکہ بائیں بازو کے عناصر جو منقسم ہیں، وہ فیلون کو پسند نہیں کرتے اور اِس وجہ سے وہ انہیں ووٹ نہیں دیں گے۔ ممکن ہے کہ وہ احتجاج میں لی پن ہی کو ووٹ دے دیں ۔ اور یہ عمل یورپی یونین کے خلاف ایک زبردست بم دھماکہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لی پن فرانس میں ’’ یورو ‘‘ کے بارے میں ریفرنڈم کرانا چاہتی ہے جو یورپی سنگل کرنسی کے لیے ہی نہیں یورپی یونین کے اندرونی تجارتی و کاروباری نظام کے لیے بھی سخت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ عملاً لی پن اس طرح کے ریفرنڈم تبھی کرا سکتی ہے جب اسے پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہو۔ صدارتی انتخابات کا نتیجہ کچھ بھی ہو، اس تجویز کی پارلیمانی منظوری شاید ممکن نہ ہو ۔
صدارتی امیدوار فرانکویس فیلون جرمنی کے ساتھ مضبوط تعلقات کے زبردست حامی ہیں اور فرانسیسی شہریوں کے سیاسی رویوں کو بھی کسی حد بہتر جانتے ہیں۔ وہ ہوا کا رخ دیکھ سکتے ہیں ۔ لہٰذا وہ اس معاملے کو انتخابی بحث کا موضوع بنانے کی بجائے سماجی بہبود کے امور پر زیادہ زور دیتے ہوئے شہریوں کو بھلے دنوں کی آمد کا عندیہ دیں گے ۔ روس اور جرمنی کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اگر لی پن اور فرانکویس فیلون کا موازنہ کیا جائے تو لی پن ابھی تک اس بات کو ترجیح دے رہی ہیں کہ امریکہ کے (منتخب) صدر ٹرمپ کیا رخ اختیار کرتے ہیں ۔ البتہ وہ یہ کہہ چکی ہیں کہ روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور پر اعتماد مستقبل ان کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ اور نیٹو کے بارے میں بھی وہ اعلان کر چکی ہیں کہ فرانس کو نیٹو دفاعی اتحاد میں کم سے کم شامل ہونا چاہیے اور اس کے متعلق وہ اپنی حتمی پالیسی کے اعلان کے لیے امریکہ کے نئے صدر ٹرمپ کی جانب سے لیے جانے والے اقدامات تک انتظار کریں گی ۔
ہالینڈ میں 15 مارچ کو انتخابات کرائے جائیں گے اور فرانس کی طرح یہاں بھی ایک غیر یقینی کی صورت حال پائی جا رہی ہے۔ ہالینڈ کی ایک سو پچاس نشستوں پر مشتمل پارلیمنٹ میں اکثریت کسے حاصل ہوگی اس کے لیے موجود لبرل وزیر اعظم مارک روٹے اور انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست، اینٹی اسلام فریڈم پارٹی کے گیرٹ وائلڈرز کے درمیان سخت مقابلہ ہے ۔ لیکن ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی اس قابل دکھائی نہیں دیتا کہ وہ پارلیمانی اکثریت حاصل کرلے۔ اس لئے جیتنے والے کو حکومت سازی کے لیے دوسری پارٹیوں پر انحصار کرنا ہی پڑے گا ۔ عوامی رائے کے سروے نت نئی پشینگوئیاں کرتے اور سیاسی پنڈت پینترے بدلتے ہیں۔ لیکن ان سب میں ایک بات مشترک ہے یعنی گیرٹ وائلڈرز کی فریڈم پارٹی تیس سے پنتالیس نشستیں حاصل کر سکتی ہے اور اس کے مقابلے میں لبرل کے مارک روٹے پچیس سے تیس نشستیں حاصل کر سکتے ہیں۔ دوسری پارٹیاں ملا کر بیس نشستیں حاصل سکتی ہیں۔ یوں وہ گیرٹ وائلڈرز ہوں یا مارک روٹے انہیں حکومت بنانے کے لیے اِن پارٹیوں کی پارلیمانی حمایت درکار ہوگی ۔ ہالینڈ میں اگرچہ مخلوط حکومت کا قیام کوئی عجیب بات نہیں لیکن مارک روٹے کو اس وقت جن پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے، کیا وہ انتخابات کے بعد اُن کی جیت کی صورت میں اُن کا ساتھ دیں گی؟ اس پر ابھی سے سوالیہ نشان لگایا جا رہا ہے ۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ مارک روٹے انتخابات کے بعد مخلوط حکومت بنائیں گے بشرطیکہ اس کا انہیں موقع ملا ۔ مارک روٹے کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ فریڈم پارٹی کے گیرٹ وائلڈرز کو دور رکھا جائے لیکن یہ سب کچھ اب رائے دہندگان پر منحصر ہے۔ جیسا کہ آثار دکھائی دیتے ہیں یہاں گیرٹ وایلڈرز کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔
جرمنی میں انتخابات اکتوبر میں ہونے والے ہیں لیکن امکان ہے کہ یہ ستمبر ہی میں کرا دئے جائیں گے۔ کنرزرویٹوو چانسلر انجیلا مرکل چوتھی بار چانسلر کے عہدے کے لیے بطور امیدوار ان میں حصہ لیں گی۔ ہر چند کہ انہیں سخت مخالفت کا سامنا ہے اور ان کی امیگریشن پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے مہاجرین کے لیے جرمنی کی سرحدیں کھول کر ملک میں دہشت گردوں کو لا بسایا ہے، اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایک مخلوط حکومت بنانے اور یوں چانسلر کا عہدہ برقرار رکھنے کے قابل ہوجائیں ۔ لیکن یہ مخلوط حکومت قائم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ وہ اب بھی مخلوط حکومت کی سربراہ ہیں لیکن انتخابات تک یہ ’’ سیاسی اتحاد ‘‘ کوئی بھی رنگ اختیار کر سکتا ہے ۔ فی الوقت اقتدار میں شامل تینوں پارٹیاں رائے دہندگان میں اپنی مقبولیت کھو رہی ہیں اور قومیت پرست اور انٹی امیگرنٹس قوتیں سر اٹھا رہی ہیں ۔ انجیلا مرکل جرمنی میں یورپی یونین کی مخالفت کرنے اور امیگریشن پالیسیوں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف ڈٹی ہوئی ہیں اور اپنی پالیسیوں کا دفاع کر رہی ہیں ۔ ایک سروے کے مطابق اگر آج انتخابات کرائے جائیں تو انجیلا مرکل اور ان کی دوسری دو اتحادی پارٹیوں کو پنتالیس فیصد ووٹ مل سکتے ہیں اور اس صورت میں انہیں حکومت سازی کے لیے کسی ایک اور پارٹی کی حمایت درکار ہوگی۔ انہوں نے ابھی ہی سے اپنی نرم و اعتدالانہ امیگریشن پالیسیوں کو سخت کرنا شروع کر دیا ہے لیکن ان پالیسیوں کو مزید سخت کرانے کے لیے اُن پر مختلف ریاستوں میں نہ صرف اپنی ہی پارٹی کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے بلکہ حزب اختلاف کی پارٹیاں بھی ان پالیسیوں کو سخت کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈال رہی ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ انجیلا مرکل اگر انتخابات جیت گئیں اور انہوں نے حکومت بنا بھی لی تو بھی انہیں مستقبل میں سیاسی نظام چلاتے ہوئے قدم قدم پر دشواریوں کا سامنا رہے گا ۔
فرانس، ہالینڈ اور جرمنی میں انتخابات کے بعد کون اقتدار سنبھالتا ہے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات یقینی ہے کہ یورپ کا سیاسی جغرافیہ بدل جائے گا اور یورپ کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے لیے یورپ میں پھیلتی ہوئی قومیت پرستی اور یورپی یونین کے متحدہ ڈھانچے کے خلاف چلنے والی تحریکیں بھر پور کردار ادا کریں گی ۔
(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)