ذہنی صحت سنگین مسئلہ ہے

ذہنی خرابی اور دماغی صحت وغیرہ ایسے امراض ہیں جن کی گرفت میں آنے کے بعد انسان اپنے آپ میں پریشان اور دوسروں سے الگ تھلگ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سارے لوگ اس مرض کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں جس سے وہ مزید پریشانیوں میں الجھ جاتے ہیں۔ اس لئے متعدد معاشروں میں اسے  سماجی برائی قرار دیا جاتا ہے۔ یوں اس مرض کا شکار لوگوں کے لئے  زندگی یا تو عذاب بن جاتی ہے یا وہ تنگ آکرخود کشی کرلیتے ہیں۔

عام طور سے ہر انسان اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی ذہنی یا دماغی صحت کے مسئلے سے دو چار ہوتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں مثلاً بچپن میں جنسی اذیت یا غفلت سے دو چار ہونا، سماجی تنہائی، قریبی رشتہ دار کی موت ، پریشانیوں سے گزرنا، غربت یا قرض میں ڈوب جانا ، بے گھر ہوجانا، بے روزگار ہونا، خاندانی جھگڑوں میں الجھنا، سماجی دباؤ ، ذہنی دباؤ، بیمار رہنا اورنشہ کی عادت  وغیرہ عام ذہنی صحت کا مسئلہ ہے۔ ایک مطالعہ کے مطابق ان حالات کے علاج کے لئے زیادہ تر لوگ ادویات کا استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ بہت کم لوگ نفسیاتی تھراپی سے استفادہ  کرتے ہیں۔

اسی مسئلے پر سوموار کو برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے اعلان کیا کہ ذہنی صحت کے روّیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے یہ بات بچّوں اور نوجوانوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہی ہے۔  وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ دماغی صحت کو مزید سدھارنے کے لئے اساتذہ کو اضافی تربیت دی جائیگی اور کمیونٹی کی دیکھ بھال کے لئے 16315 ملین پونڈ کا مزید فنڈ فراہم ہوں گے۔ اس کے علاوہ کام کی جگہ پر ذہنی صحت کے مسئلے سے دوچار لوگوں کو سہولیات بہم پہنچانے کے انتظام کئے جائیں گے۔ تھریسا مے کا یہ اعلان ان کی اس بات سے منسلک ہے جس میں انہوں نے ملک کو ایک اشتراکی سماج بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ذہنی صحت کو خطرناک طریقے سے نظر انداز کیا گیا ہے۔

چیریٹی کمیشن کے آفس سے اپنی تقریر میں وزیر اعظم نے کہا کہ ذہنی صحت کے سدھار کے لئے کئی ٹھوس قدم اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے اس کی تفصیل یوں بیان کی کہ ہائر سکنڈری اسکول کو ذہنی صحت سے منسلک فرسٹ ایڈ کی تربیت دی جائے گی۔ جس میں یہ سکھایا جائے گا کہ کس طرح ذہنی تکلیف کی علامات کی شناخت کی جائے ۔  اسکول اور ہسپتال کے ماہر اسٹاف کے مابین آزمائش کے طور پر رشتوں کو مزید بہتر بنایا جائےگا۔ 2021 تک کسی بچے کو اپنے علاقے کو چھوڑ کر ذہنی صحت کے مسائل کے علاج  کے لئے دور نہیں جانا پڑے گا۔ (Charity Mind) چیریٹی مائنڈ کے چیف ایگز یکیٹو کی مدد سے کام کی جگہوں کا جائزہ لیا جائے گا کہ کس طرح ان جگہوں پر ذہنی صحت کی سہولیات کو بہتر بنایا جائے۔ (employers) آجروں اور تنظیموں کے اسٹاف جو ذہنی صحت سے دوچار ہیں ان کو کام سے وقفہ لینے کے لئے اضافی تربیت دی جائےگی ۔ کمیونٹی کی دیکھ بھال کے لئے مقامی کلینک کا شروع کئے جائیں گے۔  تاکہ لوگ مقامی ڈاکٹر کے پاس اور (A&E) اے این ای میں نہ جائے۔ ایک آن لائن سروس کا آغاز کیا جائے گا جس کے ذریعہ لوگ ابتدائی مرحلے میں ڈاکٹر سے ملنے سے پہلے اپنی پریشانیوں کے بارے میں جان سکے گے ۔

حکومت نے بتایا ہے کہ برطانیہ میں ہر چار میں سے ایک انسان اپنی زندگی میں ذہنی خرابی کی شکایت کرتا ہے جس میں حکومت کو سالانہ کثیر مصارف برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ چودہ سال کی عمر کے پچاس فیصد نوجوان غیر متانسب طور پر ذہنی صحت کے مسائل سے متاثر ہیں جبکہ اٹھارہ سال کے نوجوانوں میں یہ شرح بڑھ کر 75 فی صد ہوجاتی ہے۔ ہیلتھ سیکریٹری جیریمی ہنٹ نے کہا کہ بچوّں اور نوجوانوں میں ذہنی صحت کا مسئلہ کافی تشویس ناک ہے اور اس کے لئے فوری طور پر اقدام اٹھانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کی کئی وجوہات ہیں مثلاً سوشل میڈیا، سائبر غنڈہ گردی اور خود کو نقصان پہنچانے والے قدم اور خود کشی وغیرہ ایسے مسئلے ہیں جس سے والدین بڑے پیمانے پر فکر مند ہیں۔

ذہنی صحت کی چیریٹی (Sane) سین نے کہا کہ’ اس پلان کو کامیاب بنانے کے لئے کافی حد تک فنڈ کو بڑھانا ہوگا ‘جبکہ (Mind) مائنڈ نے کہا ’وزیر اعظم کا ذہنی صحت سے منسلک اس بات کا اعلان کرنا ہی ایک اہم قدم ہے‘۔ ڈاکٹر سنگیتا مہاجن کا بیس سالہ بیٹے نے اس وقت اپنی جان لے لی جب ڈاکٹروں نے اسے (bipolar disorder) تشخیص کیا تھا۔ ڈاکٹر سنگیتا کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی جان نہ جاتی اگر اچھی سروس تک ان کی رسائی ہوتی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مریضوں کو مناسب معلومات کے بغیر ڈسچارج کیا جاتا ہے جس کے بعد ہمارے لئے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ اگر کچھ ہو تو مقامی ڈاکٹر کے پاس جائیں یا ہسپتال کے اے این ای ڈپارٹمنٹ میں جائیں۔ ہمارے پاس ماہر سروس سے رسائی کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا جو کہ غلط ہے۔

اس طرح ایک اور مثال انیس سالہ فیونا ہولینگس کی ہے جسے(Eating disorder) کھانے کی خرابی کی شکایت پر گلاسگو میں علاج کیا جا رہا تھا۔ جبکہ فیونا کا گھر گلاسگو سے چار سو میل دور (High Wycombe) ہائی ویکمب میں تھا۔ جس کی وجہ سے فیونا کے گھر والوں کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور انہیں فیونا کو دیکھنے کے لئے لمبے سفر کو طے کرنا پڑتا تھا۔ 23 سالہ سارہ میچل کو جب ذہنی صحت کا مسئلہ ہوا تو وہ ایک کمپنی میں (Recruitment consultant) کے طور پر کام کرتی تھی۔ سارہ کہتی ہیں کہ وہ ہمیشہ ایک خوش خرّم سارہ جانی جاتی تھی۔ ایک ایسی سارہ جو ہمیشہ مسکراتی رہتی تھی اور جسے کیک بنانا بے حد پسند تھا۔ لیکن ایک دن انہیں جب اپنی ذہنی پریشانیوں کا احساس ہوا تو وہ دنگ رہ گئی۔ سارہ کو اپنی ذہنی صحت کے مسئلے کا علم تب ہوا جب ایک دن وہ آفس جا کر کمپیوٹر کو آن کرتی ہے اور تبھی اس کے سینے میں درد ہوا ۔ اس وقت سارہ سمجھی  کہ اسے دل میں کوئی تکلیف ہے ۔ سارہ جب ڈاکٹر کے پاس گئی تو اسے پتہ چلا کہ اسے (panic attack) گھبراہٹ کا دورہ پڑا ہے۔ بعد میں سارہ کو ذہنی دباؤ کی تشخیص اور پھر (bipolar disorder) کا مرض بتا گیا۔ سارہ کا کہنا ہے کہ بچپن میں اسے ذہنی دباؤ کا سامنا ہوا تھا۔ لیکن نہ ہی تو اس کے گھر والے اور نہ ہی اس نے اس پر دھیان دیا تھا۔ سارہ کی ذہنی دباؤ کی ایک وجہ اس کی دادی کی موت تھی جن سے وہ بے حد پیار کرتی تھی۔ سارہ نے اپنی ذہنی دباؤ کو پوشیدہ رکھا اور آخر کار ایک دن اسے (breakdown) شدید ذہنی دباؤکا سامنا کر نا پڑا۔ سارہ نے چھ مہینے کام سے چھٹّی لے لی اور بعد میں کام چھوڑ کر اپنی صحت کو ٹھیک کرنے میں دھیان دینے لگی۔ کچھ سالوں بعد سارہ فر ی لانس مصنف بن گئی اور اب وہ ذہنی طور پر صحت مند ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

(NHS Digital) این ایچ ایس ڈیجیٹل کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک نوجوان عورت کو بے چینی اور ذہنی دباؤ  کی شکایت ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ہر آٹھ میں سے ایک نوجوان آدمی کو یہ تکلیف ہوتی ہے۔ نوجوان عورتوں میں خود ایذا رسائی، کشیدگی اور بائی پولر خرابی کی شکایت عام طور پر پائی جاتی ہے۔ نوجوان مرد اور عورتیں جب کام کاج کرنے کی عمر کو پہنچتے ہیں تو اس وقت انہیں عام طور پر اقتصادی غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان لوگوں کو ان مسائل سے منسلک تجربوں سے گزرنا پڑتا ہے جو ان کے لئے ذہنی دباؤ کا  سبب بن جاتا ہے۔ جیسے قرض کا بوجھ، بے روزگاری اور غربت جیسی پریشانیاں عام ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر سماجی اور ماحولیات  کا بھی دباؤ ہوتا ہے ۔ یہ تمام باتیں ان کی فلاح و خوشحالی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

19% فی صد نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ان کی ذہنی صحت کا مسئلہ  نظم و ضبط کمی اور حالات پر کنٹرول کے فقدان کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک مطالعہ کے مطابق زیادہ تر ذہنی صحت سے پریشان لوگوں کے ساتھ عام لوگوں کا رویّہ اچھا نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کے ساتھ تعصّب بھی برتا جاتا ہے۔ تاہم ہیومن رائٹس ایکٹ کے تحت ذہنی صحت سے پریشان لوگوں کو کافی راحت ملی ہے اور وہ روایتی طور پر ذہنی صحت کے اداروں سے نکل کر عام لوگوں کی طرح اپنی مرضی کی زندگی گزارنے لگے ہیں۔

یہ جاننے کی ضرورت ہےکہ سماج میں ذہنی پریشانی سے متاثر لوگ کن دشورایوں سے گزر رہے ہیں اور ان کو سماج کس نگاہ سے دیکھتا ہے۔ برطانیہ کی وزیر اعظم  نے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے لوگوں کویہ پیغام دیا ہے کہ ذہنی صحت سے پریشان لوگ ہم سے الگ تھلگ نہیں ہیں۔ بلکہ وہ بھی ہمارے درمیان ایک انسان ہیں ۔ ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان کو سماج کا ایک اہم حصّہ ماننا ہمارا فرض ہے۔