ترک تجزیہ کاروں کے سوال

یوں تو ترک عوام اور تجزیہ کار شام کی خانہ جنگی میں ترکی سمیت اسلامی ملکوں کے کردارکے حوالے سے کئی اہم سوالات اٹھا ر ہے ہیں لیکن میں یہاں صرف تین سوالات کا زکر کروں گا۔ پہلا سوال ترکی کی اپنی سلامتی کے بارے میں ہے۔ دوسرا شامی مہاجرین اور تیسرا مشرق وسطی کے مستقبل سے متعلق کیا جا رہا ہے۔

گو کرد عرصہ دراز سے شام، عراق اور ترکی میں اپنے مطالبات منوانے کے لیے انتہائی جار حانہ سیاسی رویہ اپنائے ہوئے ہیں لیکن شام میں خانہ جنگی کے بعد ترکی میں کردوں کی سیاسی قوت میں اضافہ ہوا ہے۔ کرد سیاسی طور پر ایک صوبے تک محدود تھے لیکن اب ان کی ایچ ڈی پی ایک قومی سیاسی پارٹی بن چکی ہے، جس کی پارلیمنٹ میں 59 سیٹیں ہیں۔ کردوں کی عسکری تنظیم پی کے کے کی قوت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وہ کسی بھی لمحے کسی بھی جگہ کسی بھی نوعیت کی کارروائی کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ اسلام کی بد نامی کا باعث بننے والی دہشت گرد  تنظیم جو اسلامی ریاست کی دعویدار ہے وہ بھی اعلانیہ طور پر ترک حکومت کے خلاف کاروائیوں میں ملوث ہے۔

پی کے کے اور اسلامی ریاست کی دعویدار تنظیم کے نظریات بظاہر بالکل مختلف ہیں لیکن دونوں ترکی کی پالیسی کے خلاف ہیں۔ اگر شام کے صدر بشار الاسد  کے خلاف لڑنے والی اتحادی تنظیمیں شامی صدر کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں (جس کے فی الحال کوئی اثار نظر نہیں آ رہے) تو ان کا رویہ بھی ترک حکومت کے ساتھ ایسا ہی ہوگا جیسا افغانستان کا پاکستان کے ساتھ ہے۔ اہل فکر و دانش کہتے ہیں کہ شام میں امریکی پالیسی اگر کامیاب ہو بھی گئی تو ترکی کو وہی کچھ ملے گا جو پاکستان کو افغانستان میں امریکہ ۔ سوویت جنگ سے ملا۔ اس لئے ترک عوام سوچتے ہیں کہ مستقبل قریب میں انہیں امن نصیب نہیں ہوگا۔ تین سال قبل ترک لیرے کی قیمت پاکستانی چون روپے تھی اور آج اٹھائیس روپے ہے۔ اس کی واحد وجہ شام کی خانہ جنگی ہے جسے شروع کرنے والے امریکہ کی کرنسی کی قیمت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔

ترکی کا دعوی ہے کہ شام سے اب تک پانچ ملین مہاجرین ترکی میں داخل ہوئے ہیں جن میں سے کچھ یورپ جانے کے باوجود بے شمار ابھی ترکی میں موجود ہیں۔ ان کی وجہ سے ترکی میں بہت زیادہ مہنگائی ہوئی ہے۔ ترک تجزیہ کار سوال کرتے ہیں کہ شامی مہاجرین کو کسی بھی عرب ملک نے قبول کیوں نہیں کیا۔ حالانکہ مذہب زبان اور کلچر کے لحاظ سے عرب ریاستیں ان کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے تھیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر شامی مہاجرین کی نگہداشت اور آبادکاری کے لئے عرب ریاستوں پر زیادہ اخلاقی فرض عائد ہوتا تھا جو ادا نہیں کیا گیا۔ حالانکہ عربوں کے پاس ترکی کی نسبت زیادہ وسائل ہیں۔

مشرق وسطی کے مستقبل کے حوالے سے ترک تبصرہ نگار کہتے ہیں کہ ترکی سمیت اس خطے کی کسی بھی ریاست کے پاس پالیسی نہیں ہے۔  بے چارے عوام یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ امن فی الحال ان کا مقدر نہیں۔ اس وقت اس خطے کے تمام مسائل و تنازعات کی وجہ یہاں کے لوگوں کے باہمی  اختلافات نہیں بلکہ بیرونی قوتوں کی مداخلت اور ان کا ایجنڈا ہے۔ اس خطے کے نااہل سیاستدان اس ایجنڈے کاحصہ بنے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں مسلمان عوام کو حوصلہ دینے والا کوئی نہیں۔ البتہ بڑکیں مارنے والے بے شمار ہیں۔

ایک سال قبل تک ترک صدر اردگان کسی بھی جگہ مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر ظالم کو للکارا کرتے تھے لیکن آج جنگ ان کے گھر تک پہنچ چکی ہے ۔ وہ اپنی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں۔ انہیں اپنے اندرونی مسائل میں الجھا کر کسی دوسرے کی مدد کے بارے سوچنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا گیا۔  برائے نام اسلامی ریاستوں کے حکمرانوں کے پاس کوئی واضع پالیسی تھی نہ ہے اگر کسی کے پاس کوئی پالیسی ہے تو وہی قوتیں ہیں جنہوں نے اسلامی دنیا کا امن تباہ و برباد کر رکھا ہے۔

یہ مایوسی نہ ہی سہی مگر ایک تلخ حقیقت ضرور ہے۔ اس حقیقت کو ہمیں اس سوچ کے ساتھ تسلیم کرنا چائیے کہ کوئی مسئلہ تب ہی حل ہوتا ہے جب اسے مسئلہ مانا جائے۔ ہماری اجتماعی قیادت کے فقدان کے علاوہ ایک اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل ان فورمز پر حل کے لیے لے جاتے ہیں جو ہمارے استحصال کے لیے قائم کئے گئے ہیں۔ غیر جمہوری سیکورٹی کونسل نے آج تک کسی کو سیکورٹی نہیں دی  لیکن چھینی ضرور ہے۔ جموں کشمیر، فلسطین، عراق، افغانستان اور کئی دوسری مظلوم اقوام کے حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کا کردار سب کے سامنے ہے۔ پھر بھی اگر ہم اس سے امید لگائے رکھیں تو ہماری اپنی غلطی ہے۔ اﷲ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔