یہ پیکیج بھی کیا کر لے گا ؟

  • تحریر
  • جمعہ 13 / جنوری / 2017
  • 5455

الیکشن کی نزدیکی کا کرشمہ ہے ، واقعی حکومت کو گرتی ہوئی ہوئی برآمدات پر ترس آ گیا ہے یا بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے وزیر خزانہ کا دل پسیج گیا ہے۔ وجہ جو بھی ہو وزیر اعظم نے براآمدات میں اضافے کے لیے اس ہفتے 180 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا۔ ہماری یاد داشت کی کمزوری کا بھی کچھ قصور ہے اور کچھ گزشتہ ایک آدھ سال میں اعلان ہوئے پیکیج د ر پیکیج کی افراط کے سبب ہمیں یہ یاد رکھنے میں دقت پیش آرہی ہے کہ حکومت کی فیاضی کے ہاتھوں نحیف خزانے سے کتنے سو ارب روپے مزید لڑکھڑاتے ہوئے کسی نئے سیکٹر کو دے کر حکومت نے اسے بچا لیا۔ جس دلسوزی سے وزیر خزانہ ایسے مواقع پر بتاتے ہیں کہ اس پیکیج پر حکومت کو اتنے سو ارب کا نقصان برداشت کرنا پڑا، ہماری ہمدردیاں پیکیج لینے والوں سے زیادہ ان کے ساتھ ہوجاتی ہیں۔

محاورتاّ ہی سہی ، حکومت کو پائی پائی جمع کیے گئے ٹیکس میں سے اگلے اٹھارہ ماہ کے دوران ایک سو اسی ارب روپے کی نذر نیاز کیوں دینا پڑی؟ معاملہ ہی کچھ ایسا تھا، ایک آدھ سال کا معاملہ ہوتا تو نظر انداز کیا جا سکتا تھا لیکن یہ معاملہ تو ٹلنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ برآمدات میں مسلسل کمی نے حکومت کے لیے سر دردی کھڑی کر دی ہے۔ 2013 کے دوران پا کستان کی برآمدات پچیس ارب ڈالر کے لگ بھگ تھیں۔ جو گرتے گرتے 2015-16 میں بیس ارب ڈالر ز سے بھی کم رہ گئی ہیں ۔ رواں مالی سال میں بھی کمی کا یہ رجحان جاری ہے۔ اس دوران یورپی یونین کی طرف سے جی ایس پی پلس کے سہارے نے برآمدات کو سہارا دیے رکھا ورنہ یہ کمی اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔ اس دوران درآمدات میں کمی نہ ہوئی۔ درآمدات بدستور چوالیس ارب ڈالر کے لگ بھگ رہیں۔ یوں اس وقت پاکستان کی کل برآمدات درآمدات کا چھیالیس فی صد مہیا کر سکتی ہیں۔ اس دوران ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کا بھرم بیرون ملک ترسیلات زر نے برقرار رکھا جس کا کل حجم لگ بھگ برآمدات کے برابر ہے۔ اگر یہ غیبی امداد بدستور ساتھ نہ دیتی تو تجارتی خسارے کا کیا حال ہوتا، نہ سوچنے ہی میں عافیت ہے! سو، صورتحال اس قدر گھمبیر ہو رہی تھی کہ حکومت کو برآمدات کو سہارا دینے کے لیے یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔

برآمدات میں جمود یا دیگرترقی یافتہ ممالک میں برآمدات میں اضافے کے رجحان کے برعکس ہمارے ہاں برآمدات کا نہ تو کلچر فروغ پا سکا اور نہ حکومتی پالیسیاں برآمدات دوست رہیں۔ بقول ایک ماہر معیشت ہمارے ہاں عملاٌ اینٹی برآمدات اور اینٹی مینوفیکچرنگ رجحان پایا جاتا ہے۔ انتہائی کم امپورٹ ٹیرف، دراّمدات کے لیے آسانیوں اور چین کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے کے بعد گزشتہ چند سالوں میں ٹریڈنگ ہی زیادہ پرکشش اور منافع بخش رہی۔ رہا ملک کا مینوفیکچرنگ کا شعبہ تو اس پر براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار اور انرجی کی گھٹتی بڑھتی سپلائی اور قیمتوں اور درآمدات و سمگلنگ نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومت، انہیں ہر چلتے کاروبار میں ٹیکس وصولی کا امکان دکھائی دیتا ہے۔ دنیا بھر میں ٹیکسوں کی کم شرح سے کاروبار کو بھی زندہ رہنے دیا جاتا ہے اور ٹیکس نیٹ کو بھی با سہولت پھیلایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ سیلز ٹیکس کے لیے پہلا ہندسہ ہمارے پالیسی سازوں کو سولہ فی صد یاد ہے۔ فائدہ یہ کہ دیکھتے ہی دیکھتے دستاویزی سیکٹر سے اربوں جمع ہو جاتے ہیں۔ ری فنڈ کی باری آتی ہے تو محکمے کے بدعنوان عناصر اپنا بھتہ وصول کیے بغیر واپسی نا ممکن بنا دیتے ہیں۔ اگر ان کے جبڑوں سے ری فنڈ پاس ہو جائے تو حکومت کے خزانے سے چیک جاری نہیں ہو سکتا کہ ان کے ہاں ٹیکس وصولی کے ٹارگٹ خطرے میں آجاتے ہیں۔ شور شرابا ہوتا ہے تو حکومت کمال احسان کرکے بقایا جات کی واپسی پر داد طلب بھی ہوتی ہے۔ برآمدات کے لیے اس پیکج کے اعلان پر وزیر خزانہ نے کمال فیاضی سے اعلان کیا کہ حکومت نے گزشتہ سال جون تک کے ری فنڈ کی واپسی کا اہتمام کر دیا ہے۔ پی پی پی کے سینیٹر اور سابق وزیر نے یونہی تو نہیں کہا کہ حکومت اگر تمام واجب الادا ٹیکس تاجروں اور صنعتکاروں کو واپس کر دے تو اس پیکج کی ضرورت نہیں رہے گی۔

اسلام آباد کے پالیسی ساز حلقوں میں برآمدات میں اضافہ ترجیح نہیں ورنہ یہ عالم نہ ہوتا کہ پاکستان کی برآمدات کا تناسب کل جی ڈی پی میں گرتے گرتے فقط سات فی صد کے لگ بھگ رہ جاتا۔ جو 2000 میں پندرہ فی صد تھا۔ ترقی پذیر ملکوں میں یہ شرح بڑھانے پر زور لگایا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا، والا معاملہ بدستور حکومت بعد حکومت چلا آ رہا ہے۔ ویت نام کی برآمدات کا کل جی ڈی پی میں تناسب 90 فی صد ہے، کمبوڈیا میں 68 فی صد ہے۔ بھارت میں دو ہزار میں یہ تناسب تیرہ فی صد تھا جو اب بڑھ کر 23 فی صد ہو چکا ہے۔ انڈونیشیا اور سری لنکا میں یہ تناسب 21 فی صد ہے۔ بنگلہ دیش نے یہ تناسب بڑھا کر 17 فی صد کر لیا ہے۔ یہ صورت حال یک دن یا ایک سال میں پیدا نہیں ہوئی۔ ایک کے بعد ایک حکومت کا سارا زور خزانے کو ڈنگ ٹپاؤ انداز میں بھرنے اور اپنا وقت گزارنے پر رہا ۔ جانے والے الزام اپنے سے پہلوں پر  ڈال کر اپنی وقت گزاری کے جتن کرتے رہے۔ یوں دھیرے دھیرے برآمدات کا تناسب گرتے گرتے اس خوفناک حد تک پہنچ چکا ہے۔

تسلیم کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران تیل اور اجناس کی گرتی ہوئی قیمتوں نے عالمی مارکیٹوں میں طلب اور رسد کو بری طرح متاثر کیا ہے لیکن اعدادوشمار یہ بتاتے ہیں کہ برآمدات میں اضافے کے لیے دنیا کے ممالک میں سخت مقابلہ ہے۔ گزشتہ پچاس ساٹھ سال میں ترقی کا ایکسپورٹ پر مبنی ماڈل ہی کامیاب پایا گیا۔ ایشیائی ٹائیگرز ممالک ہوں یا حالیہ سالوں میں ابھرتی معیشتیں مثلاٌ ویت نام، بنگلہ دیش، سب نے برآمدات کے ذریعے اپنی غربت دور کرنے اور معیشت کو پیروں پر کھڑا کرنے کا راستہ اپنایا۔ لیکن پاکستان کا معاملہ دنیا سے الٹ ہے۔ 2000 کے بعد عالمی تجارت میں تقریباٌ تین گنا اضافہ ہوا۔ اس دوران بھارت کی برآمدات میں چھ گنا اضافہ ہوا۔ بنگلہ دیش کی برآمدات میں سات گنا اور ویت نام کی برآمدات میں گیارہ گنا ہوا۔ ترکی کی برآمدات میں اضافہ کم ہوا لیکن پھر بھی ساڑھے چار گنا اضافہ ہوا۔ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ بمشکل دو گنا ہو سکا۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس دوران دنیا کہاں کہاں سے جا پہنچی اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔

مانا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان میں امن و امان کی صورت حال ایک آزمائش سے کم نہ تھی لیکن مسلسل کم ویلیو برآمدی اشیاء پر انحصار نے برآمدات میں آنے والے سالوں میں بھی کوئی معرکہ آرا اضافے کا امکان نہیں چھوڑا۔ ہماری برآمدات میں ٹیکسٹائل کا حصہ پچپن فی صد کے لگ بھگ ہے لیکن اس شعبے سے حکومتی دل بستگی کا یہ عالم ہے کہ اس کی وزارت کو مدت سے وزیر ہی نصیب نہیں۔ دو ٹیکسٹائل پالیسیاں بنیں۔ دونوں میں پانچ سالوں میں ٹیکسٹائل کی برآمدات کو پچیس ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا لیکن وزارت خزانہ سے درکار فنڈز وقت پر ملے، نہ دیگر پالیسی اقدامت بر وقت ہوئے۔ سو، فقط ٹیکسٹائل کی برآمدات پچیس ارب ڈالرز تک کیا بڑھتیں۔ کل برآمدات ہی بیس ارب ڈالر تک آ گریں۔ حالیہ ٹیکسٹائل پیکج میں بھی ستاسی فی صد حصہ ٹیکسٹائل کے لیے مختص ہے جبکہ برآمدات میں اس کا حصہ پچپن فی صد ہے۔ کاٹن کی پیداوار سے لے کر برآمدات کی ترجیحات تک تضادات ہی اصل کہانی ہے۔

گزشتہ دو ٹیکسٹائل پالیسیوں کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ڈھاک کے وہی تین پات۔ تین سال کے انتظار اور برآمدات میں مسلسل کمی کے بعد اس برآمدی پیکیج سے کیا نتیجہ سامنے آئے گاَ، وقت ہی بتائے گا۔ لیکن ہماری کم ویلیو ایکسپورٹ اشیاء اور حکومتی پالیسیوں کے بانجھ پن کے ساتھ اس مسابقت بھری دنیا کے مقابلے میں یوں ایک آدھ پیکج سے برآمدات میں انقلاب برپا ہونا ممکن نہیں۔ زمانہ تو کب کا قیامت کی چال چل چکا۔