وہ سچ میں پاگل تھا
- تحریر میاں وقاص ظہیر
- جمعہ 13 / جنوری / 2017
- 7205
وہ پڑھا لکھا تھا ، محنتی تھا ، لیکن حالات کا ڈسا ہوا تھا ۔ وہ بچپن میں سہانے خواب دیکھا کرتا جس میں خود کو کسی سلطنت کا حکمران تصور کرتا۔ بچپن کی خیالی دنیا کے بارے میں وہ اکثر مجھے اپنی ملاقات کے دوران بتاتا۔ وہ کہتا کہ میں بچپن میں دیکھا کرتا تھا کہ میرے پاس بہت سا مال ومتاع ہے۔ میری شہرت کے چرچے نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرون ملک میں بھی ہیں۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب وہ تصوراتی دنیا سے باہر نکل کر عملی دنیا میں داخل ہوا ، تو بقول اس کے ‘میرے خواب شیشے کی طرح ٹوٹ کرریزہ ریزہ ہو گئے۔ اس کے ہزاروں ٹکڑوں میں مجھے نہ جانے زندگی کے کتنے بھیانک چہرے نظر آئے۔‘ وہ کہتا ہے کہ میں جب بھی اکانچ کے ٹکڑوں میں کسی بھی چہرے کا جائزہ لیتا ہوں تو ڈر کر پیچھے ہٹ جاتا ہوں۔ ہر چہرہ قاتل ، ہر چہرہ مفادات کا غلام ۔
آج بھی وہ میرے پاس خبروں پر تبصرے سننے اور اپنا تبصرہ سنانے آیا تھا۔ سارا دن روزی روٹی کے چکرمیں بے چارہ ٹی وی نہ دیکھ پاتا، نہ ہی اخبار پڑھنے کا موقع ملتا۔ کہتا ہے اکثر چلتے چلتے سٹالوں پر لگے اخبار کی شہ سرخیاں ضرور پڑھتا ہوں۔ مجھے مذاق سوجھا۔ میں نے طنزیہ اس سے پوچھا کہ آج تم نے کونسی شہ سرخی پڑھی ہے ۔۔۔ دیمے ۔۔۔ چلو اس پر تبصرہ کرتے ہیں۔ کہنے لگا آپ کو یاد ہے چند روزقبل قصور کی معمر خاتون زہرا جناح ہسپتال میں صرف اسی لئے مر گئی کہ اسے ڈاکٹر تو دور کی بات، ہسپتال میں بستر بھی نصیب نہیں ہوا۔
میں نے کہا ہاں وہ واقعہ میرے علم میں ہے۔ لیکن اس میں کونسی نئی بات ہے۔ یہاں پنجاب کارڈیالوجی سے لے کر گنگارام ، لیڈی ولنگڈن ، سروس ہسپتال سے جنرل ہسپتال سمیت لاہور کا مجھے کو ئی ہسپتال ایسا بتا دو جہاں بستر پورے ہوں ، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف ، پروفیسرز، کا ہونا تو ایک الگ مسئلہ ہے۔ یہ تو ایک واقعہ ہے جو منظر عام پر آگیا اور میڈیا نے اسے پیش کیا تو عوام کو پتہ چل گیا۔ یہاں تو روزانہ جانے کتنی زہرا اسی طرح ہسپتال تڑپ تڑپ کر جان دے دیتی ہیں۔ جبکہ انتظامیہ تو کیا عوامی مینڈیٹ کا پرچار کرنے والے پتھردل حکمرانوں کے کان پر جون نہیں رینگتی۔
’بات طویل ہو گئی۔ ہاں تم کونسی شہ سرخی مجھے سنانے والے تھے ۔‘
’جناب ۔۔ شہباز شریف زہرا کے گھر گئے ہیں انہوں نے ان کے اہل خانہ نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ انسانیت سوز واقعہ ہے۔ اس پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی ۔‘
’ دیمے ۔۔۔ تم کیا چاہتے ہوکہ شہباز شریف کے اس بیان سے ہم مطمئن ہوجائیں ۔ ایسے بہت سے سیاسی بیان ہوتے ہیں جن کی اوقات صرف ایک دنسے زیادہ کی نہیں ہوتی ۔ رات گئی اور بات گئی ۔ اگلے دن کوئی اور خبر موضوع بحث بن جاتی ہے ، اور پچھلا واقعہ سمندر برد ہوجاتا ہے۔ ‘
میں نے دیمے کو چھیڑتے ہوئے کہا کہ اگر تمہیں حکومت کرنے کاموقع دیا جائے تو تم ایسے گلے سڑے ، کرپٹ، بوسیدہ نظام کو بدل دو گے؟ عوام کے حقوق کے لئے کون سے ایسے اقدامات ہوں گے جس سے حقیقی معنوں میں اس ملک کو ترقی کی پٹری پر ڈالا جاسکتا ہے ۔
میرے سوالات سن کر وہ غصہ میں آگیا ۔ وہ جذباتی ہو گیا۔ کہنے لگا کہ ملکی ترقی کے لئے میں سب کی سوچ بدل دوں گا وہ سچ میں پاگل تھا۔۔۔