نشہ باز بھی قابل احترام ہوتے ہیں
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- اتوار 15 / جنوری / 2017
- 5675
نرس دوڑتی ہوئی آئی ۔۔۔ ند یم ندیم وہ چوتنتیس نمبر کمرے والا مریض بہت غصے میں ہے اور سب کو گالیاں دے رہا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں نرسوں پہ حملہ ہی نہ کر دے۔ پلیز ذرا آنا۔ میں نے کہا کہ وہ کسی کو نہیں مار سکتا وہ بے چارہ تو چل پھر نہیں سکتا کسی کو کیا مارے گا۔ لیکن میں پھر بھی آتا ہوں۔
میں چونتیس نمبر کمرے میں گیا۔ مریض بیڈ سے ٹانگیں نیچے لٹکائے، دونوں کہنیاں اپنے گھٹنوں پہ اور سر دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھے بیٹھا تھا۔ اس کے عمر پچاس سال کے لگ بھگ تھی۔ بیماری اور نشے کی عادت کی وجہ سے بہت نحیف تھا۔ میں نے اسے ہائے کہا۔ اس نے سر اوپر اٹھا کے غصے سے مجھے دیکھا۔ میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے اپنا تعارف کرایا۔ وہ ہاتھ ملانے کے بعد ایک دم مجھ پر برس پڑا۔ اور ایک ہی سانس مجھے کھری کھری سنا دیں۔ میں نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے کہا کہ میں یہاں کا انچارج ہوں۔ تم اپنی شکایت مجھے تسلی سے بیان کرو، میں اس کا ازالہ کروں گا۔ یہ کہتے ہوئے میں اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ اسے جو شکایات تھیں اس نے کھل کے بتائیں۔ اتفاق سے اس کی شکایات میں سے زیادہ تر درست تھیں۔ میں نے اسے یقین دلایا کہ اب ایسا نہیں ہوگا۔ اس کے بعد میں روز اس کے پاس جاتا اور خبر گیری کرتا۔ یہاں تک کہ میری اور اس کی کافی بے تکلفی ہوگئی۔ اس کا رویہ سب کے ساتھ دوستانہ ہوگیا۔ پھر وہ کچھ دنوں بعد وارڈ سے ڈسچارج ہو گیا۔
ایک ہفتے بعد اس کی میرے پاس او پی ڈی میں اپوائنٹمنٹ تھی۔ وہ آتے ہی مجھے نہایت گرمجوشی سے ملا۔ میں نے اسے چیک وغیرہ کیا۔ چیک اپ سے فارغ ہونے کے بعد اس نے پوچھا کہ ڈاکٹر تم مجھے بد اخلاق آدمی سمجھتے ہو؟ میں نے کہا بالکل نہیں۔ کہنے لگا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں بہت غصے والا ہوں۔ بہت بد اخلاق ہوں۔ سب کی نظر میں ایک بگڑا ہوا نشہ باز ہوں۔ لیکن کبھی کسی نے میرے اندر جھانک کے نہیں دیکھا کہ میرے اندر کیا ہے۔ مجھے اس کی باتیں سن کے تجسس ہوا۔ میں نے اسے کہا کہ تم مجھے اپنی بپتا سنا سکتے ہو۔ وہ گویا ہوا کہ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ اس کا باپ بچپن میں فوت ہو گیا۔ اس کی ماں نے دوسری شادی نہ کی اور اس کی دیکھ بھال کرتی رہی۔ وہ بھی اپنی ماں کے بہت قریب تھا۔ اس کے لئے اس کی ماں ہی سب کچھ تھی۔
اسے میوزک کا بہت شوق تھا۔ اس نے جاز میوزک سیکھا۔ اور آہستہ آہستہ کنسرٹس میں حصہ لینے لگا۔ جس سے اسے اچھی خاصی آمدنی ہو جاتی تھی۔ پھر اس نے اپنی البمز جاری کیں جو بہت مشہور ہوئیں۔ کہنے لگا کہ اس نے اس طرح بہت دولت کمائی۔ میں ہمہ تن گوش اس کی آپ بیتی سنتا رہا۔ پھروہ اچا نک چپ ہو گیا۔ میں نے کہا کہ سناؤ آگے کیا ہوا۔ وہ نگاہیں نیچے کئے زمین کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اور اس کے چہرے پر کرب کے آثار ظاہر ہونا شروع ہگئے۔ وہ اپنی سانسیں مجتمع کرکے گویا ہوا۔ پھر میری دنیا اجڑنی شروع ہوئی۔ سب سے پہلے مجھے بیماری نے آن لیا اور بیماری بھی ایسی کہ گانا مشکل ہوگیا۔ میں نے پھر صرف دھنیں بنانی شروع کر دیں۔ میرا وہ کام بھی ٹھیک چل نکلا۔ لیکن شاید اب میرے برے دن شروع ہو چکے تھے۔ جن کا کوئی اختتام نظر نہیں آ رہا۔ پھر میری ماں بیمار ہو گئی۔ اس سے پہلے کہ مجھے سمجھ آتی کہ اسے کیا ہؤا ہے، وہ مجھے تنہا چھوڑ کے اس دنیا سےچلی گئی۔
یہ بات بتاتے ہوئےاس کی سانسیں پھر اکھڑنے لگیں۔ اس کی آنکھوں سےآنسو جاری ہو گئے۔ وہ رکا اور اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بولا۔ پھر میرا زندگی پر کوئی کنٹرول نہ رہا۔ میری ماں ہی میرا سب کچھ تھی۔ وہ نہ رہی تو میری زندگی میں اندھیرا چھا گیا۔ میں نے ماں کے علاوہ زندگی میں کوئی رشتہ نہیں دیکھا تھا۔ نہ باپ نہ بہن بھائی اور نہ میں نے ماں کی خاطر شادی کی۔ لہذا میں با لکل تنہا ہوگیا۔ ماں کے جانے بعد میں نے نشے میں پناہ ڈھونڈی۔ میں نشہ کرتا رہا۔ دھنیں بناتا رہا۔ لیکن سکون نہ ملا۔ زندگی کے کچھ سال اسی طرح گزر گئے۔ پھر میں نے ہمت کی اور نشہ چھوڑ دیا۔ لیکن اب صحت اتنی گر چکی تھی کہ میں ڈاکٹروں کے پاس چکر لگاتا رہتا ہوں۔ اب میں زندگی بہتر کرنا چاہتا ہوں لیکن حالات ابھی بھی میرے حق میں نہیں۔ پھر اس نے ایک فقرہ بولا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا:
کہنے لگا ‘ڈاکٹر! نشہ باز بھی انسان عام انسانوں جسے معزز ہوتے ہیں۔ بس وہ غلط راستے اختیار کر لیتے ہیں اور اپنی زندگیاں تباہ کر لیتے ہیں۔‘
یہ فقرہ سنتے ہی میری آنکھوں میں بھی آنسو ابھر آئے۔ اس نے نظر اٹھائی اور مجھ سے کہنے لگا تمہیں کیا ہوا ہے۔ میں نے کہا کچھ نہیں ۔ کہنے لگا ہم ڈاکٹر مریض بھی ہیں، لیکن ہم انسان بھی ہیں۔ اور ہماری زندگی کی کہانیاں ملتی جلتی ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو اپنے دکھ سنا سکتے ہیں۔ میں نے تمہیں اپنی کہانی سنائی ہے اب تم بھی اپنے آنسوؤں کا سبب بتاؤ۔
میں نے اسے بتایا کہ میرے دو بچے تھے ایک بیٹی اور ایک بیٹا۔ بیٹی بڑی تھی۔ جب وہ گیارہ سال کی تھی اور بیٹا آٹھ سال کا تھا۔ ہم لوگ بازار جا رہے تھے۔ بیٹی گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ بیٹھی تھی اور بیٹا اگلی نشست پر۔ بازار جاتے ہوئے ہم ایک ٹریفک سگنل پر رکے۔ جب ہم وہاں کھڑے تھے تو سامنے سے ایک نشہ کرنے والا گزرا۔ میرا بیٹا پوچھتا ہے بابا نشئی اچھے لوگ نہیں ہوتے؟ میں اپنی سوچوں میں گم تھا۔ میں نے بھی کہہ دیا کہ ‘ہاں وہ اچھے لوگ نہیں ہوتے۔‘ میری بیٹی نے یہ سنتے ہی اگلی دونوں سیٹوں کے درمیان سے سر آگے نکال کے مجھے کہا: ‘بابا یہ غلط بات مت کریں۔ نشہ باز بھی معزز لوگ ہوتے ہیں۔ صرف وہ غلط راستہ اختیار کر لیتے ہیں اور اپنی زندگی تباہ کر لیتے ہیں۔ لیکن وہ اسی طرح عزت کے حقدار ہیں جیسے میں اور آپ ہیں۔ بابا آئندہ ایسی بات نہ کرنا۔‘
میں اپنی گیارہ سالہ بیٹی کی یہ بات سن کہ چونک گیا اور خوش بھی ہوا کہ میری بیٹی کی سوچ اتنی مثبت تھی۔ میں نے اپنی بیٹی کا ماتھا چوما اور اس سے معذرت کی اور کہا کہ میں آئندہ کسی نشہ کرنے والے کو ایسے نہیں کہوں گا۔ اسی لئے میں جب بھی کسی نشہ باز سے بات کرتا ہوں تو میری بیٹی کی یہ بات میرے کانوں میں گونجنے لگتی ہے۔ میں یہ باتیں کرتا رہا اور وہ مجھے دیکھتا رہا۔
میں نے کہا کہ تمہاری بات سے مجھے اپنی بیٹی کی بات یاد آگئی۔ وہ میری بات سن کے خوش ہوا اور کہنےلگا کہ تمہاری بیٹی بہت ذ ہین ہے۔ اس کی عمر کتنی ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ میری بیٹی اب اس دنیا میں نہیں۔ پھر اسے میرے آنسوؤں کی وجہ پوچھنے کی ضرورت نہ رہی۔
(نوٹ: اس تحریر میں تمام واقعات سچے ہیں)