خوف کی فضا کیوں پیدا کی جارہی ہے

ہم اختلاف رائے کا سامنا ٹھیک طرح سے نہیں کرتے ۔ وقت کے ساتھ اس حوالے سے صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے ۔ بات کرنے ، دوسروں کا موقف جاننے ، اسے سمجھنے اور اختلافات کو قبول کرنے کی بجائے ہم مخالف کو خاموش کرانے کی راہ پر چل نکلے ہیں۔

ذرا فیس بک اور ٹوئٹر پر اجنبی افراد، یہاں تک کہ اپنے دوستوں کی گفتگو دیکھئے۔ مذاکروں اور مکالموں کے پروگراموں پر نظر دوڑائیے ۔ جب اختلافی آواز بلند کی جاتی ہے لوگ ایک دوسرے پر بِک جانے کا الزام لگانے لگتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ماضی میں سے گڑھے مردے اکھاڑنا شروع کردیتے ہیں، اور شور کے بعد گالیاں سنائی دینے لگتی ہیں۔ ہم ٹی وی شوز میں دھینگا مشتی کی نوبت آتے بھی دیکھ چکے ہیں۔ بیشتر معاشروں کی طرح ہمارے سماج میں بھی لوگ بنیادی اور اساسی عقائد اور معاملوں پر اختلاف کرتے ہیں۔ یہاں بہت سے مذاہب ہیں اور ہر مذہب میں بہت سے مسالک ہیں۔ مسالک کے درمیان اختلاف بھی چھوٹے موٹے نہیں۔ ہمارے اندر نسلی اور لسانی اختلاف پائے جاتے ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں 70 زبانیں/ لہجے بولے جاتے ہیں۔ ہم ذات، برادری اور قبیلوں میں تقسیم ہیں۔ سماجی، معاشی اور سیاسی تفاوت بہت ہے ۔ ایک جانب انتہائی غربت، خوراک اور جسمانی نمو کی کمی ہے اور دوسری جانب چند افراد کا طرززندگی ترقی یافتہ ممالک کے امرا جیسا ہے۔ ا

ختلاف کو مانے بغیر اتنا متنوع سماج کیونکر قائم ہے؟ ایسا ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری ریاست کی ہے جس میں ہر کوئی بلاخوف پھل پھول سکے ۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی حفاظت کے لیے بنائے جانے والے قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنائے ۔ یہ ہرطرح کے افراد کے حقوق کا تحفظ کرے اور انہیں ہر ممکن حد تک آزادی کا موقع دے ۔ ریاست ثالث ہوتی ہے ۔ اسے ہر شہری کو مساوی تحفظ اور آزادی فراہم کرنا ہوتی ہے ۔ یہ کسی ایک مذہب، مسلک، نسل، زبان، یا طرززندگی کی طرف داری نہیں کرسکتی۔ ریاست کے وجود میں آنے کا ایک سبب یہ بھی ہے۔ یہ عقائد کے کسی ایک نظام یا نقطہ نظر کو دوسرے پر ترجیح نہیں دے سکتی۔ یہاں ایک مثالی ریاست کا تصور پیش کیا گیا ہے، لیکن یہی مقصود ہونا چاہیے ۔ کچھ ریاستیں ایسا کرنے میں ناکام ہوسکتی ہیں لیکن شہریوں کو چاہئے کہ وہ ریاست کو ایسا بننے پر مجبور کریں۔ پاکستان میں جبری گمشدگیاں عام ہوچکی ہے ۔ سپریم کورٹ کی کارروائی کے علاوہ دیگر شواہد کی روشنی میں واضح ہوچکا ہے کہ بعض ریاستی ایجنسیاں متعدد واقعات میں ملوث ہیں۔ اس لیے باعث حیرت نہیں کہ حال ہی میں چار یا پانچ افراد کے لاپتہ ہونے پر انہی ایجنسیوں پر شک کیا جا رہا ہے ۔ اور اگر وہ ان گمشدگیوں کے پیچھے نہیں تو یہ ایجنسیاں اغواکاروں کا پتہ چلائیں تاکہ لاپتہ افراد، ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو چین مل پائے اور یہ بھی عندیہ ملے کہ جبری گمشدگی ریاست  کی باقاعدہ پالیسی نہیں۔

ریاست کسی کی آزادی پر مناسب کارروائی کے بغیر قدغن نہیں لگا سکتی۔ اس کا کوئی جواز نہیں اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ریاست کسی فرد یا افراد کے گروہ کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ قانون توڑنے والے کو گرفتار کرنا چاہیے ۔ اس پر مناسب تفتیش ہونی چاہیے ۔ اسے غائب کرنا یا قانون کو توڑنا اختلافات سے نپٹنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ لوگوں کے حقوق ہیں اور ان حقوق کا احترام ہونا چاہئے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ لوگوں کے حقوق کی پاسداری کی ذمہ دار ریاست ہے ۔ یہ لوگوں کے حقوق کی پامالی میں حصہ دار کیسے ہوسکتی ہے۔ اور پھر یہ توقع کیسے کرسکتی ہے کہ وہ اس سے وفا کریں؟ جب پاکستانی قوانین میں ریاستی ایجنسیوں کو گرفتار اور قید کرنے کے وسیع اختیارات دے دئے گئے ہیں تو گمشدگیوں کا مبینہ طریقہ اپنانے کا کیا جواز ہے؟  قانون کی پابندیوں اور عدلیہ کی نگرانی کے باوجود پولیس بیشتر مرتبہ اذیت رسانی سے معلومات اکٹھی کرلیتی ہے ۔ مبینہ طور پر بعض ایجنسیوں کے لئے اذیت رسانی اور بھی آسان ہے ۔ اس لیے اگر وہ کھلے عام گرفتاری کریں تو بھی وہ معلومات اکٹھی کر سکتے ہیں۔

معلومات لینے کے لیے لوگوں کو غائب کرنے کی کسی کو ضرورت نہیں۔ 'گمشدگیاں' لوگوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ ہوتا یوں ہے ۔ کوئی غائب ہوتا ہے تو ہر کوئی ملوث ہونے سے انکار کرتا ہے ۔ وزارت داخلہ کہتی ہے کہ معاملے کو دیکھے گی تاہم مبینہ اغواکاروں پر اس کا بس نہیں۔ غائب ہونے والا فرد جانتا ہے کہ اس کا انجام آسانی سے موت کی صورت میں ہوسکتا ہے ۔ اس کے اہل خانہ اور دوستوں کو بھی بدترین انجام کا ڈر ہوتا ہے ۔ اس کے ہم خیال خاموش ہوجاتے ہیں کہ اٹھا نہ لئے جائیں۔ غائب اسی لیے کیا جاتا ہے تاکہ خوف اور لاچارگی کے اس احساس کو پیدا کیا جاسکے۔ لیکن ریاست 'خوف' کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیوں کرتی ہے؟ وہ اپنے شہریوں کو اپنی ہی حکومت سے خوف زدہ کیوں کرتی ہے؟ اسے کیوں لگتا ہے مباحثہ بھی ریاست، ملک یا مذہب کے وجود کے خطرے میں ڈال دے گا؟ یہ اختلال ذہنی کیوں؟

اس کلیدی سوال کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اس کا تعلق ریاست کی مخصوص اور تنگ نظر نظریاتی اساس سے ہے ۔ لیکن اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے ۔ ریاست سے اس کے شہریوں کی حفاظت کی توقع کی جاتی ہے ۔ اگر ریاست اتنی کمزور ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کی پامالی کے لیے بعض گروہوں کو اجازت دیتی ہے، یا ریاست خود ان کو پامال کرتی ہے تو یہ اپنے وجود کا جواز کھو دیتی ہے ۔ ریاست خوف کاروبار نہیں کرسکتی۔ اپنے شہریوں کو اپنی حکومت سے خوف زدہ کرنے سے ملک یا سیاست کبھی مضبوط نہیں ہوسکتی۔ کیا ہمارے ریاستی ادارے کبھی یہ سمجھ پائیں گے؟