بھارتی انتخابات میں کرپشن اور منشیات کے مسائل

یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان کے ہر انتخاب میں مسلمانوں کا ووٹ حد درجہ اہمیت رکھنے کی وجہ سے موضوع بحث بنتا ہے۔ ملک کی تمام چھوٹی و بڑی سیاسی جماعتیں مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کی مختلف انداز سے سعی و جہد کرتی ہیں۔ مسلمانوں کا ووٹ جس پارٹی یا امید وار کو ملنے کی امید ہو جائے ،اس کی کامیابی تقریباً طے ہے۔

اس سب کے باوجود نہ مسلمانوں کو اپنے ووٹ کی قدر ہے اور نہ ہی مسلم نمائندوں یا جماعتوں کو اس حیثیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں سے متعلق مسائل جو ملکی سطح پر بھی ہیں،علاقائی اور مقامی سطح پر بھی ہیں اور سماجی سطح پر بھی ہیں، ان کے حل میں پیش رفت کا موقع میسر آتا ہے۔ اور اگر کچھ ہوتا بھی ہے تو وہ یہ کہ کچھ مسلمان وقتاً فوقتاً سیاسی پارٹیوں سے تعلقات استوار کرتے ہیں اور اپنی حیثیت کے لحاظ سے لین دین کا سودا کر لیتے ہیں۔ نتیجہ میں وہ خوب مستفید ہوتے ہیں۔ برخلاف اس کے آزادی سے لے کر آج تک مسلمانوں کو بحیثیت قوم اس سیاسی محاذ آرائی میں کو ئی بڑا فائدہ نہیں ہوسکا ہے۔  ہندوستانی مسلمانوں کا ایک بڑا مسئلہ اُن کی سیاسی قدر و قیمت کا نہ ہونا بھی ہے، جس کی وجہ سے وہ ہر مرتبہ الیکشن میں اُن جماعتوں کو اپنا قیمتی ووٹ دیتے ہیں جنہیں عموماً فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف محاذ آرائی میں سرگرم پایا جاتا ہے یا اس کی حریف ہوتی ہیں۔ لیکن یہ بھی عجب سانحہ ہے کہ وہی سیاسی جماعتیں جنہیں فرقہ پرست طاقتوں کا الیکشن کے زمانے میں یا دوران مدت حریف سمجھا جاتا ہے، حریف سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے یا اس کے مد مقابل وہ اپنے نمائندوں کو کھڑا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔  بہت جلد وہ بھی اُن سیاسی جماعتوں سے اپنے تعلقات استوار کرنے کی فکر میں مبتلا ہوجاتے ہیں، جن کے خلاف اقلیتوں اور مظلومین نے اپنا قیمتی ووٹ دیا تھا۔

یہ بھی سچ ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کے مقابل جماعتیں بظاہر فرقہ پرست طاقتوں کی مخالفت کرنے کے باوجود بر سر اقتدار آکر ان کے خلاف کارروائی نہیں کر پاتیں۔ نتیجہ میں مسائل وہیں کے وہیں موجود رہتے ہیں اور کم نہیں ہوتے نیز نئے مسائل اقلیتوں اور مظلومین کی مزید کمر توڑ دیتے ہیں۔ اس پس منظر میں مسلمانوں کے ووٹ شیئراورمسائل کے ساتھ ملک و سماج کے عمومی مسائل کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ آیا ملک میں درپیش مسائل کا خاتمہ ہو رہا ہے یا نہیں؟ نیز ہر صبح اہل ملک جو ایک نئے مسئلہ کے ساتھ جوجھتے نظر آتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ لیکن فی الوقت ہم اقلیتوں اور مظلومین کے مسائل پر بات نہ کرتے ہوئے ریاستِ پنجاب کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں گے۔  ہماری رائے ہے کہ اقلیتوں سے وابستہ اور مظلومین میں سے ہر فرد کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر اٹھائے گئے سوالوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ ساتھ ہی مسائل کے حل میں لائحہ عمل کا تیار کیا جانا اور اس میں پیش رفت کی جانب ہمہ وقت توجہ و غور فکر کا مرحلہ بھی طے کرتے رہنا چاہیے۔

گزشتہ بار پنجاب کی صورتحال پر گفتگو کی گئی تھی، جہاں بنیادی طور پر یہ بات سامنے آئی تھی کہ پنجاب میں اگرچہ اقلیتوں کے مسائل برائے نام ہیں لیکن  ریاست میں مذہب کی بنیاد پر موجود اقلیتیں بھی چند مخصوص پاکٹس کے علاوہ برائے نام ہی  ہیں۔ اس کے باوجود پنجاب کے بے شمار مسائل ہیں جنہیں بحیثیت مسلمان اور بحیثیت ملک کا شہری نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ان مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ شراب نوشی اور منشیات کا استعمال ہے جس نے ریاست کے ہر گھر کو متاثر کیا ہے۔ دوسرا مسئلہ کرپشن ہے جس نے ریاست کی جڑیں ہر سطح پر کھوکھلی کی  ہیں۔ تیسرا بے روزگاری کا بڑھتا گراف ہے۔ وہیں بڑھتی مہنگائی، کسانوں کے قرضے، کھیتی باڑی کے مسائل، ستلج کا پانی اوراس کا حق، تعلیمی پس ماندگی، خواتین کے حقوق سے کھلواڑ اور ریاست میں دوپارٹی سسٹم کا وجود بھی ایک قسم کا مسئلہ ہی ہے جس کے نتیجہ میں عوام کے سامنے متبادل نہ ہونا جمہوریت کا کھلا مذاق ہے۔

مذاق اس لیے ہے کہ دونوں ہی سیاسی جماعتیں ایک عرصہ سے عوام کا استحصال کرتی آئی ہیں اور مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شراب نوشی اور منشیات ، جس سے ہر گھر متاثر ہے، اس کے ٹھیکے بھی وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جن پر ذمہ داری ہے کہ وہ اُس کے نقصانات سے بچائیں۔ اور چونکہ ریاست میں ایک بڑی رقم منشیات اور شراب کے فروغ سے حاصل ہو رہی ہے، اس لیے اس کے خاتمہ کے لیے برسراقتدار موجودہ یا سابقہ حکومتوں کا رویہ تشویشناک ہے۔ اس کے باوجود  شراب نوشی اور منشیات کے بے انتہا استعمال سے ریاست میں نوجوان اور بڑی عمر کے افراد ہر لحاظ سے پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ بے انتہا شراب نوشی اور منشیات کی لت نے صلاحیتوں کو ضائع کردیا ہے۔  دولت ایسی اشیاء کے حصول پر خرچ کی جارہی ہے جس سے کچھ حاصل ہونے کی بجائے الٹا نقصان ہو رہا ہے۔

منشیات کی لت نے صحت عامہ کے مسائل اضافہ کیا ہے۔ سماجی برائیاں عام ہورہی ہیں۔ خاندانی نظام درہم برہم ہو رہے ہیں۔ عفت و عصمت تار تار ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی منشیات کی لت نے نوجوانوں کو بے روزگاری میں بھی مبتلا کیا ہے۔ غنڈہ گردی میں اضافہ ہوا ہے اور نظم و نسق کمزور ہوا ہے۔ اس پورے پس منظر میں ریاست میں شراب نوشنی و منشیات کا خاتمہ سب سے بڑا ایشو بنا ہوا ہے۔

4 فروری2017 کو پنجاب کی 117اسمبلی سیٹوں پر الیکشن ہونے ہیں۔ جس کے لیے کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا ہے۔ کانگریس کے منشور میں لڑکیوں کو مفت تعلیم دینے، نوکریوں اور تعلیم میں خواتین کو 33%فیصد ریزرویشن دینے، نوجوانوں کو روزگار اور کسانوں پر خصوصی فوکس ، نوجوانوں کو اسمارٹ فون، 4 ہفتہ میں نشہ کے مسئلہ کو ختم کرنے، پنجاب میں انڈسٹری کو فروغ دینے، کسانوں کو کم رقم پر بجلی کی فراہمی اور پنجاب کا پانی پنجاب کے لیے جیسے وعدے کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب عام آدمی پارٹی نے کسانوں کو 12گھنٹے مفت بجلی دینے ساتھ ہی فصل برباد ہونے پر کسانوں کو 20 ہزار روپے فی ایکڑ معاوضہ دینے ، کسانوں کا قرض معاف کرنے نیز 2018 تک سبھی کسانوں کے قرض سے پاک ریاست کرنے ، ستلج یمنا لنک کے لیے لی گئی کسانوں کی زمین واپس کرنے، شراب اور منشیات پر پابندی لگانے، بے روزگاری ختم کرنے، تعلیم کے فروغ اور اسے عام کرنے وغیرہ جیسے وعدے کیے ہیں۔ اس موقع پر ایک جانب کانگریس اور عام آدمی پارٹی اپنے منشور کے ذریعہ نیز سیاسی تشہیر کے ذریعہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں مصروف ہیں وہیں بی جے پی اکالی الائنس کے حالات تشویشناک ہیں۔

ریاست میں گزشتہ 10سالوں سے برسراقتدار رہنے کی وجہ سے نیز عوامی مسائل کے حل میں ناکام ہونے کے سبب کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے بالمقابل برسر اقتدار حکومت بہت کمزور نظر آرہی ہے۔ نیز صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ 2017 میں یا تو کانگریس ریاست میں اقتدار سنبھالے گی یا پھر دہلی کی طرح ایک نئی سیاسی پارٹی، عام آدمی پارٹی ریاست کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لے گی۔ عام آدمی پارٹی کی مقبولیت اس لیے بھی بڑھتی جا رہی ہے کہ ریاست میں گزشتہ کئی سالوں سے عوام دونوں ہی پارٹیوں کو حکومت سونپ چکے ہیں۔ اس کے باوجود شراب و منشیات کے خاتمے اور کرپشن و بے روزگاری پر کنٹرول وغیرہ جیسے ایشوز پر دونوں ہی پارٹیوں نے کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔ نتیجہ میں عوام دونوں ہی پارٹیوں سے بدظن ہیں۔ 

 تازہ صورتحال یہ ہے کہ نوجوت سنگھ سدھونے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر کانگریس کا دامن تھام لیا ہے۔ اور انہوں نے بھی عام آدمی پارٹی کو "باہرکی قوت" ثابت کرنے کی بات کہی ہے۔ اس کے باوجود تجزیہ نگار اورعوام کی ایک بڑی تعداد ریاست میں ابھرتی ہوئی تیسری بڑی پارٹی کی حمایت کرتی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔