پاکستان کا بحران کیا ہے
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 17 / جنوری / 2017
- 6048
پاکستان کا بحران کیا ہے؟ شاید ہم ابھی تک یہ طے ہی نہیں کر پائے۔ 1940 میں قراردادِ لاہور کے وقت، مسلمانانِ ہند نے اپنی آزادی اور اقتدار کے لیے یہ قرارداد منظور کی اور 1947 میں پاکستان بن گیا۔ اگر قراردار منظور ہوگئی اور پھر اس پر وقت اور سیاسی حالات و تقاضوں کے حوالے سے 1947 میں عمل بھی ہوگیا پھر تو بحران ختم ہوگیا۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔
چند لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ مسلمان صرف پنجاب میں اکثریتی آبادی میں تھے اور یہاں کے وسائل پر چند فیصد لوگوں کو معاشی آزادیاں حاصل تھیں، باقی سب پر ہندو اور سکھ قابض تھے۔ اس حوالے سے آج تک تقاریر اور خطابات میں کہا جاتا ہے کہ لاہور کی انارکلی میں سینکڑوں دکانیں غیرمسلموں کی تھیں اور مسلمانوں کی شاید دوتین ہی دکانیں تھیں اور آج سارے انارکلی بازار میں ہزاروں مسلمانوں کی دکانیں ہیں۔ تو کیا اس خوب صورت ’’تقریری دلیل‘‘ کو تالیاں بجا کر مان لیا جائے کہ پاکستان میں اب کوئی بحران ہی نہیں۔ مسلمانانِ ہند کا بحران ختم ہوگیا۔ ہرگز نہیں۔ اور پھر یہ کہا گیا کہ نظریۂ پاکستان، اس کی تعریف اگر صرف مسلمانوں کی ایک علیحدہ ریاست تک تھی تو ٹھیک۔ ہم اس میں مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش ایک نئی مملکت بننے کو بھی آنکھ اوجھل کردیتے ہیں۔ تو کیا یہ کافی ہے کہ ہم مذاکروں میں نظریۂ پاکستان کے موضوع پرجوشیلے خطاب کرکے اسے پاکستان کے بحران کا حل قرار دیں؟ ہرگز نہیں۔
کچھ عرصہ پہلے لاہور میں قائم نظریۂ پاکستان ٹرسٹ میں ایک مذاکرہ ہورہا تھا۔ راقم بھی وہیں موجود تھا۔ پہلی، دوسری اور تیسری نسل کے سب لوگ نظریۂ پاکستان کے معدوم ہوجانے پر رنجیدہ تھے اور زور دے رہے تھے کہ ہم نے نظریۂ پاکستان کو فراموش کر دیا۔ اسی لیے ہم رسوا ہورہے ہیں۔ یہ بیان بھی سوائے ’’تقریری دلیل‘‘ کے کچھ نہیں۔ راقم نے جب سٹیج سے حاضرین اور مقررین سے سوال کیا کہ نظریۂ پاکستان کی تعریف کیا ہے۔ تو آئیں بائیں شائیں کے سوا کسی کے پاس کوئی مدلل جواب نہیں تھا۔ تب میں نے عرض کیا کہ نظریۂ پاکستان آج بھی قراردادِ لاہور (1940) ہی میں پنہاں ہے۔ یعنی مسلمانوں یا یہاں پر بسنے والے تمام لوگوں کے حقوق۔
ہمارے ہاں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہم اسلامی شعائر سے دُور ہوگئے، اس لیے ہم رسوا ہو رہے ہیں۔ چند روز قبل طیارہ حادثے میں شہید ہو جانے والے سابق پاپ سنگر اور بعد میں مذہبی مبلغ جنید جمشید شہید کی ایک ویڈیو کلپ سنی جس میں وہ فرما رہے ہیں کہ دنیا کا سب سے اچھا ملک پاکستان ہے جہاں سب سے زیادہ مساجد، سب سے زیادہ حافظ قرآن، سب سے زیادہ خیرات کرنے والے، سب سے زیادہ حج وعمرہ کرنے والے اور سب سے زیادہ غازی ہیں۔ تو پھر یہ بحران کیوں برپا ہے؟
جواب تو بہت سے ہیں لیکن ایک ہی جواب عرض کروں کہ ترکی پچھلے نوے برسوں سے ایک سیکولر ریاست ہے تو پھر وہاں معاشی، تعلیمی، سماجی، سائنسی، اقتصادی، انسانی ترقی کیوں کر برپا ہوئی۔ وہاں تو ریاست کے کسی آئین میں مذہب نہیں، بلکہ ریاست تمام لوگوں کو مذہبی آزادیاں دینے کی یقین دہانی کرواتی ہے کہ لوگ اپنے اپنے عقیدے پر آزادی سے کاربند رہیں۔ ہمارا آئین اسلامی ہے۔ ہم نے آزادی کے چند سال بعد قراردادِ مقاصد بھی منظور کروا لی۔ 1973 کا آئین قرآن وسنت کے مطابق ہے۔ کوئی قانون اسلام سے متصادم نہیں ہوسکتا۔ اسلامی ادارے بشمول شریعت کورٹس و اسلامی نظریاتی کونسل موجود ہیں۔ تو پھر یہ مسلمان قوم اس قدر بحران کا شکار کیوں ہے؟
قتل، ڈاکے، دہشت گردی، لاکھوں انسان بیماریوں سے ہلاک، تعلیمی نظام برباد، ریاست اور سماج بکھرتا ہوا، امیر مزید امیر، غریب مزید غریب، غربت، جہالت، عالمی طاقتوں کا مرہونِ منت، کبھی ہزاروں میل دُور دوستی اور کبھی پڑوسیوں کی مدد سے اپنی بہتری اور بقا کی امیدیں۔ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ہر وقت یہ کہنا کہ پاکستان کے خلاف سازشیں برپا ہیں۔ آخر یہ ہنگامہ کیوں برپا ہے۔ اس ملک کا اوپری طبقہ جس کو دولت لوٹنے اور اندورن اور بیرون ملک اس کا ذخیرہ کرنے کی آزادی ہے اور یہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب اربوں ڈالرز کی لوٹ مار ہے تو ان اربوں ڈالرز کو پیدا بھی کسی نے کیا ہے، یعنی پیداواری طبقات نے۔ یہ کوئی مُردہ سماج نہیں۔ گندم، کپاس، دودھ سمیت مختلف اجناس فاضل Surplus پیدا ہوتی ہیں۔ تو پھر یہ ماجرا کیا ہے۔ بحران کہاں ہے۔ اور کیا ہے۔ کیا بحران صرف کرپشن ہے۔ یہ جو اربوں ڈالرز کی کہانیاں ہیں جنہیں اوپری طبقات سے لوٹ کر جمع کررکھا ہے، اسے کسی نے پیدا کیا ہے، یعنی یہ حقیقت سے نکلا اور لوٹا گیا ہے۔ پیداواری عمل مُردہ نہیں۔
ہمارے ہاں آج کل لوٹ مار کی کہانیاں سیاست کا عنوان ہیں اور کہا جاتا ہے کہ کرپشن برپا ہے۔ بس کرپشن روک دی جائے، لوٹا ہوا سرمایہ واپس آ جائے تو ملک یک دم ٹھیک ہوجائے گا۔ کتنے نادان اور سادہ ہیں اور کیا طفلانہ سوچ رکھتے ہیں ہم۔ یا یہ کہ حکمران طبقات چالاک ہیں، انہوں نے ہمارے ذہنوں میں بٹھا دیا کہ کرپشن ختم ہوجائے، لوٹا ہوا سرمایہ جو بیرونِ ملک جمع ہے واپس لے آیا جائے تو بس بحران ختم ہوجائے گا۔ پہلی بات، مجھے کوئی یہ بتائے کہ مغرب کے بینکوں میں جمع تیسری دنیا اور دوسرے ممالک سے لوٹی گئی دولت کبھی اپنے ممالک واپس گئی۔ یہ ایک طفلانہ خیال ہے۔ اور کیا 100 ارب ڈالرز واپس آجائیں تو ملک ایک دم بہتری اور تبدیلی کی طرف گامزن ہوجائے گا۔ اور کرپشن دُور کر دی جائے، اور وہ کیسے دُور کی جائے، یہ بھی معلوم نہیں کہ کیسے، بس تقریریں اور بیانات ہیں۔ کبھی کہا گیا کہ عدالت عظمیٰ بحال ہوگی تو انصاف کے چشمے پھوٹ پڑیں گے۔ کتنے سادہ ہیں ہم۔
معاملہ کرپشن نہیں، Incompetency (نااہلی) ہے ۔ سارا سماج، ریاست اور نظام اب نااہل لوگوں کے تحت چل رہا ہے۔ ہم جن ممالک کی ترقی کی مثال دیتے ہیں، چین، انڈونیشیا، سنگاپور، وہاں نہ تو مغربی جمہوریت ہے اور نہ ہی کرپشن فری نظام۔ مگر وہاں نااہلی سخت جرم ہے۔ معاملہ کرپشن نہیں، استحصال ہے۔ کس کا استحصال۔ اس کا جس کا ذکر 1940 کی قرارداد میں کیا گیا تھا۔ یہاں پر بسنے والے لوگوں کے حقوق۔ اور یہی نظریۂ پاکستان ہے کہ لوگوں کو اُن کے حقوق دے دو۔ پاکستان کی ریاست معاشی حوالے سے سماج کا ایک ہی طبقہ چلا رہا ہے اور وہ طبقہ نہایت پسماندہ ہے۔ 67 فیصد کسان جن کے دَم پر یہ فاضل اجناس پیدا ہو رہی ہیں، کھانے پینے کی ریل پیل ہے بلکہ ان کی سمگلنگ بھی عروج پر ہے۔ اور اسی پسماندہ طبقے کا وہ مزدور جو خلیجی ممالک میں مزدوری کر رہا ہے۔ جن کی تنخواہیں چند ہزار تک ہیں، وہ مجموعی طور پر 19ارب ڈالرز سالانہ زرِ مبادلہ بھیج رہے ہیں۔ یہی وہ ڈالرز ہیں جو وہ صحرائی آگ برستے آسمان تلے محنت کرکے ایک ایک منٹ کے عوض چند ٹکے کما کر جب ملک بھجواتے ہیں تو وہ 19ارب ڈالرز بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی وزیر خزانہ اور ہماری حکمران اشرافیہ کی منصوبہ بندی شامل نہیں۔ یہی وہ زرمبادلہ ہے جو ہمارے ملک کی معیشت کو سہارا Ventilation دے رہا ہے۔
ہمارے حکمران طبقات اور مڈل کلاس کے اللے تللے انہی کسانوں اور ٹکا ٹکا کماکر 19ارب ڈالرز کمانے والوں کے سر پر برپا ہیں۔ بحران پاناما لیکس نہیں، نہ ہی کرپشن۔ اصل بحران استحصال ہے جو اِن پیداواری طبقات کا کیا جا رہا ہے۔ بحران ان طبقات کو 1947 کے بعد عملاً معاشی غلامی میں رکھنے پر ہے۔ اسلام، نظریۂ پاکستان، علامہ اقبال ؒ کی فکر اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کا پاکستان، ان طبقات کو معاشی طور پر مضبوط کرنے میں رکاوٹ نہیں بلکہ راستہ ہے۔ اقبال کے اشعار اور نظریۂ پاکستان کو جوش سے پڑھنے والے ان طبقات کے حقوق کی بات کیوں نہیں کرتے۔ وہ لوگوں کو عالمی سازشوں کے خوف کا طوق تو پہنا رہے ہیں، اُن کی آزادی کا نغمہ سنانے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان کا بحران ان پیداواری طبقات کی خوش حالی سے ٹل سکتا ہے۔ ایک ایسی ریاست جو ایٹمی طاقت بھی ہے اور غربت کا سمندر بھی، وہاں جب تک اس تضاد کو ختم نہیں کیا جاتا، تب تک حکمران طبقات لوٹتے بھی رہیں گے اور شور بھی مچاتے رہیں گے۔ چور مچائے شور۔