کیوں لاپتہ کرتے ہو!
- تحریر سید انور محمود
- منگل 17 / جنوری / 2017
- 4691
بچپن میں میری والدہ مجھے اور میرے بہن بھائی کواکثر اپنے چچاکے گھر پیر الہی بخش کالونی لے جاتی تھیں۔ والدہ کے چچا کی اولادوں میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ بدقسمتی سے یہ بہن بھائی زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ ان میں چھوٹے بھائی کا نام مبین انصاری تھا جو اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اور گھر میں سب ان کو مبن کہا کرتے تھے۔ مبین نے شاید میٹرک پاس کیا تھا اس لیے ان کو اول تو کوئی نوکری ملتی نہیں تھی اور جو ملتی تھیں وہ مبین کو قبول نہیں ہوتی تھی۔
ایک دن پتہ چلا کہ وہ امریکہ چلے گئے۔ یہاں دو باتیں ذہن میں رکھیں کہ اس زمانے میں امریکہ جانا قطعی مشکل نہ تھا اورجب کوئی پہنچ جاتا تھا تو اپنے پیاروں سے رابطے کےلیے آج جیسی سہولتوں کا کوئی تصور نہیں تھا۔ صرف ڈاک کے زریعے ایک ماہ میں ایک یا دو خط آتے جاتے تھے۔ شروع شروع میں مبین کے خط جلدی جلدی آتے تھے لیکن ان کی ماں اداس رہتی تھیں۔ پھر ہم جب بھی ان کے گھر جاتے وہ میری والدہ سے یہ شکوہ کرتی تھیں کہ مبین کے خط دیر سے آتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد وہ اپنے بیٹے کی جدائی کے غم میں بیمار ہوگئیں اور ایک وقت ایسا آیا جب وہ اپنے ہوش وہواس کھو بیٹھیں۔ لیکن وہ مبین کو نہ بھولیں اور مرتے دم تک وہ مبن مبن کہتی رہیں۔ لیکن افسوس مبن انہیں نہ ملا۔ مبین انصاری آج کل شکاگو میں رہتے ہیں۔ آپ کو یہ واقعہ سنانے کا مقصد یہ ہے کہ جب کسی ماں سے اس کا بیٹا بچھڑ جاتا ہے اورماں کو اس کے ملنے کی امید نہیں ہوتی تو ہر ماں ایسے ہی سسک سسک کر مرتی ہے۔ دعا کریں کہ یہ وقت کسی ماں، باپ بہن، بھائی، بیوی اور بچوں پر نہ آئے۔
اوپرمیں نے جس واقعہ کا ذکر کیا وہ شاید پچپن سال پرانا ہے۔ اس زمانے سے لےکر شاید سال 2000 تک ایسے واقعات بہت ہی کم سننے کو ملے ہیں۔ اور ایسی کسی ماں کا ذکر نہیں ملا جو مبین کی ماں کی طرح سے اپنے بیٹے کو ملنے کے لئے رو رہی ہو۔ لیکن آج پاکستان میں آپ کو کثرت سے ایسی مائیں مل جائیں گیں جو مبن نہیں توکوئی اور نام لے کر روتی ہیں اور پھر سسک سسک کرمرجاتی ہیں۔ ایسا ہی ان باپوں کے ساتھ بھی ہورہا ہے جن کے جوان بچے لاپتہ ہورہے ہیں۔ بھائی بھی رو رہے ہیں اور بہنیں بھی رورہی ہیں۔ سہاگنیں بھی رو رہی ہوتی ہیں اور ان کے معصو م بچے بھی۔ آئے دن پاکستانی عوام کو یہ خبریں ملتی رہتی ہیں کہ فلاں فلاں لوگ لاپتہ ہوگئے ہیں۔ بعد میں ان کے ماں باپ اور باقی گھر کے افراد دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔
پانچ دسمبر 2016 کو وفاقی حکومت کی طرف سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے جسٹس(ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیشن نے نومبر 2016 کو جورپورٹ جاری کی تھی اس کے مطابق لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد1276 ہوگئی تھی جن میں سے صرف 65 افراد بازیاب کرائے گئے تھےاور دولاپتہ افراد کی لاشیں بھی برآمد کی گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ ریاست ایک ماں کی طرح ہوتی ہے اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے عوام کا خیال رکھے۔ اس کےلئے آئین اور قانون بنایا جاتا ہے تاکہ سب مل کر اس پر عمل کریں اور ملک کے عوام اپنی اپنی حیثیت میں ملک کی خدمت کریں۔ لیکن ہمارے حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بہت ہی آسان کام ڈھونڈ لیا ہےکہ کون اس جھنجٹ میں پڑے کہ ثبوت جمع کرے، عدالت میں پیش کرے اوربعد میں ان ثبوتوں کوسچا ثابت کرے۔ آج حکمران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اب اپنا یہ وطیرہ بنالیا ہے کہ جو بھی ان کے خلاف آواز اٹھائے، چاہے وہ جائز ہی کیوں نہ ہو اس کو اغوا کرکے لاپتہ کردو اور تشدد کرکے مار دو۔
پاکستان میں گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر انتہا پسندی کے خلاف سرگرم ہیومن رائٹس بلاگرز کو غائب کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں اس بے انصافی کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کے مطابق ’’میں بھی کافر توبھی کافر‘‘ جیسی شہرہ آفاق نظم کہنے والے شاعر، مصنف، ماہر تعلیم اور حقوق انسانی کے سرگرم کارکن پروفیسرڈاکٹر سلمان حیدربھی ان لاپتہ کارکنوں میں شامل ہیں جو گزشتہ دنوں سے لاپتہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہی زیادہ تر مذہبی شدت پسندوں کی طرف سے یہ افواہیں بھی پھیلائی جا رہی ہیں کہ ڈاکٹرسلمان حیدر اور ان کے ساتھی بھینسا، موچی اور روشنی نام کے ایسےپیجز چلا رہے تھے، جو کہ اسلام اور افواج پاکستان کے خلاف بہت ہی بیہودہ پروپگنڈہ کررہے تھے۔ اگرواقعی یہ صحیح ہے تو میں ڈاکٹرسلمان حیدر اور ان کے ساتھیوں کےلیے کڑی سے کڑی سزا کا مطالبہ کرتا ہوں۔ ان تمام پر سائبر کرائم لا کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور الزام ثابت کرکے اس قانون کے تحت سزا دلوائی جائے۔ لیکن اگر ان پیجز سے ان افراد کو کوئی تعلق ثابت نہ ہوپائے تو ان افراد سے معذرت کرکے جلد سے جلد انہیں فوری طور پر باعزت بری کیا جائے۔
وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے سینیٹ میں اس معاملے پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت شہریوں کو غائب نہیں کرتی ہے اور وہ ان افراد کی رہائی کےلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں سے رابطے میں ہیں تاکہ ان کے تعاون سے بازیابی ممکن ہو سکے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی بات مان لی جائے تو پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ پھر ان فرشتوں کا نام بتادیں جنہوں نے اب تک تقریباً 1300افراد کو لاپتہ کیا ہے۔ ہمارے حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلا تفریق اور نظریاتی اختلاف کے ہر جبری لاپتہ فرد کے دفاع کے حق کو تسلیم کرنا چاہئے۔ حساس اداروں کے پاس حقیقت میں اتنی معلومات ہوتی ہیں کہ وہ باآسانی کسی بھی بیرونی امداد پر چلنے والے فرد، گروہ یا فتنہ ساز کا منہ، ثبوت و شواہد دکھا کر بند کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے کسی کو غائب کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
سوشل میڈیا پر یہ تاثر عام پھیلا ہوا ہے کہ حال ہی میں غائب ہونے والے افراد کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گرفتار کیا گیا ہے۔ پاک فوج کا ایک ایک جوان اور جنرل قمر جاوید باجوہ سب کے سب پاکستانی ہیں۔ جنرل (ر) راحیل شریف بھی سچے پاکستانی ہیں جنہوں نے آپریشن ضرب عضب کے زریعے دہشتگردوں کی کمر توڑی ہے۔ نہ ہی کبھی جنرل (ر) راحیل شریف اور نہ ہی جنرل باجوہ کی طرف سے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ منتخب جمہوری حکومت سے بالاتر ہیں۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ لاپتہ افراد کے ذمہ دار وزیراعظم نواز شریف اوروزیر داخلہ ہیں۔ افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ایسا شخص بھی محفوظ نہیں جو ظلم کے خلاف آواز اٹھائے۔ لیکن اسلام آباد میں ہی دہشتگرد، کالعدم تنظیمیں اور ان کے کارکن سر عام گھومتے ہیں۔ اور کبھی کبھی وزیر داخلہ چوہدری نثار کے مہمان بھی بن جاتے ہیں۔
ملک میں جو بھی قوانین بنتے ہیں، وہ دستور کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم نہیں ہو سکتے۔ اگر قانون کسی کو نوے دن حراست میں رکھنے کا اختیار دیتا ہے تو زیر حراست افراد کے خاندان کا یہ حق ہے کہ انہیں اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ ان کے گھر کا ایک فردحکومت کے زیر حراست ہے۔ اور جب جب ایسا نہیں ہوتا تو پھر کوئی ماں مبن مبن پکارتی پکارتی مرجاتی ہے۔ آپ صرف ایک فرد کو لاپتہ کرکےاس فرد کو ہی نہیں بلکہ اس کے پورئے خاندان کا قتل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گرفتارہونے والے کے قریبی لواحقین کو مطلع کرنا ضروری ہوتا ہے کہ ان کے گھر کا فرد قانونی حراست میں لیا گیا ہے۔ اگر یہ نہ بتایا جائے تو اغوا اور قانونی حراست میں کیسے فرق کیا جائے گا۔ جو بھی ذیلی قوانین بنتے ہیں وہ دستور کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم نہیں ہو سکتے۔ فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے دور میں حبیب جالب نے کہا تھا:
حق بات پہ کوڑے اور زنداں، باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں
انساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں، خونخوار درندے ہیں رقصاں