اک مرد فرنگی کا تازیانہ

جارج گیلوے معروف برطانوی سیاستدان اور مصنف ہیں۔ وہ رکن پارلیمنٹ بھی رہے ہیں۔ پہلے وہ برطانوی لیبر پارٹی کے سرکردہ راہنما تھے۔ بعد ازا ں انہو ں نے ریسپیکٹ سے اپنا سیاسی سفر رکھا۔ وہ کشمیری عوام کے حق خود آرادیت کے پر جوش حامی ہیں اور عراق جنگ کے بڑے ناقدین میں سے تھے۔

کچھ عرصہ قبل ایک عرب ٹی وی پر انہوں نے مسلمانوں اور خصوصاَ عرب دنیا کے مسائل پر بات کرتے ہوئے سب کا حل صرف ایک نقطہ میں بتادیا۔ انہوں نے کہا کہ میں چالیس سے سال سے  عرب دنیا کو یہ کہتا چلا آیا ہوں کہ آپ کا دشمن کوئی اور نہیں آپ خود ہیں اور اس کی وجہ تم میں اتحاد نہ ہونا ہے۔ جارج گیلوے نے کہا کہ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں اور نہ ہی اس کے لئے کسی آئن سائن کی عقل چاہیے۔ بات نہایت آسان ہے کہ تمہارے اتحاد میں رکاوٹ تم لوگ خود ہو۔ اور سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے ک تم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار بھی نہیں۔  اور مورز الزام دوسروں کو ٹھہراتے ہو۔ عرب دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذرا سوچو کہ تم پینتیس کروڑ ایک ہی زبان بولتے ہو اور صرف ایک خدا کو مانتے ہو جبکہ یورپ میں ہم ایک سو پچاس زبانیں بولتے ہیں اور مختلف نسلیں آباد ہیں۔ تم اپنی اصلاح کرنے کی بجائے امریکہ اور یورپ کوکوستے رہتے ہو۔ اگر تم متحد ہونا چاہو تو کس نے تمہیں روکا ہے۔ تم خود سنی اور شیعہ میں تقسیم ہو۔ تمہارے دشمن تمہارے اس تفرقے سے خوش ہیں اور ا ن کے لئے بہترین مواقع ہیں کہ وہ تمہارے وسائل پر قبضہ کریں۔ انہیں نہ سنیوں سے دلچسپی ہے اور نہ شیعوں سے بلکہ انہیں اپنے مفاد ات سے غرض ہے اور یہ مواقع تم خود انہیں فراہم کررہے ہو۔

اس مرد فرنگی کے یہ الفاظ نہ صرف حقیقت کا اظہار ہی نہیں بلکہ کسی تازیانے سے کم نہیں ہیں۔ پوری مسلم دنیا میں مسلمان خود ہی ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ شام، عراق، لیبیا، افغانستان اور دیگراسلامی ممالک میں جو ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ قرآن حکیم تو عربوں کی اپنی زبان میں نازل ہوا جسے سمجھنے میں انہیں کوئی دشواری نہیں۔ انہوں نے سورہ الانفال کی آیت 48 پر غور کیوں نہیں کیا جس میں ارشاد ہوتا ہے کہ اور اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی پوری پوری اطاعت کرو۔ یہ نہ ہو کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے جھگڑنے لگو اور انفرادی مفاد کی خاطر باہمی ٹکراؤ شروع کر دو۔ اگر ایسا کرو گے تو تمہارے حوصلے پست ہوجائیں گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس لئے تم ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ یاد رکھو! قوانین خداوندی کی تائید ونصرت انہی کے ساتھ ہوتی ہے جو ثابت قدم رہتے ہیں۔

جس امر کی تعلیم قرآن حکیم نے ہمیں دی ہے، ہم نے اس پر ہم نہیں غور نہیں کیا۔ جبکہ ایک فرنگی دانشور نے وہی نقطہ سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ان اختلافات، تفرقے اور جھگڑوں کا نتیجہ جو آج ہمارے سامنے ہے اسے بھی قرآن عظیم نے سورہ آل عمران کی آیت 104 میں یوں واشگاف الفاظ میں بیا ن کیا ہے کہ یاد رکھو! تم کہیں ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو وا ضح قوانین خداوندی آجانے کے بعد فرقوں میں بٹ گئے اور باہمی اختلافات کرنے لگے۔ یہ بڑا سنگین جرم ہے۔ اِس لئے اِس کی سزا بھی بڑی سخت ہے اور اس سے قومیں ذلیل وخواراور تباہ وبرباد ہوجاتی ہیں۔

افسوس کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سخت تنبیہ کو نظرانداز کیا ہے جو سورہ روم کی آیت 32 میں ہے کہ تم بڑی احتیاط برتنا کہ اس طرح توحید کے پیرو بن کرپھر سے مشرک نہ بن جانا۔ یعنی ان لوگوں میں سے نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے اور اس طرح اْمت واحدہ رہنے کے بجائے مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ فرقو ں میں بٹ جانے کے بعد حالت یہ ہوجاتی ہے کہ ہر فرقہ سمجھتا ہے کہ جس طریقے پر ہم چل رہے ہیں، وہی حق وصداقت کی راہ ہے۔ اس لئے وہ اپنے آپ میں مگن ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ یاد رکھو، فرقہ پرستی اور گروہ بندی شرک ہے۔ تم اس شرک کے مرتکب نہ ہوجانا۔

ہم رسول اکرم سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ جس عظیم مقصد کے لئے انہوں نے جدوجہد کی ، کیا ہمارا طرز عمل کے مطابق ہے یا نہیں۔ رسول اکرم کی جانب قرآن کا نزول اختلافات مٹانے کے لئے کیا گیا ( 39/3 39/46 )۔ قرآن حکیم نے مقصد رسالت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ خدا نے مومنین کے دلوں میں اس قسم کی باہمی الفت ڈال دی جو دنیا جہاں کی دولت خرچ کرنے سے بھی حاصل نہیں ہوسکتی تھی (8/63)۔ وہ لوگ جو مختلف تعصبات کا شکار تھے اور جن کے شب و روز لڑائی جھگڑوں میں گزرتے تھے انہیں بعثت نبوی کی بدولت بھائی بھائی بنا دیا (3/103, (49/10) رسول پاک اور ان کے ساتھیوں کی صفات حسنہ ان کی باہمی محبت اور مودت تھی، ان سب کی مغفرت اور اجر عظیم ہے (48/29) ۔

ان احکامات قرآن سے مقصد رسالت باکل عیاں ہے کہ اختلافات اور جھگڑوں کو ختم کرکے امت واحدہ تشکیل دی جائے۔ ان واضح تعلیمات کے باوجود جو لوگ امت میں اختلافات پیدا کرتے ہیں اور فرقے بناتے ہیں، لوگوں کو جماعتوں میں تقسیم کرتے ہیں، دین کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں، کیا وہ مقصد رسالت کے سراسر منافی کام نہیں کرتے۔ کیا انہیں علم نہیں کہ قرآن نے صاف کہا کہ جن لوگوں نے بھی دین میں فرقے بنائے ان کا رسول اکرم سے کوئی تعلق نہیں۔ جو عناصر لسانی، قبیلائی، نسلی، جغرافیائی اور دیگر بنیادوں پر تفرقہ پیدا کرتے ہیں، کیا ان کا عمل مقصد رسالت کے متصادم نہیں۔ امت مسلمہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی جرات کیسے کرتے ہیں۔ کہیں عرب اور عجم کا جھگڑا ہے اور کہیں سید اور غیر سید کی تفریق۔ حالانکہ رسول پاک نے اپنے آخری خطبہ میں اعلان کیا کہ رنگ و نسل اور زبان کے تمام تعصبات کو ختم کیا جاتا ہے۔

نیشنل ازم اور فرقوں نے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور اس سے دین کا تصور ختم ہوجاتا ہے۔ محض رسمی عبادات پر مشتمل ایک مذہب باقی رہ جاتا ہے۔ پھر نتیجہ وہی نکلے گا جو ہم بھگت رہے ہیں۔