خزانے کی تلاش

عجیب معاملہ ہے صاحب۔
ایک وزیر اعظم ہے۔ ملک کے سیاہ و سپید کا ما لک۔ دعویٰ اس کو یہ ہے کہ منتخب ہے۔ عوام نے ووٹ دیئے ہیں ۔ ووٹ دینے والوں پر احترام اس کا قانوناٌ فرض ہے۔
یقیناٌ ہوگا ۔ ایسا ہی ہوگا۔ کس کی مجال  کہ انکار کرے۔
یہ الگ بات کے ووٹ دینے والوں کی اکثریت شاید یہ نہیں جانتی کہ ووٹ ہوتا کیا ہے۔ جو وڈیرے نے کہہ دیا ، وہی ووٹ ہے۔ اب کس کی مجال کہ سرتابی کرے اور چھتر کھائے۔ اگر ایسے کسی کمی کمین کے سر میں ریزہ بھر دماغ بھی ہو تو وہ  چھتر کی بجائےالیکشن کے دن یک طرفہ سواری کا مزہ لینے ، قیمہ نان اور بوڑھی بھینس کا قورمہ کھانے کو ہی ترجیح دے گا۔ 

اور پھر ایک دن کے لئے نظام سقہ بن جانے میں کوئی حرج  بھی تونہیں۔
چوہدری صاحب، ملک صاحب، خان صاحب ،  میاں صاحب ، وڈیرہ سائیں ہنس ہنس کر سلاموں کے جواب دے رہے ہیں۔
کیا اتنی عزت افزائی ان پر کٹوں کو ہواؤں میں اڑانے کے لئے کافی نہیں۔ خواہ وہ الیکشن کے اسی ایک دن کے لئے ہی کیوں نہ ہو۔

اور پھر وزیر اعظم کی تو بات ہی کیا۔
الحمدللہ تیسری بار ملک کے وزیر اعظم  بنے ہیں۔ بعض  دشمنوں کے بغض کے سبب امیر المومنین بنتے بنے رہ گئے۔ ورنہ آج ساری امت مسلمہ پر ایک صادق و امین گھرانہ خلیفہ ہوتا اور مال غنیمت کی چادریں سب میں مساوی تقسیم ہوتیں۔
ہاں ! اور یہ صادق و امین ہونے کے تقاضے جو اتنے تواتر سے کیے جاتے ہیں، آخر ان کا جواز ہے کیا۔
سچ پو چھئے تو ہمیں تو ان الفاظ کا مطلب ہی نہیں معلوم۔
اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ہم نے بھی انہیں سکولوں میں تھوڑی بہت تعلیم حاصل کی ہےجن میں ہمارے بیشتر حکمران پڑھتے رہے ہیں۔
اب دیکھیے نا تعلیم صرف سکولوں یا کالجوں ہی سے تو حاصل نہیں ہوتی۔ اسمبلی ممبر بننے کےلئے ڈگری جمع کروانے والے شاید ہم سے زیادہ پڑھے لکھے ہوں۔ مہنگے داموں حاصل کی جانے والی  ڈگری کی کوالٹی بھی ظاہر ہے دیسی ڈگری سے بہتر ہوگی۔ یعنی جتنا گڑ ڈالو گے اتنا ہی میٹھا ہو گا۔ تو بھائی یہی ڈگری یافتہ  سیاستدان  ہی ’’ صادق و امین ‘‘ جیسےمتبرک الفاظ کا درست مطلب بتا سکتے ہیں۔  بڑے بڑے جلسے جلوسوں میں وہی شدت سے اس کا مطالبہ بھی کرتے رہتے ہیں ۔ خاص طور سے الیکشن سے پہلے۔

بہرحال ان الفاظ کا درست مطلب معلوم نہ ہونے کے باوجود، لیڈران گرامی کی روز مرہ زندگی میں اس کا عملی مظاہرہ دیکھنے سے ہم جس نتیجے پر پہنچے ہیں وہ کچھ یوں ہے۔
جیسے تیسے منتخب ہو جانے پر لیڈر کو چاہیے کہ وہ اپنے اسلاف کی روایات کو زندہ رکھے اور وہی لائف سٹائل اپنائے جو انہوں نے اس خطے میں متعارف کروایا تھا۔ اسلاف میں بھی چند کا ’’ اشٹائل‘‘ زیادہ پسندیدہ ہونا چاہئے۔ مشلاٌ اکبر بادشاہ ، شاہجہاں، مہاراجہ پٹیالہ، نواب واجد علی اختر المعروف اختر پیا وغیرہ وغیرہ۔

اب اکبر بادشاہ تو اکبر بادشاہ تھا۔ مہابلی۔ خود ان پڑھ لیکن دربار لائق فائق رتنوں سے روشن۔
لہذٰا اگر حاکم خود پڑھا لکھا نہ بھی ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔
آج کے دور میں کالم نویس، تقریر نویس، خبر نویس، تاریخ نویس، قصیدہ گو، قصہ گو، تالی نواز، ناچے ، اینکر، قوال وغیرہ سب ارزاں داموں دستیاب ہیں۔
انہیں رتن بنایا جا سکتا ہے۔
ان کا خرچہ اپنی جیب سے تو جاتا نہیں۔ مغل اعظم کے پاس شاہی خزانہ تھا۔ ان کے پاس قومی خزانہ ہے۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ فلاح عامہ کے لئے ضروری ہے۔
پس ایک صادق و امین حاکم اس مد میں بہت سوچ سمجھ کر  اور اپنے ان رتنوں کے صائب مشورے سے ہی کچھ خرچ کرتا ہے۔
                                                                                                    
اور پھرخوش قسمتی سے ایک بڑی تعداد علما کرام و مشائخ عظام کی بھی دستیاب ہے۔ عرف عام میں یہ سکالر کہلاتے ہیں۔ ان کے آپس کے اختلافات اپنی جگہ لیکن ان کی طرح ان کی رائے بھی بہت وزن رکھتی ہے۔ اسی باعث اسلاف انہیں سواری کے لئے سفید ہاتھی عطا فرماتے تھے ۔ گھوڑے بیچارے کی کیا اوقات کہ ان کے علم و فضل کا بوجھ سہار سکے۔ ظاہر ہے آج کے دور میں ہاتھی کی سواری متروک ہو چکی ہے۔ لہٰذا ایک صادق و امین حاکم پر لازم ہے کہ وہ مشورے کے لئے ہر وقت ان سے رابطے میں رہنے کے لئے انہیں جدید سواری از قسم ایس۔ یو۔ وی  یا پجیرو غیرہ فراہم کرے۔ یہ پٹرول سے چلتی ہو، بیٹری سے یا ڈیزل سے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اسلاف  بالا کا بیشتر وقت چونکہ بغاوتیں فرو کرنے ، نافرمانوں کی کھالیں کھنچوانے، سازشوں پر نظر رکھنے اور لہو لعب  یا عبادات میں گزرتا تھا لہٰذا امور مملکت طے کرنے یا رعایا کی داد رسی کے لئے وقت بچتا نہ تھا۔ بھوکی ننگی رعایا اگر بے چین ہونے لگتی تو اسے کسی تعمیری کام پر لگا دیا جاتا۔ یہ تعمیری کام عام طور سے بادشاہ کا کوئی نیا محل یا مقبرہ وغیرہ  تعمیر کرنا ہوتا تھا جس کے لئے خزانے کا منہ کھول دیا جاتا ۔ چابیاں  اس خزانے کی داروغہ خزانہ کے ازار بند سے لٹکتی رہتی تھیں۔
ہمارے صادق و امین حکمران اب محلوں مقبروں کی جگہ موٹر وے بنواتے ہیں۔  فرق صرف اتنا ہے کہ آج قومی خزانے کا داروغہ خود ان کے ازار بند سے لٹکتا رہتا ہے۔

اسلاف میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو موسم بدلنے پر پہاڑی دروں سے فن سپاہ گری کی مشق کرتے ہوئے نیچے اترتے، کچھ مال پانی جمع کرتے، حسب توفیق و ضرورت لونڈیاں، باندیاں اور غلام اکٹھے کرتے اور پھر اگلے سال موسم بدلنے تک کے لئے لوٹ جاتے۔
اب جمہوریت کا دور ہے۔ سو جمہوریت سے محبت رکھنے والے الیکشن کے موسم میں فصلی بٹیروں کی طرح اس زمین پر اترتے ہیں۔ اگر الیکشن جیت جائیں تو  صادق و امین ہونے کی مشق کرتے ہوئےحسب توفیق و حاجت کچھ مال پانی جمع کرتے ہیں۔ کچھ لونڈی غلاموں کو اپنے رتن بنا تے ہیں ۔ ایک نظر اپنے خانساماں پر اور دوسری خانخاناں پررکھتے ہیں اور پھر جبراٌ یا  خود اپنی رضا سے ، اگلے الیکشن تک کے لئے بچوں کے پاس محفوظ ٹھکانوں کو لوٹ جاتے ہیں۔

اکبر کے علاوہ کچھ اور اسلاف کا ذکر بھی ہم نے اوپر کیا ہے۔ الفت کے تقاضے اگرچہ ان سے بھی نبھائے جا رہے ہیں لیکن  اس کی تفصیل میں جانا  شاید مناسب نہ ہو۔ اور پھر ضروری تو نہیں  کہ ذکر صرف عالم پناہوں کا ہی کیا جائے۔  اگلے وقتوں میں تو بحری قزاق بھی تھے۔ وہی جن کے بارے میں کچھ تاریخ سازوں کا دعویٰ ہے کہ محمد بن قاسم انہیں کی وجہ سے دیبل آیا تھا۔
تو صاحبو! یہ قزاق ظالم تو ہوتے ہی تھے پر کائیاں بھی بہت تھے۔
بڑے بڑے جہازوں سے مال لوٹتے اور پھر انہیں دور دراز کے جزیروں میں جا کر چھپا دیتے۔
چونکہ یہ آپس میں بھی بہت بیر رکھتے تھے سو ہر وقت ایک دوسرے کی ٹوہ میں لگے رہتے اور موقع پاتے ہی دوسرے کا  لوٹا ہوامال ہضم کر جاتے۔
اب جو سیانے قزاق تھے ، وہ مال ایسی جگہ اور ایسے جزیروں پر چھپاتے کہ کوئی اسے تلاش نہ کر پاتا۔
اور پھر کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وہ خود بھی بھول جاتے کہ مال چھپایا کہاں تھا۔ لہٰذا اپنی یادداشت کے لئے چمڑے کے ٹکڑوں پر کوئی بہت ہی گنجلک اور ٹیڑھا میڑھا نقشہ بنا لیتے تاکہ اگر کسی کے ہاتھ یہ نقشہ لگ بھی جائے تو وہ خزانے تک پہنچ نہ پائے۔
لیکن اکثر یہ ہوتا کہ خزانہ لوٹنے والا قزاق تو عمر بھر اسے چھپانے کی کوشش کرتے کرتے ہی مرجاتا اور یہ اس کے کسی کام نہ آتا۔ اس کے حریف خزانہ تلاش کرنے کی کوشش میں اپنی جان گنوا بیٹھے۔
اور تب کسی غریب چرواہے کوبھیڑیں چراتے چراتے  اتفاق سے یہ خزانہ ہاتھ لگ جاتا اور وہ یہ سوچ سوچ کر ہی مر جاتا کہ اتنا مال وہ رکھے گا کہاں۔
کہیں کوئی چھین ہی نہ لے۔

نجانے قزاقوں کے لوٹے ہوئےایسے کتنے خزانے دور دراز کے نامعلوم جزیروں میں دفن ہیں۔
ہے کوئی انہیں تلاش کرنے والا۔