خوف اور امید کا ہفتہ

یوں تو پوری دنیا میں سیاسی، سماجی اور معاشی سوچ میں تیزی سے اتاراور چڑھاؤ دیکھا جارہا ہے۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے پوری دنیا کی سیاست میں ایک بھونچال سا آیا ہوا ہے اور جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کہیں ایسے لوگ لیڈر چنے جارہے ہیں جو اپنی مفاد اور بنیاد پرستی کے لئے مقبول ہیں تو کہیں دھاندلی کے لئے بدنام ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان لیڈروں کو ان کے ملک کے لوگ ہی منتخب کر رہے ہیں یا پھر وہ لوگوں کی جذبات سے کھیل کر انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ الزام کسے دیا جائے۔ ان لوگوں کو جو ایک سرپھرے انسان کو اپنا لیڈر چن رہے ہیں یا ملک کے اس سسٹم کو کہ  لوگ جس میں مجبور ہیں۔ اس صورت حال نے  آج دنیا بھر میں پریشانی اور خوف کا ماحول پیدا کیا ہے۔

سوموار 16 جنوری کو برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے ایک پریس کانفرنس بلانے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد برطانوی اخبار ، ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر اسی بات پر بحث اور چرچا ہونے لگی کہ وزیر اعظم تھریسا مے برطانیہ کو یورپ سے نکلنے کے حوالے سے اپنا بیان اور لائحہ عمل پیش کریں گی۔ ماہر سیاستدان اور سیاسی پنڈت  وزیر اعظم تھریسا مے کی حمایت اور مخالفت میں اپنی رائے اور انٹرویو دینے لگے۔ پچھلے سال 52 فی صد عوام نے برطانیہ کو یورپ سے باہر نکلنے کی حمایت میں ووٹ دیا تھا ۔ تب سے ہر ہفتے اسی حوالے سے خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ کبھی وزیر اعظم تھریسا مے پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ برطانیہ کو یورپ سے نکالنے میں جان بوجھ کر دیر کر رہی ہیں۔ تو کبھی یہ کہا جارہا ہے کہ ان تمام باتوں کے پیچھے تھریسا مے کی کوئی سازش ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ عوام میں ایک بے چینی سی پائی جاتی ہے۔ کاروباری حضرات اور صنعت کار بھی کافی پریشان ہیں۔ آئے دن شئیر مارکیٹ میں اتار اور چڑھاؤ ہورہا ہے۔ اور برطانوی پونڈ بھی ڈالر کے مقابلے میں دن بدن کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

منگل 17 جنوری کو تھریسا مے نے پریس کانفرنس بلا کر صاف صاف اعلان کر دیا کہ برطانیہ یورپ کے ساتھ سنگل مارکیٹ میں شامل نہیں رہ سکتا ۔ کیونکہ اگر شامل رہا تو اس کا مطلب ہو گا کہ برطانیہ یورپین یونین سے باہر نہیں نکلا۔  لیکن وزیر اعظم نے اس بات کا بھی وعدہ کیا کہ ان کی حکومت یورپی ممالک اور دنیا کے دیگر ممالک سے ایک علیحدہ تجارتی معاہدہ کر ے گی ۔ وزیر اعظم نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ پارلیمنٹ میں یو کے اور یورپین یونین کے تعلق کے بارے میں رائے لی جائے گی۔  تاہم لیبر پارٹی نے وزیر اعظم تھریسا مے کی منصوبہ بندی کو ملک کے لئے خطرناک بتایا ہے۔ لیبر لیڈر جیریمی کوربین نے وزیر اعظم تھریسا مے کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ سنگل مارکیٹ کی بات کہہ کر اپنے حصّے کا کیک کھانا چاہتی ہیں۔ لیبر لیڈر نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم کو یورپین یونین سے ایسا سودا کرنا چاہئے جس کے تحت برطانیہ کو یورپین مارکیٹ میں آسانی سے رسائی ہو، تا کہ برطانوی روزگار محفوظ رہیں۔

وزیر اعظم تھریسا مے کی متوقع تقریر میں برطانیہ کو یورپ سے نکلنے میں ان مذاکرات کو ترجیح دی گئی جس سے زیادہ تر لوگ پریشان ہیں۔ وزیر اعظم نے مذاکرات کے بارہ مقاصد کو بیان کئے ہیں۔ جن میں چند اہم نکاات یہ ہیں کہ یوکے اور آئیرش ریپبلک کے درمیان سفر پر کوئی رکاوٹ نہیں لگائی جائے گی۔ یورپین یونین سے (Tariff-Free) ٹیرف فری تجارت کی جا ئے گی۔ یورپین یونین کے کسٹم سے معاہدہ کیا جا ئے گا۔ خفیہ ایجنسیوں اور پولیس سے رابطے کو قائم رکھا جا ئے گا۔ برطانیہ میں مقیم یورپین یونین کے شہریوں اور برطانوی شہریوں کی یورپ میں بسنے والوں کے امیگریشن حقوق کا خیال رکھا جائے گا۔ وزیر اعظم تھریسا مے نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات میں سست رفتاری نہیں برتی جائے گی بلکہ مارچ میں جیسے ہی آرٹیکل  50لزبن ٹریٹی کے تحت لاگو ہوگا، الگ ہونے کے تمام کام شروع ہو جائیں گے۔ تاہم اس کام کو مکمل ہونے میں لگ بھگ دو سال کا وقت لگ جا ئے گا۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں برطانیہ کو ایک عظیم ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے ایک روشن مستقبل کے لئے ووٹ دیا ہے اور ہم ایک مضبوط ، منصفانہ طریقے سے اور مزید متحد ہو کر ملک کو ترقی کی راہ پر لے جائیں گے۔

پچھلے سال جب برطانیہ میں یورپ کے ساتھ رہنے اور الگ ہونے کے سلسلے سے ریفرنڈم کروا یا گیا تھا تو برطانوی سیاست میں بھونچال سا آ گیا تھا۔ اس کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ریفرنڈم کی ہار سے مایوس ہو کر استعفیٰ دے دیا تھا۔ تبھی تھریسا مے نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اور برطانیہ کو یورپ سے الگ کرنے کے سلسلے میں کوئی ٹھوس بات نہیں کر رہی تھیں اور نہ ہی کوئی لائحہ عمل بنا رہی تھیں۔ تاہم اپوزیشن کی تنقید اور ملک کی معیشت کی غیر یقینی صورتِ حال کے دباؤ سے انہیں یہ اہم پریس کانفرنس بلانا پڑا۔ اس کے علاوہ بہت سارے سیاستدان اور سیاسی پارٹیاں وزیر اعظم پر مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ یورپین یونین سے الگ ہونے کے بارے میں اپنا موقف واضح کریں۔ کئی سیاستدانوں نے اپنے اپنے طور پر برطانیہ کو مزید نقصان پہنچنے کی پیشین گوئی کی تو بہتوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ آنے والے دن برطانیہ کے لوگوں کے لئے  مشکل ہوں گے۔

ادھر یورپین یونین نے صاف طور پر برطانیہ کو پیغام دے دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے یورپین یونین میں نہیں رہ سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ کو یورپین یونین میں شامل رہنے کے لئے اس کے ان اصولوں کو ماننا پڑے گا جو یورپین یونین کا بنیادی آئین ہے۔ مثلاً یورپ کے درمیان لوگوں، سامان اور خدمات کے آنے جانے کی آزادی ہونی چاہئے۔ اور اگر کوئی ملک اس اصول کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو اس کا یورپین یونین میں رہنے کا سوال ہی نہیں ہے۔

پچھلے ہفتے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک پرس کانفرنس بلائی۔ ساری دنیا کی نظر اس پریس کانفرنس پر مرکوز ہوگئی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ جب سے الیکشن جیتے ہیں انہوں نے پریس کانفرنس نہیں کی تھی۔  زیادہ تر لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پر تنقید کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کی وجہ سے ان کے انتخاب پر بھی شبہات کا اظہار سامنے آیا تھا۔   ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کرنے کے لئے دنیا کے صحافی بے چین تھے۔ ٹرمپ جب پریس کانفرنس کررہے تھے تو متعدد بار انہوں نے چند رپورٹروں کو بد تمیزی سے مخاطب کیا جس پر میڈیا نے ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ رویّے کی مذمت کی ۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ اب چین کی اشیا پر ڈیوٹی لگائے گا تاکہ چین کا تجارتی تسلط ختم ہوجائے۔ اس کے علاوہ  ٹرمپ نے (Nafta) نافٹا کی بھی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک ایسا زوال پزیر معاہدہ ہے جس سے امریکہ کو محض نقصان ہی ہوا ہے۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس معاہدے کے تحت زیادہ تر گاڑیوں کی فیکٹریاں میکسیکو میں لگائی گئی ہیں۔ 1993 میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان نافٹا معاہدہ ہوا تھا اور تب سے اب تک امریکہ میں 70,000 فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔

یہاں میں یہ بھی یاد کراتا چلوں کہ 20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ پینتالیسویں منتخب صدر کی حیثیت سے حلف لیں گے جس کی تیاری زور و شور سے چل رہی ہے۔ یوں تو امریکی صدر کا حلف لینا دنیا کے لئے ایک اہم خبر ہوتا ہے لیکن اس بار  ٹرمپ کی وجہ سے اس کی اہمیت اور دلچسپی لوگوں میں زیادہ دیکھی جارہی ہے۔
چینی صدر زی جین پینگ نے سوئزر لینڈ کے شہر ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ قومیں اگر تجارتی جنگ میں مشغول ہوں گی تو کوئی فاتح نہیں ہوگا۔ چینی صدر نے یہ بھی کہا کہ مالیاتی بحران کی ایک وجہ منافع کا حصول ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دنیا میں آزادنہ طور پر تجارت کرنے کے اصول پر ہمیں اٹل رہنا چاہئے۔ اسی میں  دنیا کی بھلائی ہے۔ زی جین پینگ چین کے پہلے صدر ہیں جنہوں نے ورلڈ اکنامک فورم میں تقریر کی ہے۔

یہ ہفتہ ان تین خبروں کی وجہ سے کافی اہم ہفتہ رہا ہے۔ برطانیہ کی وزیر اعظم کی پریس کانفرنس اور برطانیہ کو یوروپین یونین سے الگ کرنے کی تفصیل بتانا ایک اہم خبر تھی ۔  ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر کا حلف لینے سے پہلے ان کے متعلق بیانات اور ٹرمپ کی اپنی رائے نے لوگوں کو کشمکش میں ڈال دیا ہے۔ اس کے علاوہ چینی صدر کا پہلی بار ورلڈ اکنآمک فورم میں تقریر کرنا بھی ایک اہم خبر خۃ جا رہی ہے۔ مجھے اس بات کی امید ہے کہ دنیا کے حالات بہتر ہون گے اور تمام ممالک آپس میں تال میل کو بر قرار رکھیں گے۔  تاکہ دنیا میں آزادنہ طور پر تجارت قائم رہے۔ لیکن مجھے اس بات کا  ڈر بھی ہے کہ چند احمق اورسر پھرے لیڈروں کی لاپرواہی اور جارحانہ اقدام سے دنیا کہیں معاشی تباہی کی لپیٹ میں نہ آجائے ۔