لاپتہ افراد بازیاب کروائے جائیں
- تحریر سید انور محمود
- جمعرات 19 / جنوری / 2017
- 5896
کسی زمانے میں پاکستان میں نظریاتی سیاست کا رواج تھا لیکن اب پاکستان میں نظریاتی اور اصولوں کی سیاست ختم ہوچکی ہے۔ اب صرف شدت پسندی، مفاد پرستی اور منافقت کی سیاست ہوتی ہے۔ ملک میں دہشتگردوں کے حامی ڈاکٹر سلمان حیدر اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری پر جس طرح خوش ہوئے ہیں بالکل ایسا لگ رہا ہے کہ ایک بانجھ عورت کے ہاں غیر متوقع طور پرلڑکا پیدا ہوا ہے۔ مذہب فروش منہ بھر بھر کے لبرلز کو گالیاں دے رہے ہیں۔ ان میں سےاکثریت کو شاید یہ پتہ بھی نہیں ہوگا کہ لبرلز کہتے کسے ہیں۔
لبرلز کو گالیاں دینے والے مذہب فروش دراصل وزیراعظم نواز شریف کو گالیاں دے رہے ہیں کیونکہ چار نومبر 2015 کو اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نوازشریف نے کہا تھا کہ "عوام کا مستقبل جمہوری اور لبرل پاکستان میں ہے” ۔ اس کانفرنس کے چند روز بعد ہی کراچی میں دیوالی کے موقع پر وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ "میں مسلمانوں کے علاوہ ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں اور پارسیوں کا بھی وزیراعظم ہوں۔ میں آپ کا ہوں، آپ میرے ہیں۔ مجھے ہولی پر بلائیں اورجب میں آؤں تو مجھ پر رنگ ضرور پھینکیں”۔ اُن کا کہنا تھا کہ قوم میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا میرا مشن ہے۔ تمام مذاہب کے لوگ ہم آہنگی کو فروغ دیں، ظالم کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ لہذا دہشتگردوں کے حامی اورمذہب فروشوں کو چاہئے کہ سب سے پہلے لبرل وزیراعظم کا کچھ علاج کریں۔
ایسے بہت سے معصوم پاکستانی ہیں جن کو صرف یہ معلوم ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور اسلام ان کا دین ہے لیکن مذہب کے بارے میں ان کی معلومات کچھ نہیں ہوتیں۔ مذہب کے ٹھیکیدار ان معصوم لوگوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ یہ جوشخص یا جو لوگ حقوق کی بات کرتے ہیں، دراصل یہ مذہب کے خلاف ہیں اور ہم ان کو لبرل کہتے ہیں اور یہ مسلمان بھی نہیں ہیں۔ لازمی بات ہے یہ بیچارے لبرل سے نفرت کرتے ہیں اور انہی میں ان کم عمر بچوں کو جنہوں نے ابھی دنیا بھی ٹھیک طرح سے نہیں دیکھی ہوتی ہے، دہشتگرد بنایا جاتا ہے۔ آج ایسے دوستوں کےلیے تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے کہ لبرل کسے کہتے ہیں۔ اور لبرل ازم کیا ہے۔ ایک بات ذہن میں رکھیں کہ پاکستان میں لبرل ازم کے حامیوں میں نہ تو مذہب سے بیزار لوگ شامل ہیں اور نہ ہی مادر پدر آزادی کے حامی، کیونکہ یہ سب ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جو مذہب کا بہت احترام کرتا ہے۔ یہ لوگ سماجی اقدار کی اہمیت سے بھی آگاہ ہیں۔
ذیشان ہاشم اپنے مضمون " لبرل ازم کیا ہے؟" میں لکھتے ہیں کہ " لبرل ازم سیاسی، سماجی اور معاشی تصورات کا ایسا مجموعہ ہے جس کی بنیاد شخصی آزادی، انصاف اورمساوات پرقائم ہے، اس کا دائرہ کارمحض سیاست سماج اور معیشت تک ہی محدود ہے۔ لبرل ازم میں جمہوریت، شہری حقوق، آزادی اظہار رائے اورحق اجتماع کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ لبرل ازم میں مذہبی آزادی ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔ ہر فرد کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جس مذہب یا نظریہ کو اپنی عقل و بصیرت سے بہتر جانے، اس پر عمل کرے ۔ مذہبی آزادی کے بغیر لبرل ازم کی بنیادیں قائم نہیں رہ سکتیں۔ دوسرے ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ جو چاہے خریدے یا بیچے۔ جائیداد رکھنے کا ہر فرد کو حق حاصل ہے۔ ریاست انتظامی اخراجات کے لیے لوگوں سے ٹیکس وصول کر سکتی ہے مگر وہ اس کے خرچ میں جوابدہ ہے ۔ ٹیکس کا مصرف محض شہریوں کی فلاح و بہبود اور ملکی دفاع ہونا چاہیئے" ۔ ان تمام باتوں سے اتفاق رکھنے والے فرد کو لبرل کہا جاتا ہے۔
ذیشان ہاشم اپنے اسی مضمون میں مزید لکھتے ہیں کہ "لبرل ازم زمان و مکان کے بارے میں بہت حساس ہے۔ ہر ملک کا لبرل ازم اپنی تشریحات میں مختلف ہے۔ مگر شخصی آزادی، انصاف، اور مساوات کی بنیادیں ہر جگہ مشترک ہیں۔ اس میں ہر عہد کے اعتبار سے ارتقا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں لبرل قوتیں ویلفیئر اسٹیٹ کی حامی ہیں تو یورپ میں لبرل قوتوں کا موقف یہ ہے کہ حکومت محض ادارہ جاتی انتظام قائم کرے۔ ہر شخص اپنی محنت اور ذہانت سے اپنے لیے ویلفیئر کا خود ہی بندوبست کرسکتا ہے۔ پاکستان میں بھی لبرل ازم یہاں کی تاریخ ثقافت اور شہریوں کی امنگوں کے مطابق ہی عملی و فکری بنیادوں پر قائم ہو سکتا ہے جن کی بنیاد ہر صورت میں شخصی آزادی، انصاف، اور مساوات پر قائم ہوگی"۔
واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں کہ اس ملک میں کرپشن کا یہ حال ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والے لاپتہ افراد سے متعلق قومی کمیشن میں تعینات افسران ڈھائی کروڑ روپے لاپتہ افراد کے نام پر لے اڑے۔ کمیشن کا مقصد تھا کہ ملک میں طاقت کے زور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کیسے کی جائے، یہ کمیشن وزارت داخلہ کے زیر اثر کام کرتا ہے جس کے انچارج وزیر داخلہ چوہدری نثار ہیں۔ پارلیمانی کمیشن کو پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق کمیشن کو نیشنل کرائسنس مینجمنٹ نے 27 ملین روپے فراہم کیے تھے، اس رقم کو کمیشن میں تعینات اعلیٰ افسران ہڑپ کرگئے۔ انکوائری کمیٹی نے جب کمیشن کے افسران سے اخراجات کی تفصیلات طلب کیں تو متعلقہ حکام نے یہ معلومات دینے سے انکار کردیا۔ دوسری طرف گزشتہ سال اوکاڑہ میں بھارتی بلے بازویرات کوہلی کے پاکستانی پرستار عمر دراز نے اپنے گھر پربھارت کا پرچم لہرایا تو اس کی ناسمجھی کو قومی سلامتی کےلئے خطرہ سمجھا گیا۔
ایک مثال بنگلہ دیش کی لےلیتے ہیں ۔ عوامی لیگ کی حسینہ واجد سیکولر جمہوریت کی نام لیوا ہیں اور پارلیمنٹ میں بھرپور اکثریت کی مالک ہیں۔ لیکن اندر سے اتنی کمزور کہ ایک لبرل اور سیکولر صحافی محفوظ انعام کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرا دیا۔ غداری اور ملک دشمنی کا الزام سیاسی مخالفین کے خلاف ایک ہتھیار بن چکا ہے۔ مہذب قومیں پرامن انداز میں ریاست سے اختلاف کرنے والوں کو غدار قرار دے کر پھانسی لگاتی ہیں، نہ ان کا ماورائے عدالت قتل کرتی ہیں۔ بوڑھے پاکستانی ماما قدیر بلوچ کے بارے میں سوچئے۔ اس نے صرف یہ کہا تھا کہ لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ اسے اور اس کی آواز میں آواز ملانے والوں کو ملک دشمن قرار دیا گیا۔ کیا اس الزام سے ریاست مضبوط ہوئی؟ شاید آپ کا بھی جواب دوسروں طرح یہی ہوگا کہ ’’نہیں‘‘ ۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ ارباب اختیار کیوں لوگوں کو لاپتہ کرتے ہیں، جبکہ ریاست خود ایک ماں کہہ کر پکاری جاتی ہے۔
حکومت کے پاس سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک شاعر، مصنف، ماہر تعلیم اور حقوق انسانی کا سرگرم کارکن کیا اتنا بےوقوف ہوسکتاہے کہ ریاست کے قاعدے اور قانون سے واقف نہ ہو اور اسلام اور پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پراظہار کرے گا۔ حکومت یا جس ادارے کے پاس ڈاکٹر سلمان حیدر ہیں انہیں جلد از جلد رہا کردیں کیونکہ ان کی وجہ سے پاکستان بدنام ہورہا ہے۔ ڈاکٹر سلمان حیدر اور ان کے دس ساتھیوں کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد بہت سے بدنصیب لاپتہ افراد کے اہل خانہ میں پہلے سے زیادہ مایوسی پھیلی ہوگی۔ وہ پہلے سے زیادہ رو رہے ہوں گے کیونکہ انہیں آج بھی یہ نہیں پتہ کہ کبھی ان کے پیارے ان سے ملیں گے یا نہیں۔ حکمرانون کو سمجھنا ہوگا کہ آج سیاست نہیں انسانیت آپ کو پکار رہی ہے۔ کوشش کریں اب کوئی اور ماں اپنے بیٹے کو پکارتی ہوئی سسک سسک کر نہ مرے۔ ہر لاپتہ فرد اس شعر کی جیتی جاگتی تصویر ہے:
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا اُنہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے