امریکہ ۔ دن ایک مگر تاریخ مختلف
- تحریر
- جمعہ 20 / جنوری / 2017
- 5014
دن ایک ہی ہے لیکن تاریخ مختلف بن رہی ہے۔ بیس جنوری کو آٹھ سال قبل پہلے امریکی سیاہ فام باراک اوباما نے مریکی صدارت کا منصب سنبھالا۔ سیاہ فام غلاموں کی نسل سے ایک سپوت غلامی کی طویل تاریخ کو پھلانگتا ہوا جمہوری راستے سے قصر صدارت میں متمکن ہوا۔ ( دوسری حیرت انگیز بات کہ ایک مسلمان باپ کی اولاد بھی تھا )۔ امریکہ کے ایک سیاہ فام سابق صدارتی امیدوار جیسی جیکسن نے اس موقع پر اپنے رخساروں سے آنسو پونچھتے ہوئے اس لمحے کو یوں بیان کیا ۔۔۔ ہمیں اس تاریخی موقع کے لیے دو سو سال انتظار کرنا پڑا !
آج ایک اور دن بیس جنوری ہی کا ہے لیکن تاریخ مختلف بن رہی ہے۔ ایک ایسا شخص صدارت پر متمکن ہو رہا ہے جو رئیل اسٹیٹ کا کاروبار اور ریالٹی ٹی وی شو کرتے کرتے صدارتی دوڑ میں شامل ہوا۔ روایتی جغادری سیاسی امیدواروں کو پچھاڑتا ہوا نہ صرف صدارتی امیدواری لے اڑا بلکہ حالیہ تاریخ کا متنازعہ ترین امیدوار ہونے اور پاپولر ووٹ حاصل نہ ہونے کے باوجود صدارتی انتخاب جیت گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ واحد صدر ہیں جن کی جیت میں امریکہ کے ازلی دشمن روس کی درپردہ کوششوں کے کردارکو امریکہ کے اپنے انٹیلی جنس ادارے تسلیم کروانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے صدر ہیں جنہوں نے صدارت سنبھالنے سے پہلے ہی دشمنوں اور تنازعات کی ایک ذاتی کھیپ تیار کر لی ہے۔ صرف اپنی سر زمین پر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اتحادیوں سمیت کئی ملکوں سے حلف اٹھانے سے قبل ہی مڈ بھیڑ کر لی ہے۔ دن وہی بیس جنوری کا ہی ہے لیکن تاریخ مختلف بن رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن مہم کے دوران بہت سے سکہ بند انتخابی سانچے توڑے۔ میڈیا سمیت جغادری ماہرین اور تبصرہ کاروں نے ان پر تنقید کے کیا کیا نشتر نہ چلائے۔ الیکشن سے قبل اور الیکشن کے روز سروے پولز میں ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی کی پیشین گوئی ایک آدھ سروے کے علاوہ کہیں نہ تھی۔ سبھی سروے کانٹے دار مقابلے اور ہیلری کلنٹن کی تھوڑے مارجن سے جیتنے کے دعوے دار تھے۔ نتیجہ آیا تو بقول شخصے برج الٹ گئے۔ ڈونالڈ ٹرمپ پاپولر ووٹ میں حریف سے پیچھے رہے لیکن الیکٹورل ووٹ کی بنیاد پر جیت کا سہرا ان ہی کے حصے میں آیا۔ ہم ایسے ترقی پذیر ملکوں کے الیکشن والے سارے قصے امریکہ میں بھی دہرائے گئے۔ الیکشن میں دھاندلی تک کا شور مچا۔ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا کام بھی ایک ریاست میں شروع ہوا ۔ امریکہ کے کئی شہروں میں احتجاجی ریلیاں ہوئیں جس پر موصوف نے ٹویٹر پر ان احتجاجیوں کو بھاڑے کے ٹٹو قرار دے ڈالا۔
انتخاب کے بعد انتخابی نتائج کے بال کی کھال کھچائی کا کام شروع ہو گیا۔ انتخابی پنڈت اپنی ہزیمت کو ان انتخابات کی توجیحات میں چھپانے لگے۔ شہروں سے تو ووٹوں کا تناسب حسب توقع رہا لیکن دیہی ووٹوں نے حیران کر دیا۔ کسی نے تان سفید فام اکثریت کے ناراض ووٹوں پر توڑی۔ کسی نے جواں عمری اور ادھیڑ عمری کے ووٹوں کے ٹرینڈ میں تفاوت دریافت کیا۔ ابھی یہ دبستان بند نہ ہوا تھا کہ ایک نیا دبستان کھل گیا۔ میڈیا میں دبے دبے لفظوں میں روس کی جانب سے مبینہ ہیکنگ کی باتیں چل رہی تھیں لیکن اب یہ دعویٰ ہونے لگا کہ روس کے ہیکرز نے ہیلری کلنٹن کی میلز ہیک کرکے ان کی انتخابی مہم کو متاثر کیا۔ بات چل نکلی تو دور تک پہنچی۔ سی آئی اے کے حکام نے ان معلومات پر نو منتخب صدر کو بریفنگ دی جس میں یہ اصرار بھی تھا کہ معلومات کی درستگی پر ادارہ ہذا کا کامل یقین نہیں ہے۔ لیکن ان معلومات میں صداقت ہو بھی سکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہی ملک کے معتبر ادارے کی رپورٹ کو نہ صرف جھوٹ کا پلندہ قرار دیا بلکہ ان رپورٹوں کو نازیوں سے مشابہت بھی دے ڈالی۔ سو ، یہ اپنی طرز کا امریکہ کا پہلا الیکشن ہے جس پرسوال در سوال اٹھے۔
الیکشن سسٹم اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے بے باک انداز پر جو سوال تھے سو تھے، نو منتخب صدر کے اپنے مخصوص طور طریقوں اور اداؤں پر بھی سوال اٹھتے گئے۔ ان سوالوں کا کمال ہے کہ ان کے حلف اٹھانے سے قبل ہی اپنے بھی ان سے لرزاں ہیں اور بیگانے بھی متوحش۔ ان کی ٹیم کے انتخاب نے بہت سے خدشات کو زبان دی ہے۔ پہلے پہل تو وہ اپنے کاروبار کو اپنے سے علیحدہ کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ بدقت تمام اب کاروبار کا انتظام اپنے بیٹوں کے حوالے کیا ہے۔ اپنی ٹیم میں انہوں نے بیشتر ایسے لوگوں کا انتخاب کیا ہے جن پر کئی اعتراضات ہیں۔ انہوں نے اٹارنی جنرل کے طور پر جیف سیشنز کا انتخاب کیا جن پر نسلی تعصب کا حامل ہونے کا الزام ہے۔ قومی سیکورٹی ایڈوائزر مائیکل فلین کی انتہا پسندی ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ مسلمانوں کو دہشت گرد گردانتے ہیں اور اسلام کے بارے میں انتہائی نا زیبا رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ ڈیفنس سیکریٹری کے لیے جنرل جیمز میٹز کا چناؤ ہوا جن کے نام کے ساتھ ڈاگ کا لاحقہ لگا ہے۔ اسرائیل کے لیے جن صاحب کو سفیر چنا ہے وہ اسرائیل کی غیر قانونی یہودی بستیوں کے قیام کے حامی ہیں۔ سیکریٹری آف اسٹیٹ کے اہم ترین منصب کے لیے ایک بڑی آئل کمپنی کے سربراہ کو چنا گیا جن کی روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ گاڑھی چھنتی ہے۔ اپنے داماد کو انہوں نے وا ئٹ ہاؤس کا سینئیر عہدیدار بھی مقرر کیا ہے۔ مفادات کے ٹکراؤ پر ادارے اور میڈیا شور مچاتے رہ گئے لیکن موصوف نے جو چاہا وہ کر ڈالا۔
اپنی ٹیم کے انتخاب میں تو ڈونلڈ ٹرمپ نے جو چاہا سو کیا، صدارت سنبھالنے کے بعد وہ کیا طرز اختیار کریں گے۔ اس سوال پر ایک عالم اپنے اپنے خیال کے گھوڑے دوڑا رہا ہے۔ اپنے اتحادی یورپی یونین کے ساتھ انہوں نے آغاز کچھ یوں کیا ہے کہ برطانیہ کی تعریف کی کہ اس نے یورپی یونین چھوڑ کر نہایت درست فیصلہ کیا۔ اور یہ کہ جرمنی نے مہاجرین کے لیے سرحدیں کھول کر انتہائی فاش غلطی کی۔ مزید یہ کہ روس اور یوکرائن کا قضیہ یورپ کا درد سر ہے اس کے لیے امریکہ کو اوکھلی میں سر دینے کی کیا ضرورت ہے۔ اور یہ بھی کہ نیٹو ایک بیکار ادارہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ یورپی ممالک اس کے اخراجات میں اپنی قومی آمدنی کے حساب سے ہاتھ بٹائیں۔ امریکہ کی طرف سے ان کی رعایتی خدمت بہت ہو چکی۔ اپنے پڑ وسی ملک میکسیکو کے ارد گرد باڑ لگا کر امریکہ کو محفوظ کرنے کا ان کا ارادہ اٹل ہے۔ مسلمانوں سمیت مہاجرین کی آمد پر پابندیوں کے وہ شدید حامی ہیں۔
ٹرمپ کے خیال میں چین کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ میکسیکو کے بعد چین ہی وہ ملک ہے جس نے امریکہ کی ملازمتیں چرائی ہیں۔ چین نے مصنوعی طور پر اپنی کرنسی کو سستا رکھ کر امریکی صنعت و تجارت کا بھرکس نکال دیا ہے۔ لہٰذا اب حساب کتاب کا وقت آ گیا ہے۔ گزشتہ چار دہایوں سے امریکہ چین ایک ملک کے سفارتی بیانیے کو مانتا آیا ہے لیکن موصوف نے تائیوان کی صدر کی تہینتی فون کال سن کر چین کو چیں بہ چیں ہونے پر اکسایا۔ نہ صرف یہ بلکہ چین پر سمندری حدود میں اپنے اڈے بنانے کا الزام بھی لگایا ہے۔ لے دے کر موصوف کا دل روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے بارے میں شفیق ہے۔ کیا طرفہ تماشہ ہے کہ امریکہ کی عالمی سیاست ہی روس دشمنی پر کھڑی ہے اور موصوف ہیں کہ اس کے صدر کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ حتیٰ کہ انہوں نے اس معاملے میں اپنے انٹیلی جنس اداروں کو بھی جھڑک دیا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ واحد رابطے میں انہوں نے مبار ک باد وصول کرتے وقت اچھی اچھی باتیں کیں لیکن وقت آنے پر ہی اندازہ ہو سکے گا کہ وہ باتیں تری وہ فسانے ترے والا معاملہ ہی تھا یا ان باتوں میں کچھ دم بھی تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ امریکہ کے اندر زیادہ مرکوز ہے۔ ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے وہ انفرا سٹرکچر میں بہت وسیع سرمایہ کاری کرنے کے خواہاں ہیں۔ صنعتوں اور تجارت میں وہ کمپنیوں کو براہ راست سمجھانے بجھانے اورآنکھیں دکھا کر ملازمتیں پیدا کر نے کے بارے میں پر امید ہیں۔ ٹیکس مزید کم کرنے اور حکومت کی طرف سے عوامی فلاح کے کاموں کے لیے وسائل میں کٹوتی پر بھی کمر بستہ ہیں۔ اوباما ہیلتھ کئیر اور صدر اوباما کی حکومت کے عالمی تجارتی معاہدے ، ایران جوہری معاہدے اور ماحولیات کے معاہدوں کو منسوخ کرنے پر بھی بضد ہیں۔ اس پر مستزاد موصوف کا بات بات پر مخالف پر سیخ پا ہو جانا اور الزام لگانا ان کا معمول بنا ہوا ہے۔ ٹویٹر کا استعمال کرتے ہوئے وہ میڈیا کو بھی اپنی اوقات دکھا رہے ہیں۔ حیرت نہیں ہے کہ آج دن تو بیس جنوری کا ہی ہے لیکن تاریخ مختلف بننے کو ہے۔