اترپردیش کا انتخابی نتیجہ قومی سیاست پر اثرانداز ہوگا
- تحریر محمد شمشاد
- جمعہ 20 / جنوری / 2017
- 5183
اتر پردیش سیاسی اعتبار سے ملک کی سب سے اہم ریاست ہے اور اسی وجہ سے یہاں کا انتخاب ہندوستانی سیاست میں اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں کے عوام نہ صرف ریاست کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں بلکہ بھارت کی قسمت کا بھی فیصلہ کرتے ہیں۔ بلکہ یہ کہا جا ئے تو بے جا نہ ہوگا کہ جس نے یوپی کو جیت لیا اس نے پورے ملک پر قبضہ کر لیا۔
یہ انتخاب مسلمان اور سیکولرلوگوں کےلئے بھی اہم ہے تا کہ ان کا ایک بھی ووٹ ضائع نہ ہواور ذات ، پات اور کچھ ذاتی فائدے کے بنیاد پر ان کے ووٹ تقسیم نہ ہوں۔ غور طلب ہے کہ یوپی میں مسلمانوں کی تعداد سرکاری غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق 22% ہے۔ یہاں اسمبلی کے 403 حلقے ہیں۔ لیکن ریزرویشن کے نام پر پنچایت سے لےکر اسمبلی و پارلیمنٹ تک میں مناسب مسلم نمائندگی موجود نہیں ہے۔ اتر پردیش کی اسمبلی انتخاب میں بہوجن وسماجوادی پارٹی ، کانگریس اور بھاجپا جیسی بڑی پارٹیاں میدان میں ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ مسلم پارٹیاں بھی زور آزمائی کرتی ہیں۔ بالعموم یہاں کے مسلمان سیکولر امیدوار کی حمایت کرتے ہیں۔ اسمبلی کے312 حلقوں پر مسلمانوں کی گرفت ہے۔ ان میں 209 نشستیں ایسی ہیں جہاں مسلمان اپنی مرضی کے مطابق زیادہ سے زیادہ مسلم و سیکولرممبران اسمبلی میں بھیج سکتے ہیں۔ اور ان کی مرضی کی حکومت تشکیل پا جا سکتی ہے۔
تاہم مسلمانوں کا ووٹ زیادہ ترسماجوا دی اور بہوجن پارٹی کو جاتا رہا ہے۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن میں مسلمانوں نے کھل کر سماجوادی پارٹی کا ساتھ دیا تھا اور اسی وجہ سے اسے 224 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیابی ملی تھی۔ اس دوران کئی مسلم پارٹیاں بھی میدان میں آچکی ہیں ان میں اتحاد المسلمین ، نیشنل لوک تانترک پارٹی، پیس پارٹی (لیکن ڈاکٹرایوب اس پارٹی کو مسلم پارٹی نہیں مانتے اور نہ ہی وہ مسلمانوں کے کسی مسئلہ سے دلچسپی رکھتے ہیں) ،علماء کونسل، نیشنل مسلم لیگ، قومی ایکتا دل ، مسلم مجلس، پرچم پارٹی ، ایس ڈی پی آئی اور ویلفیر پارٹی کا نام اہم ہے۔ مسلم لیڈروں اسماعیل باٹلی والا، اقبال لوکھنڈ والا ،محمد شمشاد، مظفر علی اور یوپی رابطہ کمیٹی کے ڈاکٹر امان اللہ خاں نے ایک اتحاد قائم کرنے اور انہیں اس بات پر مفاہمت کرا نے کی کوشش کی تھی کہ مختلف لیڈر و پارٹیاں، ان ہی سیٹوں پر قسمت آزمائی کریں جہاں سے ان کا جیتنا یقینی ہو۔ لیکن ان پارٹیوں کے رہنماؤں نے اپنے اپنے مفاد میں اس اتحاد میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ ایسے میں الیکشن کے وقت منظر عام پر آنے والی ان پارٹیوں سے مسلمانوں کا کچھ بھلا ہو یا نہ ہو لیکن بھاجپا کا بھلا ضرور ہوجاتا ہے اسی وجہ کر اکثر مسلم رہنماؤں کا نام بھاجپا کے ایجنٹ کے طور پر لیا جاتا ہے۔
2012 کے انتخاب میں کل 67 مسلم ممبران اسمبلی منتخب ہوئے تھے جبکہ دوسرے نمبر پر رہنے والے 63 مسلم تھے۔ یعنی 130لوگ اس دوڑ میں تھے جن میں کچھ ایسے امیدوار بھی تھے جو چند سو ووٹوں سے ناکام ہوئے۔ اگر مسلم ووٹراور قائدین کوئی حکمت عملی اپنا تے توانہیں ہار نہ ہوتی۔ اس طرح وہ مزید 39 مسلمانوں کو رکن اسمبلی بنوا سکتے تھے۔ یعنی یوپی اسمبلی میں مسلمانوں کی تعداد 115 تک جاسکتی تھی۔ واضح ہو کہ رامپور میں مسلما ن 52%، میرٹھ میں 53 ، مرادآباد میں46 ، امروہہ میں 44 ، بجنورمیں 42 ، کیرانہ میں 39، مظفر نگر میں 38، سنبھل میں 36 ، بریلی میں 25 ، سرسوتی میں 23 ، جونپور میں 21 ، بدایوں، علی گڑھ ،اعظم گڑھ ، سیتا پور، کھیری ، ڈومریا میں 20% ، جبکہ فروخ آباد ، سلطا نپور، ورانسی ، غازی پور ، گھوسی ، میں 18-19% مسلمان بستے ہیں۔ لیکن مسلما نوں کا ووٹ بٹ جاتا ہے۔
اگر2014 کے انتخاب سے قبل سیکولر پارٹیوں کے درمیان کوئی سمجھوتہ ہو جاتا تو انہیں وہاں کی سبھی سیٹیں حاصل ہوسکتی تھیں۔ واضح رہے کہ اس انتخاب میں بھاجپا اور اس کے اتحادیوں کو محض 42% ووٹ ملے تھے جس کے وجہ کر بھاجپا کو 71 اور اس کے اتحادی اپنا دل کو دو 2 سیٹیں ملی تھیں۔ جبکہ سماجوادی پارٹی کو 22% ووٹ لےکر صرف پانچ 5 سیٹ اورکانگریس 8% ووٹ لےکردو سیٹ بچانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ جبکہ بہو جن پارٹی 20% ووٹ لےکر ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ اگریہ پارٹیاں متحد ہو جا تیں تو 50% ووٹ حاصل کرنے کے بعد ساری سیٹیں انہیں کے حق میں آجاتیں۔ یعنی بھاجپا کا صفایا ہوجاتا۔ اسی طرح 2012کے اسمبلی انتخاب کے نتائج کے بنا پر بہوجن سماج پارٹی26%، کا نگریس کی 13.26%، پیس پارٹی کا 6.34%، قومی ایکتا دل کی 5.23% اتحاد ملت کی 2.35% اور آر ایل ڈی کے 2.33% ووٹوں کو یکجا کر دیا جائے تو 55.5% فیصد ووٹ ہوجاتا ہے۔
بہار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کانگریس علاقائی پار ٹیوں کے ساتھ مل کر انتخاب کی تیاری کرے تو صرف یوپی ہی نہیں ملک کا نقشہ ہی بدل جائےگا۔ ایک با ت تو طے ہے کہ مسلمانوں کا ووٹ صرف سیکولر پارٹیوں کو جائے گا تو اوران کا حشر ایسا نہیں ہوگا۔ ظاہر سی بات ہے اس انتشار کا فائدہ بھاجپا اور اس کے اتحادیوں کو ہواتھا اور سیکولر پارٹیاں ناکام ہوئیں۔ آئندہ اسمبلی انتخاب میں بھی بھاجپا یہی چاہتی ہے کہ سیکولر اور مسلم ووٹوں کو منتشر کیا جائے اس طرح مسلمانوں کا ووٹ صد فی صد ایک طرف ہو جائے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مغربی اتر پردیش کے آگرہ ، متھرا، علی گڑھ، بلند شہر، خورجہ ، غازی آباد، گوتم بدھ نگر ، مرآد آباد، سنبھل ، بریلی ، شاملی ، میرٹھ ، مظفر نگر، باغپت اور سہارن پورکے پہلے مرحلہ میں 15 اضلاع 77اسمبلی سیٹ پر ووٹنگ ہویا ہے۔ 2012 کے اعدادو شمار کو دیکھیں تو یہاں سماجوادی کو 34، بہوجن پارٹی کو 23، بھاجپا کو 13 ، ارایل ڈی کو 9 اور کانگریس کو 5 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔
گزشتہ 2014کے انتخاب میں بھاجپا نے اترپردیش کی 80 میں سے 71سیٹوں پر کامیابی حاصل کرکے حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا تھا۔ اس طرح بھاجپا نے 337 سیٹوں پر قبضہ جما لیا تھا جبکہ اس اسمبلی انتخاب میں انہوں نے 265 کا نعرہ لگایا ہے۔ یعنی انہوں نے خود ہی شکست تسلیم کر لی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر بھاجپا لوک سبھا کے اعدادو شمار کی بنیاد پر کچھ سوچ رہی ہے تو یہ اس کا وہم ثابت ہوگا۔ جنوبی بھارت کی طرح شمالی بھارت و ہندی علاقہ میں اس کے مطابق کوئی رائے قائم کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ یہاں ذات پات اور علاقائی رہنماؤں پر پارٹیاں ابھرتی اور زوال پزیر ہوتی ہیں۔ اس وقت کانگریس اور بھاجپا کا حال بھی ایک جیسا ہے کہ ریاستی سطح پر ان پارٹیوں کا کوئی ایک بھی ایسا رہنما نہیں ہے جو اپے بل بوتے اپنی پارٹی کی نئی کھیپ تیار کرسکے۔ ویسے بھی نوٹ بندی کے بعد عام لوگوں کی بھاجپا سے دلچسپی ختم ہوگئی ہے جو اسے نقصان پہنچائے گی۔ اس کے علاوہ یہاں کا انتخاب مکمل طور سے ذات کی بنیاد پر لڑا جاتا ہے۔
اتر پردیش میں اگر بھاجپا شکست ہوتی ہے تو امیت شاہ اور مودی جی کی لئے 2019 کا لوک سبھا کا انتخاب کافی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لئے وہ کوئی بھی کسر چھوڑنا نہیں چاہے گی۔ اس نے اپنے کور ذات براہمن ، پنڈت، یعنی اعلی ذات کے علاوہ پسماندہ طبقہ کانفرنس ، دلت کانفرنس ، نوجوان کانفرنس ، مہیلا کانفرنس ، مسلم کانفرنس کے ساتھ ساتھ کسانوں کو بھی اپنے ساتھ لانے کے لئے ایک لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ بھاجپا اس نہج پر کام بھی کر رہی ہے۔ اترپردیش میں 30%ووٹ پانے والی حکومت بنا لیتی ہے۔ گزشتہ تین اسمبلی الیکشن میں سماجوادی پارٹی کو اوسطا 25% ، کانگریس کو 10% اور راشٹریہ لوک دل کو مغربی اترپردیش میں 10% ووٹ ملتا رہا ہے۔ اگر سماجوادی پارٹی سے کانگریس اور راشٹریہ لوک دل کا اتحاد ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف مسلمانوں کا بھروسہ بڑھے گا بلکہ وہاں کے سیکولر ووٹروں کا بھی ان پر اعتماد قائم ہوگا۔ مغربی یوپی کی 77 اسمبلی سیٹیں ایسی ہیں جہاں 26% مسلم اور 17% جاٹ رہتے ہیں۔ جبکہ یوپی میں 19% مسلم ہیں جو عام طور پر سماجوادی ، بہوجن پارٹی اور کانگریس کو ووٹ دیتے ہیں۔
اس بات سے انکار نہیں کہ اگر مسلمان ووٹر نے ایکتا اور ہوشمندی سے کام لیا تو وہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتے پیں ۔ ان کے انتشار کی صورت میں انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔