کیا ترک فوج کا سیاست میں کردار ختم ہوگیا؟

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سیاسی صورتِ حال کے حوالے سے ہمارے ہاں جو کالم، مضامین یا تجزیے لکھے گئے، اُن کی بنیاد حقائق سے زیادہ خواہشات اور اندازوں پر تھی۔ ترکی میرے مطالعے کا سب سے بڑا موضوع  ہے۔ میرا ترکی سے عشق اس کی آزادی، ترقی اور اس کے نظام کے حوالے سے ہے۔

تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے میں اس ملک کا مطالعہ کررہا ہوں اور اس پر مسلسل لکھ رہا ہوں۔ اس حوالے سے عالمی نشریاتی اداروں پر بھی راقم کے تجزیے نشر اور شائع ہوئے۔ میرے لیے ترکی جدید مسلم دنیا کی امید ہے۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہاں کون شخص حکومت بناتا ہے اور کس کی حکومت جمہوری طریقے سے ناکام ہوتی ہے۔ ترکی  میرا تجزیاتی اور مطالعاتی موضوع ہےاور ترکی میرا عشق بھی ہے۔ اس لیے کہ اسے اقبالؒ نے بھی آج سے نوّے سال قبل اسلامی دنیا کی امید قرار دیا تھا۔ میرا دل ترکی میں دھڑکتا ہے۔ بعد از ناکام فوجی بغاوت میرے سامنے لاتعداد فوجی حقائق، مشاہدات اور واقعات ہیں لیکن شعوری طورپر میں ان کو ضبط تحریر میں لانا مناسب نہیں سمجھتا۔ یہ میرے لیے باعثِ کرب بھی ہے۔ ترکی کہاں کھڑا ہے۔ شاید ہمارے قلم کار اس کو سننا اور جاننا نہیں چاہتے۔ لیکن آنکھوں سے اوجھل کرنے سے حقائق تبدیل نہیں ہوجاتے۔ آج کا کالم ایک ترک تجزیہ نگار علی بیرم اولو کے چار روز قبل شائع ہونے والے ایک تجزیے کا ترجمہ ہے جو میں قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کسی مغربی قلم کار کی تحریر نہیں بلکہ ایک ترک کے قلم سے تحریرکردہ تجزیہ ہے۔ اس طرح جانا جاسکتا ہے کہ ترک ان حالات کو کیسے دیکھ رہے ہیں۔ قارئین، ترجمہ پیش خدمت ہے:

’’10جنوری کو جاری کردہ ایمرجینسی کے نفاذ کے حکم کے ذریعے ترک حکومت نے چیف آف جنرل سٹاف کے کچھ اہم اختیارات سویلین وزیر دفاع کو منتقل کر دئیے ہیں۔ اگرچہ یہ حکم بغیر کسی زیادہ بحث مباحثے کے منظور ہوگیا، اس کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ منتقل شدہ اختیارات میں فوجی سرپرستی پر کنٹرول شامل ہے جس نے بہت سالوں ترکی پر حکمرانی کی ہے۔ اس حکم نامے نے فوجی طاقت کو ایک واحد سویلین آفس تک مرتکز کر دیا ہے۔ سابقہ طاقتور چیف آف جنرل سٹاف اب برانچ کمانڈرز متعین نہیں کر پائے گا، نہ ہی جنرلوں اور ایڈمرل کی تعداد کا فیصلہ کر سکے گا۔ وہ سپریم ملٹری کونسل کا وقت، مقام اور ایجنڈا بھی طے نہیں کر ے گا اور نہ ہی سینئر سٹاف کی ترقیوں کے فیصلے کر سکے گا۔ یہ نئے اقدامات 15جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد اٹھائے گئے ہیں تاکہ فوج کو سویلین سیاسی اتھارٹی کے تحت لایا جائے۔ ناکام فوجی سازش کے فوراً بعد جندرما یعنی فوجی پولیس کو فوجی کمانڈ سے نکال لیا گیا اور بری، بحری اور فضائی افواج کے اعلیٰ کمانڈرز کو چیف آف جنرل سٹاف سے الگ کرکے، وزیر دفاع کے ماتحت کیا گیا۔ ملٹری سٹاف کالج اور ملٹری ہائی سکول بند کر دئیے گئے اور بری، بحری اور فضائی اکیڈمیاں جو کیڈٹوں کو افسر بننے کی تربیت دیتی تھیں، انہیں سویلین حکام کے تحت چلنے والی نئی یونیورسٹیاں بنا دیا گیا ہے۔

مضبوطی سے کھڑے ملٹری سٹرکچر اور آئیڈیالوجی کو گرانے پر منتج ہونے والے یہ انقلابی اقدامات نہ صرف ناکام فوجی سازش کے جواب میں کیے گئے ہیں بلکہ ان کا مقصد ایسی کسی دوسری کوشش کے امکان سے بچنا بھی ہے۔ حکمران AKP پارٹی 2004 سے فوج کے خود مختار اور آڈٹ فری کردار کو گھٹانے کے درپے ہے۔ اس مرتبہ کمانڈ میکینزم کو ہدف بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد فوجی اختیارات کے ارتکاز کو کم کرنا اور فوج پر سویلین کنٹرول کی یقین دہانی حاصل کرنا ہے۔ تاہم یہ AKP پارٹی کی حکمت عملی کا صرف ایک ہی عنصر ہے۔ باقی ہے بے مثل صفائی ستھرائی۔

گزشتہ برس 6 دسمبر کو وزیر دفاع Fikri Isik نے اعلان کیا، ’’اب تک 5575 ترک فوجی اہلکاروں کو برطرف اور 989 کو معطل کیا جا چکا ہے۔‘‘ برطرف کیے جانے والوں کی مجموعی تعداد اب تک 6 ہزار ہو چکی ہے۔ 15جولائی کے بعد سے 42 فیصد ایڈمرل اور جنرل نکالے جا چکے ہیں اور ان کی تعداد 358 سے 206 رہ گئی ہے۔ ملٹری سکولوں سے 16ہزار کے لگ بھگ فوجی کیڈٹ نکالے جا چکے ہیں۔ ایئرفورس کے 248 پائلٹوں کی برطرفی اور اس کے نتیجے میں فوجی اہلکاروں کی کمی ، اس بات کی ایک مثال ہے کہ کیسے فوج کے مشنز مشکلات کا شکار ہیں۔

ترکی کی فوج کے امیج اور ساکھ کو شدید نقصانات اٹھانا پڑے ہیں اور اب اس کو سزا دی جا رہی ہے۔ اس کے روایتی طور طریقوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ جب بات TSK کے فوجی کردار کی آتی ہے تو سوال جو پوچھا جانا چاہیے، یہ ہے کہ کیا مسلح افواج کے روایتی طریقہ کار ...جو سلطنت، ایک فوجی جمہوریہ اور ملکی سیاست کی نادانستہ غلطیوں کی وراثت کے ساتھ منتقل ہوئے... 15جولائی کے ساتھ ختم ہوگئے ہیں؟
فوج کی حالیہ صورت اور متصورہ Dynamics کی بنیاد پر اس سوال کا ایک فوری ہاں کی صورت میں جواب خلافِ قیاس لگ سکتا ہے۔ اگرچہ فوج کو لگائی جانے والی ضرب شدید اور گہری ہے، اس کی مداخلت کی روایت بھی مضبوط اور گہری ہے۔ کوئی بھی اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ 2003 میں شروع ہونے والے Demilitarization کے عمل اور 15جولائی کے بعد اٹھائے جانے والے اقدامات کے درمیان، ترکی میں سول ملٹری تعلقات، سویلین اقدار کی طرف رخ کررہے ہیں۔ البتہ یہ سب اضافی ہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ چھ ماہ پہلے فوج کے ایک گروپ نے ایسے ملک میں فوجی سازش کی کوشش کی جو یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے مذاکرات کررہا ہے۔ وہ گروپ امریکی نژاد مبلغ فتح اللہ گُلین کے پیروکاروں تک محدود نہ تھا۔ اس میں دوسرے منتظر افسران بھی تھے۔ بیشتر آبزرورز کا ماننا ہے کہ اگر گُلین نواز افسران اس فوجی سازش میں کامیاب ہوجاتے تو بہت سے دوسرے فوجی افسران بھی ان کے ساتھ شامل ہوجاتے۔ ریٹائرڈ چیف آف جنرل سٹاف Ilker Basbug نے ملٹری میں تین کلیدی گروپوں سے بات کی۔ سی این این ترک پر انہوں نے کہا، ’’وہ کلیدی گروپ جس نے 15جولائی کی فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کی اور حکم جاری کیا، گلین تحریک کا تھا۔ اس میں دوسرا گروپ ان لوگوں کا تھا جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کیا اور جو ہچکچائے۔ تیسرا گروپ، اگرچہ وہ گلین تحریک کا حصہ نہیں، لیکن وہ اس سے فائدہ اٹھانا ضرور پسند کرتے۔‘‘ ریٹائرڈ فوجی پراسیکیوٹر احمت ذکی Ucok جنہوں نے سب سے پہلے فوج میں گلین نواز حلقوں کا انکشاف کیا تھا اور جنہوں نے امکانی فوجی سازش کی کوشش کی وارننگ جاری کی تھی، ایک دلچسپ اور واضح تبصرہ کیا، ’’اگر وہ 15جولائی کو صدر کو یرغمال بنا لیتے تو اعلیٰ کمانڈ اس فوجی سازش کو قانونی قرار دیتے ہوئے اعلان کرتی کہ اس پر چیف آف کمانڈ نے عمل کیا تھا۔‘‘

مستقبل سے متعلق کیا اندیشے ہوسکتے ہیں؟ پہلا ایریا آج فوج میں سیاسی رحجانات ہیں۔ فالٹ لائنز کیا ہیں؟ اگر گلین نواز عناصر کی TSK اور اس کے پوشیدہ سٹرکچر میں داخل ہونے کی قابلیت پر غور کیا جائے، تو یہ کہنا دُور از خیال نہ ہوگا کہ وہ آج TSK میں ایک بڑا گروپ ہیں۔ اپنی تازہ ترین کتاب میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گلین نواز حلقے، 50-60 ہزار رفقا کے ساتھ، فوجی اہلکاروں کا ایک تہائی حصہ ہیں۔ ان تین ہزار افسروں کو نہ بھولیں جو ابھی بھی زیر تفتیش ہیں اور TSK سے برخاست شدہ 20 ہزار لوگ اور فوجی اکیڈمیاں جو بندوق چلانا جانتی ہیں۔ TSK میں دوسرا گروپ کمالسٹ نیشنلسٹ فکر کے قریب ہے۔ وہ TSK کی تشکیلِ نو پر زور دیتے ہیں۔ گلین نواز حلقوں کے خطرے سے چوکنا اور اُس علیحدگی پسند دباؤ سے نبردآزما جسے وہ مغرب خصوصاً امریکہ کے باعث اٹھتا دیکھتے ہیں۔ اس تناظر میں وہ AKP کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ کُرد معاملے اور مغرب سے تعلقات پرAKP کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ترکی اپنی دوسری جنگِ آزادی کے دہانے پر ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ترکی میں دہشت گردانہ اقدامات کے پیچھے ایک ہی ذریعہ ہے (جسے وہ ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ قرار دیتے ہیں) اور یہ کہ 15جولائی کی فوجی سازش کے پس پردہ امریکہ تھا۔ ان کے نزدیک، صدر رجب طیب اردوآن، سماج اور ریاست کی سالمیت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ تیسرا بڑا گروپ ، قانون پسند افسروں پر مشتمل ہے جو TSK کے ادارتی کردار کی تصدیق وتائید کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ سیاسی طور پر سرگرم نہیں، وہ TSK اور ملک کے مستقبل کے بارے میں سب سے زیادہ فکرمند ہیں۔

قدرتی طور پر، جہاں اس قدر الائنس اور انتشار ہوگا، وہاں سیاست بھی ہوگی۔ ان گروپوں کے مابین تعلقات ایک سنگین خطرہ ہیں۔ کسی کو بس یہ کرنا ہے کہ 15جولائی سے پہلے کے وقت پر نظر ڈالے اور فوج کے منصوبوں اور جوابی منصوبوں کو یاد کرے جس نے اس ادارے کو جڑوں تک ہلا کر رکھ دیا۔ دوسری وجۂ فکر کنزرویٹو سیاست دانوں اور نیشنلسٹ کمالسٹ افسران کے مابین تعلق ہے جو حال میں بظاہر ایک مضبوط اتحادی ہیں جو ملک کی راہِ عمل کو طے کرے گا۔ کیا وہ اپنے اس اتحاد کو برقرار رکھ سکیں گے؟ استحکام، ایک متوازن اور مستقل خارجہ پالیسی اور ایک instituionalized ڈیموکریٹک آرڈر، درحقیقت فوج کے سیاسی عمل دخل کو ختم کرسکتے ہیں۔ تاہم اگر اس کے برعکس ہوا، ان دروازوں سے جو 15جولائی نے کھولے، TSK کی روایتی جبلتیں خطرات پیدا کرسکتی ہیں۔ عدم استحکام، پولرائزیشن اور خارجہ پالیسی بحران، داخلی تبدیلیوں پر منتج ہوسکتے ہیں اور فوج کو اشتعال دلا سکتے ہیں کہ وہ اپنا سیاسی کردار دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یہ سب ترکی کے لیے مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ ‘‘