امریکہ کے متنازعہ صدر
- تحریر سید انور محمود
- ہفتہ 21 / جنوری / 2017
- 4542
بیس دسمبر 2017 کو ڈونلڈٹرمپ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا صدارتی حلف اٹھانے کے بعد امریکہ کے پینتالیسویں صدر بن گئے۔ ٹرمپ 14 جون 1946 کو امریکی تجارتی مرکز نیویارک کے علاقے کوئنز میں پیدا ہوئے۔ ٹرمپ نے والد کے قرض سے ذاتی کاروبار شروع کیا۔ 1971 میں خاندانی کمپنی کا کنٹرول حاصل کیا اورانہوں نے اپنے ہوٹلوں، کسینوز اور تعمیراتی منصوبوں کے ذریعے ملک گیر شہرت حاصل کی۔
70 سالہ ٹرمپ کے مطابق اب کے اثاثے 10 ارب ڈالر سے زائد ہیں۔ ٹرمپ کی پہلی دو شادیاں ناکام رہیں۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی بیوی اوانا کو طلاق دی، جن سےان کے تین بچے ہیں۔ بعد میں اُنہوں نے مارلہ میپلز سے شادی کی لیکن اس سے بھی طلاق ہوگئی۔ ذرائع ابلاغ میں اُنہیں "دی ڈونالڈ" سے پہچانا جانے لگا۔ ٹرمپ نے 2005 میں اپنی موجودہ بیوی ماڈل ملانیا سے تیسری شادی کی۔ ملانیا کے ریئلٹی ٹی وی شو ‘دی اپرنٹس‘ نے ٹرمپ کو ایک اداکار کا درجہ دیا۔ ٹرمپ شوبز انڈسٹری اور ذرائع ابلاغ سے بھی وابستہ رہے۔ ٹرمپ 1995سے مس یونیورس اور مس یو ایس اے مقابلے بھی منعقد کرواتے رہے ہیں۔ انہوں نے مشہور ٹی وی سیریز دی اپرنٹس کے 14 موسموں کی میزبانی کی اور متعدد کتابیں بھی لکھیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے 1987 میں پہلی بار صدارتی انتخاب لڑنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ 2000 میں انہوں نے ریفارم پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار بننے کی کوشش کی۔ ٹرمپ 2006 اور 2014 میں نیویارک اسٹیٹ کی گورنر شپ کی دوڑ میں بھی کودتے کودتے رہ گئے۔ 2008 میں ٹرمپ اس وقت عوام کی توجہ کا مرکز بنے جب انہوں نے اس وقت کے صدارتی امیدوار باراک اوباما کی جائے پیدائش امریکہ کے بجائے کینیا کوقرار دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جون 2015 میں ریپبلکن پارٹی کے ٹکٹ پر صدارتی انتخابات لڑنے کا اعلان کیا اور حریفوں کو مات دیتے ہوئے پارٹی کی نامزدگی حاصل کرلی۔ ٹرمپ خواتین سے متعلق نازیبا گفتگو کی وجہ سے ہمیشہ خبروں میں رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران پے در پے اسکینڈلوں، متنازع اور نفرت انگیز بیانات ٹرمپ کی انتخابی مہم پر پوری طرح چھائے رہے۔ وہ اپنی مقابل ہیلری کلنٹن کے بارے میں بھی نازبینا گفتگو کرتے رہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود ان کو وہائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے کوئی نہیں روک سکا۔ ٹرمپ کو سب سے زیادہ شہرت امریکی صدارتی امیدوار کے طور پر ملی جس میں ٹرمپ ایک نسل پرست اور مسلم دشمن سیاستدان کے روپ میں سامنے آئے۔
روزنامہ ڈان میں شایع ہونے والے راجہ کامران کے ایک مضمون کے مطابق ’’امریکہ کے 23 کروڑ 10 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 12 کروڑ 88 لاکھ افراد، یعنی 55.6 فی صد نے9 نومبر 2016 کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ہیلری کلنٹن کو ٹرمپ کے مقابلے میں 20 لاکھ کے لگ بھگ زائد ووٹ ملے۔ لیکن ہیلری زیادہ عوامی ووٹ حاصل کرنے کے باوجود الیکٹورل کالج میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ اس وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ ووٹرز میں عددی برتری نہ رکھتے ہوئے بھی صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال سال 2000 میں ڈیموکریٹس پارٹی کے امیدوار الگور اور ریپبلیکن پارٹی کے جارج ڈبلیو بش کے درمیان مقابلے میں سامنے آئی تھی ۔ صدارتی انتخابات میں بھی الگور نے 48.4 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ جارج ڈبلیو بش نے 47.9 فی صد عوامی ووٹ حاصل کیے، مگر مقبول ووٹ حاصل کرنے والے الگور کو صرف 266 جبکہ جارج بش کو 271 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے۔
ڈونلڈٹرمپ کی انتخابات میں کامیابی کے بعد وسیع پیمانے پورے امریکہ اور یورپ میں مظاہرے ہوئے تھے اور اب صدارتی حلف برداری کے وقت واشنگٹن سمیت پورے امریکہ اور یورپ بھر میں مظاہرے ہورہے ہیں۔ ٹرمپ کی حلف برداری کے موقع پرواشنگٹن میں صبح سے جاری احتجاج میں اس وقت شدت آگئی جب ٹرمپ وائٹ ہاؤس پہنچے۔ مخالفین بےقابو ہوگئے اور توڑ پھوڑ شروع کردی۔ بہت سے لوگوں نے اپنے چہرے چھپا رکھے تھے۔ ڈنڈے اور جھنڈے اٹھائے مظاہرین نے دکانوں کے شیشے توڑ دیے۔ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے موقع پر ان کے حامیوں کے ساتھ مخالفین بھی احتجاج کے لیے واشنگٹن پہنچے۔ لندن، ٹوکیو، برلن اور فلسطین میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ واشنگٹن میں ٹرمپ کے مخالفین کی ٹولیاں جگہ جگہ احتجاج میں مصروف تھیں۔ مظاہرین نے ٹرمپ کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں، مظاہرین صدر ٹرمپ کی متنازعہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنارہےہیں۔ مظاہرین سے خطاب میں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ خواتین، تارکین وطن اور مسلمانوں کے نمائندے ہیں۔
ایسا کیوں ہوا کہ ٹرمپ امریکی انتخابات جیت گئے۔ اگرچہ امریکی اخبارات اور نشریاتی ادارے ٹرمپ کے خلاف مہم میں مصروف رہے لیکن ٹرمپ ایک چکنے گھڑے کی مثا ل بنے رہے۔ شاید ٹرمپ نے یہ طے کررکھا تھا کہ انہیں ہر صورت میں یہ معرکہ جیتنا ہے۔ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں ان مسائل پر بات کرتے رہے جو امریکی گوروں کی حمایت میں تھے۔ ان کی تمام تقریروں میں گریٹر امریکہ کا ذکر ہوتا تھا، وہ ہلیری کلنٹن کی ایک کمزوری ای میلز کا ذکر لازمی کرتے تھے۔ ہیلری کے وزیر خارجہ اور خاتون اول بننے کے مراحل پر تنقید کرنا ان کی اکثر تقاریر میں موجود ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی پوری انتخابی مہم کو جارحانہ رکھا، یہ دھمکی بھی دی کہ وہ اگر ہارے تو شکست تسلیم نہیں کریں گے۔ صدر اوباما کو بھی ہدف تنقید بناتے رہے۔ اس طریقے سے ان کی بیشتر تقاریر قابل اعتراض ٹھہرائی گئیں۔ انہوں نے اپنی ماتحت، دوست اور امریکی معاشرے میں نمایاں مقام اور شہرت کی حامل خواتین کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کئے اور عالمی صورتحال کے تناظر میں سخت تلخ بیانات جاری کئے، جس میں وہ یہاں تک کہہ گئے کہ آیئندہ کسی مسلمان کو امریکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ بنیادی طور پر انہوں نے 2016 کا انتخاب نسل پرستی ، مذہبی اور جغرافیائی تعصب کی بنیاد پر جیتا ہے۔
بیس جنوری 2017 کو بھی ٹرمپ نے صدارتی حلف اٹھانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں وہی نسل پرستی اور مسلم دشمنی کا مظاہرہ کیا جو وہ اپنی انتخابی مہم میں کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنے لوگوں کو کام فراہم کریں گے۔ ہم صرف دو اصولوں پر چلیں گے۔ امریکی اشیا خریدیں اور امریکیوں کو ملازمت دیں‘۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہم اسلامی شدت پسندانہ دہشت گردی کے خلاف مہذب دنیا کو متحد کریں گے، جو ارض زمین سے اس کا مکمل خاتمہ کر دیں گے‘۔ دنیا کی آبادی اس وقت سات ارب ہوچکی ہے اور اس میں مسلمانوں کی آبادی اس وقت 1.6 ارب ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر کی موجودہ آبادی کا 23.4 فیصد مسلمان ہیں اور یہ سارے کے سارے دہشتگرد ہرگز نہیں ہوسکتے۔ اول تو دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور آج کی دنیا میں ہر جگہ دہشتگرد موجود ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ بہتر ہوگا کہ وہ مذہبی پیشوا پوپ کی بات سنیں جنہوں نے ان کو امریکی صدر بننے کے بعد مشورہ دیا ہے کہ وہ غریبوں کا خیال رکھیں اور اخلاقی اقدار سے رہنمائی حاصل کریں۔ انہوں نے لکھا: (میری دعا ہے کہ) ’آپ کی قیادت میں امریکہ غریبوں، محتاجوں اور مدد کے طالب افراد کے لیے تشویش کے لیے جانا جائے‘۔ کیا ڈونلڈ ٹرمپ پوپ کی دعا پر عمل کریں گے، مجھے تو مشکل لگتا ہے۔