الٹا زمانہ

زمانہ کتنا بدل گیاہے تیزی اور سرعت کے ساتھ۔ کبھی ہم لکھنے لکھانے کو قلم و کاغذ کے محتاج ہو تے تھے۔ چھپنے کے لئے کتنے جتن ہوتے تھے ۔ آج بس یہ مؤا موبائل ہی کافی ہے۔ سننے کے لیے ریڈیو پڑا گرد آلودہ ہو رہا ہے اور دنیا جہان کی موسیقی اور خبریں یہی موبائل ہی سنا رہا ہے۔

جب ذرا ہاتھ بڑھایا موبائل کو پاس پایا۔ یہ مضمون اب بلاگ کہلایا۔ اسی فتنے باز موبائل کو اٹھایا اور لکھ مارا جو دل میں آیا۔ یہیں سے انٹر نیٹ کے ذریعہ بھائی مجاہد شاہ  کو بھیج دیا اور اگلے لمحے، گھنٹے یا دن جب ان کو فرصت ہوئی، یہ قارئین کی نگاہ ناز کا تارا بن گیا۔ یا پھر راندہ درگاہ ہو جائے گا۔

زمانہ مگر صرف ٹیکنالوجی کی ہی ترقی و تبدیلی کا نہیں بلکہ اقدار و روایات، عادات و خصلت اور اشارہ و کنایہ سبھی کچھ کے بد ل جانے کا زمانہ ہے یہ۔ اب معصومیت بعد میں اور بلوغت پہلے ظاہر ہوتی ہے۔ فساد و شر سے بچ کر آپ کہاں جائیں گے۔ یہ تو چہار دیواری میں اتر آیا ہے۔ جتنی چاہو فصیلیں اونچی کر لو۔

اب آپ کسی کو دکھائیں نا ٹھینگا  وہ خوش ہوگا کہ آپ نے اسے شاباش دی یا کامیابی کی امید بندھائی۔ ہاں البتہ ٹھینگے کا پہلے صرف ایک اشارہ ہوتا تھا اب یہ بھی ملٹی ٹاسکنگ ہو گیا ہے۔ موبائل فون کے کسی بٹن کی طرح۔ اوپر کو اٹھا یا نیچے کو جھکا۔   اب لکھتے ہوئے محسوس ہورہا ہے کہ لفظ ہمہ جہت اور ملٹی ٹاسکنگ دو مختلف ادوار کی دنیا کی منظر کشی کر تے ہیں۔ ارے یہ تو بھول ہی گیا موبائل بٹنوں والا تو ہوتا ہی کب ہے۔

زبان اور الفاظ کے معنی بھی بدل چکے ہیں۔ کفایت شعاری کو اب کنجوسی پر معمور کیا جاتا ہے ۔ چونکہ اصراف ہی وہ بنیادی نسخہ ہے جس پر معیشت تکیہ کئے بیٹھی ہے۔ فضول خرچی آج کے دور میں اسٹیٹس کی نشاندہی کرتا ہے۔ میانہ روی کا لفظ آج ہم میں سے بہت لوگ جانتے ہی نہ ہوں گے۔  موٹا جھوٹا پہن لیا۔ کوئی بھی شخص اپنے لباس سے نہیں پہچانا جاتا،  کا محاورہ مکمل طور پر متروک ہو چکا ہے۔

دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے۔ یہ جو شاعر نے کہا تھا کبھی تو شاید وہ وقت آچکا ہے۔ وقت اور تبدیلی زندگی کے محرکات ہیں۔ اور تبدیلی ہی زندگی ہے۔ ڈارون کا قانون ہو یا معشیت کا فلسفہ سب کچھ کی بنیاد بدلنے پر ہی مو قوف ہے۔

لیکن وقت کے دوڑتے اشہب سموں سے چنگاریاں نکالتے ہیں اور خشک و خاشاک خودرو و بے معنی اگے گھاس پھوس کو روندتے جلاتے گزر جاتے ہیں۔ اس لیے زمانے کے ساتھ چلنا اور اپنی اہمیت و بقا قائم رکھنے کی جدوجہد ہر اس قوم کے لیے ضروری ہے جو صرف تاریخ میں نہیں بلکہ موجودہ زمانے میں زندہ رہنا چاہتی ہے۔ اصل میں زمانہ نہیں ہم الٹی سمت چل کر جب پلٹ کر دیکھتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ زمانہ الٹا چل رہا ہے۔