ہندوستان کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب
- تحریر محمد آصف اقبال
- سوموار 23 / جنوری / 2017
- 20612
ہندوستان میں ریاستی سطح پرآبادی کے تناسب میں سب سے زیادہ جموں و کشمیر میں 68.31% مسلمان آباد ہیں۔ اس کے برعکس ریاستی سطح ہی پر سب سے کم میزورم میں 1.35% مسلمان رہتے ہیں۔ آسام ، مغربی بنگال اور کیرلہ میں 25% سے زائد مسلمان موجود ہیں۔ مسلمان آبادی کے لحاظ سے 15سے20 فیصد والی ریاستیں بہار اور اترپردیش ہیں۔ جن ریاستوں میں مسلمان 10سے15فیصد کے لگ بھگ رہتے ہیں اُن میں جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، کرناٹک، دہلی اور مہاراشٹر شمار کیے جاتے ہیں۔
لکش دیپ جو ہندوستان کا حصہ ہے وہاں آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ بلکہ کہا جائے کہ لکش دیپ، ہندوستان کا مکمل طور پر مسلم اکثریتی علاقہ ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ لکش دیپ میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 96.58% ہے۔ مزید آٹھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں آبادی کے تناسب سے مسلمان 8 سے 10فیصد کے درمیان رہتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کا جائزہ اس لحاظ سے لیا جائے کہ ہندوستان میں موجود مسلمانوں کی کل آبادی کا حصہ کون سی ریاست میں کس حیثیت میں موجود ہے تو اس موقع پر آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ 2011 کی مردم شماری کی روشنی میں 17کروڑ22لاکھ 45ہزار158 مسلمانوں شمار کیے گئے ہیں۔ جو ہندوستان کی آبادی کا 14.22% فیصد حصہ ہیں۔
تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ مسلم اکثریتی علاقہ لکش دیپ ہندوستان میں مسلمانوں کی کل آبادی کا آدھا فیصد بھی نہیں ہے۔ بلکہ یہ تعداد0.04% شمار کی جاتی ہے۔ کیونکہ لکش دیپ میں کل 64,473 ہے جس میں 62,268 مسلمان ہیں۔ یعنی یہاں اگرچہ مسلمان اکثریت میں ہیں ، اس کے باوجود ہندوستانی مسائل میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ کل آبادی کے تناسب میں ان کی حقیقی تعداد بھی ہے۔ وہیں 68.31 %مسلمانوں کی آبادی جو جموں و کشمیر میں موجود ہے وہ بھی ملک میں مسلمانوں کی کل آبادی کے اعتبار سے 4.97 %ہے۔ مزید یہ کہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے مسائل جس قدر بڑی تعداد میں موجود ہیں، وہ انہیں اس بات کا موقع ہی نہیں فراہم کرتے کہ وہ مرکزی دھارے سے وابستہ مسائل میں دلچسپی لیں یا اس میں حصہ داری نبھائیں۔
جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی بڑی تعداد علیحدگی پسندوں پر مشتمل ہے۔ لہذا ستّر سالہ دور آزادی کے باوجود جموں و کشمیر کے مسلمان ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل ، ہندوستانی سماج کے عمومی مسائل، ملک اور ملت کے مسائل اور درپیش چیلنجز میں کسی بھی حیثیت میں کوئی کردار ادا نہیں کرپائے۔ یہ صورتحال آج بھی برقرار ہے۔ اس کے باوجود کہ وہاں بے شمار جانیں علیحدگی کے لیے قربان کی جا چکی ہیں لیکن یہ مسئلہ کیونکہ ملک کی سا لمیت کا اہم ترین مسئلہ ہے، اس لیے یہ مسئلہ کسی بھی صورت حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ بہتر ہوتا کہ مسلمانوں کی یہ 5% فیصد آبادی 95% کے ساتھ مل کر نہ صرف مسلمانوں کے مسائل کے حل میں حصہ داری نبھاتے بلکہ ریاست اور ملک کے مسائل میں اہم کردار ادا کرتے۔ لیکن چونکہ ہمارا یہ مضمون جموں و کشمیر کے مسائل پر نہیں لکھا جا رہا ہے، لہذا اِس موضوع کو یہیں پر بند کرتے ہوئے مسلمانوں کی کل آبادی کے تناسب میں کس ریاست میں مسلمان کس فیصد میں رہتے ہیں، اس پر روشنی ڈالتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔
ملک کی راجدھانی دہلی میں ریاستی سطح پر موجود آبادی کا 12.68%حصہ مسلمان ہیں۔ دہلی سے متصل ریاست ہریانہ میں 7.03% مسلمان رہتے ہیں۔ لیکن اگر ان آبادیوں کو ملکی سطح پر موجود مسلمانوں کی آبادی کے تناسب میں دیکھا جائے تو یہ دونوں ہی ریاستیں ایسی ہیں جہاں 1سے1.5%فیصد کے درمیان مسلمان رہتے ہیں۔ ریاست ہریانہ میں مسلمانوں کی آبادی کو ریاستی سطح پر حد درجہ کم تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ایک زمانے میں ان کا قتل عام تھا تو وہیں مسلمانوں کا عقیدہ بدل لینا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس کے باوجود ہریانہ میں 17لاکھ 81 ہزار مسلمان رہتے ہیں ۔ ملک میں 2سے5% فیصد والی کل مسلم آبادی کا تناسب رکھنے والی ریاستیں 8 ہیں،ان میں ریاست جموں و کشمیر ، جھارکھنڈ، کرناٹک، گجرات، آندھراپردیش، راجستھان، مدھیہ پردیش اور تمل ناڈو شمار کی جاتی ہیں ۔ 3 ریاستیں ایسی ہیں جہاں کل مسلم آبادی کا تناسب 5 سے10% فیصد موجود ہے ۔ یہ ریاستیں آسام، کیرالہ اور مہاراشٹر ہیں۔ 2ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں مسلمان اپنی کل آبادی کے تناسب میں سب سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔ ان میں ریاست مغربی بنگال اور بہار شمار کی جاتی ہیں۔ یہاں مسلمان اپنی کل آبادی کے لحاظ سے 10سے 15%موجود ہیں۔ دیگر وہ ریاستیں ہیں جہاں مسلمان اپنی کل آبادی کے لحاظ سے1% سے بھی کم تعداد میں موجود ہیں۔ ان میں اترا کھنڈ ، منی پور، ہماچل پردیش، پنجاب اور گوا شامل ہیں۔
اس پورے تجزیہ میں ریاست اترپردیش کا تذکرہ نہ کیا جائے تو یہ بات سب ہی کے لیے عجیب ہوگی۔ لیکن آخر میں تذکرہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ریاست اترپردیش ہندوستان کی وہ واحد ریاست ہے جہاں مسلمانوں کی کل آبادی کا 22.34%حصہ موجود ہے۔3 کروڑ84لاکھ 83 ہزار 967مسلمانوں کی آبادی والی ریاست نہ صرف ہندوستان کے تناظر میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے بلکہ ریاست کی آبادی کو دنیا میں موجود مسلمانوں کی کل آبادی کے تناسب میں دیکھا جائے تو بھی اس کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ پوری دنیا میں فی الوقت ایک سو پانچ کروڑ مسلمان موجود ہیں۔ اِن میں لگ بھگ 4 کروڑ مسلمان ہندوستان کی ریاست اترپردیش میں رہتے ہیں۔ یہ دنیا کی کل مسلم آبادی کا 2.53% فیصد حصہ ہیں۔
ریاست اترپردیش وطن عزیز میں ہر اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔ ہندوستان کی آزادی سے قبل اور بعد میں ملک کی باگ دوڑ میں ریاست اترپردیش کا اہم ترین کردار رہا ہے۔ زیادہ تر صدور اور وزیر اعظم اسی ریاست کی دین ہیں۔ مسلمانوں اور ہندوؤں کے اہم ترین دینی و مذہبی تعلیمی ادارے اِسی ریاست میں موجود ہیں۔ ملک کے مسائل ہوں یا سماج اور مذہبی بنیادوں پر موجود لوگوں کے مسائل، وہ بھی اسی ریاست کی دین ہے۔ ہندوستان میں آزادی سے قبل اور بعد میں مسلمانوں کی اعلیٰ قیادت ریاست اترپردیش سے ہی آتی رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ قیادت مسائل میں اس قدر الجھی رہی یا اس کو الجھائے رکھا کہ مسائل کم ہونے کی بجائے ان میں ہر دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کی آزادی کی تحریک بھی ریاست اترپردیش سے ہی شروع ہوکرانجام تک پہنچی۔ نیز ہندوستان کے پڑوسی ملک پاکستان کی تعمیر و ترقی سے لے کر توسیع تک ریاست اترپردیش کے مسلمانوں نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وطن عزیز کے مسلمان جن بڑے مسائل سے آج تک دوچار ہوئے ہیں اور جس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوئے ، اس میں بڑا کردار ادا کرنے والی یہی ریاست اتر پردیش ہے۔ پھر یہ سانحہ بھی بڑا عجیب و غریب ہے کہ ریاست اترپردیش کے مسائل ہی نے ملک کی سیاست اور اس سے متعلقہ ایشوز کو کسی کے لیے مثبت تو کسی کے لیے منفی بنا دیا۔ اِنہیں مسائل کی بنا پر کسی کو عروج حاصل ہوا تو کوئی تنزل کا شکار ہوگیا۔ لیکن افسوس کہ یہ سب کھیل تماشہ اُسی ریاست کی اکثریتی اور اقلیتی آبادی کو مہرا بناکر کل بھی کھیلا جاتا رہا ہے اور آج بھی جاری ہے۔