پاراچنار: دہشتگردی ختم کیوں نہیں ہورہی

کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں 21 جنوری 2017 بروز ہفتہ سبزی و فروٹ منڈی میں صبح 8 بج کر 50 منٹ پر زوردار دھماکے سے زمین لرز اٹھی اور ہرطرف افراتفری مچ گئی۔ دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے  ذریعے کیا گیا۔ بارود پھلوں کی پیٹی میں چھپا کر رکھا گیا تھا۔ پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت مارکیٹ میں رش تھا۔ متاثرین کو اسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا تھا۔

اس دہشت گرد حملے کی ذمہ داری پہلےلشکرجھنگوی نے قبول کی تھی لیکن بعد میں اس مکروہ عمل کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی ہے ۔ دھماکے کے نتیجے میں 25 افراد جاں بحق اور 65 افراد زخمی ہوگئے۔ ان میں سے 15زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی تھی۔  وزیر اعظم نواز شریف نے جو آج کل غیر ملکی دورے پر ہیں، حسب دستور اپنا رٹا رٹایا بیان جاری کیا ہے کہ ’’انہیں اس واقعہ پر گہرا دکھ اور افسوس ہوا ہے‘‘۔ انہوں نے  سیکیورٹی حکام کو ہدایت کی ہے کہ اس واقعہ کے ذمہ دار مجرموں کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفر کردارتک پہنچایا جائے۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی جاری کی ہے کہ زخمیوں کو فوری اور بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ قوم کو اپنے ہمدرد وزیر اعظم سے یہی امید تھی۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ وہ پہلی سرکاری شخصیت  تھی جو پارا چنار پہنچی۔ جنہوں نےمرنےوالوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی اورزخمیوں کی عیادت کی۔ لیکن حسب دستور جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کہا کہ ’’دہشت گرد دوبارہ سر اُٹھانے کی کوششوں میں ناکام رہیں گے‘‘، جبکہ  وہ جہاں کھڑے ہوکر بیان دے رہے تھے وہیں دہشتگردوں نے سر اٹھاکر ایک بم دھماکے سے 25افراد کو شہید اور 65 کو زخمی کیا ہے۔ جنرل باجوہ صاحب خدارا یہ سلطان راہی ٹائپ بڑھکیں مارنا بند کریں۔ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے اپنی عادت کے مطابق جاں بحق افراد اور زخمیوں کے لواحقین سے اسلام آباد سے ہی دکھ اور ہمدری کا اظہار کرلیا اورحسب عادت متعلقہ حکام سے واقعہ کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ سابق صدر آصف زرداری جو اپنے پورے دور میں دہشتگردوں کے خوف سے دبکے بیٹھے رہے تھے، اب پارا چنارمیں دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ دہشتگردی کی نرسریوں کو ختم   کرناہوگا۔ آیئے دہشتگردی کا جائزہ یکم جنوری 2016 سے لیتے ہیں اور ایک سوال اٹھاتے ہیں کہ دہشتگردی ختم کیوں نہیں  ہورہی۔

جمعہ یکم جنوری 2016 کو پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پوری قوم کو اپنے طور پریہ خوشخبری سنائی تھی کہ " انہیں پورا یقین ہے 2016 دہشت گردی کا آخری سال ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کی حمایت سے دہشتگردوں، مجرموں اور کرپشن کا گٹھ جوڑ توڑدیں گے۔ راحیل شریف کے اس بیان کے آٹھ دن بعد پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف  نےنو جنوری 2016 کوگوادر میں ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے فرمایا تھا کہ دہشت گردی ختم ہوگئی ہے، صرف دُم باقی رہ گئی ہے۔ بھاگتا چور جاتے جاتے کچھ نہ کچھ تو کرتا ہے۔ نواز شریف کے اس بھاگتے چور (دہشتگرد) نے سال2016 میں کیا کچھ کیا اس کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے:
1۔ ستائیس مارچ 2016 کو لاہور کے ایک پارک میں ہونے والے دھماکے میں کرسچن برادری کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 75 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔
2۔ آٹھ اگست 2016 کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں داعش کی حامی شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار نے خود کش حملہ کیا، جس میں 71 افراد ہلاک جبکہ 112 سے زائد زخمی ہوئے۔ صرف دو دن بعد 11 اگست 2016 کو فیڈرل شریعت کورٹ کے جج ظہور شاہ وانی کے قافلے کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا جس میں 14 افراد زخمی ہوگئے۔ ان میں چار پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
3۔ چوبیس اکتوبرکی رات کوئٹہ کےسریاب روڈ پر واقع پولیس تربیتی مرکز میں تین مسلح دہشت گردوں نے حملہ کرکے 61 اہلکار کو جاں بحق اور100 سے زیادہ کو زخمی کردیا۔ جاں بحق اور زخمیوں میں زیادہ تر پولیس رنگروٹ تھے۔
4۔ بارہ نومبر 2016 کو خضدار کے علاقے میں درگاہ شاہ نورانی کے سالانہ میلہ میں ایک خود کش حملہ آور نے وہاں ہونے والی دھمال کے دوران اپنے آپ کو  دھماکے سےاڑا ڈالا ۔ 52 یا اس سے زیادہ لوگ جاں بحق ہوئے اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل ڈیٹا بیس کے مطابق سال 2016 میں دہشتگردی کی وجہ سے 831 اموات ہوئیں۔ ان اموات میں 222 عام شہری، 102 سکیورٹی فورس کے اہلکار اور 507 دہشت گرد شامل ہیں۔ جبکہ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے سینیٹ میں تحریری طور پر پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں دہشت گردی کے 785 واقعات میں 804 افراد ہلاک ہوئے۔ 2015 میں ایسے واقعات کی تعداد 1139 تھی جن میں 838 افراد ہلاک ہوئِے تھے۔ ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی ذمہ داری وزارت داخلہ کے سپرد ہے۔ دہشت گردی کےلیے فنڈنگ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وزارت داخلہ  کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ’اس قسم کی فنڈنگ کے ذرائع سے متعلق سو فیصد معلومات حاصل کرنا مشکل ہے تاہم اندازے کے مطابق فنڈز کی فراہمی کے لیے جن عام ذرائع کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں بھتہ وصولی، بعض غیر ملکی حساس ادارے اور پاک افغان سرحد پر سرگرم منشیات فروش شامل ہیں‘۔ یاد رہے ملک بھر میں 31 ایجنسیاں ہیں، پھر بھی ہمیں بتایا جاتا ہے کہ 'اندازے' کے مطابق۔ اصل حقائق اور اعداد و شمار کیوں نہیں بتائے جاسکتے، یہ کوئی نہیں بتاتا۔  اتنی ایجنسیوں کو پالنے کے باجود نواز شریف اندازے سے حکومت چلا رہے ہیں۔ آخر کیوں۔

مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے، انہیں سکیورٹی انتظامات پر بھرپور توجہ دینی چاہئے۔ دہشتگرد خواہ کوئی بھی ہوں، داعش، طالبان، کالعدم تنظیمیں یا ’را‘، لیکن ہر دہشتگردی کو روکنے کی ذمہ داری حکمرانوں پر اعائد ہوتی ہے جو انہیں پوری کرنی چاہیے۔ ملک سے دہشتگردی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا نشانہ بننے والے پولیس تربیتی مرکزمیں سیکیورٹی کی صورتحال مثالی نہیں تھی۔ تربیتی مرکزکی سکیورٹی کےانتظامات پرخصوصی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ دہشتگرد تنظیم داعش نے شاہ نورانی درگاہ خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ بین الاقوامی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق داعش کی خبر ایجنسی عماق کے مطابق جاری بیان میں داعش نے کہا ہے کہ شاہ نورانی درگاہ کو انہوں نے نشانہ بنایا۔ جبکہ وزیر داخلہ کا کہنا ہے بلکہ وہ بضد ہیں کہ پاکستان میں داعش کا وجود نہیں ہے۔ ہر دہشتگردی کے بعد وزیر داخلہ چوہدری نثار ایک طویل پریس کانفرس کرتے ہیں جس میں وہ  کسی نہ کسی بہانے سےدہشتگردوں سے اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

پارا چنار میں سال 2017 کا پہلا دہشتگردی کا واقعہ ہوچکا ہے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق مزدورطبقے سے ہے جو روزمرہ مزدوری کرکے اپنا اوراپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔ اب ان جاں بحق ہونے والوں کے بچ جانے والے بیوی بچوں کا کیا ہوگا۔  حکومت  تو انہیں کیسے پالے گی۔ بلکہ اب ان کا مستقبل  دہشتگرد اور جرائم پیشہ افراد  طےکریں گے۔ جس کو یقین نہ آئے وہ چارسدہ میں قائم باچا خان یونیورسٹی چلاجائے۔ ٹھیک ایک سال پہلے وہاں بھی دھماکے ہوئے تھے اورحکومت نے کچھ وعدے  کیےتھے۔ ان میں ایک وعدہ بھی پورا نہیں ہوا ہے۔

نواز شریف قوم کی دولت پر روز لندن  کی یاترا بند کریں اوراس قوم کےلیے بھی کچھ کریں ۔ کیونکہ جلدہی  2018 میں آپ ووٹوں کی بھیک ان  ہی عوام سے مانگ رہے ہوں گے۔ جیسا کہ میں نے اس مضمون کے شروع میں ایک سوال اٹھایا تھا کہ  دہشتگردی ختم کیوں نہیں  ہورہی، اس  سوال کا جواب اس وقت  صرف یہ ہے  کہ نواز شریف اپنی حکومت کوبغیر کسی منصوبے کے ’اندازے‘ سے چلا رہے ہیں اور انہیں پاکستانی عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔