غریب بھوکا مرنے سے ڈرتا ہے!
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 24 / جنوری / 2017
- 5942
جرمنی کے دارالحکومت برلن میں قائم دنیا کی آبادی سے متعلق فاؤنڈیشن نے دنیا کی آبادی کے بارے میں اقوام متحدہ کی تازہ ترین پیش گوئی پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی ہے اس میں 2100 سال تک دنیا کی آبادی کی صورتحال کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ اہل دنیا اور ’’زمین داروں‘‘ کیلئے کوئی خاص اطمینان بخش نہیں ہے۔ خام مال کی کمی، زمینی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ اور دنیا کی بڑھتی ہوئی تیزی سے آبادی کی تکون نے اہل دنیا کیلئے اسے بری خبر سے تعبیر کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال میں دنیا کی آبادی ساڑھے سات ارب تک پہنچنے کی امید ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق ہر سیکنڈ دنیا کی آبادی میں 258 نفوس کا اضافہ ہو رہا ہے یعنی ایک سیکنڈ میں دنیا بھر میں 258 بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ یعنی ایک گھنٹے میں دنیا کی آبادی میں دو لاکھ اٹھائیس ہزار ایک سوپچپن افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ایک سال میں ہماری اس دنیا میں تراسی ملین افراد مزید شامل ہو جاتے ہیں۔ اسے آپ یوں ہی کہہ سکتے ہیں کہ دنیا بھر میں ہر سال پاکستان کی لگ بھگ آدھی آبادی کا اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ بڑھتی ہوئی دنیا کی آبادی کے انسانی طرز زندگی پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔ اگر آج دنیا کے تمام افراد ترقی پذیر ممالک کے درمیانی طبقے کی طرح زندگی بسر کریں تو ہمیں وسائل کے حصول کیلئے ایسی ہی ایک نئی زمین اور خطہ ارض درکارہوگا۔
1950 سے لے کر 1960 کے عشرے تک دنیا بھر میں بچوں کی اوسط ’’پیداوار‘‘ نصف ہو گئی تھی یعنی پانچ بچوں سے کم ہو کر ڈھائی (2.5) رہ گئی تھی اور یہ فیملی پلاننگ کا نتیجہ تھا۔ اس وقت جو عالمی آبادی ہے وہ دراصل اس شعبے میں ہونے والی ترقی اور آبادی میں بڑھتے ہوئے بے تحاشہ اضافے پر قابو پانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ورنہ دنیا کی آبادی موجودہ سطح سے کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔ تاہم اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی آبادی 2025 تک 9ارب تک پہنچ جائے گی۔ غریب ممالک جن کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اگر وہاں کی صورت حال میں بہتری نہ آئی اور آبادی پر قابو پانا مشکل ہو گیا تو یہ زمین تنگ سے تنگ ہوتی جائے گی۔ ان ملکوں کی صورت حال پر قابو پانا بہت مشکل ہے۔ ان معاشروں میں مستقبل میں بھی بچوں کی پیدائش میں شرح میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اگر دنیا بھر میں بچوں کی پیدائش کی موجودہ شرح برقرار رہی تو اس صدی کے اواخر تک خطہ ارض پر انسانوں کی تعداد 27 ارب ہو جائے گی۔ اسکا سیدھا سادا مفہوم یہ ہے کہ موجودہ آبادی سے چار گنا زیادہ۔ محض نائیجیریا کی آبادی دو بلین سے تجاوز کر جائے گی جبکہ جرمنی اور ہالینڈ کی آبادی نصف ہو جائے گی اور اسی طرح دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین میں آبادی کم ہو کر 500 ملین رہ جائے گی۔
اب جہاں چند ہی برس میں دنیا کی آبادی 8 ارب ہونے کو ہے وہاں دو عشروں میں خوراک کی قیمت دوگنی ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر عالمی ماہرین اور رہنماؤں نے دنیا میں خوراک اور خوردونوش کے نظام کی اصلاح کیلئے اقدامات نہ کئے تو بیس سالوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں دوگنی ہو جائیں گی۔ یعنی 2030 تک اہم فصلوں کی اوسط قیمت میں ایک سو اسی (180) فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس اضافے میں ماحولیاتی تبدیلی کے علاوہ آبادی کا اضافہ بھی شامل ہے۔ ماہرین کی رائے میں اگر ہم زمین کی ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے دباؤ، خوراک کی بڑھتی قیمتوں اور زمین، پانی و توانائی کی کمی سے نمٹنا چاہتے ہیں تو خوراک کے نظام کی اصلاح اور تنظیم نو ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق شمالی افریقہ میں قحط کے باعث خوراک کی شدید قلت کا سامناہے۔ عالمی بینک نے بھی خبردار کیا ہے کہ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں لاکھوں افراد کو غربت کی جانب دھکیل رہی ہیں اور اس سے بالخصوص خواتین اور بچے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ دنیا میں ہر ساتواں فرد روزانہ بھوک کا شکار ہو رہاہے جبکہ دنیا ہر ایک کی خوراک مہیا کرنے کی طاقت اور اہلیت نہیں رکھتی ہے۔ لیکن اس بات میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں پایا جاتا کہ موسم میں ہونے والی تبدیلیوں سمیت اور خام مال میں کمی آنے والے عشروں میں خوراک کی کمی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنیں گی۔
ایک خبر جو خطہ ارض پر رہنے والوں کیلئے خوشی کا باعث بن سکتی ہے، یہ ہے کہ 1995 سے 2009 تک دنیا کی آبادی کے مقابلے میں خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ دنیا کی آبادی 3 ارب سے بڑھ کر چھ ارب ہو گئی ہے۔ دنیا کے چھ اربویں بچے کا خیرمقدم اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کیا تھا۔ یہ بچہ 12اکتوبر 1999 کو بوسنیا میں پیدا ہوا تھا۔ اسی طرح ایسا بچہ جس کی آمد کے ساتھ ہی دنیا کی آبادی آٹھ ارب ہو جائے گی کی پیدائش 15 جون 2025 کو متوقع ہے۔ دنیا کی آبادی میں تیزی اضافہ کے ساتھ، اس صدی کے اختتام تک مسلمانوں کی آبادی دنیا بھر کی نصف آبادی سے زیادہ ہو جائے گی۔ مسلم امہ اس بات پر ہی پھولی نہیں سماتی کہ دین اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جبکہ ان کی تعلیم، ٹیکنالوجی اور سائنس کا یہ عالم ہے کہ عرب دنیا میں فی باشندہ کتاب کا تناسب ہر ہزار افراد کیلئے ایک کتاب ہے۔ صرف سعودی عرب میں تمباکو نوشی کرنے والے ہر سال 5 ارب ریال کا تمباکو پی جاتے ہیں، جس کا وزن چالیس ہزار ٹن ہوتا ہے جبکہ یہ رقم سعودی عرب کی طرف سے چاول درآمد کرنے کی رقم کے برابر ہے۔ مسلمان ممالک کو چاہئے کہ وہ خوراک کی پیداوار اور منڈیوں کے نظام کو بہتر بنائیں، نئے قوانین وضع کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی غریب بھوکا نہیں رہے کہ غریب آدمی مرنے سے نہیں بھوکا مرنے سے ڈرتا ہے۔
میں نے شاید غلط سنا یا پڑھا تھا کہ ہر انسان کو مناسب سمجھ بوجھ یا عقل سلیم اس لئے دی گئی ہے کہ وہ اپنے فرائض زندگی یا دنیاوی معاملات کو ان کی روشنی میں حل کرے۔