بھارتی انتہا پسندوں کی بوکھلاہٹ
- تحریر جاوید صدیقی
- بدھ 25 / جنوری / 2017
- 5837
ہندوستان میں ہندو انتہا پسندوں نے پاکستانی فنکاروں کی آڑ میں اپنے ہی ملک کے مسلمان اداکاروں کو تعصب کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ حال ہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی بالی ووڈ کے کنگ خان کی نئی آنے والی فلم رئیس کے خلاف کھل کر میدان میں آگئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری کیلاش وجے ورگیا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ٹوئٹ میں کنگ خان کو غدار قرار دیتے ہوئے اُن کی نئی آنے والی فلم رئیس کے بائیکاٹ اور ہرتھیک کی فلم کابل کی حمایت کا اعلان کیاہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نے کہا کہ جورئیس ملک کا نہیں وہ ہمارے کسی کام کا نہیں۔ جبکہ کابل محب وطن ہے جس کا ساتھ پورے ہندوستان کو دینا چاہیے۔ یاد رہے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے شاہ رخ خان کی فلموں دل والے اورفین کا بائیکاٹ بھی کیا گیا تھا ۔ اب پھر ان کی فلم کا بائیکاٹ کرنے کے لئے مہم چلائی جا رہی ہے۔ شاہ رخ خان کی فلم رئیس نمائش کیلئے تیار ہے جس میں پاکستانی اداکارہ ماہرہ، کنگ خان کی ہیروئین کا کردار ادا کررہی ہیں۔ ہریتھک روشن کی فلم کابل بھی شاک رخ کی فلم کے ساتھ ہی ریلیز ہورہی ہے۔ بالی ووڈ کے کنگ خان نے حالیہ دنوں دئیے گئے انٹرویوز میں ماہرہ کی صلاحیتوں اور اداکاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے نئی اداکارہ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور میں اُن کا مستقبل بہت روشن دیکھ رہا ہوں۔
پاکستان پرشدت پسندوں کے خلاف کارروائی کیلئے زور دینے والے بھارت میں وشیواہندوپریشد جیسی خطرناک تنظیمیں جہاں چاہیں مسلمانوں کا استحصال کرتی ہیں۔ اورپراچی سادھوی جیسے تنگ نظر لوگ آزادی سے معاشرے میں گھوم پھررہےہیں۔ مگر بھارت کا کوئی حلقہ ان کے کے خلاف میدان میں نہیں آتا۔ بھارت میں ہندو انتہا پسند جماعت شیو سینا نے پاکستان فنکاروں کے اسٹیج ڈراموں پر مکمل پابندی عائد کروا دی ہے اور باور کرایا ہے کہ اگر کوئی بھی بھارتی ایونٹ کمپنی پاکستانی فنکاروں کو مدعو کرے گی تو وہ سنگین نتائج سے دوچار ہوگی۔ بھارتی انتہا پسند جماعت شیو سینا نے نہ صرف پاکستانی سیاستدانوں بلکہ فنکاروں اور کھلاڑیوں پر بھی بھارت کے دروازے بند کردیئے ہیں۔ جب کہ بھارت کے مسلمانوں کو طرح طرح کے الزامات لگا کر تعصب کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
بھارتی فرقہ پرست وزیراعظم نریندر مودی نے تبدیلی مذہب کے سلسلے میں دہشت گرد تنظیموں بجرنگ دل ، وشواہندو پریشد اور جاگرن منچ کی مذموم سرگرمیوں کو ہوا دے رکھی ہے۔ بھارتی انتہا پسند جماعت بی جے پی اور بھارتی انتہا پسند جماعت شیو سینا نے مسلمانوں کے ساتھ اپنا رویہ درست نہ کیا تو بھارت میں بنگال، بہار اور آسام والے بانگستان اور حیدرآباد دکن میں الگ ملک عثمانستان بننے کے آثار پیدا ہوجائیں گے۔ جبکہ مالوہ، بہار اور آگرہ کے مسلمانوں کے لیے بننے والے ملک کے لئے صدیقستان، فاروقستان اور حیدرستان جیسے ناموں کی تجویزسامنے آسکتی ہے۔ بھارتی قیادت کی تنگ نظری اور مسلمانوں کے خلاف اقدامات کے ردعمل میں مستقبل میں یہ تصور پورا ہوتا نظر آتا ہے۔ بھارتی انتہا پسندوں کے متعصبانہ رویہ پر بھارت کے وجود سے کئی پاکستان جنم لے سکتے ہیں۔ اس کی راہ انتہا پسند ہندو خود ہموار کررہے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام بھی آزادی لے کر رہیں گے۔
بھارتی مسلمانوں کو ہر سطح پر اپنی حب الوطنی کا ثبوت دینا پڑتا ہے ۔ اُن کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را سمجھتی ہے کہ امریکی نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے سے بھارت کو دنیا بھر میں مزید دہشتگردی اور غنڈہ گردی کرنے کا موقع میسر آگیا ہے۔ اور اب بھارت پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کو بدنام کرنے کے لئے سازشوں کے جال پھیلا رہا ہے۔ اہیسا کرتے ہوئے بھارت بھول رہا ہے کہ اُس نے ستر سالوں سے زائد مقبوضہ کشمیر پر اپنی جارحانہ پالیسی برقرار رکھتے ہوئے ظلم و بربریت اور انسانی حقوق کو پامال کیا ہے ۔ یہ معاملات تاریخ کا وہ ایک سیاہ باب ہیں۔ بھارت مسلسل دنیا بھر میں دہشت گردی اور بے امنی کا سبب بنتا چلا آرہا ہے۔ انتہا پسند جماعت بی جے پی اور اس کے رہنماؤں کے سبب خود بھارت کے اندرونی حالات خراب ہو رہے ہیں۔ پورے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ظلم و بربریت کا بازار گرم ہے۔ انتہا پسند ہندو بھول گئے کہ گاندھی اور نہرو نے بھارت سیکولر بنایا تھا لیکن بے جی پی نے بھارت کو انتہا پسند ظالم ملک بناکر رکھ دیا ہے۔
بھارت کے ذی شعور لوگ بھارتی خفیہ ایجنسی کو دنیا کی ناکام ایجنسی کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ انتہا پسند جماعت بی جے پی کے رویہ کو بھارت کیلئے ناقابل تلافی نقصان سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق بی جے پی کی پالیسی بھارت کی ترقی کے بجائے زوال کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بھارتی انتہا پسند ہندو اپنے ملک کی سیاسی ، سماجی، اقتصادی، مذہبی عدم استحکام، عدم تحفظ اور انتہا پسندں کی بے لگامی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ بی جے پی حکومت کی مدت پوری ہونے تک پھارت دنیا میں بہت پیچھے رہ جائے گا۔