پاکستانی معاشرہ میں خواتین کا احترام

سال 2014 کی ایک عالمی رپورٹ میں پاکستان کو خواتین کے لیے صحت، تعلیم اور کام کے مواقع کے اعتبار سے دنیا کا بدترین ملک قرار دیا گیا تھا۔ جنیوا کے ورلڈ اکنامک فورم کی جنسی مساوات کی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو جنسی مساوات کے لحاظ سے 142 میں سے 141 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ تعلیم کے حصول کے شعبے میں پاکستان 132 ویں نمبر پر ہے جبکہ صحت کے شعبے میں 119 ویں نمبر پر ہے۔

سیاست کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر 85 واں ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی خواتین کےلیے معیشت میں حصہ لینے اور مواقع کے اعتبار سے 142 ممالک میں سے 141 ویں نمبر پر ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی اس رپورٹ کی مصنفہ سعدیہ زاہدی ہیں جن کا کہنا ہے کہ ’جہاں تک سیاست کا تعلق ہے تو دنیا بھر میں اس وقت 26 فیصد زیادہ خواتین پارلیمان میں ہیں اور 50 فیصد زیادہ خواتین وزرا کے عہدوں پر فائز ہیں‘۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ ورلڈاکنامک فورم یہ رپورٹ  صحیح ہے یا غلط، اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم کرتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں  خواتین کا احترام کیوں نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سےپاکستان کے ہر شعبے میں تنزلی ہورہی ہے۔   بہت سے شعبوں کے ساتھ ساتھ ہم معاشرتی اور سماجی  طور پربھی بری طرح تنزلی کا شکار ہے۔ اپنے گھر پر نظر دوڑایں، آپ کو اپنی ماں، بہن، بیٹی نظر آئیں گی جن کے جسمانی خدوخیال پر آپ بھولے سے بھی  نظر نہیں ڈالتے اور نہ ہی سوچتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی گھر سے باہر نکلتے ہیں ہر عورت آپ کو اپنی محبوبہ نظر آتی ہے۔  یہ ہمارئے موجودہ معاشرے کا المیہ ہے۔ شخصی آزادی کا تصور ویسے ہی ہمارے معاشرے میں ناپید ہے، لیکن عورتوں کے حقوق کا تو بہت ہی برا حال ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں عورت کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں گھریلو تشدد عام بات ہے جس میں مار پیٹ، زبردستی کی شادی، جسمانی اعضاء کاٹنا، خوراک کی عدم فراہمی، ریپ اور بال بمع ابرو کاٹ دینا جیسے جرائم کئے جاتے ہیں۔

ہمارا ملک کاغذی سطح پر تو عورتوں کے حقوق کا داعی نظر آتا ہے، کیونکہ اس اسلامی ممالک میں پہلی بار ایک خاتون مرحومہ بینظیر بھٹوکو وزیر اعظم کا عہدہ ملا۔  اس وقت بھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیشتر خواتین بحیثیت ارکان موجود ہیں۔ پاکستان کی  تقریباً تمام سیاسی جماعتوں میں خواتین شامل ہیں۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان  پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک  انصاف میں  خواتین کی ایک بڑی تعداد متحرک ہے۔ یہ خواتین  اپنی اپنی پارٹی کے جلسے اور جلوسوں میں شرکت کرتی ہیں۔ لیکن افسوس یہ  دونوں سیاسی جماعتیں  خواتین کی عزت کرنے سے بہت دور ہیں۔ ان کے ورکر  اور ان کی نچلی سطح کی قیادت  بدقماش لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان دونوں جماعتوں کے ورکر ایک پلیٹ بریانی پر آپس میں لڑپڑتے ہیں اور خواتین کی عزت کرنا انہوں نے سیکھا ہی نہیں۔ اتوار 22 جنوری  2017 کو پاکستان تحریک انصاف نے ایک جلسہ قصور میں کیا۔ اس جلسے کی رپورٹ میں خواتین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ  ’’ قصور کا جلسہ ختم ہونے کے بعد بد نظمی کا شکار ہوگیا۔ خاتون کارکنوں سے بدتمیزی کی کوشش کی گئی۔ منچلے لڑکے جلسے میں موجود لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے کے علاو ا ن کے ساتھ سیلفیاں بنانے میں مصروف رہے۔  عمران خان کی تقریر ختم ہوتے ہی پی ٹی آئی کارکن خواتین کے انکلوژر میں گھس گئے اور خاتون کارکنوں سے بدتمیزی کی کوشش کی“۔ ایک سو چھبیس  دن کے دھرنے  کے دوران تحریک انصاف کے ورکر آئے دن کسی نہ کسی چینل کی خواتین ورکروں کے ساتھ بدتمیزی کرتے نظر آتےتھے۔ خاتون اینکر پرسن ماریہ میمن، خاتون صحافی سدرہ ڈار،  خاتون رپورٹرعمیمہ ملک کے ساتھ نہ صرف بدتمیزی کی گئی بلکہ ان کو بیہودہ اشارے کیے گئے اور گالیاں دی گئیں ۔ خاتون اینکرثنا مرزا سے اس قدر بدتمیزی کی گئی کہ خاتون صحافی رو پڑی۔

کچھ دن پہلے ایکسپریس ٹریبیون نے ایک رپورٹ شایع کی جس کے مطابق سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کی صحافی اینکر تنزیلا مظہر نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’انہیں حالات حاضرہ کے ڈائریکٹر آغا مسعود شورش نے جنسی طور پر ہراساں کیا ہے اور انہیں بچانے کے لئے طاقتور شخصیات اپنا اثر و رسوخ استعمال کررہی ہیں‘‘۔ اس رپورٹ کے بعد 21 جنوری کو پیپلزپارٹی نے خاتون اینکر کی حمایت میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں درخواست جمع کرادی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سرکاری ادارے میں خاتون کو ہراساں کئے جانے والوں کے خلاف حکومت سخت کارروائی کرے۔ اس توجہ دلاؤ نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے عوامی نوعیت کا یہ  اہم معاملہ ایوان میں ہنگامی بنیادوں پر زیر بحث لایا جائے۔  یہ نوٹس دینے والی پیپلز پارٹی کی خواتین  اسمبلی ممبر تھیں ۔

قومی اسمبلی میں نوٹس دینے والی خواتین  کی بدقسمتی کہ اسی  دن  ان  ہی کی پارٹی کا سندھ کابینہ کا ایک  وزیر امداد پتافی  اتنی نچلی سطح  پر آگیا کہ  جب مسلم لیگ فنکنشل کی رکن نصرت سحر عباسی نے وزیر ورکس اینڈ سروسز امداد پتافی کو کہا کہ وہ انگریزی میں ان کے سوال کا تحریری جواب پڑھ کر سنائیں تو  پہلے تو اس نے انکار کیا۔ پھر  خاتون رکن سے کہا کہ وہ اس کے چئمبر میں آئے تو وہ انہیں وہاں جواب دیں گے‘‘۔ جب اسپیکر نے اس بدتمیز وزیر کو جواب پڑھنے کو کہا تو اس نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’میڈم رسی جل گئی لیکن بل نہیں گیا، اس کو صرف اخبار میں آنا ہے تاکہ اس کا فوٹو شائع ہو ۔ یہ اسمبلی کی ڈرامہ کوئن ہے۔ اس کو ہر صورت میں ٹی وی پر آنا ہے‘۔ ایک  اوباش ٹائپ کا وزیر ایک خاتون رکن اسبلی نصرت سحرعباسی کو اپنے چیمبر میں بلارہا تھا اور وزیراعلی سندھ مرادعلی شاہ، سینئر وزیر نثار کھوڑو سمیت دیگر سینئر وزرا  اس  وزیر کی بکواس سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ ٹی وی چینلز اور دوسرے روز کے اخبارات میں اس معاملہ پر تنقید ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس کا نوٹس لیا۔ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے امداد پتافی کو نصرت سحرسے باضابطہ معافی مانگنے کی ہدایت کی تھی۔

اگلے دن جب خاتون رکن اسبلی نصرت سحرعباسی  پیٹرول سے بھری بوتل اپنے ساتھ  لےکر آئیں  اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں سے مخاطب ہوکر مطالبہ کیا کہ مجھے انصاف نہ ملا تو سندھ کی کوئی بیٹی بلاول سے انصاف نہیں مانگےگی۔ دو دن کا وقت دے رہی ہوں، امدادپتافی کو برطرف کیا جائے ورنہ میں خود کو آگ لگا دوں گی اور استعفیٰ دے دوں گی۔ معاملے کی سنگینی  کودیکھتے ہوئے  بدقماش وزیر نے سندھ کی ایک پرانی روایت کا فائدہ اٹھایا اورنصرت سحرعباسی اور ایوان سے معذرت طلب کی۔ اور سندھ کی روایت کے مطابق اس نے نصرت کو چادر پہنا ئی اور ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر انہیں بہن بنایا۔  پرانی روایت کے طفیل نصرت سحر نے اس کو معاف کردیا۔  اگر یہ معاملہ میڈیا پر نہ آتا اور نصرت سحر بھرپور احتجاج نہ کرتی تو کیا امداد پتافی معافی مانگتا۔ آپ اسمبلی کی فوٹیج دوبارہ دیکھ لیں جس وقت  وہ نصرت سحر سے مخاطب تھا اس کے چہرے سے شیطانیت  جھلک رہی تھی۔

ان تمام واقعات کے ہوتے یہ نہیں کہا جاسکتا ہے ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ غلط ہے۔  اس ملک کا سب سے بڑا  مسلئہ یہ ہے کہ ہم اپنی سماجی اقدار بھول چکے ہیں۔ ملکی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آغاز سے ہی خواتین کی آزادی اور حقوق کی بات کرنے والی خواتین پر بے حیائی کے الزامات لگائے گئے۔ اس بات سے شاید بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ لیاقت علی خان پر گولی چلانے والا سید اکبر، بیگم رعنا لیاقت علی خان کے خلاف اخبارات میں خطوط بھیجا کرتا تھا۔ جبکہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے ایک رکن نے بیگم رعنا لیاقت کو ہندنی کہا تھا۔

امید کی کوئی کرن  نظر نہیں آرہی ہے۔ لہذا خواتین کے مسائل کم ہونے کے امکانات فی الحال نہ ہونے کے برابر ہیں۔ البتہ  شاید نصرت سحرعباسی کے  ایک اوباش وزیر کے خلاف  سخت موقف اختیار کرنے سے کچھ عرصہ کے لیے خواتین کے ساتھ ہونے والا نارواسلوک  رک جائے۔