یہ نظام ہوگا تو پانامہ بھی ہوگا

  • تحریر
  • جمعہ 27 / جنوری / 2017
  • 5434

پانامہ لیکس کے کیس کی ایک عدالت تو روزانہ سپریم کورٹ میں لگتی ہے۔ دوسری اسی عدالت کے باہر پیشی کے بعد برپا ہوتی ہے۔ اور تیسری شام ڈھلے سے لے کر رات گئے تک ٹی وی کی سکرینوں پر جلوہ افروز ہوتی ہے۔ منی ٹریل اور ثبوتوں کے لیے فریقین اور ان کے وکلاء کے دلائل ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آتے۔ ہر نیا دن ایک نیا انکشاف اور ایک نیا موڑ دے کر گزر جاتا ہے اور ہم لکیر پیٹتے پیٹتے صبح سے شام کر لیتے ہیں۔ فرہاد کو جوئے شیر لانے میں صبح سے شام کرنا ایک قیامت تھی لیکن قدرت کی مہربانی سے ہمارے دن اچھے گزر رہے ہیں، صبح پانامہ شام پانامہ۔

پانامہ پیپرز میں کسی ہما شما کا نام تو ہے نہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک اشرافیہ کے لوگ ہیں۔ اشرافیہ کی دولت مندی کی داستانیں اور اس دولت میں اضافہ کے مواقع ہمارے ہاں کب نہ تھے۔ بقول ایک ماہر معیشت، صرف اسی نے اِس نظام کی بہتی گنگا سے ہاتھ نہیں دھوئے جس کی یا تو اس گنگا تک رسائی نہ ہوئی یا کسی وجہ سے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ ساٹھ کی دہائی کے آخر میں تو اشرافیہ کے ہاں دولت کے ارتکاز پر بائیس خاندانوں کا شہرہ اس قدر رہا کہ اس نے سیاست کا بھی پانسہ بدل دیا لیکن وقت بدلا تو اشرافیہ کے ہاں دولت کی ریل پیل اور ارتکاز کی کئی خوش نما تھیوریاں سامنے آنے لگیں۔

یادش بخیر ، ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک صاحب جو وزیر خزانہ درآمد ہوئے اور پھر وزیر اعظم بنے، بڑی عرق ریزی سے ہمیں سمجھاتے رہے کہ ملک کے بالائی طبقات کی ترقی کا trickle down effect نچلے طبقات تک پہنچنے میں کچھ وقت لگے گا۔ بے صبری کی ضرورت نہیں۔ اشرافیہ کی ترقی پر چیں بہ چیں ہونے کی بجائے خوشی کے شادیانے بجائیں کہ خوش حالی نچلے طبقات تک پہنچی کہ پہنچی۔ دنیا بھر میں اکثر ماہرین بھی اس معاشی فلسفے کی آبیاری میں ہلکان ہوئے لیکن دو دہایوں سے زائد گزرنے کے بعد اب جو پردے اٹھ رہے ہیں تو پتہ چل رہا ہے کہ خواب تھا جو دیکھا افسانہ تھا جو سنا۔ یہ معاملہ فقط ہمارے ہی نہ تھا بلکہ دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں کسی نہ کسی انداز سے دولت اور وسائل کی غیر مساویانہ تقسیم کا چلن جاری و ساری رہا۔ اس کا نتیجہ اب کسی سے بھی چھپائے نہیں چھپ رہا۔

دنیا کے ایک معروف ادارے اوکس فیم نے گزشتہ ہفتے اپنی سالانہ رپورٹ عالمی معاشی نا ہمواری پر جاری کی تو بہتوں کے کئی طبق روشن ہو گئے۔ دہایوں سے جاری سرمایہ دارانہ نظام کے تحت دنیا میں معاشی ناہمواری اور عدم مساوات میں خوفناک اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کی رفتار نے رپورٹ تیار کرنے والوں کو بھی حیران کر دیا۔ کہاں یہ کہ 2009 میں ا قتصادی اعتبار سے نچلی نصف آبادی کے برابر چار درجن لوگوں کے پاس دولت تھی لیکن 2017 کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی طور پر دنیا کی نچلی نصف ساڑھے تین ارب سے زائد آبادی کے برابر دولت صرف آٹھ لوگوں کے پاس تھی۔ Trickle down در حقیقت Trickle up ثابت ہوا۔۔

اس قدر دولت کے ساتھ دنیا بھر میں یہ امراء اور ان کے ادارے مختلف انداز میں ٹیکس بچانے یا چھپانے کے راستے ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ اپنی دولت کے بل بوتے پر سیاست اور جمہوری نظام پر کچھ یوں اثر انداز ہوتے ہیں کہ نظام ان کا تسمہء پا بن کر رہ جاتا ہے۔ انتخات صرف اہل ثروت کا استحقاق بن کر رہ گیا ہے۔ پاکستان میں بھی نظام کچھ اس طرح ترتیب پا چکا ہے یا ترتیب دے لیا گیا کہ تہی دامن یا درمیانے درجے کے کسی شخص کے لیے انتخابات میں حصہ لینا تقریباٌ نا ممکن ہو گیا ہے۔ پاکستان میں ستر کے انتخابات میں قدرے سفید پوش لوگو ں نے بھی حصہ لیا لیکن اسّی کی دِہائی کے بعد ہر نئے انتخاب میں دولت کا عمل دخل بڑھتا گیا۔ انتخاب جیتنے کے بعد سرمایہ لگانے والے ایسی پالیسیوں کے لیے تو جان ہلکان نہیں کریں گے جس سے عوام کا بھلا ہو بلکہ جلد سے جلد ایسے منصوبوں اور پالیسیوں کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے جن سے ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ نظام میں پنپتی ہوئی عدم مساوات یا تفاوت یعنی Inequality پورے نظام کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیتی ہے۔ مثلاٌ اشرافیہ کی اولاد کو بہتر اسکول دستیاب ہوتے ہیں، بہتر معیار تعلیم میسر ہوتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے مواقع بھی بہتر مہیا ہوتے ہیں۔ اعلیٰ پوسٹوں پر بھی ان ہی میں سے زیادہ تر لوگ فائز ہوتے ہیں۔ کاروبار میں ہوں یا ملازمتوں میں، اشرافیہ کے بچوں کو ملنے والی تنخواہوں یا آمدنی کا معیار بہت بلند ہوتا ہے۔ اگر کچھ کمزوری رہ جائے تو میل ملاقات اور قبیلہ پروری کسر پوری کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس متوسط اور بالخصوص کم آمدنی والے طبقات میں یہ پہیہ  الٹ چلتا ہے۔ اسکول اس معیار کے میسر ہوتے ہیں نہ معیار تعلیم۔ اعلیٰ تعلیم میں بھی مواقع اور معیار انہیں اشرافیہ کے بچوں کے ہم پلّہ ہونے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ سو، ایک سلسلہ ہے جو جاری ہے اور نتیجے کے اعتبار سے فرق بڑھاتا چلا جاتا ہے۔

معاشی عدم مساوات اپنی نوعیت کے اعتبار سے پیچیدہ اور دور رس اثرات کی حامل ہوتی ہے۔ یہ ایک طرح سے متوازی نظام نافذ کیے رکھتی ہے کہ سفر ختم ہو جاتا ہے فرق ختم نہیں ہوتا۔ جس طرح ریل کی پٹڑی کے دونوں ٹریک ساتھ ساتھ چلتے ہیں لیکن مل نہیں پاتے۔ پانامہ کیس سے قبل بھی کرپشن کے سلسلے میں کیسے کیسے بڑے اور خوفناک کیس سامنے آئے لیکن کرپشن کم ہوئی نہ اس نظام کے کان پر جوں رینگی جس کی ناک تلے یہ ہو رہا تھا اور ہو رہا ہے۔ پانامہ کیس میں وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے نام اور سیاست کی ضرورت کی وجہ سے اس قدر ہنگامہ کھڑا ہوا ورنہ یہ خبر چند روز کی ریٹنگ کے بعد کب کی مر کھپ چکی ہوتی۔ کرپشن کسی بھی صورت میں ہو ، کسی بھی ادارے میں ہو، اس کا اصل مقصد وسائل اور انتظامی اختیارات کو ہتھیانا ہوتا ہے۔ میرٹ ہوگا تو مواقع سب کے لیے یکساں ہوں گے، شفافیت ہوگی تو بھی معاملات سب پر عیاں ہوں گے۔ کرپشن کا پہلا شکار میرٹ ہوتا ہے۔ دوسرا شکار شفافیت۔ اور پھر انصاف ۔۔۔ حکومتی نظام اور انتظامی وسائل کی تقسیم اور اختیارات میں پیچیدگیاں اور صوابدیدی اختیارات کچھ اس انداز میں سینچ دیے گئے ہیں کہ مفادات کا رخ اپنوں کی طرف ہی رہتا ہے۔ عقل عیّار ہے سو بھیس اور نام بدل لیتی ہے ۔ کبھی ٹریکل ڈاؤن اور کبھی کچھ اور ۔

پانامہ لیکس کے کیس کا فیصلہ کیا نکلتا ہے؟ ہمیں نہیں معلوم لیکن اس بات کا کچھ کچھ اندازہ ضرور ہے کہ موجودہ نظام میں وسائل کی تقسیم اور حصول کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ اس سارے ہیجان کے دوران نظام میں ان بنیادی تبدیلیوں کا ذکر ہے نہ کسی کو تردد جو ایک منظم انداز میں وسائل اور اختیارات کو اشرافیہ کی طرف منتقل کرتا چلا جا رہا ہے۔ حیرت نہیں ہوتی کہ ہر گزرتے دن میرٹ، شفافیت اور انصاف کمزور تر اور نظام مظبوط تر کیوں ہو رہا ہے۔ ابن انشاء کمال شاعر تھے ۔ ان کا اپنا ایک خاص انداز ، لہجہ اوربیانیہ تھا۔ ان کی تراکیب بھی منفرد ہوتیں تھیں۔ بہت پہلے ان کی نظم سب مایہ ہے پڑھی تو اس کی نغمگی پر سر دھنتے رہے لیکن وقت گذرنے پر کچھ سوجھ بوجھ آئی تو اندازہ ہوا کہ یہ اس نظام پر بھی ایک گہری چوٹ تھی:
سب مایہ ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
اس عشق میں ہم نے جو کھویا ہے جو پایا ہے
جو تم نے کہا ہے، فیض نے جو فرمایا ہے
سب مایہ ہے
ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی
یا ایک وہ لذّت نام ہے جس کا رسوائی
بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے
سب مایہ ہے