پاناما کیس اور وزیروں کا لب و لہجہ

پانامہ ایشو پر ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے باہر حکومتی حواریوں کی جانب سے جس طرح کی زبان زد عام استعمال ہورہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے حکومت اور اس کے حامی بری طرح بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ کون سے لفظ کب بولنے ہیں۔  اپوزیشن کا کام ہی حکومت پر تنقید کرنا ہوتاہے۔ لیکن اگر حکومت کے نمائیندے بھی الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کئے بغیر اپوزیشن پر کیچڑ اچھالنا شروع کردیں گے، تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ اس کی چھینٹیں ان کے دامن پر نہیں پڑیں گی۔

حیرت ہے کہ حکومت بار بار یہ تاثر کیوں دے رہی ہے کہ پانامہ ایشو پر ترقی کا راستہ روکا جا رہاہے۔ پانامہ ایشو تو آج کا ہے ہم اسے تھوڑی دیر کیلئے ایک طرف کرتے ہیں۔ مجھ سمیت بہت سے پاکستانی جان کی امان پاتے ہوئے حکومت اور انصاف کے دعویدار اداروں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر واقعی حکومت کو پانامہ کے ذریعے عالمی سازش کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو پانامہ کا معاملہ  شروع ہوتے ہی میاں صاحب  حوصلہ  کرتے ہوئے کہتے کہ وہ عارضی طور پر وزارت عظمیٰ کا قلمدان چھوڑ دیتے ہیں۔  اسمبلی کے فلور پر احتساب کا نعرہ لگانے کے بعد اسے حقیقت کا روپ بھی دیتے تو جتنی خفت اور سبکی  نواز لیگ  کو برداشت کرنا پڑی ہے، وہ اس سے بچ جاتے۔

مجھے تو سیاستدانوں کی نفسیات ہی سمجھ  نہیں آتی۔  پنجاب کے شہر لاہور کے ہسپتالوں میں مریض فرش پر مررہے ہیں ، صوبے کے آٹھ اضلاع کے ہسپتال وینٹی لیٹر کی سہولت سے محروم ، 14سو مریضوں کےلئے ایک ڈاکٹر ، متعدد ایسے پسماندہ علاقے ہیں جہاں لوگوں کو علاج معالجے کے لئےکئی کئی میل دور  جانا پڑتا ہے یا دم ، درود ، تعویذ ، گنڈوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ خواتین کھیتوں یا ہسپتالوں کے دروازوں پر بچوں کو جنم دے رہی ہیں، غریب کا بچہ آج بھی اعلیٰ تعلیم سے محروم ، روزگار دن بہ دن ناپید، مہنگائی سے خود کشیوں میں اضافہ ۔۔۔ اگر یہ ترقی ہے تو اسے ترقی کہنے والے اعلیٰ درجہ کے احمق ہیں۔

ماضی میں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ یہی رونا روتی رہیں کہ ہمیں پانچ سال پورے نہیں کرنے دیئے جارہے۔ پیپلزپارٹی نے پانچ سالہ دور اقتدار مکمل کیا۔ وہ عوام کو بتائے کہ اس نے کیا کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔  مسلم لیگ (ن)  کے ماضی کے  ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو کیا عوام کو بتانا پسند کریں گے کہ موٹر وے ، قرض اتارو ملک سنواروں اسکیم، ایل ڈی اے ، میٹرو بس ، نندی پور ، نیلم جہلم اور دانش سکول کے ریکارڈ کہاں ہیں۔  ممکن ہے حادثاتی طور پر جل گئے تو ذمہ داروں کو اب تک کیا سزا ملی ۔ کیا کوئی ادارہ ، کوئی قانون ملک میں موجود ہے جو قصورواروں کا تعین کرے۔  یہ تو شکر ہے کہ پانامہ ایشو کی فائلیں پاکستان میں نہیں اگر ہوتیں تو مجھے  یقین ہے کہ جس بلڈنگ میں پڑی ہوتی وہ عمارت راکھ کا ڈھیر بن چکی ہوتی۔ یہی سیاستدان متاثرین کے گھروں میں جاتے ہیں، چند لاکھ کے چیک پیش کرکے فوٹو شوٹ کرواتے ہیں اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بیانات دے کر گھر روانہ ہوجاتے ہیں۔  اللہ اللہ خیر صلہ۔

انسان اس وقت تک زندہ رہتا ہے جب تک اس کا ضمیر زندہ ہے اور روح اس وقت تک زندہ رہتی ہے جب تک اس کے اندر احساس زندہ ہے۔ جب ضمیر اور احساس دونوں ہی مر جائیں تو آپ ڈاکٹر ہوں، سائنسدان ، جج ، استاد، سیاستدان، وکیل ، صحافی یا عام شہری معاشرے اور دھرتی پر بوجھ ہیں۔ زمین بھی ایسے لوگوں سے پناہ مانگتی ہے۔

پانامہ ایشو کے عدالت میں جانے کے بعد سے وزیروں مشیروں نے جس رویہ کا مظاہرہ کیا ہے، وہ باعث عبرت ہے کہ یہ لوگ خوشامد کے لئے کس حد تک گر سکتے ہیں۔