لبرل افراد کے خلاف سازش
- تحریر سید انور محمود
- اتوار 29 / جنوری / 2017
- 5148
محمودہ سلطانہ تحریک پاکستان سے منسلک رہیں، اس لیے ہر پاکستانی کے لیے وہ قابل قدر خاتون تھیں۔ ان کے شوہر شیخ لیاقت حسین بھی آزادی کی تحریک میں شامل تھے۔ ان کے صاحبزادے کا نام عامر لیاقت ہے جو بول چینل پر بیٹھ کرمذہب اورحب الوطنی کے آڑ میں شاید لبرل خیالت کے حامل بعض لوگوں کو قتل کروانےکی سازش میں ملوث ہے۔
یہ شخص ماضی میں مختلف ٹی وی چینلز بدلتا رہا ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا مقصد پیسہ کمانا ہے۔ اس مقصد کے لئے یہ سب کچھ کرنے کا اہل ہے۔ آج کل بول چینل پر بیٹھ کر یہ جو کچھ کررہا ہے۔ اس کے نتیجہ میں کئی ممتاز قادری پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی دہشتگردی ہے۔ اس سے پہلے کہ کوئی نیا ممتاز قادری کوئی نئی دہشتگردی کر بیٹھے، حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اس بات کا نوٹس لے۔ یہ نیشنل ایکشن پلان کی بھی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہر اس شخص کے خلاف موثر کارروائی کی جائے گی جو مذہبی منافرت پھلائے گا ۔ عامر لیاقت کل تک جس جیوچینل سے کرڑوں روپے کمارہا تھا اور جس کی تعریفوں کے یہ پل باندھتے ہوئے کبھی تھکتا نہیں تھا، آج اسی چینل کویہ برا بھلا کہہ رہا ہے۔ اس الزام تراشی کی آڑ میں عامر لیاقت نہ صرف مذہبی منافرت پھیلارہا ہے بلکہ کچھ لبرلز کے نام لےکر ان کے خلاف بول رہا ہے۔
چھ جنوری2017 کی شام کو پتہ چلا کہ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے پروفیسرسلمان حیدر لاپتہ ہوگئے ہیں۔ اگلے دن ان کے کچھ اور ساتھی بھی لاپتہ ہوگئے۔ ساری خبریں پڑھنے اور ٹی وی چینل دیکھنے اور بہت سے تجزیے پڑھنے کے بعد 16 جنوری کو میں نے دو حصوں پر مشتمل ایک مضمون ’’کیوں لاپتہ کرتے ہو‘‘ تحریر کیا تھا، اس مضمون کا تھوڑا ساحصہ میں آپ کو یہاں پڑھوانا چاہتا ہوں تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ پاکستان کے عوام کے خلاف کیا سازش ہورہی ہے۔ میں نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ ’’پاکستان میں آج کل سوشل میڈیا پر انتہا پسندی کے خلاف سرگرم ہیومن رائٹس بلاگرز کو غائب کیا جارہا ہے تو دنیا بھر میں اس بے انصافی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کے مطابق ’’میں بھی کافر توبھی کافر‘‘ جیسی شہرہ آفاق نظم کہنے والے شاعر، مصنف، ماہر تعلیم اور حقوق انسانی کے سرگرم کارکن پروفیسرڈاکٹر سلمان حیدربھی ان دس لاپتہ کارکنوں میں شامل ہیں جو گزشتہ دس دن سے لاپتہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہی زیادہ تر مذہبی شدت پسندوں کی طرف سے یہ افواہیں بھی پھیلائی جارہی ہیں کہ ڈاکٹرسلمان حیدر اور ان کے ساتھی بھینسا، موچی اور روشنی نام کے ایسےپیجز چلا رہے تھے، جو کہ اسلام اور افواج پاکستان کے خلاف بہت ہی بیہودہ پروپگنڈہ کررہے تھے۔ اگر یہ واقعی صحیح ہے تو میں ڈاکٹرسلمان حیدر اور ان کے ساتھیوں کےلیے کڑی سے کڑی سزا کا مطالبہ کرتا ہوں۔ ان تمام پر سائبر کرائم لا کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور الزام ثابت کرکے اس قانون کے تحت سزا دلوائی جائے۔ لیکن اگر ان پیجز سے ان افراد کو کوئی تعلق ثابت نہ ہوپائے تو ان افراد سے معذرت کرکے جلد سے جلد انہیں فوری طور پر باعزت بری کیا جائے‘‘۔
عامر لیاقت ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے سیاست کرتے رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ الطاف حسین لبرل خیالات کے حامل ہیں۔ عامر لیاقت کے والد بھی اسی لبرل الطاف حسین کی قیادت میں قومی اسمبلی کے ممبر بنے تھے۔ خود عامر لیاقت بھی اسی لبرل کی قیادت میں قومی اسمبلی کا ممبراور پھر وزیر بنا تھا۔ وہ ایک عرصے تک الطاف حسین کی قیادت میں ہی اپنی سیاست کرتا رہا ہے۔ اب عامر لیاقت اپنی چرب زبانی اور نام نہاد ملا گیری کے زریعے معروف سماجی کارکن جبران ناصرکی جان کا دشمن بنا ہوا ہے۔ جبران ناصر کا کہنا ہے کہ ’’عامر لیاقت نے مختلف افراد پر مختلف نوعیت کے الزامات لگائے ہیں۔ کسی کو دہریہ کہا گیا ہے، کسی کو ’را‘ کا ایجنٹ یا ملک دشمن قرا دیا گیا ہے اور کسی پر توہین رسالت کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان الزاما ت کی وجہ سے مجھے سوشل میڈیا پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں‘‘۔
ایسی ہی شکایت ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، صوبہ سندھ کے وائس چیئرمین اسد بٹ نے بھی کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ’’میری سمجھ سے باہر ہے کہ پیمرا کس طرح اس شخص کو ایسے پروگرام کرنے دے رہا ہے، جن میں وہ لوگوں کو گالیاں دے رہا ہے۔ اُن کی کردار کشی کررہا ہے اور عوام کو اُن کے خلاف تشدد پر اُکسا رہا ہے۔ معروف صحافی و تجزیہ نگار امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ ’’عامر لیاقت مذہب کے نام پر نفرت پھیلا رہا ہے، یہ شخص سیاق و سباق سے ہٹ کر لوگوں کے کلپ دکھا رہا ہے۔ میں نے جو بات کہی، اُس کا ایک پس منظر تھا، جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے گلے نہیں کاٹے جانے چاہئیں۔ لیکن جب سے اس نے مجھ پر اور میرے گھرانے پر پروگرام کیا ہے، مجھے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں‘‘۔
اب پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے بول ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے عامر لیاقت کے پروگرام پر پابندی عائد کردی ہےاور پیمرا کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عامر لیاقت اس چینل کے کسی نئے یا دوبارہ دکھائے جانے والے پروگرام میں کسی بھی حیثیت سے شریک نہیں ہوسکتے، نہ ہی انہیں اس کی اشتہاری مہم، آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ میں آنے کی اجازت ہوگی۔ لیکن قانون شکن عامر لیاقت نے پیمرا کے اس حکم نامے کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر اپنے پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ کو چلایا (26 جنوری کی رات ) جس میں پھر سے مذہبی منافرت اور نفرت انگیزی پھلائی گئی ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے بڑے واضع انداز میں چار نومبر 2015 کو اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ "عوام کا مستقبل جمہوری اور لبرل پاکستان میں ہے”۔ وزیر اعظم سے پوچھا جانا چاہئے کہ کیا وہ ان لبرل کو بچائیں گے جن کی جانوں کو عامر لیاقت کے پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ کے نشر ہونے کے بعد سے خطرہ ہے ۔