مردم شماری، فوج اور تارکین وطن

ہمارے ملک پاکستان میں آخری بار 1998 میں مردم شماری ہوئی تھی۔ اب 19 سال ہونے کو ہیں۔ یہ کیا ستم ظریفی ہے کہ انیس سال سے ہمیں یہ بھی پتہ نہیں کہ ہمارے ملک میں کتنے لوگ رہتے ہیں اور کل کتنے گھر ہیں۔ مردم شماری کی اہمیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔  یہ تو ایسے ہی ہے کہ کسی کو اپنے گھر میں رہنے والے افراد کا پتہ نہ ہو اور اس نے گھر کے لئے ضروریات زندگی کی سب چیزیں بھی خریدنا ہوں۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ 1998 سے آج تک جتنے حکمران رہے ہیں انہیں مردم شماری کا خیال کیوں نہیں آیا۔

ایسی بھی کیا مشکل تھی کہ کوئی بھی حکومت یہ کام نہ کر سکی۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ کو حکم دینا پڑا کہ حکومت فوری طور پر ملک میں مردم شماری کرائے۔ سپریم کورٹ کے واضع حکم کے باوجود بھی حکومت یہ کام کرنے سے قاصر رہی اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ چونکہ اس وقت ہماری افواج دہشتگردی کی جنگ میں مصروف ہیں لہذا یہ وقت مردم شماری کے لئے مناسب نہیں ہے۔ صد شکر کہ اب حکومت نے مارچ میں مردم شماری کرانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اور امید کی جا سکتی ہے کہ دیر آید درست آید کے مصداق یہ کام ہو جائے گا۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ  اٹھتے  بیٹھتے جمہوریت کا راگ الاپنے والی سیاسی جماعتیں اور ان کے راہنما اپنے اپنے ادوار میں بلدیاتی انتخابات اور مردم شماری کرانے سے فرار کی راہیں تلاش کرتے رہے ہیں۔ اگر باامر مجبوری یہ کام کرنے ہی پڑ جائیں تو فوج کی مدد کے بغی نہیں کروا سکتے۔ اگر سارے کام فوج ہی کی مدد سے سرانجام پا سکتے ہیں تو پھر سول حکومت، سول اداروں اور سول سوسائٹی کا کام کیا ہے۔ کیا ہمارے تمام سول ادارے مفلوج ہو چکے ہیں یا پھر ہمیں اپنے ان اداروں پر اعتماد نہیں ہے۔

بعض اوقات ایسے کاموں میں وسائل کی کمی کا رونا بھی رویا جاتا ہے حالانکہ مردم شماری جیسے انتہائی اہمیت کے حامل کام کے لیے وسائل سب سے پہلے مہیا کئے جانے چاہئیں۔ اس کے لئے ایسے طریقے بھی اپنائے جا سکتے ہیں جو کم وسائل سے بھی انجام پا سکتے ہیں۔ پاکستان میں بے روزگار پڑھے لکھے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے اگر ان کو تھوڑی سی تربیت دے کر یہ کام سونپ دیا جائے تو وہ خوشی سے قبول کر لیں گے۔ اس طرح ان کو ایسے کاموں کا تجربہ بھی ہو جائے گا اور کچھ پیسہ بھی کما سکیں گے۔ اگر ایسے لوگوں کو ان کے اپنے اپنے علاقوں کی ذمہ داری دی جائے تو وہ زیادہ احسن طریقے سے یہ کام سر انجام دے سکتے ہیں۔ اور جب وہ اپنا کام مکمل کرلیں تو حکومت اپنے ذرائع سے چیدہ چیدہ چیک کرکے تسلی کرلے۔ پھر ایک بار مردم شماری اور خانہ شماری کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا جائے اور اس میں  پیدائش اور اموات کا اندراج ہوتا  رہے۔ دراصل اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کسی کو کسی پر اعتبار نہیں ہے اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی کام ہو رہا ہے، جس سے اعتماد بحال ہو سکے۔ لوگوں کا اداروں پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔ بس فوج ہی ایک واحد ادارہ ہے جس پر ابھی تک لوگوں کو کافی حد تک اعتماد ہے اور اس اعتبار کی کئی صحیح اور مبہم وجوہات ہیں۔ ان پر بحث ایک الگ کالم کی متقاضی ہے۔ لیکن میں آج کے کالم میں اپنا فوکس سولین شعبہ پر مرکوز رکھنا چاہتا ہوں۔

کیا سول اداروں کو دوبارہ سے منظم اور مستعد کرنا یا بدعنوانی سے پاک کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ہر گز نہیں۔  میرا خیال ہے کہ یہ کام نہ صرف ممکن ہے بلکہ بہت مشکل بھی نہیں ہے۔ اس ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو درد دل اور خوف خدا رکھتے ہیں اور ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دینے کے خواہاں ہیں۔ لیکن ان کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے جس میں سردست سیاسی مداخلت ہے۔ اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ لگ بھگ 6 ماہ پہلے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھے اور اگست میں حکومت تشکیل دے دی گئی تھی۔ لیکن ابھی تک مختلف محکموں میں کام ٹھپ ہے اور ان کو نئے فنڈز جاری کرنے پر پابندی ہے۔ ان کے پاس موجود فنڈنگ کو بھی منجمد کر دیا گیا ہے کیوں کہ حکومت اپنا ہوم ورک کرنے میں مصروف ہے کہ اپنی جماعت کے کارکنوں اور قریبی ساتھیوں کو کس طرح اکاموڈیٹ یا ایڈجسٹ کیا جائے۔ بات یہی پر ختم نہیں ہوتی بلکہ دوسری طرف کچھ بہت قریبی چہیتوں کے لیے خزانے کے منہ کھول بھی رکھے ہیں۔

ایک طرف کچھ لوگ بجلی کے صرف 5 پول اور چند سو فٹ تار کی کمی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں اور اپنے الیکٹرانک آلات سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور دوسری طرف حکومت کے چہتے سینکڑوں کھمبے، بیسیوں ٹرانسفارمرز اور میلوں لمبی تاریں اپنے ہاتھوں سے تقسیم کر رہے ہیں۔ اور محکمہ بے بسی کی تصویر بنا دیکھ رہا ہے۔ اگر ارباب اختیار میں سے کوئی بھمبر میں محکمہ برقیات کے آپریشن ڈویژن کے دفتر کا ایک چکر لگا کر اس دفتر کی زبوں حالی کا نظارہ کرلے تو صورت حال واضح ہو سکتی ہے۔  میں پورے وثوق سے یہ بات کہتا ہوں کہ جس دن پاکستان کی منتخب حکومت نے تمام اداروں میں  مداخلت ختم کر دی اور اپنے اداروں کی درست تربیت کرکے، ان پر اعتماد کرتے ہوئے فوج سے ہر کام لینے کی رسم کو کم کیا اور فوج کو دفاع کا  کام کرنے دیا تو پاکستان اور حکومت پر سے آمریت کے سائے بھی چھٹنے لگیں گے اور حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے سے بھی محفوظ ہو جائے گی ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سول اداروں کی تربیت کیسے ہو اور کون کرے۔ یہ کام بھی مشکل سہی لیکن بہت مشکل بھی نہیں کیوں کہ اس ملک میں قابل، مخلص اور دیانتدار لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ بس کوئی خلوص سے ایک قدم اٹھانے کی کوشش تو کرے۔ اسی ملک کے گوہر دوسرے ممالک میں جا کر اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ مشرق وسطٰی سے لےکر قطب شمالی اور قطب جنوبی تک نظر دوڑائیں تو آپ کو بیشتر ممالک میں اپنے ہم وطنوں کی ایک کثیر تعداد نظر آئے گی جو مختلف میدانوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہی ہے۔ لیکن کیا وجوہات ہیں کہ وہ اپنے وطن میں رہ کر ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔  29 جنوری کے جنگ اخبار میں میرے پیارے دوست اور پاکستان کے انتہائی قابل کالم نگار  یاسر پیرزادہ نے اپنے کالم "ذرا ہٹ کے" میں تارکین وطن کا  المیہ کے نام سے اپنے کالم میں تارکین وطن کو 3 حصوں میں تقسیم کرکے ان پر روشنی ڈالی ہے۔ اور کافی حد تک درست تجزیہ کیا ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اپنے کالم کا عنوان "تارکیں وطن کا المیہ کی بجائے پاکستان کا المیہ بناتے" کیوں کہ یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ پڑھے لکھے اور انتہائی ذہین لوگ ترک پاکستان کرتے ہیں۔ اور پھر بھی اپنے آخری سانس تک پاکستان کی مخبت اپنے دل میں بدرجہ اتم رکھتے ہیں۔

یاسر صاحب نے تارکین وطن کی جس پہلی قسم  کا ذکر کیا ہے اس قسم کا ترک وطن کرنا کسی حد تک فائدہ مند ہے کیوں کہ وہ بیرون ممالک محنت مزدوری کرکے جہاں وہ اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کے حالات بہتر کرتے ہیں وہی کچھ فائدے اپنے وطن کو بھی دیتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ کم پڑھے لکھے ہونے کے باوجود ترقی یافتہ ممالک سے بہت کچھ سیکھ لیتے ہیں (اگر سیکھنے کا شوق ہو تو ) لیکن اگر وہ پاکستان میں محل بنائیں تو یہ سود مند کم اور نقصان دہ زیادہ ہے۔ اب ان کے پاس ہنر کے علاوہ تجربات، اچھی سوچ اور علم کی دولت بھی ہوتی ہے اور وہ اس سے پاکستان کو مستفید کرنے کے متمنی بھی ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایسا کوئی ادارہ  (حکومتی یا نجی) نہیں ہے جو ان لوگوں کی راہنمائی کرے اور ان سے ملک کے لیے استفادہ حاصل کر سکے۔ جہاں تک دوسری 2 اقسام کا تعلق ہے تو وہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ جو لوگ تعلیم تو پاکستان سے حاصل کرتے ہیں اور کچھ بن جانے کے بعد جب کچھ دینے کا وقت آتا ہے تو وہ پکے ہوئے پھل کی طرح جا کر اغیار کی جھولی میں جا گرتے ہیں۔ ان لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے بغیر کسی تگ و دو کے ہار مان لی اور یہ سمجھ لیا کہ اس ملک میں کوئی کام بھی میرٹ پر نہیں ہوتا۔ سب کچھ سفارش اور رشوت کے بل بوتے پر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے بہت سے دروازوں پر دستک دی اور اپنی قابلیت کے بل بوتے پر اپنی خدمات ملک کے لیے پیش کیں۔ لیکن سوائے ناکامی کے کچھ ہاتھ نہ آیا تو پھر پیٹ کا دوزخ بھرنے کی خاطر رخت سفر باندھ لیا۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یاسر پیرزادہ سمیت بہت سارے دوسرے پاکستانیوں نے اپنی محنت اور قابلیت سے اپنے ہی وطن میں کامیابی حاصل کی ہے اور آج ایسے مقام پر ہیں کہ کہیں ان کو کوئی کسی جگہ روکنے کی کوشش کرے تو وہ اپنا مختصر تعارف کروا کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن یہ سب کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے خواتین و مرد اپنی ہر کوشش کے باوجود ناکام رہتے ہیں اور مایوسی کا شکار ہو کر اس ملک سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ رہی بات کہ تارکین وطن  پاکستان کی برائیاں ہی کیوں کرتے ہیں ان کو پاکستان میں سب کچھ غلط ہی کیوں نظر آتا ہے۔ وہ پاکستان کی لا تعداد خوبیوں کو کیوں نظر انداز کرتے ہیں تو اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے 2 قابل ذکر ہیں۔ 1۔ آپ اپنے میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا پر غور فرمائیں اور اپنے کالم نگار ساتھیوں کی تحریروں پر توجہ مرکوز کریں تو آپ بہت کچھ سمجھ جائیں گے۔ جب آپ کا میڈیا جو سمندر پار پاکستانیوں کو ملکی حالات سے باخبر رکھنے کا واحد ذریعہ ہے، اٹھتے بیٹھتے پاکستان کی برائیاں پیش کرے گا اور زیادہ تر اپنے ذاتی مفادات کے زیر اثر کام کرے گا تو پھر سب ہرا  تو دکھائی نہیں دے گا۔   دوسری وجہ یہ کہ زیادہ تر  تارکین وطن 3 سے 6 ہفتوں کے لیے پاکستان آتے ہیں اور ان کو پاکستان کا ویزا لینے، پی آئی اے کی ٹکٹ سے شروع ہونے والے مسائل ایئرپورٹ، امیگریشن اور کسٹم سے ہوتے ہوئے اپنے گھر کی دہلیز تک جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان سے چھٹکارا واپس دیار غیر ک ایئرپورٹ پر پہنچ کرہی حاصل ہوتا ہے۔ ان سارے حالات کا سامنا کرنے میں ان کی اپنی بھی کئی غلطیاں ہوتی ہیں لیکن زیادہ تر مسائل کا تعلق وطن عزیز کے فرسودہ نظام اور دگرگوں حالات کی وجہ سے ہی ہے۔

اگر میں اپنا تجربہ بیان کروں تو مجھے پچھلے 25 سالوں میں کبھی کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا (ایک  دو استثنیٰ کے علاوہ) ۔ اب پچھلے چند ماہ سے پاکستان کے کچھ اداروں سے واسطہ پڑا ہے تو مجھے یہ لگنے لگا ہے کہ پاکستان میں سب کچھ ٹھیک ہے، کسی سفارش کی ضرورت ہے اور نہ کہیں کوئی رشوت کا تقاضا ہے۔ بشرطیکہ بندہ خود ٹھیک ہو اور اس کے کام بھی جائز ہوں۔  وہ اپنے درست  کام جائز طریقےسے کروانے کے لئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کرے اور کسی روایتی جلدی بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کو روندنے کی کوشش نہ کرے۔ لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ دوسری طرف بےشمار لوگ اپنے جائز کاموں کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور ان کا تمام اداروں سے اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔ ہم پاکستانیوں کا ایک بڑا مسلہ یہ ہے کہ ہم ہر تصویر کو ایک ہی رخ سے دیکھنے کے عادی ہیں۔ بھوکے کی ریاضی 2+2 چار روٹیوں کے مصداق سب کچھ اپنی نظرئے کے مطابق ہی پرکھتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوریت قدم با قدم آگے بڑھ رہی ہے تو ہماری جمہوری حکومت اپنا قبلہ درست کرے۔ اداروں کو جدید تربیت کے ذریعے مضبوط کرے اور ان میں سیاسی مداخلت ختم کرے۔ بالخصوص لوگوں کو کم قیمت پر تیز رفتار انصاف دلانے کے لیے عدالتی نظام کو درست کیا جائے۔

محکمہ تعلیم اور صحت کو بہتر بنانے کی کوشش ہونی چاہیے کیوںکہ فی الوقت پاکستان میں جن 4 چیزوں کی ناجائز فروخت زوروں پر ہے ان میں سر فہرست مذہب ہے دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر تعلیم، صحت اور انصاف ہیں۔ ان کی تجارت روکے بغیر آگے بڑھنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ تارکین وطن سے گزارش ہے کہ وہ میڈیا کی آنکھ کے بجائے اپنی آنکھوں سے کام لیں اور پاکستان کی ترقی میں اپنا ہاتھ بٹائیں۔