برسلز میں اردو کانفرنس
- تحریر سرور غزالی
- سوموار 30 / جنوری / 2017
- 8724
برسلز شہر کی کئی شناخت ہیں۔ یہ بیلجیئم کا دارلحکومت ہے۔ یہاں نیٹو کا ہیڈ کواٹر بھی ہے۔ اور یہ یورپین پارلیمنٹ کی آماجگاہ بھی۔ یعنی یورپین یونین کا دراحکومت۔ وہ ملک جو کبھی تقسیم ہوا تو کبھی زیر نگیں رہا۔ آج انہی تمام ملکوں کا دارالحکومت ہے جو کبھی اس کی شکست و ریخت کے ذمہ دار تھے۔ اس لحاظ سے یہ ایک عالمی رابطے کا شہر ہے۔ گزشتہ دنوں یہاں کا پریس کلب ایسے ہی عالمی رابطے کے مرکز بنا ہوا تھا۔
ہفتہ 27 جنوری 2017 کو عمران چوہدری اور خالد حمید فاروقی کی دعوت پر یورپ و کینڈا سے مندوبین کشاں کشاں برسلز چلے آئے تھے۔ پروگرام کا عنوان تھا یورپین پاکستانی مصنفین کی کانفرنس ۔ کانفرنس اپنے وقت مقرر پر دوپہر کے کھانے کے بعد شروع ہو گئی ۔ چونکہ پروگرام کی حتمی تفصیلات سے بیشتر مندوبین ناآشنا تھے اس لیے بعد میں پیش کیا گیا پروگرام سبھی کے لیے حیرت کا سبب بھی تھا۔ تاہم جس ترتیب سے مرحلہ وار پروگرام پیش کیا گیا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ منتظمین پروگرام کی بھرپور تیاری کرکے ہی ہال میں وارد ہوئے تھے ۔
پہلا سیشن جرنلزم اور جرنلسٹوں کے لیے مخصوص تھا اور ایسے میں نام نہاد لوگو جرنلسٹوں کا ذکر خیر بھی رہا اور تجارتی اغرض و مقاصد کے لیے میدان عمل میں لائے گئے میڈیا اور اخبارات جو پروفیشنل جرنلسٹوں کی روزی روٹی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، ان کے منفی رویہ پر بھی کھل کر بات ہوئی۔ اس موضوع پر برلن سے تشریف لائے جیو نیوز کے نمائندے عرفان آفتاب نے فکر انگیز خیالات پیش کیے۔ جبکہ انہی کے خیالات کی نفی توقیر عاطف کا موضوع تھا ۔ ہم ٹھہرے ایک کم علم اورعام سے لکھاری اور لکھاری کو کم از کم رائٹرز کی بنیادی تعلیم یعنی ایم اے برائے مصنف نہ حاصل کر نے کا طعنہ نہیں دیا جاسکتا۔ اس لئے ہم اس سیشن سے محظوظ ہی ہوتے رہے۔ تاہم بعد میں شعرا کے تربیتی کیمپ کی تجویز سمع خراشی کا باعث ضرور بنی۔
دوسرے سیشن میں لکھاریوں اور ان کی کتابوں کا تعارف پیش کیا گیا۔ بیشتر حاضر مصنفین اور چند ایک غیر حاضر مصنفوں کی کتابوں کامیلہ ہال میں داخلے کے دروازے کے پاس ہی ایک میز پر انہیں سجا کر لگایا گیا تھا۔ سویڈن سے خصوصی طور پر تشریف لائے ہوئے مہمان مصنف اور کالم نگار عارف کسانہ جو صحافت اور ادب کے پیشے سے منسلک ہیں، انہوں نے پہلے مر حلے میں صحافتی ذمہ داری پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور دوسرے مرحلے میں اپنی تصنیفات، بچوں کے لیے نصیحت آموز کہانیاں اور افکار تازہ تعارف کے لیے پیش کیں۔ مصنف و صحافی شیراز راج کا مرتب کردہ الاپ انٹرنیشنل کی جانب سے، جس کے وہ ڈائریکٹر بھی ہیں، پیش کردہ خوبصورت معلو ماتی کیلنڈر جس میں پاکستان کے چیدہ چیدہ مشہور اور اپنے اپنے شعبے کے معروف افراد کو یکجا کر دیا گیا ہے کافی توجہ کا باعث بنا رہا۔
سید احمد نظامی ایک منجھے ہوئےصحافی ہیں۔ ان کی کتاب کالج کی لڑکی اور ان کی گفتگو ابتدائی خطبے سے شروع ہوکر اختتامی جملے تک سامعین کو محظوظ کرتی رہی۔ خالد فاروق کی کتاب سیاہ آئینے توجہ کا مرکز بنی رہی۔ جسےآدم جی ایوارڈ بھی ملا ہے۔ اس ایک روزہ کانفرنس میں شرکت کے لئے بیلجیئم کے مقامی صحافیوں اور ادیبوں کے شانہ بشانہ جرمنی سے ادیب وشاعر، فرانس، برطانیہ، ہالینڈ، اور کینیڈا سے مختلف ادیب موجود تھے ۔ جرمنی سے شاعرہ، ادیبہ اور صحافی عشرت معین سیما نے اپنی دو کتابیں افسانوں کا مجموعہ، گرداب اور کنارے اور سفرنامہ گامزن پیش کیا ۔ طاہر عدیم جرمنی کے ایک معروف شاعر ہیں اور انہوں نے اپنی کتابوں کتابیں، بام بقا، تیرے نین کنول اور بوسہ کا تعارف اتنی سرعت کے ساتھ کروایا کہ پروگرام کے ناظم کو بھی کہنا پڑا کہ وقت اتنا بھی کم نہیں کہ آپ بس صرف رسم پروگرام نباہ دیں۔ اقبال حیدر جرمنی کے معروف شاعر اور جرنلسٹ ہیں انہوں نے اپنی کتاب تو پیش نہیں کی مگر اپنی تمام کتب کے نام اور کالم و مضامین کی تعداد گنوانے پر ہی اکتفا کیا ۔ آپ نے بتایا کہ آپ چالیس سال سے اسی دشت کی سیاحی میں مصروف ہے۔
نغمانہ کنول مانجسٹر سے تشریف لائی تھیں۔ ان کے بارہ عدد شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعد کے مشاعرے میں ان کی شاعری کے مقام کا تعین جاسکے گا۔ سمن شاہ فرانس میں اردو ادب کا دیا جلا رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے شعری مجموعے تم سے تمہی تک شائع شدہ 2006 اور ہمیشہ تم کو چاہیں گے شائع شدہ 2014 کا تعارف یوں پیش کیا کہ ان کا شعری موضوع محبت ہے۔ اس کے بعد خاکسار نے اپنی تینوں کتب ایک ناول دوسری ہجرت اور دو افسانوی مجموعے بکھرے پتے اور بھیگے پل کا مختصر تعارف پیش کیا۔ وقت کی کمی آڑے آئی اور ایک تین سطری افسانچہ بھی سنانے سے قاصر رہا۔ سب سے آخر میں جرمنی کی طاہرہ رباب نے اپنے شعری مجموعے کا تعارف پیش کیا ۔
اس کے بعد سرود اور دف کی مدھر موسیقی سے سامعین کو روح کی غذا سے مستفیض کیا گیا۔ اس کے بعد مشاعرے کا دور چلا۔ مشاعرے کی نظامت سمن شاہ اور ندیم صاحب نے بہت خوبصورتی سے کی۔ جن شعرا نے یہاں اپنے کلام پیش کیا، ان کے نام بالتریب یوں ہیں: کوثر خان، سرور غزالی، انور ظہیر رہبر، عشرت معین سیما، نعمانہ کنول، عاطف توقیر، طاہر عدیم اوراقبال حیدر۔
مشاعرے کے بعد تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں عشائیہ کی دعوت دی گئی ۔ اور بریانی سے ان کی تواضع کی گئی۔