برطانیہ میں ذات پات کے مسائل
صدیوں سے انسان ذات پات کی بے معنی اور بے مقصد روایت کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ دنیا جب سے قائم ہوئی ہے انسان قبائیلوں اور چھوٹے چھوٹے گروہ میں بٹا رہا ہے۔ اس کے علاوہ امیری اور غریبی کے فرق نے انسان کو اس کے کام اور غربت کی وجہ سے کہیں جولاہا بنا دیا تو کہیں چمار۔ شاید ان ہی وجوہات کی بناپر ذات پات کی ابتدا ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ مذہبی نقطہ نگاہ سے بھی ذات پات کو ایک اہم مقام ملا ہوا ہے۔ مثلاً ہندو دھرم میں ذات پات کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ لیکن کئی ممالک میں اسلام کے ماننے والوں نے بھی ذات پات کی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ جس کا مذہبی بنا پر کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔
ہندوستان میں آج بھی ذات پات کو ماننے کا قدیم سماجی دستور زندہ ہے۔ تاہم برطانیہ میں بسنے والے چند ایشیائی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں ذات پات کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ سدیش رانی جو کہ ایک نچلی ذات سے تعلق رکھتی ہیں، انہیں اس کا تجربہ تب ہوا۔ وہ بیڈ فورڈ میں شاپنگ کر رہی تھیں۔ انہیں دو خواتین نے گالیاں دی۔ اُن دونوں خواتین نے سدیش رانی کو ’گندہ چمار‘ کہہ کر گالیاں دی تھیں۔ سدیش رانی اُس وقت خوف زدہ ہوگئیں اور ان دونوں خواتین کی حرکتوں سے حیران بھی ہوئیں۔ انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ برطانیہ میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ سدیش رانی ان دونوں خواتین کو ایک شادی کی تقریب میں مل چکی تھیں۔ جس وقت یہ واقعہ ہوا اُس وقت سدیش رانی کا بیٹا بھی ان کے ساتھ تھا ۔ وہ سدیش رانی سے بار بار پوچھ رہا تھا کہ ’گندہ چمار‘ کیا ہوتا ہے؟ ’کیا یہ ایک گالی ہے‘؟ سدیش رانی کا کہنا ہے کہ میں برطانیہ میں پلی بڑھی ہوں اور میں کس لئے ایسی گالیاں سنوں۔ جبکہ ہم سب باقی لوگوں جیسے ہیں۔
سدیش رانی نے پولیس کو اس واقعہ کی شکایت کی ہے۔ لیکن پولیس پریشان ہے کہ کس طرح وہ اس شکایت کی بنا پر اُن دو عورتوں کے خلاف کاروائی کرے۔ کیونکہ پولیس کو ذات پات کے معاملے میں جانکاری نہیں ہے۔ لیکن ذات پات کی بنا پر امتیازی سلوک برتنے والوں اور ان کو گالیاں دینے والوں کے خلاف مہم چلانے والے گروپ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ برطانیہ میں ذات پات کے حوالے سے قانون بنانے کی فوری ضرورت ہے۔
تاہم برطانیہ میں ’برابر مواقع ‘ دینے کے پالیسی کو ملک کے ہر محکمہ میں لاگو کیا گیا ہے۔ جس سے کسی بھی انسان کو بنیادی حقوق، تعلیم ، روزگار، صحت اور دیگر ضروریا ت سے اسے ذات پات کی وجہ سے محروم نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن سدیش رانی پر ’چمار‘ جیسا لفظ استعمال کرنا (جسے خاص کر ہندوستان میں ایک نچلے طبقے کے لوگوں کو نیچا دکھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ) ایک ناقابلِ قبول بات ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں ان واقعات کو روکنے کے لئے اس کے خلاف مہم چلانے والے حکومت سے فوری طور پر قانون بنانے کی مانگ کر رہے ہیں۔ حالانکہ 2010سے ہاؤس آف لارڈ ز میں اس معاملے پر بات چیت ہورہی ہے ۔ اس پر یہ غور و خوض بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا ذات پات کے امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ اس کے لئے ایک (clause) شق (Equality Act) مساوات ایکٹ میں شامل کرنے کے لئے ایک تجویز بھی دی گئی ہے ۔ جس کے لئے عوامی مشاورت کے نتیجہ کا انتطار کیا جا رہا ہے۔
تاہم زیادہ تر ہندو تنظیموں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذات پات ایک قدیم سماجی تنظیمی ڈھانچہ ہے اور یہ ہندو مت کی اہم خصوصیت ہے جسے سبھوں نے قبول کیا ہے۔ نیشنل کونسل آف ہندو ٹیمپل کے چئیر ستیش شرما اس قانون کی تجویز کے خلاف ہیں ۔ جبکہ ان کا کہنا ہے کہ ’ ذات پات پر امتیازی سلوک برتنے کا کوئی جواز نہیں ہے‘۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’ ذات پات کے نظام سے ہندو مذہب کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور کوئی بھی نیا قانون لانا ہندو مذہب کے لئے ایک مسئلہ پیدا ہو جائے گا‘۔ دیگر ہندو رہنماؤں کے ساتھ ستیش شرما نے یہ بھی کہا کہ ہندو مذہب میں ذات پات کو بدنام کرنے میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت اس کی ذمہ دار ہے ناکہ قدیم ہندو مذہب کا اس میں کوئی ہاتھ ہے۔ یہ کوئی ہمارا ذاتی نظریہ یا یقین نہیں ہے بلکہ ہمارے صحیفوں میں اس کا ذکر ہے اور ہم اسی کی تائید کر رہے ہیں‘۔
(CasteWatch UK) کاسٹ واچ یوکے ترجمان ستپال مومان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آخر ہندو ’مساوات ‘ کے خلاف کیوں ہیں۔ جو ہندوان واقعات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ مساوات پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ ورنہ وہ ہماری مہم کی مخالفت نہ کرتے ‘۔ اس تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانیہ میں لگ بھگ نصف میلین ’دلت ‘ لوگوں کو ذات پات کے تعصب سے محفوظ رکھنے کے لئے قانون بنانا لازمی ہے۔
42 سالہ دینا بوڈھیا جو کہ ایک برٹش ہندو ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب وہ اسکول میں تھیں تب انہوں نے ہندو مذہبی تعلیم کے ذریعہ ذات پات کے بارے میں علم حاصل کیا تھا ۔ لیکن ان کا اپنا ذاتی تجربہ ذات پات کے حوالے سے جو ہے وہ اس پر مصالحت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ انہوں نے کبھی مندر کے پنڈتوں سے ذات کے تنظیمی ڈھانچے کو نہیں سیکھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی نے ان سے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم برہمن ہو تو ادھر بیٹھو اور اگر تم چھتری ہو تو دوسری طرف بیٹھو۔ دینا بوڈھیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں اپنے آپ کو عمارت کی نچلی سطح کا حصہّ مانتی ہوں۔ میرے دادا ایک کسان تھے۔ میرے پتا ایک بس ڈرائیور تھے۔ میں ایک مالی مشیر ہوں۔ میں کہاں فٹ ہوتی ہوں ، مجھے نہیں پتہ؟
اسی طرح کا ایک اور واقعہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے ایک گھر میں کام کرنے والی ایک نوکرانی کو پوجا اور اجئے چنڈوک نے ہندوستان سے لا کر اپنے یہاں ملازم رکھا تھا۔ یہ لوگ اس نوکرانی کو محض گیارہ پینس فی گھنٹہ کے حساب سے اس کو اس کی تنخواہ دے رہے تھے۔ جب اس نوکرانی کا کیس ایمپلائمنٹ ٹریبیونل میں پیش کیا گیا تو پتہ چلا کہ پرمیلا تِرکی کو نچلی ذات ہونے کی وجہ سے پوجا اور اجئے نے اس کی تنخواہ اور اس کو اس کے حق سے محروم رکھا تھا۔ پوجا اور اجئے نے کہا کہ وہ اس کی تنخواہ پانچ ہزار روپئے کے حساب سے دیتے تھے جو کہ وہ دلّی میں کماتی تھی۔ ایمپلائمنٹ ٹریبیونل نے پوجا اور اجئے کو ایک لاکھ 63 ہزار پونڈ پرمیلا تِرکی کوادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔
پرمیلا تِرکی نے کہا کہ ’ میں چوبیس گھنٹے اور ہفتے میں سات دن کام کرتی تھی۔ مجھے رات کو جاگ کر بچّوں کو دودھ پلانا پڑتا تھا ۔ مجھے صبح چھ بجے اٹھنا پڑتا تھا اور بچّوں کی دیکھ بھال کے علاوہ مجھے گھر کے سارے کام کرنے پڑتے تھے‘۔ پرمیلا تِر کی نے یہ بھی کہا کہ ’ اس کو سونے کے لئے کوئی کمرہ نہیں دیا گیا تھا اور وہ زمین پر پڑے ایک توشک پر سوتی تھی‘۔ اس کے علاوہ پرمیلا تِرکی کو اکیلے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی اور وہ نہ ہی اپنے گھر والوں سے بات کرتی تھی۔ پرمیلا تِر کی کی تنخواہ اتنی کم تھی کہ وہ اپنے گھر والوں کو فون نہیں کر سکتی تھی۔ پرمیلا تِر کی کا کہنا ہے کہ اب وہ آزاد ہو چکی ہے اور وہ اپنی کہانی کے ذریعہ دوسروں کی بھی مدد کرنا چاہتی ہے۔ تاکہ ان کی طرح کوئی اور اس کا شکار نہ ہو۔
تنظیمی ڈھانچوں کے چار ورناس ہندو مذہب میں پائے جاتے ہیں۔ ہندو صحیفوں میں ’برہمن ‘ سب سے اعلیٰ ذات ہے۔ جس میں زیادہ تر لوگ پنڈت اور استاد ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ’ چھتریوں‘ کا نمبر آتا ہے۔ جس میں زیادہ تر لوگ حکمران اور فوجی ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ’ ویشے ‘ ذات ہے جس میں زیادہ تر لوگ کاروباری ہوتے ہیں۔ اور آخر میں’ شدر‘ ہوتے ہیں جس میں زیادہ تر لوگ مزدوروں اور کاریگروں کے کام کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد تمام لوگ دلتوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں اچھوت (جو مکمل طور پر معاشرے سے خارج ہیں) بھی کہا جاتا ہے۔ اس ذات کے لوگ کام کے لحاظ سے موچی ، چمار ، مہتر وغیرہ کہلاتے ہیں۔
اسلام میں ذات پات کو نہ ہی تو اہمیت دی گئی ہے اور نہ ہی اس کے متعلق قرآن میں کوئی فرمان پایا جاتا ہے۔ قرآن میں سورہ الحجرات میں اللہ نے فرمایا ہے کہ یٰا یّھاالنّاسُ انّاخلقنٰکُم مّن ذکرِ واُنشیٰ جعلنٰکُم شُعُو باو قباءِل لِتعارفُوااِنّ اکرمَکُم عِندَ اللّہِ اتقکُم اِنّ اللّہ عَلِیمُ خَبِیر( اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بے شک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزّت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے بےشک اللہ جاننے والا خبردار ہے)۔ اسلام نے تمام انسانوں کو برابر ی کا درجہ دیا ہے اور انسانیت کو نسل، ذات، رنگ اور دولت سے بالا تر قرار دیا ہے۔
بہت سے لوگ انسان پیدا ہو کر بھی ذات پات کی گمراہ کن روایت کی وجہ سے اپنے حق سے محروم ہیں ۔ صدیوں سے سماج کا دولت مند طبقہ وسائل کے زور پر غریب پسماندہ طبقے کو ذات پات کی زنجیروں میں جکڑ کر استحصال کر رہا ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ ہم ذات پات سے بالا تر ہو کر انسانیت کے لئے آواز کو بلند کریں ۔