کتاب اور کتاب میلے میں کیا رکھا ہے!

  • تحریر
  • جمعہ 03 / فروری / 2017
  • 4829

تیس بتیس سال پرانی بات ہے لیکن حافظے میں کل کی بات کی طرح نقش ہے۔ ان دنوں ہم کراچی میں مقیم تھے۔ پاک بھارت تعلقات میں ابھی سرد مہری نہ آئی تھی۔ میل ملاپ کے لیے رشتہ داروں سمیت شعراء اور ادیبوں کا خاصا آنا جانا لگا رہتا۔ انہی دنوں ہم نے ایسی محفلوں میں سیّد ابوالحسن ندوی کی شبنم لہجے میں گھلی گفتگو بھی سنی اور کیفی اعظمی کی گرجدار آواز اور طرحدار انداز میں ان کی شاعری بھی ۔

ان دنوں دہلی سے ایک دانشور اور ادیب تشریف لائے۔ دو تین کتابوں کے مصنف اور مرکزی حکومت میں کسی اعلیٰ عہدے پر بھی فائز رہ چکے تھے۔ ان کے تعلق دار بھی ان کی طرح متمول اور وسیع حلقہ ء احباب رکھتے تھے۔ وہ آئے تو دعوتوں اور پذیرائی کی تقریبات کا طویل سلسلہ چل نکلا۔ ان سے ہمارے ایک بزرگ نے سوال کیا کہ آپ کراچی میں اتنے گھروں میں گئے ، اپنے اور ہمارے ہاں کیا نمایاں فرق پایا۔ انہوں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ، بہت اچھا لگا، خوشحالی ہے، گھر بڑے اور شاندار ہیں۔ لوگ ملنسار ہیں اور خوش خوراک بھی لیکن ایک بات بہت کھٹکی کہ کسی بھی ایسے گھر میں ہم نے کتاب گوشہ یا لائبریری نہیں دیکھی ! ہمیں حیرت ہے کہ پڑھنے لکھنے اور مطالعے سے اتنی دوری کیوں ہے آپ کے ہاں۔

پوچھنے والے ہمارے بزرگ نے جھینپتے ہوئے موضوع بدلنے ہی میں عافیّت سمجھی۔ تیس بتیس سال بعد بھی کچھ خاص نہیں بدلا۔ ہمارے ایک ساتھی ڈیفنس کے ایک مہنگے سیکٹر میں گھر بنا رہے ہیں۔ پوچھنے پر بتایا کہ ڈیڑھ کروڑ کا بجٹ ہے۔ ہم نے پوچھا گھر میں لائبریری یا سٹڈی روم بنوایا ۔ فخر سے بولے کیوں نہیں، بچوں کے ٹیوشن کسی اور جگہ پڑھانے سے سارا گھر ہی ڈسٹرب رہتا ہے۔ ہم نے پوچھا کتنی کتابوں کی گنجائش رکھی ہے اس سٹڈی روم میں۔ حیران ہو کر بولے، یہ کمرہ کتابوں کے لیے تھوڑی بنایا ہے، صرف بچوں کی ٹیوشن کے لیے بنایا ہے۔ گھر پر ہی اتنا خرچ ہو گیا ہے کہ کتابیں خریدنے کے لیے گنجائش کہاں۔ اگر دو چار کتابیں رکھ بھی لوں تو پڑھنے کا وقت کہاں۔ ایک ان پر ہی کیا موقوف ، ہمارے مشاہدے میں تو یہی ہے کہ اکّا دکّا گھر ہی ہوگا جہاں کتابیں گھر کے مکینوں کی زندگی کا حصہ ہیں۔ بھلے وقتوں میں اکثر پڑھے لکھے گھرانوں میں کچھ کتابیں رکھنے اور پڑھنے کا رواج تھا لیکن بھلا ہو ٹی وی کی آمد کا۔ فاضل وقت اور دلچسپی کا مصرف اب ٹاک شوز ہیں یا منہ بسورتے، مسلسل روتے دھوتے ڈرامے ۔ انگریزی اسکولوں کی وسعت کے طفیل اب بک شاپس پر درمیانے اور بالائی طبقے کے علاقوں میں انگریزی کتابوں کی تو فراوانی ہے لیکن اردو کتابوں کے لیے جگہ اکثر تنگ اور محدود۔

ہم خوش قسمت ہیں کہ دنیا کے چار براعظموں میں تیس سے زائد ملکوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ معاشی اور معاشرتی طور پر آسودہ ملکوں میں کتب بینی کو بہت عام بلکہ لازم پایا۔ کتب بینی کی اسی عادت کی وجہ سے بڑے بڑے بک اسٹورز بھی عام دیکھے۔ سب سے بڑا بک اسٹور کوریا کے شہر سیول میں دیکھا ۔ کیوبو بک اسٹور جس کے بک کلب کے ممبرز کی تعداد ایک لاکھ اسّی ہزار سے زائد ہے۔ شہر کے کاروباری مرکز میں وسیع بیسمنٹ میں یہ بک اسٹور سیول کی پہچان ہے۔ زیادہ تر کتابیں کورین زبان میں ہوتی ہیں لیکن انگریزی سمیت غیر ملکی زبانوں کا ایک بہت بڑا سیکشن ہے۔ ہم نے بے شمار غیرملکیوں کے ساتھ گھنٹوں اس سیکشن میں صرف کیے۔ مختلف کتابوں کی ورق گردانی کی اورزادِ راہ سے جیب میں جو بچا اکثر وہاں سے کتابیں خریدنے پر صرف کیا۔ کچھ یہی عالم سنگاپور ، تائیوان، جاپان اور ملائشیا میں بھی دیکھا۔

کراچی میں کئی مشہور بک شاپس تھیں جو رفتہ رفتہ معدوم ہو گئیں۔ لاہور کے ادبی اور شاعری منظر ناموں اور رتجگوں کے قصوں میں چند دہائیاں قبل تک کئی ایسے ٹھکانوں اور بک شاپس کا ذکر پڑھا اور سنا۔ ناصر کاظمی، انتظار حسین اور اے حمید کی تحریروں میں ان کا خوب ذکر رہا۔ ہم نے خود مال روڈ پر چار پانچ بڑے بک اسٹورز پر وقت گزارا۔ لیکن ایک ایک کرکے بک شاپس کی جگہ جوتوں اور جوس کی دوکانوں نے لے لی۔ بک شاپش کی تعداد کم ہوتی گئی۔ البتہ اسٹیشنری شاپس کی دوکانیں ہر گلی کوچے میں پھیل رہی ہیں۔

مطالعے کی محدود عادت نے بہت سی بک شاپس کا بستر گول کر دیا۔ کتابوں کی اشاعت کا کاروبار بھی اسی سبب مشکل تر اور محدود تر ہو رہا ہے، بالخصوص اردو اور علاقائی زبانوں میں شعر و ادب اور فنون لطیفہ کی کتابوں کی اشاعت چند سو کی تعداد میں ہوتی ہے۔ یہ قلیل تعداد بھی دو چار سال میں مکمل بک جائے تو مصنف نہال اور پبلشر باغ باغ ہو جاتا ہے۔ یورپ، امریکہ اور ایشیا کے ملکوں میں لاکھوں کی تعداد میں کتاب شائع ہونے کا رجحان بس انہی کے لیے مخصوص ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اب بھی بہتیرے ایسے پبلشرز ہیں جو حالات کا مقابلہ بھی کر رہے ہیں اور انہیں بدلنے کے لیے کوشاں بھی ہیں۔ ان ہی کوششوں میں ایک کوشش کتاب میلے یا بک فئیرز کا اہتمام ہے۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بک فئیرز کا اہتمام ایک مستقل ایونٹ ہے جو انہی طلبا و طالبات کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ لاہور میں چند سر پھرے کتاب دوستوں نے البتہ ایک ایسے بک فئیر کے اہتمام کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے جو شہر اور ملک کا سب سے بڑا ایونٹ ہے اور لاکھوں شائقین کو سالانہ صلائے عام دیتا ہے۔

امسال یہ 31 واں لاہور انٹرنیشنل بک فئیر لاہور ایکسپو سنٹر میں دو سے چھ فروری منعقد ہو رہا ہے۔ اس میں گذشتہ سال کی طرح 275 سے زائد بک اسٹالز ہیں۔ اردو اور علاقائی زبانوں سمیت انگریزی کتابوں کے لاکھوں ٹائٹل ڈسپلے پر ہیں۔ گزشتہ سال ایک محتاط اندازے کے مطابق تین لاکھ سے زائد لوگوں نے اس بک فئیر میں شرکت کی۔ خصوصا شام کے اوقات اور ویک اینڈ پر کھوّے سے کھوّا چھلنے کا محارہ سمجھ آ جاتا ہے۔ نوجوان طلبا و طالبات اور فیملیز کا ایک اژدھام ہوتا ہے۔ اس بک فئیر پر بک پبلشر عموماٌ تیس چالیس فی صد تک کا پرکشش ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہم نے اکثر آنے والوں کو ہاتھوں میں کتابوں کے تھیلوں کے بوجھ تلے واپس جاتے دیکھا۔ ہم نے اپنے تئیں درجن بھر کتابوں کی فہرست بنا رکھی ہے جو امسال بک فئیر سے خریدنے کا ارادہ ہے۔ جمہوری پبلشرز کی جانب سے کئی غیر ملکی تراجم اور قدیم مغلیہ دور کی کتابوں کی اشاعت کا شہرہ ہے جن میں چین اور روس کے صدر کی آپ بیتیاں بھی شامل ہیں۔

کہنے اور لکھنے کی حد تک اکتیس سال آسان لگتے ہیں لیکن لاہور بک فئیر کے منتظمین نے اس روایت کو جاری رکھنے کے لیے سو پاپڑ بیلے۔ کہنے کی حد تک یہ بھی اچھا لگتا ہے کہ یہ بک فئیر لاہور ایکسپو سنٹر کے کشادہ ہال میں ترتیب پاتا ہے لیکن کم ہی لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ایک نیم سرکاری ادارہ ہونے کے باوجود بک فئیر کے لیے بھی وہی کمرشل ریٹس ہیں جو مشینری اور فیشن مصنوعات کے لیے ہیں۔ لاہور بک فئیر کے ایڈمنسٹریٹر سلیم ملک کے بقول یہاں گھوڑا گدھا سب برابر ہے۔ مناسب ہوگا کہ لاہور ایکسپو کمپنی کتابوں جیسے کم منافع مگر معاشرے کے لیے ناگزیر فئیر کے لیے خصوصی رعایتی کرایہ لے۔ دوسری صورت میں حکومت پنجاب اس کرائے میں کتب دوستی کے طور پر ہاتھ بٹائے۔ لکھنے کی حد تک ہم نے لکھ تو دیا لیکن سڑکوں اور انڈر پاسز کے میلے میں کتاب میلے کے لیے کچھ فنڈز نکالنا اتنا آسان بھی نہیں ۔

لاہور انٹر نیشنل بک فئیر کے سرکردہ منتظمین زبیر سعید، سلیم ملک، فرخ سہیل گوئندی سمیت تمام انتظامیہ کی ہمت ہے کہ اس قدر اعلیٰ اور وسیع بک فیئر کی روایت اکتیسویں سال بھی کامیابی سے نبا ہ رہے ہیں۔ لاہور لٹریری فیسٹیول کی نسبتاٌ نئی روایت کی کامیابی میں لاہور کی اشرافیہ، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور میڈیا کا بڑا ہاتھ ہے کہ سپانسرز کی افراط بھی ہے اور شرکت ایک سوشل سمبل بھی۔ حیرت نہیں ہوئی یہ سن کر کہ لاہور بک فئیر کے لیے ان سپانسرز میں کوئی بھی آگے بڑھنے پر آمادہ نہیں کہ اس بک فئیر میں جوق در جوق آنے والے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس بک فئیر کی کامیابی کے لیے اس کے تین لاکھ شائقین ہی بہت ہیں کہ بقول بہزاد لکھنوی:
اے جذبہء دِل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے