تبدیلی کے لئے خود محنت کرنا ہوگی
- تحریر مختار چوہدری
- جمعہ 03 / فروری / 2017
- 6586
کوئی 3 ہفتے پہلے کی بات ہے کہ میں لاہور سے موٹروے پرجا رہا تھا اور ٹریفک جام تھا کیوں کہ دھند کی وجہ سے سڑک بند تھی۔ گاڑیوں کا رش تھا۔ میرے آگے ایک گاڑی تھی جس کی نمبر پلیٹ پر اٹارنی ایٹ لاء لکھا ہوا تھا اور گاڑی کی پچھلی سکرین پر قائداعظم لا کالج لکھا ہوا تھا۔ اس گاڑی کی اگلی نشست سے کسی نے کچھ کھا کر اس کا پیپر کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ گاڑیاں چونکہ رکی ہوئیں تھیں۔ میں اتر کر اس اگلی گاڑی تک گیا اور اس کا دروازہ کھول کر سلام کیا اور پوچھا کہ آپ کی گاڑی کے پیچھے لکھا ہے کہ آپ اٹارنی ایٹ لا ہیں۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے صاحب نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے کہا کہ یہ آپ جو باہر سڑک پر گند پھیلا رہے ہیں اس کا بھی کوئی قانون ہے۔ اور اگر آپ جیسے پڑھے لکھے قانون دانوں کا یہ حال ہے تو پھر میرے جیسے لوگ کیا کریں گے۔ اس نے جواب دیا کہ یہ میرے ساتھ بیٹھے دوست نے میرے منع کرنے کے باوجود پھینکا ہے۔ خیر میں نے وہ اٹھا کر واپس ان کی گاڑی میں رکھ دیا۔ اور کہا کہ یہ ساتھ لے جائیں اور کسی کوڑے دان میں پھینکیں۔
پورے پاکستان میں سب لوگ صفائی چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک بھی دوبئی، سوئٹزرلینڈ اور فرانس جیسا ہونا چاہئے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ ہمارا وزیراعظم بھی کینڈا، برطانیہ، سویڈن اور ناروے کے وزرائے اعظم کی طرح بغیر پروٹوکول کے سفر کرے، ٹیکسی چلائے اور عام لوگوں کی طرح زندگی بسر کرتے نظر آئیں۔ ہر کسی کی یہ خواہش ہے کہ اسے گھر کی دہلیز پر انصاف ملے، سب لوگ قانون کی پاسداری چاہتے ہیں۔ کون ہے جو وطن میں امن امان کا خواہاں نہیں ہے۔ کیا ہم سب اپنے پیارے وطن میں خوشحالی کے متمنی نہیں ہیں۔ جب سے پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک ملک کے طور پر ابھرا ہے تب سے ہی ہم سب پاکستان کو دنیا کی قیادت سونپنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان اقوام عالم کی قیادت تو درکنار خود کو عالمی برادری کے اہم رکن ملک کے طور پر ہی نہیں منوا سکا۔ اس سال کی پاسپورٹ کی اہمیت کے حوالے سے جو تازہ ترین رپورٹ آئی ہے اس میں پاکستان کے پاسپورٹ کا نمبر 104 ہے۔ اور ہم کل 36 ممالک میں پیشگی ویزا کے بغیر ہم سفر کر سکتے ہیں۔ ان میں اکثریت افریقی ممالک کی ہے جو خود بدحالی کا شکار ہیں۔
پاسپورٹ کی اسی فہرست میں بھارت کا نمبر 78 ہے اور بنگلہ دیش، نیپال برما سمیت کئی کمزور اور ترقی پذیر ممالک کی حیثیت پاکستان کے پاسپورٹ سے بہتر ہے۔ پھر جو مساجد میں ہم نے دعاؤں کے انبار لگا رکھے ہیں۔ اب تو وہ انبار ویسے ہی اتنے بڑے ہو چکے ہیں کہ عرش سے بھی کہیں اوپر تک پہنچ گئے ہوں گے۔ پھر یہ تو سوال ہی نہیں رہا کہ ہماری دعائیں اوپر پہنچ رہی ہیں یا نہیں۔ تو آخر ہمارا مقدر کیوں نہیں بدلتا۔ کہیں یہ تو نہیں کہ جو ہم سب جو حاصل کرنے کے لیے دعائیں مانگتے ہیں، وہ حقیقت میں ہم چاہتے ہی نہیں۔ یا اس کے لیے خود کوشاں ہی نہیں۔ لطیفہ ہے: "ایک پٹھان ایک مدت سے دعائیں کر رہا تھا کہ یا میرے خدایا مجھے بیٹا عطا فرما تو ایک دن ایک فرشتہ اس پٹھان کے پاس آیا اور کہا کہ خان صاحب آپ نے دعاؤں سے عرش ہلا دیا ہے خدا کے لیے اب شادی بھی کر لو"۔ تو کیا ہم سب بھی شادی کے بغیر ہی اولاد کی خواہش لیے بیٹھے ہیں کیا۔ کوئی بھی دعا مانگنے سے پہلے کسی بھی خواہش کی تکمیل کے لیے بندہ خود بھی تو کچھ کرے۔
پاکستانیوں کی اکثریت ہر نماز کے بعد دعا میں اعتراف کرتی ہے کہ اے میرے رب میں گنہگار ہوں، خطاکار ہوں، سیاہ کار ہوں، بدکار ہوں، بھٹکا ہوا ہوں، مجھے نیک بنا دے۔ مجھے سیدھی راہ پر گامزن کر دے۔ میری دنیا اور عقبت سنوار دے۔ لیکن کبھی کسی نے اگلی نماز سے پہلے اپنا احتساب کیا کہ میں کتنا بدلا ہوں۔ تو پھر آئیں ذرا اپنا جائزہ لیں اور تاریخ عالم پر نظر دوڑائیں کہ کیا کسی قوم کی حالت اس وقت تک بدلی ہے جب تک اس قوم نے خود کو بدلنے کی کوشش نہ کی ہو۔ پھر ہماری حالت کیوں کر بدلے گی۔ ہم اقوام عالم میں اپنا مقام کیسے بنانے میں کامیاب ہوں گے۔ جب ہم اپنا کوڑا بھی خود نہیں سنبھال سکتے، خود کو بدل نہیں سکتے، کسی بھی جگہ قطار نہیں بنا سکتے، کسی کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتے، اپنی آمدنی پر جائز ٹیکس ادا نہیں کرنا چاہتے، دوسروں کے نقطہ نظر کو برداشت نہیں کر سکتے، کسی کو راستہ نہیں دے سکتے، اپنی معاشرتی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہیں، دوسروں کا احترام نہیں کرتے تو پھر ان سب مراعات کو اپنے لیے کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
جس کسی کو جتنا موقع ملتا ہے، وہ ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے، جتنی ناجائز عزت ملے اسے سمیٹ لیتا ہے، جتنا پروٹوکول میسر آئے اس کے مزے لوٹتا ہے تو پھر اس کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے حکمرانوں کو کوستا رہے، بیوروکریسی پر الزامات دھرتا رہے، نظام کا رونا روتا رہے۔ ملک میں جدھر دیکھیں ہر کوئی مقدور بھر پروٹوکول کے لیے بیتاب نظر آتا ہے۔ اسی لیے اپنی گاڑیوں کے پیچھے اپنا سٹیٹس لکھواتے ہیں۔ ایڈووکیٹ ہو یا ڈاکٹر، لیکچرار ہو یا صحافی، ایم پی اے ہو یا ایم این اے ۔۔۔ ہر کسی نے اپنی گاڑی پر اپنا سٹیٹس لکھا ہوتا ہے اس کا کیا جواز ہے۔ کیا یہ سب دوسرے ممالک میں بھی ہوتا ہے۔ پھر ہمارے ملک میں کیوں ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کو خاص پروٹوکول ہو اور عزت ملے، جب کہ وہ خود کسی کی عزت نہ کرے۔
ابھی پچھلے ماہ امریکی، جرمن اور برطانوی محققین نے موجودہ صدی اور گذشتہ صدی کے کامیاب ترین 100 لوگوں پر ایک تحقیق کی ہے جس پر اڑھائی سال لگے۔ ان 30 مہینوں کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان 100 کامیاب ترین شخصیات میں سے 99 ایسے تھے یا ہیں کہ جن میں 11 خوبیاں یکساں طور پر پائی گئیں ہیں۔ ان میں سر فہرست یہ کہ وہ ہمیشہ دوسروں کی عزت کرتے ہیں اور یہ عزت غیر مشروط اور بلا غرض کرتے ہیں۔ پھر دوسروں کی خاطر اپنا وقت اور وسائل کا استعمال کرتے ہیں۔ اور یہ سب خوش اخلاق تھے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ ہمیشہ دوسروں کو توجہ دیتے ہیں اور انہیں خود سے اہم جانتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی جیت کے لئے دوسروں کو پچھاڑنے والے نہیں اور انہوں نے اپنی منزل پانے اور مقام حاصل کرنے کے لیے خود جدوجہد کی ہے۔
ہمیں بھی سب سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا اور اپنی محنت اور کوشش سے بہتری لانا ہوگی پھر اللہ تعالٰی بھی ہماری مدد کرے گا۔ یاد رکھیں کہ دوسرا کوئی مدد کونہیں آئے گا۔ اگر آپ اس ملک میں صفائی چاہتے ہیں تو اپنے حصے کی صفائی کی ذمہ داری قبول کریں، اگر آپ اس ملک کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر اپنے اندر برداشت پیدا کریں اور اپنے اپنے مذہب اور عقیدہ پر جیو اور جینے دو کی پالیسی اپنائیں، اگر آپ اس ملک میں انصاف چاہتے ہیں تو دوسروں کا حق سلب نہ کریں، اپنے ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ انصاف کریں، ہر جگہ سچ بولیں، سچ کا ساتھ دیں، سچی گواہی دیں اور انصاف حاصل کرنے کے لیے آخری حد تک جدوجہد کریں۔ اگر اپنے وطن کا پرچم بلند دیکھنے کے خواہش مند ہیں تو ملک اور بیرون ملک قوانین کی پابندی کریں، نظم و ضبط قائم کریں، جینے کا سلیقہ اپنائیں اور اپنے ملک کی ناموس کو کسی بھی حال میں داؤ پر نہ لگائیں۔ اگر آپ اپنی عزت چاہتے ہیں تو ہمیشہ دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔ اور اپنے کردار سے اپنا مقام پیدا کریں:
حسن کردار سے نور مجسم ہو جا
شیطان بھی تجھے دیکھے تو مسلمان ہو جائے
اپنے اپنے مذہبی اور سیاسی خانوں اور حجروں سے باہر نکل کر باہر کی دنیا کا بھی مشاہدہ کریں، تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ علم کی روشنی جہاں سے ملے اس سے استفادہ حاصل کریں۔ کیوں کہ علم کی آخری سرحد کسی نے بھی معلوم نہیں کی اور علم کسی پر رکتا نہیں ہے۔ علم کی کارگاہ سے مسلسل کن فیکون کی صدا اٹھتی ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اگر اپنے وطن میں نظم و ضبط دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کو اپنے وجود میں تلاش کرنے کی کوشش کریں۔