طارق فتح کی عجب کہانی
- تحریر شعیب دانیال
- ہفتہ 04 / فروری / 2017
- 7183
مصنف اور کالم نگار طارق فتح کی 'ٹوئٹر ٹائم لائن' پر ہمہ وقت کوئی نہ کوئی سرگرمی جاری رہتی ہے ۔ کبھی وہ کولکتہ پولیس کو’’نامرد‘‘ قرار دیتے ہیں تو کبھی ملاؤں پر الزام دھرتے ہیں کہ وہ ان کی زندگی کے درپے ہیں ۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 'گوگل میں کام کرنے والے اسلام پسندوں نے ان کی ای میل منسوح کرنے کی کوشش کی ہے'۔ طارق فتح کی یہ سرگرمیاں اور بیانات بھارت میں ان کے موجودہ کردار کا اظہار ہیں جہاں وہ نمایاں تر ین کالم نگار اور دانشور کے طور پر ابھرے ہیں۔
وہ جدید اسلام کے کئی اہم پہلوؤں پر کڑی تنقید کرتے ہیں۔ وہ کالم لکھتے ہیں، ٹیلی ویژن پروگراموں کی میزبانی کرتے ہیں اور مختلف تقاریب سے خطاب کرتے ہیں۔ وہ خاص طور پر بھارتی دائیں بازو کی فکر میں اپنی ایک الگ شناخت بنا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں بھارت کے مسلمانوں کی منفی سرگرمیوں کو نمایاں کرنے کے لیے شدت پسندانہ موقف اختیار کر کے گویا وہ 'ہندتوا' کے ترجمان بن گئے ہیں۔ طارق فتح کراچی میں پیدا ہوئے۔ وہ 1970 کی دہائی تک پاکستان ٹیلی ویژن پر پروڈیوسر کے طور پر کام کرتے رہے جس کے بعد وہ سعودی عرب مراجعت کر گئے ۔ سعودی عرب سے انہوں نے ایک بار پھر رختِ سفر باندھا اور اب ان کی منزل کینیڈا تھی جہاں انہوں نے اپنا موجودہ زاویہ نظر اختیار کیا۔ اور مسلم فکر کے نمایاں ترین ناقد کے طور پر ابھرے ۔ انہوں نے مختلف امور پر جارحانہ موقف اختیار کیا۔ حالیہ دنوں مسلمانوں کے امریکہ داخلے پر پابندی اور انتہائی دائیں بازو کے اس سازشی نظریے کی حمایت کی جس میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ خفیہ طور پر اسلام قبول کر چکے ہیں۔
ان کی بھارت کے حوالے سے دلچسپی کا آغاز خاصی تاخیر سے ہوا اور چار برس قبل ہی وہ بھارتی میڈیا میں نمایاں مبصر کے طور پر ابھرے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی 2014 کے انتخابات میں فتح کے بعد بھارت کے دائیں بازو کی جانب بڑھ جانے اور عوامی دلچسپی کے موضوعات پر تبصروں کے باعث سماجی میڈیا کی اہمیت میں اضافہ ہوا جہاں طارق فتح پہلے ہی انتہائی مقبول تھے ۔ ان دونوں واقعات کے حوالے سے طارق فتح کی سوچ کو زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ طارق فتح خود کو ایک مصلح کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں 'ملا' اور 'اللہ' کے اسلام میں فرق ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ 'تصورِتوحید کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ آپ تخلیق کار کے سوا کسی کو جواب دہ نہیں ہیں اور شریعت انسان کی اپنی تخلیق ہے'۔ ان کا استدلال ہے کہ 'ملا غیر مسلموں کے سامنے غلط تاویلات پیش کرکے نبی اکرمؐ اور اسلام کے کردار کو گھٹانے کا باعث بن رہے ہیں۔ طارق فتح اسلام کے بارے میں اپنی اس تنقید کے باعث بھارتی دائیں بازو کا مرکزِ نگاہ بن گئے جو 2014 میں نریندر مودی کی سیاسی جیت کے بعد بھارت میں علمی طور پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ طارق فتح اب بھارت میں دائیں بازو کی نمایاں ترین شخصیت بن چکے ہیں۔ 2016 میں انہیں دائیں بازو کے سیمیناروں جیسا کہ 'انڈیا آئیڈیاز کنکلیو' میں مدعو کیا گیا جس کا انعقاد 'انڈیا فاؤنڈیشن' نے کیا تھا۔ اس ادارے کے مودی حکومت کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے 'جے پور ڈائیلاگز' میں بھی شرکت کی جس کی میزبانی راجھستان میں بی جے پی کے لیے کام کرنے والے ایک سینئر بیوروکریٹ نے کی۔ طارق فتح نے 2016 میں ہی بھوپال میں ہونے والی ایک تقریب 'لوک منتھن' میں بھی شرکت کی جس کا انعقاد ایک ایسے گروہ نے کیا تھا جس کا آر ایس ایس سے گہرا تعلق تھا۔ سات جنوری کو کلکتہ میں کشمیر اور بلوچستان پر ہونے والی کانفرنس کی میزبانی سوادھیکار بنگلہ فاؤنڈیشن نے کی جس کے سربراہ بی جے پی کے مقامی رہنما ہیں۔ اس کانفرنس میں بھی طارق فتح موجود تھے۔
طارق فتح میں بھارت کے دائیں بازو کی دلچسپی اس وقت مزید بڑھی جب انہوں نے زی نیوز پر پروگرام کی میزبانی شروع کی، جس پر قبل ازیں یہ الزام عائد ہو چکا ہے کہ وہ بی جے پی کے نظریات کو فروغ دیتا رہا ہے ۔ طارق فتح زی نیوز پر پروگرام 'فتح کا فتویٰ' کی میزبانی کرتے ہیں جس میں بھارتی مسلمانوں کے حوالے سے درپیش مسائل پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ قبل ازیں طارق فتح کی فکر مغرب اور عالمی اسلام تک محدود تھی، مگر اب بھارتی اسلام کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس میں ہندتوا کا عکس نظر آنے لگا ہے ۔ طارق فتح اپنی ویب سائٹ پر خود کو ایک ایسا مسلمان قرار دیتے ہیں جس کے آبا ؤ اجداد ہندو تھے ۔ اس سے ہندوتوا کے اس مؤقف کی تائید ہوئی کہ ہندوازم ہندوستان کا حقیقی اور قدیم ترین مذہب ہے ۔ سنگھ پریوار کی 'گھر واپسی' مہم کی بنیاد بھی اسی تصور پر ہے ۔ انہوں نے بارہا بھارتی مسلمانوں کی مذمت کی کہ انہوں نے قرونِ وسطیٰ میں ترکوں کی جانب سے بھارت پر کیے گئے حملوں پر کبھی تنقید نہیں کی۔ انہوں نے نئی دہلی کی ایک اہم شاہراہ اورنگزیب روڈ کا نام تبدیل کرنے کی حمایت بھی کی اور مسلمانوں پر الزام عائد کیا کہ وہ مغل شہنشاہ بابر کو پوجنے کی حد تک چاہتے ہیں۔ ان کے ان الفاظ میں بابری مسجد کو منہدم کرنے کی تحریک کی بازگشت سنائی دی
۔طارق فتح نے سماجی میڈیا پر جاری ایک اورسازشی نظریے کو بھی من و عن قبول کر لیا، جو سب سے پہلے پی این اوک نے پیش کیا تھا جو ہندوتوا کے مقبول پرچارک ہیں۔ اس نظریے کے مطابق کعبہ کبھی ہندوؤں کی عبادت گاہ ہوا کرتا تھا۔ ہندوتوا نظریے کے حامل ایک اور معروف دانشور فرانسس گاؤٹیئر نے بھی ٹوئٹر پر اسی سازشی نظریے کی گردان کی ہے ۔ طارق فتح نے اب بھارتی شناخت بھی اختیار کر لی ہے اور وہ بھارتی پالیسی کے ناقدین کو 'پاکستانی' سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں پنجابی انڈین ہوں۔ بہت سے انڈین مسلمان اس امر پرفخر کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ انڈین نہیں ہیں اور پھر وہ انڈین ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ طارق فتح کہتے ہیں 'یہ فکری تضاد ہے کیوں کہ آپ اس وقت تک انڈین نہیں ہو سکتے جب تک آپ کا نام سید، یا رضوی یا صدیقی، یا نقوی یا ہاشمی یا قریشی ہے ۔ آپ واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ انڈین نہیں ہیں'۔
دسمبر2016 میں طارق فتح کے لیے اس وقت مسائل پیدا ہو گئے جب انہوں نے اختلاف رائے پر مسلمان اور سکھ طلبہ کو 'پاکستانی' اور 'خالصتانی' قرار دے ڈالا۔ اس موقع پر طلبہ نے انہیں زدوکوب بھی کیا۔ طارق فتح نے حال ہی میں اداکار جوڑے سیف علی خان اور کرینہ کپور پر اپنے بیٹے کا نام 'تیمو' رکھنے پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیف اور کرینہ کو اپنے بیٹے کا نام ہندوستان پر حملہ آور ہونے والے اس تاتاری شہنشاہ کے نام پر نہیں رکھنا چاہیے تھا۔ ستم ظریقی تو یہ ہے کہ ان کا اپنا نام بھی 'انڈین' نہیں ہے جس پر سماجی میڈیا میں ان پر کڑی تنقید ہوئی جس کے باعث انہوں نے لفظ 'طارق' کا غلط مطلب پیش کیا۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ 'طارق سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور اگر آپ کسی پر کوئی الزام عائد کرنا ہی چاہتے ہیں تو وہ میرے والدین ہیں جنہوں نے میرے لیے یہ نام منتخب کیا'۔
طارق فتح (دائیں) 70 کی دہائی میں بائیں بازو کی طلبہ سیاست میں سرگرم رہے اور پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے پروڈیوسر کی حیثیت میں بھی کام کیا۔ طارق فتح کی اپنے بچوں کے ناموں کے حوالے سے پیش کی گئی تاویل بھی انتہائی دلچسپ ہے کیوں کہ وہ بھی 'انڈین ناموں' کی تعریف پر پورا نہیں اترتے ۔ طارق فتح نے اس حوالے سے دعویٰ کیا کہ 'ابتدا میں نتاشا (بڑی صاحب زادی) کا نام لکشمی رکھا گیا تھا۔ لیکن اس وقت میں نوجوان تھا اور میرے رشتہ دار اس بات سے خوف زدہ ہو گئے تھے ۔ میری دوسری صاحب زادی کی پیدائش اس وقت ہوئی جب ہم پاکستان میں نہیں تھے، چناں چہ ہم نے اس کا نام 1980 دہائی کی معروف گلوکارہ کے نام پر) نازیہ رکھا'۔ دہلی سے تعلق رکھنے والے کالم نگار رانا صفوی کہتے ہیں کہ 'نام پر پیدا ہونے والے اس تنازعے کی حقیقی وجہ تو یہ ہے کہ طارق کا اپنا نام عربی زبان کا ہے جس کے باعث ممکن ہے کہ یہی بھارت میں ان کی شہرت کی وجہ بنا ہو۔ میں حیران ہوں کہ طارق فتح بھارت میں اور خاص طور پر دائیں بازو کے حلقوں میں اس قدر مقبول کیوں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مسلمان نام والا شخص اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے'۔ دوسری جانب طارق فتح رانا صفوی پر 'پاکستانی' ہونے کا الزام عائد کر چکے ہیں۔
طارق فتح نے اس وقت مقبولیت حاصل کی جب بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادی بھارتی مسلمانوں کے ساتھ پیدا ہونے والی دوری ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس میں تین بار طلاق دینے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ جس کے بارے میں پارٹی پرامید ہے کہ اس سے اسے مسلمان خواتین ووٹروں کی توجہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ بی جے پی نے حقیقتاً متنازعہ معاملات جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور تمام سماجی برادریوں کے لیے یکساں ضابطہ اخلاق متعارف کروانے کے معاملے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ بی جے پی کی سرپرست جماعت آر ایس ایس نے کشمیر اور مغربی بنگال میں اپنے مسلمان ونگ کے ذریعے مہم شروع کی۔ بنگال بھارت میں مسلم آبادی والی تیسری سب سے بڑی ریاست ہے ۔ یہاں بی جے پی سے منسلک ایک غیر سرکاری تنظیم 'سوادھیکار بنگلہ فاؤنڈیشن' نے اسلام میں خواتین کے حقوق پر سیمینارز کا انعقاد بھی کیا۔ بی جے پی کا یہ گروہ طارق فتح کومسلمانوں کے نام نہاد رہنما کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مسلمان انہیں سخت ناپسند کرتے ہیں۔
طارق فتح پر میڈیا کے مسلمان ارکان کی بڑی تعداد نے تنقید کی جن میں حیدرآباد کا اخبار 'سیاست' بھی شامل ہے جس میں انہیں 'اسلام دشمن' قرار دیا گیا۔ اور ای ٹی وی اردو نے انہیں ایک ایسا شخص بتایا جنہیں مسلمان انتہائی حد تک ناپسند کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی ایک معروف نیوز ویب سائٹ 'ٹو سرکلز' کے مدیر کاشف الہدیٰ طارق فتح کی شہرت کی ذمہ داری 'میڈیا کے اسلاموفوبیا ایجنڈے' پر عائد کرتے ہیں۔ کاشف الہدیٰ کہتے ہیں 'طارق فتح کی شہرت کا کلیہ سادہ سا ہے ۔ اسلام اور مسلمانوں پر تنقید کریں گے تو نہ صرف آپ کے کالم شائع ہو جائیں گے بلکہ آپ کو پرائم ٹائم پر اپنے خیالات کے اظہار کا موقع بھی مل جائے گا'۔
طارق فتح خود پر ہونے والی اس تنقید پر یہ ردِعمل دیتے ہیں کہ 'وہ صرف شریعت کی مذمت کرتے ہیں جو انسانوں کی اپنی بنائی ہوئی ہے اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے'۔ ان کا کہنا ہے 'میں اسلام پر تنقید نہیں کرتا۔ اگر آپ نے مجھے کبھی اسلام پر تنقید کرتے ہوئے دیکھا ہو تو بتایئے ۔ کیا ایسا کوئی ثبوت موجود ہے کہ میں نے اسلام پر تنقید کی ہو؟ براہِ مہربانی مجھے اس بارے میں آگاہ کریں۔ میں سرے سے ہی اسلام پر تنقید نہیں کرتا۔ میں شریعت پر تنقید کرتا ہوں۔ میں شریعت کو مسلمانوں کے زوال اور اسلام کی ساکھ متاثر ہونے کی ایک اہم وجہ قرار دیتا ہوں۔ آپ کے مسلمان ہونے کا شریعت سے کوئی تعلق کیسے ہو سکتا ہے؟' وہ مسلمان کے طورپر اپنی شناخت واضح کرنے کے حوالے سے بھی محتاط ہیں۔ وہ یہ وضاحت کرتے ہیں کہ ان کی اسلامی معاشرے کی اصلاح کی ان کوششوں کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ خود کو مسلمان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ طارق فتح وضاحت کرتے ہیں 'یہ میری ایک مشکل ذمہ داری ہے ۔ یہ میرا فرض ہے ۔ میں فرار اختیار نہیں کرسکتا۔ بہت سے لوگ یہ کہہ چکے ہیں اسلام درست مذہب نہیں ہے اور میں ایک سابقہ مسلمان ہوں'۔
وہ مختلف تقریبات میں جاتے ہیں اور رچرڈ ڈاکنز اور سام ہیرس کے ساتھ باتیں کرتے ہیں۔ اس سے کیا مقصد حاصل ہوتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی سابقہ ہندو کے بارے میں سنا ہے۔ یا سابقہ یہودی کے بارے میں سنا ہے۔ تو یہ سابق مسلمان کی اصطلاح آخر ہے کیا۔ ان کے زی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کا عنوان 'فتح کا فتویٰ' ہے، جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ غالباً مسلمانوں کی غلط سرگرمیوں پر بطور مسلمان تنقید کرتے ہیں۔ انہوں نے 'فتح کا فتویٰ' کی پہلی قسط میں کہا تھا 'میں ایک مسلمان ہوں لیکن مسلمان ہوتے ہوئے ایک ترقی پسند شخص بھی ہوں۔ بی جے پی کی جانب سے طارق فتح کی حمایت کے جائزے سے ہمیں بہت کچھ سمجھنے کا موقع ملتا ہے ۔ جیسا کہ وہ بنگلہ دیش کی متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کے حوالے سے بھی مثبت رویے کا اظہار کرتے ہیں، جنہیں اس وقت ملک بدر ہونے پر مجبور کر دیا گیا جب ان پر توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ طارق فتح نہ صرف مسلمان ہونے کے دعویدار بلکہ بہت سے معاملات پر ہندوتوا سے متفق بھی ہیں، جس سے بی جے پی کے لیے اپنے کارکنوں کی مدد کے بغیر مسلمانوں تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔
تسلیمہ نسرین پر اسلام پسندوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید اس قدر شدید تھی کہ وہ 2007 میں کولکتہ چھوڑنے پر بھی مجبور ہو گئیں۔ اس وقت بی جے پی ان کی زبردست حمایت کر رہی تھی۔ تاہم اس کے بعد بی جے پی کی جانب سے تسلیمہ نسرین کی حمایت میں کمی آئی ہے اور 2014 میں مودی حکومت نے پہلی بار انہیں ایک سال کا رہائشی ویزا دینے سے انکار کیا۔ ان کا ویزا میڈیا پرزبردست ردعمل کے بعد بحال ہوا۔ تسلیمہ نسرین پر عائد توہینِ مذہب کے الزامات کے باعث وہ بی جے پی کے لیے اب مسلمانوں تک رسائی حاصل کرنے کے تناظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ تاہم طارق فتح اس حوالے سے ایک بہترین انتخاب ہیں جو مسلمان ہونے کے دعویدار بھی ہیں اور بہت سے معاملات پر ہندوتوا کے نقطۂ نظر سے متفق بھی ہیں۔ اسی لئے بی جے پی کے لیے اپنے پرجوش ہندوتوا کارکنوں کی مدد کے بغیر مسلمانوں تک رسائی حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔
اگرچہ طارق فتح کو ہندوتوا حلقوں میں زبردست حمایت حاصل ہے لیکن ان پر کچھ تنقید بھی کی جاتی ہے ۔ نیو جرسی کے رہائشی راجیو ملہوترا اس وقت ہندوتوا تحریک کے انتہائی اثر و رسوخ کے حامل دانشور ہیں۔ وہ بھارت میں طارق فتح کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے حوالے سے خبردار کرتے ہیں۔ راجیو ملہوترا سخت لہجے میں لکھتے ہیں: 'انہوں نے ہندوؤں سے جو وعدے کیے ہیں، ان کے مطابق وہ رجعت پسند اسلام اور پاکستان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اسی بنا پر ہی ہندوؤں میں یہ 'ابہام' پیدا ہوا ہے کہ وہ ہندوؤں کے دوست ہیں'۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 'طارق فتح کو ان کی فکر، پالیسیوں اور حکمتِ عملی کے تناظر میں ہندوؤں کا رہنما تصور نہ کیا جائے
(بشکریہ: سجاگ ۔ فیصل آباد)