ایک کشمیری کی پاکستانیوں سے التجا

میں ایک کشمیری ہوں اور میرا ان سب ممالک کے سربراہان سے ایک سوال ہے جن کے عوام آزادی کی فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں کہ ہمیں کب آزادی ملے گی۔ ہم کب آزاد فضاؤں میں سانس لے سکیں گے ۔ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں۔ میرے بیٹوں کے بچے بھی اب جوان ہونے لگے ہیں۔ میں نے جب سے شعور سنبھال ہے تب سے میں گولیوں کی آوازیں سنتا آرہا ہوں ۔ ہر طرف بارود کی بو پھیلی ہوئی ہے ۔ میری اس وادی میں پیدا ہونے والا ہر بچہ گولیوں کی آواز سن کر ہی اپنی آنکھیں کھولتا ہے۔ کشمیر جنت نظیر کی خوبصورت وادیاں اداس ہیں ۔ پرندے جو ان خوبصورت وادیوں میں چہچہاتے تھے اب ان پر بھی خوف طاری ہے۔ چشمے جو اس وادی کا حسن تھے وہ بھی اداس اداس سے لگتے ہیں۔

میں نے اپنا بچپن اور جوانی سہمے سہمے  گزار دی کہ کب بھارتی فوج کی شکل میں موجود درندوں کی بندوقیں شعلے اگلیں اور لاشیں گرنا شروع ہوجائیں۔ میں نے ہر طرف ظلم اور بربریت کی داستانیں رقم ہوتی دیکھیں ۔ اپنے پیاروں کو گولیاں کھا کر گرتے اور شہید ہوتے دیکھا ۔ میں نے اپنے ابو اور امی کو گولی لگنے سے سڑک پر تڑپتے اور دم توڑتے دیکھا ۔ وہ دن میرے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا ۔ یہ صرف میری کہانی نہیں بلکہ یہ ہر کشمیری گھر کی کہانی ہے۔ کسی کا بھائی نہیں رہا تو کسی کا باپ ، کسی کادوست شہید ہوا تو کسی کی بہن ۔ لیکن ان درندوں کو ہم پر رحم نہیں آیا ۔ وہ گولیاں مارتے رہے اور کشمیری سینہ تان کر اپنے حق اور آزادی کے لیے لڑتے رہے۔ اور آج بھی لڑرہے ہیں ۔

ہزاروں گھرانے اجڑ گئے ماؤں نے اپنے لخت جگر گنوا دیے۔ لیکن کوئی بھی ملک ان مظالم کے خلاف نہ بولا ۔ ان کے کانوں پر بھی جوں تک نہ رینگی جو جمہوریت کا لبادے اوڑھے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ انسانوں پر ہونے والے مظالم پر واویلا کھڑا کردیتے ہیں لیکن ہمارے ساتھ ہونے والے بھارتی مظالم پر کسی نے آواز کیوں نہ اٹھائی ۔ میں ان سربراہان سے پوچھنا چاہتا ہوں جو ہر وقت جمہوریت کا راگ الاپتے نہیں تھکتے، کہ آپ کی زبانیں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف کیوں نہیں بولتیں ۔ کیا کشمیری انسان نہیں ہیں۔ کیا ان کا حق نہیں ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ رہ سکیں۔ اپنے رسم ورواج کے مطابق زندگی گزار سکیں ۔ اپنے بچوں کو آزاد فضاؤں میں تعلیم دلا سکیں۔ ان کا قصور کیا تھا۔ صرف یہی کہ وہ آزادی مانگ رہے تھے۔ اپنا حق مانگ رہے تھے ۔ کیا آزادی مانگنا اور اپنا حق مانگنا جرم ہے ۔ اگر یہ جرم ہے تو ہم جرم کرتے رہیں گے خواہ اس کے لیے ہمیں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔

میرا ایک سوال پاکستانی حکمرانوں سے بھی ہے جو ہمیں اپنا سمجھتے ہیں اور ہمیں اپنا بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمارا مسئلہ عالمی دنیا کے سامنے اٹھانے میں ہچکچاتے ہیں ۔ ہم ہر نئی آنے والی حکومت سے امیدیں وابستہ کیں لیکن ہمیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان نے 1990 سے 5 فروری کے دن کو کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ ان 27 سالوں میں کشمیر کی تحریکِ آزادی میں کئی موڑ آئے، کئی دفعہ پاکستان اور بھارت مذاکرات کے لیے جمع ہوئے لیکن دونوں ممالک کے غیر سنجیدہ رویہ کے باعث کشمیریوں کا آزادی کا خواب پورا نہ ہوسکا ۔ اگر پاکستانی عوام اور اور ان کے حکمران ہمارے ساتھ مخلص ہیں تو صرف یوم یکجہتی کشمیر منانے اور چند تقریباب منعقد کرنے سے کچھ حا صل نہیں ہوگا ۔

ایک کشمیر ہونے کے ناطے میری پاکستانی عوام اور حکمرانوں سے گزارش ہے کہ اگر آپ واقعی ہم سے محبت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمیں بھارت کی غلامی اور مظالم سے آزادی ملے توبین الاقوامی فورمز پر ہمارا مقدمہ نیک نیتی سے لڑیں۔ اور پاکستان کا قومی پرچم لہرانے کا کشمیریوں کا خواب پورا کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ پاکستانی حکمرانوں کی غیر سنجیدگی اور کشمیر کے مسئلہ پر خاموشی کی وجہ سے جہاں ہمارے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے، وہیں ہندوستان کو کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے میں آسانی پیدا ہورہی ہے۔ کشمیر پر ہندوستان کا قبضہ درحقیقت پاکستان کی شہ رگ پر قبضہ ہے۔