گھر میں نظر بندی کی سزا
- تحریر سرور غزالی
- منگل 07 / فروری / 2017
- 5623
کسی فرد کو حفاظتی اقدامات کے طور پر یا اس کی شرارتوں سے تنگ آکر نظر بند کر دیا جانا بھی اپنی نوعیت کی انوکھی ایجاد ہے۔ بچپن میں دوسرے بچوں سے سنا تھا کہ انہیں سزا کے طور پر گھر سے نکال دیا جاتا ہے لیکن ہمارے اپنے گھر کی روایت یہ تھی کہ کمرے سے باہر نکلنے پر پابندی لگادی جاتی تھی۔ تب ہماری بہت خواہش ہوتی کہ کاش ہمیں بھی گھر سے باہر نکالا جاتا تو سزا کے دوران کچھ سیر سپا ٹے سے لطف اندوز ہی ہوتے۔ ایسی کسی سزا کی والدین کی طرف سے نہ نافذ کر نے کا نقصان یہ ہوا کہ صرف اٹھارہ سال کی عمر میں ہم باہر نکل گئے۔ باہر کے ملکوں میں بھی یہی دیکھا کہ بچوں کو سزا ہاؤس اریسٹ کی صورت میں ہی دی جاتی ہے۔
کمال احمد رضوی کا ایک ڈرامہ دیکھا تھا کہ کس طرح ایک قیدی اپنی جیل کی سزا کاٹنے کے دوران جیل سے باہر آجانے اور حکام کی مرضی سے جرم کرنے کی سہولت بلکہ سزا کا حقدار ٹھہرایا جاتا ہے اور باقاعدگی سےاس پر عمل پیرا بھی ہو تا ہے۔ کبھی کسی بادشاہ پر مملکت کے توڑنے کا الزام لگا اور خطرہ یہ تھا کہ خدانخواستہ اس کی اس خدمت کے عوض مشتعل عوام اسےنقصان نہ پہنچا دیں تو اسےانواع قسم کھانے پینے کی سہولیات پہنچانے کے لیے باورچی اور دیگر گھریلو ملازمین کی فوج ظفر موج کے ساتھ اس کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ سب سے زیادہ مستعد، گھر میں نظربند آزاد قیدی تھا، جو اسی عیش وعشرت میں چل بسا۔ ایک اور نے خود اپنے آپ کو اسی طرح نظر بند کرکے قاضی کے احکامات کا منہ چڑایا اور پھر بیماری کے بہانے باہر بھی نکل گیا۔
بچوں کو دی جانے والی سزا یعنی ہاؤس اریسٹ دنیا میں تو کبھی کبھی عدالت سے بھی دی جاتی ہے ۔ ایسے سخت شرارتی بچے جو والدین کے قابو میں نہیں رہتے انہیں عدالت سزا دیتی ہے ۔ ایسی سزا کے پیچھے بچوں کی کم عمری کا لحاظ اور ان سے محبت کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے ۔ پھر یہ سزا انہیں ان کی تعلیم وتربیت کے لیے بھی دی جاتی ہے کہ ان سے اصلاح کی امید رکھی جاتی ہے۔ تاہم یہ سزا اٹھارہ سال سے اوپر کے بچوں کے لیے قطعی غیر موزوں سمجھی جاتی ہے۔ جب ایسی سزا کسی بالغ کو دی جاتی ہے تو گمان تو یہی ہے کہ فرد مذکورہ کی جسمانی نہ سہی ذہنی عمر اٹھارہ سے کم ہی ہوگی۔ جبھی والدین کے ہاتھ سے نکل جانے والے ایسے سخت شرارتی فرد کو ہاؤس اریسٹ یعنی گھر میں نظر بند کردیا جاتا ہوگا۔
ہم لوگ اپنے بچپن میں آؤ حکومت کریں جیسے کھیل کھیلا کرتے تھے۔ ایک دوست صدر تو دوسرا بھائی جج کوئی بہن اسپیکر اور کوئی اور ساتھی کسی اور اہم عہدے پر فائز کر دیا جاتا تھا۔ اور اس کھیل میں پولیس تک کا عہدہ لینے پر سب تیار ہوتے تھے۔ مگر چور کا پارٹ ادا کر نے کو کوئی تیار نہیں ہوتا تھا۔ اور اکثر یہ کھیل لڑائی کے ساتھ ختم کر دیا جاتا تھا کہ جس کسی کو بھی چور بننے کا کردار ملتا وہ سزا سنتے ہی ہنگامہ آرائی پر آمادہ ہوجاتا۔
ہمارے ایک دوست تھے۔ کہا کرتے تھے کہ وہ حافظ ہیں۔ ہم نے ہمیشہ ہی چوں چرا کیے بغیر مان لیا۔ ہم اس کے علاوہ بھلا کر بھی کیا سکتے تھے۔ ہمیں چند سورتوں کے علاوہ یاد ہی کب تھا کہ ہم ان کو پرکھتے کہ وہ واقعی تیس کے تیس سپاروں کے حافظ ہیں بھی کہ نہیں۔ البتہ جب وہ ہر بار قران خوانی میں تشریف لانے کے بجائے صرف راہ چلتے، بس میں اور ادھر ادھر ہی پڑھنے پر اکتفا کر نے لگے تو قران خوانی انتظامیہ کو شکایت رہنے لگی اور پھر انہیں مدعو کر نا چھوڑ دیا گیا۔ بہت بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو آنے کی فیس یعنی ہدیہ لیتے ہیں۔ وہ اتنی زیادہ ہے عام گھرانہ اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
حکومت حکومت کا کھیل بھی جاری ہے ۔ چور سپاہی کے کردار بھی اور نظر بندی کی سزا بھی۔ بچپن بھی۔ جب کوئی سن بلوغ کو پہنچ جائے مگر اس کی حرکات بچوں جیسی ہوں تو دنیا اسے سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیتی ہے۔ اور اس کی مجبوری پر صرف افسوس ہی کر تی ہے۔