روحانیت کامیاب ہو گی
- تحریر شیخ خالد زاہد
- منگل 07 / فروری / 2017
- 5609
وقت کو جیسے گزرنا ہو وہ اسی طرح گزرتا ہے، ہماری خداداد صلاحیتیں وقت کو اچھا اور برا بنا لیتی ہیں۔ حضرتِ انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا گیا ہے۔ درجے کی مناسبت سے فطرت میں جلد بازی کا عنصر قدرت ہی سمجھ سکتی ہے۔ اس جلد بازی کا شکار لگ بھگ ہر فرد ہی ہے۔ وہ بھی جو کچھ نہیں کر رہا اور وہ بھی جو سب کچھ رہا ہے۔
اس جلد بازی سے نجات کےلئے ایک انتہائی کٹھن علاج بھی قدرت نے رکھا ہے اور اس علاج سے فارغ ہونے والے اللہ کے ولی کہلاتے ہیں۔ اور بطور صابر و شاکر دنیا میں جانے جاتے ہیں۔ یہ قدرت سے تعلق جوڑنے کا سب سے "بنیادی جز" ہے۔ اس علاج کو ہم "ریاضت" یا ہندی زبان میں "گیان" کے لفظ سے جانتے ہیں۔ ایسا ہمیشہ سے ہی ہوگا مگر عرصہ دراز قبل وقت بہت طویل ہوا کرتے تھے۔ باتیں ختم ہوجاتیں تھیں مگر وقت پھر بھی بچ جاتا تھا۔ سونے والے سو سو کر تھک جاتے تھے، وقت پھر بھی بچ جاتا تھا۔ جب وقت تھا تو قربت کے ذرائع محدود تھے۔ اب یہ ذرائع لاتعداد ہوچکے ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ وقت نہیں رہا۔
مغرب اور مشرق کی تفریق کے حوالے سے ہماری ہر دلعزیز مصنفہ بانو قدسیہ (جو گزشتہ دنوں داستان سرائے کو سونا کرکے داستان گو کے پہلو میں چلی گئیں) کا ناول "حاصل گھاٹ" انتہائی مفید ہے۔ آپ نے بہت تفصیل سے اس فرق کو واضح کیا ہے جس کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ "مغرب مادہ پرستوں کا معاشرہ ہے اور طبعی چیزوں سے، جسم سے محبت کرتا ہے جبکہ مشرق کی روایات اور لوگ روحانیت کے ماننے والے ہیں اور صورت سے زیادہ سیرت پر یقین رکھتے ہیں"۔ گوکہ ہمارے لئے یہ تفریق کی وضاحت ہے مگر اس وضاحت کے بغیر اس تفریق کو سمجھنا کسی حد تک نا ممکن ہوسکتا ہے۔ مغرب والے روحانیت کی ہمیشگی کو آہستہ آہستہ سمجھتے چلے گئے مگر یہ جن کا خاصہ تھا وہ بھٹک گئے اور مادیت کی طرف مائل ہونے لگے۔ ہم اب ایسی کیفیت سے دوچار ہیں جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ "کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا"۔ ہم اپنی چال بھولتے جارہے ہیں۔
سماجی میڈیا کے توسط سے ہم سب کو بہت اچھی اچھی باتیں، واقعات اور معلومات مطالعہ کےلئے مل جاتی ہیں۔ سماجی میڈیا کہ توسط سے بڑے بڑے خود ساختہ فلاسفر وجود میں آرہے ہیں۔ ایسے ہی کسی فلاسفر کے ذہن کی تخلیق کردہ یہ تحریر جو آج کل سماجی میڈیا پر بہت گردش کر رہی ہے وہ یہ کہ "ایک پوتا اپنے دادا سے پوچھتا ہے کہ داداجان! آپ لوگ پہلے کیسے رہتے تھے۔ نہ کوئی ٹیکنالوجی تھی، نہ کوئی جہاز، نہ ٹرین، نہ انٹرنیٹ، نہ کمپیوٹر، نہ ڈراما، نہ ٹی وی، نہ اےسی، نہ گاڑیاں اورنہ ہی موبائل ؟ دادا نے بہت ہی خوبصورت اور سبق آموز جواب دیا کہ جیسے تم لوگ اب رہتے ہو۔ نہ نماز، نا قرآن، نہ روزہ، نہ زکوہ، نہ شفقت، نہ محبت، نہ آداب، نہ اخلاق، نہ شرم اور نہ حیا"۔ ہمیں نہیں معلوم پوتے کو شرمندگی ہوئی یا نہیں ہوئی مگر سچ پوچھئے تو ہمیں واقعی سبق ملا کہ ہم لوگ وقت کے نہ ہونے کا بہانہ بنا کر اپنے بزرگوں کی صحبت سے محروم ہوتے جارہے ہیں اور معاشرتی اقدار کو ثھوڑ رہے ہیں۔ دادا اور پوتے کی باتوں میں اگر فرق دیکھا جائے تو بانو آپا کا بتایا گیا فرق یعنی "مادیت اور روحانیت" کا ہی نظر آئے گا۔
انسان اگر اپنے کسی جسمانی جزو سے محروم ہوجائے تو وقتی تکلیف کے بعد اس محرومی کا کوئی نہ کوئی حل یا متبادل نکال ہی لیتا ہے۔ مگر ہم جس محرومی کا تذکرہ کر رہے ہیں، یہ ایک ایسی محرومی ہے جو ہمارے لئے وقت کے ساتھ ساتھ ہماری جسمانی کمزوری سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔ اسے معاشرتی اقدار سے محرومی کے نام سے جانا جاتا ہے ہر فرد اس کے نام سے واقف نہیں ہے مگر اس بیماری میں مبتلا ضرور ہے۔ ہم لوگوں میں رہتے ہیں مگر اکثر لوگ ہمیں واجبی اہمیت یا حیثیت دیتے ہیں۔ ہمارے لئے سوچنے اور سمجھنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ آج اکیسویں صدی میں جب دنیا تکنیک اور ترقی کی بلندیوں کو چھو رہی ہے تو ساری دنیا ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہونے پر کیوں آمادہ ہوئی ہے۔ درپردہ اب سب کو بے مقصد مادیت سے کراہت محسوس ہونے لگی ہے۔ یعنی مشرق اور مغرب کی تفریق ختم ہونے کا وقت آگیا ہے۔
ہمیں اپنا قبلہ درست کر لینا چاہئے۔ ہمیں اپنی لائنیں خود ہی سیدھی کر لینی چاہئیں۔ یہ باتیں، یہ بحث بہت معمولی نوعیت کی معلوم ہوسکتی ہے مگر اس کی اہمیت کا علم آپ کو اپنی آنے والی نسلوں میں بہت واضح دکھائی دے گا۔ جب بہت دیر ہوچکی ہوگی اور ریت کا یہ مسافر ریت کے راستے پر پلٹ نہیں سکے گا۔ بس بہت اونچی عمارت کی بالکونی میں کھڑے سگریٹ سلگائے بوڑھے کی طرح صرف دیکھتا رہ جائے گا۔