انصاف ملے گا لیکن موت کے بعد
- تحریر سید انور محمود
- بدھ 08 / فروری / 2017
- 4451
امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی حلف اٹھانے کے بعد ایک حکم نامے کے زریعے سات مسلم ممالک کے شہریوں اور مہاجرین کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگادی، لیکن اس حکم نامے کے خلاف دو امریکی ریاستوں نے عدالت میں مقدمہ کردیا۔ جج نے اس حکم نامے پر عمل نہ کرنے کا حکم جاری کیا۔ امریکی عدالت کے حکم کے بعد امریکی حکومت نے سات ملکوں کےخلاف سفری پابندی معطل کردی۔ اب ٹرمپ انتظامیہ عدالت کے حکم پر مکمل عمل کررہی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی تین رکنی بینچ نے بول ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اینکر عامر لیاقت کے پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ پرتاحکمِ ثانی پابندی عائد کر دی۔ ساتھ ہی عدالت نے چینل کی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ حکم عدولی کی صورت میں انتظامیہ اور اینکر کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جا ئےگی۔ عدالت نے چینل انتظامیہ کو خبردار اس لیے کیا کہ اس سے پہلے بول چینل کی انتظامیہ اور اینکر پیمرا کے حکم کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کرمسلسل پروگرام چلاتے رہے تھے۔
کیا وجہ ہے کہ امریکہ کا طاقتور صدر بھی سب کچھ کہنے کے باوجود ایک عام جج کے فیصلے پر عمل کرنے پر مجبور ہے۔ اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ امریکہ کے ہر شہری کو اپنے عدالتی نظام پرمکمل اعتماد ہے۔ لیکن پاکستان کی سپریم کورٹ کو اپنے فیصلے پر عمل نہ کرنے کا شک اس لیے ہے کہ پاکستان میں عدالتوں کے حکم کی بھی پرواہ نہیں کی جاتی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس لیے کہ پاکستان میں کسی بھی شخص کو اپنے عدالتی نظام پر قطعی اعتماد نہیں ۔ پاکستان میں اول تو انصاف کا حصول ناممکن نہیں تو بہت مشکل ہے، اور بہت تاخیر سے ہوتا ہے۔ ایک ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں 27ہزار 916کیسز تاخیر کا شکار ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ میں ایک لاکھ 30ہزار کیسز فیصلے کے منتظر ہیں۔ سندھ بھر کی عدالتوں میں تقریباً دو لاکھ مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ پشاور کی عدالتوں میں دس ہزار سے زائد کیسز تاخیر کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں 70فیصد قیدی انڈر ٹرائل ہیں جن کا سالہا سال سے ٹرائل چل رہا ہے۔ ان میں سے جو لوگ بری ہوں گے ان کی زندگی کے بہت سے سال جیلوں میں بیت جاتے ہیں یا پھر وہ مرچکے ہونگے۔
عدالت عظمیٰ نے 24سال بعد قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والے ملزم مظہر فاروق کو ناکافی شواہد کی بنا پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے تو معلوم ہوا کہ ملزم مظہر حسین یہ فیصلہ سننے کیلئے دنیا میں موجود ہی نہیں ہے۔ وہ اس فیصلے سے ڈھائی سال پہلے ہی دنیا چھوڑ چکا تھا۔ گزشتہ سال اکتوبر میں سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لے کر عینی گواہ کے بیان میں موجود تضاد کی بنیاد پر سزائے موت کے دو ملزموں غلام قادر اور سرور قادر کو بری کیا تو معلوم ہوا کہ ان دونوں بھائیوں کو انصاف ملنے کے بجائے موت نے گلے لگالیا کیونکہ ایک سال پہلے ڈسٹرکٹ جیل بہاولپور میں ان بدنصیبوں کو پھانسی دی جا چکی تھی۔ ڈسٹرکٹ جیل رحیم یار خان کے جیل سپرنٹنڈنٹ نے بھی تصدیق کی کہ دونوں بھائیوں کو سزائے موت دی جاچکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب عدالت عظمیٰ کا 2010 کاحکمنامہ تمام متعلقہ اداروں کو مل چکا تھا جس میں سزائے موت پر عمل کو آیندہ حکم تک معطل کردیا تھا تو پھر دونوں کو پھانسی کیوں دی گئی۔ مظہر فاروقی، غلام قادر اور سرور قادر کی ناگہانی موت کو سامنے رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’’انصاف ملے گا لیکن موت کے بعد‘‘۔ دنیا بھر کے عدالتی نظام اس عالمگیر اصول پر متفق ہیں کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے۔
بدنصیبی سے پاکستان میں انصاف کےلیے عشرے بیت جانا تو عام بات ہے جبکہ دنیا بھر میں عدلیہ انصاف کے حصول کی آخری منزل تصور کی جاتی ہے جہاں سائل کو انصاف ملنے کی توقع ہوتی ہے۔ کسی بھی پاکستانی سے پاکستان کے عدالتی نظام کے بارے میں جب بھی سوال کیا جاتا ہے تو وہ ایک ہی جواب دیتا ہے کہ ہمارے عدالتی نظام کا سب سے بڑا مسئلہ انصاف کے حصول میں تاخیر ہے۔ آپ سالوں عدالتوں کے چکر لگاتے رہیں، لیکن انصاف نہیں ملے گا۔ اسی لیے لوگ عدالت سے باہر فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لوگ پولیس کے پاس جاتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں جو اول تو ایف آئی آر درج نہیں کرتی اور اگر کرتی بھی ہے تو اس میں اتنی خامیاں چھوڑ دیتی ہے کہ ملزم بری ہوجاتے ہیں۔ حکومتوں کی نااہلی اورسرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی کے بعد لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھتے ہیں۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا کسی کے خلاف اگر کیس غلط ثابت ہوجائے تو صرف ملزم کی رہائی کافی ہے یا غلط کیس بنانے والوں کے خلاف بھی قانونی کاروائی ضروری ہے ۔
موجودہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثارکا کہنا ہے کہ کوئی بھی جج اپنی مرضی اورمنشا کے مطابق فیصلہ نہیں کرسکتا اورآئین ججز کو غیر جانبدار رہنے کا پابند بناتا ہے۔ انصاف ہرشہری کا بنیادی حق ہے۔ جناب چیف جسٹس کے یہ الفاذ عین آئین اورانسانی خواہش کے مطابق ہیں ۔ میں چیف جسٹس ثاقب نثارکے ایک ایک لفظ کی قدر کرتا ہوں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی عدلیہ پر یہ الزام لگا ہوا ہے کہ یہ کبھی بھی غیر جانبدار نہیں رہی۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی آج تک عدالتی قتل کہلاتی ہے۔ اور بھی بہت ساری مثالیں ہیں۔ جسٹس منیر کا بدنام زمانہ فیصلہ، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی قلابازیاں اور ابھی حال ہی میں ریٹائر ہونے والےسابق چیف جسٹس انورظہیر جمالی کاعمران خان کے پانامہ لیکس کیس کے خلاف دو نومبرکے دھرنے کورکوانے کےلیے یکم نومبر کی کارروائی۔ وہ جانتے تھے کہ وہ 30 دسمبر کو ریٹائر ہوجائیں گے اور 15 دسمبر کے بعد کورٹ کی کارروائی بھی نہیں ہوگی۔ لیکن خود اس بینچ کے سربراہ بن گئے جس نے پانامہ لیکس کیس کو سننا تھا۔ اب اس کیس کا فیصلہ جلد ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ اس کیس کی وجہ سے دوسرے مقدمات جو عام لوگوں کے ہیں لازمی تاخیر کا شکار ہوں گے۔
امریکہ و برطانیہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں کی عدالتوں نے انسانی حقوق کا تحفظ عوامی پارلیمان سے بھی بڑھ کر کیا ہے۔ اگر کبھی پارلیمان نے کوئی ایسا قانون منظور کیا جس کی رو سے شخصی آزادیوں پر تھوڑی سی بھی زد پڑتی تھی تو وہاں کی عدالتیں شخصی آزادی کے تحفظ کے لئے سامنے آئیں۔ لیکن پاکستان میں آزادی و مساوات کا تحفظ تو دور کی بات ہے، ہماری عدالتیں اپنے فیصلوں سے انصاف اور مساوات کا مذاق اڑانے کا سبب بنتی ہیں۔ جس ریاست میں انصاف میں تاخیر یا انصاف کونظر انداز کیا جاتا ہے تو اس ریاست کی جڑیں کھوکھلی ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ شاید آج وطن عزیز کی بھی یہی صورت حال ہے۔ اس لیے لازمی ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ جلد انصاف کے لیے اپنے اپنے طور پر اصلاحات کریں۔