ٹرمپ برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب نہیں کریں گے
سوموار 6 فروری کو برطانوی پارلیمنٹ کے ہاﺅس آف کامنز کے اسپیکر جون برکو نے سو سے زیادہ ایم پی کی موجودگی میں اعلان کیا کہ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ جب سرکاری دورے پر برطانیہ آئیں تو ان کو پارلیمنٹ کو خطاب کرنے دیا جا ئے۔ پھر کیا تھا اس اعلان پر جہاں حکمراں جماعت کے چند ایم پی برہم ہوئے تو وہیں اپوزیشن کے ایم پی نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اسپیکر کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ اس کے علاوہ زیادہ تر ایم پی اسپیکر کے اس دلیرانہ اعلان کی تعریف کی۔
اسپیکر جون برکو نے پارلیمنٹ میں کہا کہ وہ ڈولڈ ٹرمپ کے دونوں ہاﺅس کو مخاطب کرنے کے خلاف ہیں۔ جس طرح سے دنیا کے اور بھی لیڈروں نے ڈونلڈ ٹرمپ مخالفت کی ہے ۔ اسپیکر نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ کو خطاب کرنا ایک خود کار طریقہ کا حق نہیں ہے بلکہ ایسا کرنا غیر ملکی رہنماﺅں کے لئے ایک اعزاز ہے۔ میں شدّت سے اس بات کو محسوس کرتا ہوں کہ ہماری نسل پرست اور جنسیت کی مخالفت اور مساوات کی حمایت قانون سے پہلے ہے ۔اس کے علاوہ آزاد عدلیہ ہماری پارلیمنٹ کے لئے ایک اہم بات ہے جس کاہم لوگوں نے ہمیشہ احترام کیا ہے۔
اسپیکر کے بیان کے بعد ہر طرف اسی بات پر بحث ہو رہی ہے۔ آخر اسپیکر کو ایسی بات کہنے کی ضرورت کیا تھی جبکہ اسپیکر جون برکو حکمراں جماعت سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ اس بات کی تعریف بھی کی جارہی ہے کہ اسپیکر نے پارلیمنٹ کے وقار کو بلند رکھا ہے ۔ تاہم حزب اختلاف کے ایم پی اسپیکر کے بیان کو ایک اصولی قدم بتا رہے ہیں اور برطانوی اقدار کو قائم رکھنے پر مبارک باد پیش کر رہے ہیں۔
حالانکہ اسپیکر کے بیان کے بعد میڈیا اور لوگوں میں ملے جلے خیالات سننے کو آرہے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اسپیکر کے بیان سے اتفاق کر رہے ہیں۔ وہیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کو منتخب کیا ہے تو ان کے سرکاری دورے کی مخالفت کرنا ایک احمقانہ بات ہوگی۔ کچھ ایم پی نے اسپیکر جون برکو کی بات پر کافی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ان ایم پی کاکہنا ہے کہ اسپیکر کو اپنی حد میں رہنا چاہئے اور انہیں غیر جانبدارانہ طور پر اپنے فرض کو نبھانا چاہئے۔
ویسے دیکھا جائے تو پارلیمنٹ کی تاریخ میں یہ ایک انوکھا واقعہ ہے جب اسپیکر نے کسی اہم لیڈر کے سرکاری دورے پر ایسی بات کہی ہو۔ یہ ایک بے مثال اور غیر معمولی واقعہ ہے جس سے ہر کوئی دم بخود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سرکاری دورے کے دوران پارلیمنٹ میں نہیں آئیں گے اور نہ ہی وہ ایم پی کو خطاب کریں گے۔ جب کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔ تاہم اسپیکر جون برکو کو اس حکم کو نافذ کر نے کے لئے انہیں ہاﺅس آف لارڈز کے اسپیکر اور لارڈ چیمبرلین کی بھی آمادگی لینی پڑے گی۔ ہاﺅس آف لارڈز کے اسپیکر اس مسئلے پر منگل کو پئیر سے مخاطب ہوں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد برطانوی وزیر اعظم کو امریکہ آنے کی دعوت دی تھی۔ پچھلے ہفتے برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے امریکی صدر سے ملاقات کی اور انہوں نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو برطانیہ آنے کی دعوت دے ڈالی ہے۔ تاہم ابھی ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ دورے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں ہوئی ہے۔
جب سے امریکی صدر نے تھریسا مے کو دعوت دی تھی تبھی سے برطانوی لوگوں میں اس دورے کو لے کر ملے جلے بیانات سننے کو آرہے تھے۔ زیادہ تر لوگ برطانوی وزیر اعظم کے امریکہ دورہ پر جانے کی مخالفت کر رہے تھے۔ لوگ برطانوی وزیر اعظم کے امریکی دورے کو ایک افسوس ناک بات بتا رہے تھے تو وہیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم کا امریکہ کا دورہ کئی معنوں میں اہم ہے۔ خاص کر تجارتی نقطہ نظر سے لوگوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو امریکہ سے تجارتی رشتہ کو اور مضبوط بنانا چاہئے۔
امریکی ریپبلیکن پارٹی کے کانگریس مین جو ولسن نے اسپیکر جون برکو کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت مایوس کن بات ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی تاریخ میں ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ایسے صدر ہیں جنہوں نے برطانیہ سے اپنی رشتے کو مزید بہتر بناے کی بات کہی ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے تھریسا مے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ (NATO) نیٹو کو قائم رکھنے پر غور کریں گے۔ برطانیہ اور امریکہ کے مابین تجارتی رشتوں کو بہتر بنائیں گے۔ اس کے علاوہ سابق برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کی مورتی کو دوبارہ (Oval Office) میں رکھا گیا ہے۔ لیکن یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ ریپبلیکن پارٹی کے منہ پر تھپّڑ مارا گیا ہے۔
(UKIP)یو کِپ پارٹی کے سابق لیڈر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی نائجل فراج نے اسپیکر جون برکو کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ اسپیکر نے پارلیمنٹ کے اہم عہدے کو نیچا دِکھایا ہے۔ بطور اسپیکر جون برکو پارلیمنٹ کے ہاﺅس آف کامن کے اہم اور سب سے بڑے عہدے پر فائز ہیں۔ انہیں غیر جانبدارانہ ہونا چاہئے نہ کہ وہ کسی پارٹی اور گروپ کی حمایت کریں۔
لیکن لیبر لیڈر جریمی کوربین نے اسپیکر جون برکو کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کی مداخلت ایک اہم قدم ہے۔ جیریمی کوربین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری دورے کو ملتوی کرنے کی مانگ کی ہے۔جبکہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر نے کہا ہے کہ ہم لوگ ٹرمپ کا استقبال نہیں کرتے ۔
دریں اثناء اس مہینے کے آخر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری دورے کی حمایت اور مخالفت میں پیٹیشن پر پارلیمنٹ میں ایم پی بحث کر نے والے ہیں۔ دس لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اب تک ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری دورے کی مخالفت میں ایک پیٹیشن پر دستخط بھی کئے ہیں۔عام طور پر برطانیہ کے زیادہ تر لوگ ڈونلڈ ٹرمپ سے کافی ناراض ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایک سر پھرا اور نسل پرست آدمی ہے اور اس کی حمایت کرنا برطانوی اقدار کے خلاف بات ہے۔ برطانوی لوگ ٹرمپ کے جارحانہ پالیسی کی مخالفت کر رہے ہیں جو کہ ایک خاص قوم ، مذہب اور ملک کے خلاف ہے۔
آئیے آپ کو سرکاری دورے کے متعلق چند اہم باتیں بتاتے ہیں۔ سرکاری دورہ ایک اہم لیڈر کے لئے ہوتا ہے جب وہ برطانیہ کے دورے پر آتا ہے۔ سرکاری دورہ ایک رسمی دورہ ہوتا ہے جس میں کسی ملک کا اہم لیڈر یا سربراہ برطانیہ تشریف لاتا ہے۔ اس دوران ملکہ برطانیہ اس لیڈر کا استقبال کرتی ہیں اور اس لیڈر کے اعزاز میں ظہرانہ یا عشائیہ دیا جاتا ہے۔ اس دورے سے دونوں ممالک کے بیچ ایک مضبوط رشتے کو قائم کیا جاتا ہے۔ ملکہ برطانیہ سال میں ایک یا دو غیر ملکی سربراہوں کی میزبانی کرتی ہیں۔ 1952سے لے کر اب تک ملکہ برطانیہ 109ملکوں کے سربراہوں کی میزبانی کر چکی ہیں۔
ان دنوں ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری دورے کی مخالفت اس لئے چرچہ کا باعث بنی ہوئی ہے کیونکہ ایسا بہت کم دیکھا جاتا ہے جب کوئی امریکی صدر برطانیہ آئے اور اتنے بڑے پیمانے پر اس کی آمد کی مخالفت ہو۔ لیکن اگر دیکھا جائے اس سے قبل بھی کئی ملکوں کے سربراہوں کی آمد پر برطانیہ میں احتجاج کئے گئے ہیں۔ زیادہ تر احتجاج اُن ملکوں کے سربراہ یا لیڈر کے خلاف ہوئے ہیں جہاں انسانی حقوق کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور ان ملکوں میں نسل پرستی اور جنسیت کو روکنے میں حکومت نا کام رہی ہے۔ اس کے علاوہ ان ملکوں میں مذہبی آزادی نہ ملنا بھی انسانی حقوق کے خلاف بات ہے۔
اکتوبر 2007میں سعودی بادشاہ کے سرکاری دورے کے خلاف لوگوں نے مظاہرہ کیا تھا ۔لوگوں کی مانگ تھی کہ ان لوگوں کو گرفتار کیا جائے جنہوں نے اسلحہ کے خرید وفروخت میں دھاندلی کی تھی۔ اکتوبر 2015میں چینی سربراہ کے سرکاری دورے کے دوران کافی احتجاج ہوا تھا۔ چین پر الزام ہے کہ وہاں کے اقلیتی طبقے پر نسلی بھید بھاﺅ برتی جارہی ہے اور انسانی حقوق کی آزادی نہیں ہے۔اس کے علاوہ 1978 میں رومانیہ کے صدر نکولا کوسکو اور 1994میں زمبابوے کے صدر روبرٹ مگابے کے سرکاری دورے کے خلاف بھی شدید مظاہرہ ہوا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری دورے کی مخالفت ایک ایسی اہم خبر ہے جس سے عام آدمی ہی نہیں بلکہ سیاستدان، مذہبی رہنما، فلم اور آرٹ سے منسلک لوگ اور اسپیکر جون برکو بھی نالاں ہیں۔ کیوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ جب سے صدر منتخب ہوئے ہیں ان کی باتوں اور پالیسیوں سے ہر کوئی حیران اور خوف زدہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا جارحانہ رویّہ نہ صرف امریکی لوگوں کو احتجاج کرنے پر مجبور کر رہا ہے بلکہ دنیا کے تقریباً ہر حصّے میں ان کے خلاف مظاہرہ ہی مظاہرہ ہو رہا ہے۔
میں برطانوی پارلیمنٹ کے ہاﺅس آف کامن کے اسپیکر جون برکو کی اس بیان کی حمایت کرتا ہوں جس میں انہوں نے سر پھرے ٹرمپ کو پارلیمنٹ کے دونوں ہاﺅس کو خطاب کرنے کی مخالفت کی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسپیکر کے اس قدم سے دنیاکو یہ پیغام پہنچے گا کہ ہر وہ شخص یا لیڈر جو اپنی دولت اور ظلم سے انسانیت کا گلا گھونٹ کر معصوم انسانوں کی آنکھ میں دھول جھونک کر اپنے ملک کی نہ کہ صرف اقدار کو گرانا چاہتا ہے بلکہ دنیا کی امن اور سلامتی کو نیست و نابود بھی کرنا چاہتا ہے۔ہم امن پسند اور انسانی حقوق کے حامیوں کے پاس ایسے سر پھرے لوگوں کے لئے کوئی ہمدردی نہیں ہے اور ہم اس کی مخالفت اور مظاہرہ کرتے رہیں گے۔