جماعت اسلامی کا بحران

جماعت اسلامی پاکستان کی سب سے منظم جماعت کی تاریخ رکھتی ہے۔ مولانا مودودی مرحوم نے اس جماعت کے قیام سے خطے میں اسلامی انقلاب کا بیڑا اٹھایا۔ جماعت اسلامی، سیاست کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں اسلامی شعار کی ترویج کا بھی دعویٰ کرتی چلی آئی ہے۔ مولانا مودودی مرحوم سیاسی دانشور، سیاسی رہنما، ادیب، مصنف اور مذہبی سکالر تھے۔ وہ قلم و عمل کے ذریعے اپنے نظریات، فکر اور سیاسی جدوجہد کے لیے تادمِ مرگ متحرک رہے۔

انہوں نے ایک ایسی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جس کا تنظیمی ڈھانچہ ہمارے ہاں کی سیاسی جماعتوں سے یکسر مختلف تھا، نہایت منظم مگر نہایت بند ڈھانچہ۔ اگر سیاسی اصطلاح میں یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جماعت اسلامی کا تنظیمی ڈھانچا Iron Curtain (آہنی پردہ) کے اندر بناگیا۔ جماعت کی رکنیت لینا ایسے ممکن نہیں جیسے ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلزپارٹی میں پچیس پیسوں میں آپ پرچی بھر کر رکن ہو جاتے تھے۔ جماعت اسلامی کے اندر داخل ہونے کے لیے ایک طویل، نظریاتی، فکری اور سیاسی تربیت کے عمل کے بعد ہی کوئی شخص رکن ہوسکتا ہے۔ سیاسی اصطلاح میں ایسی جماعت کو کیڈر پارٹی کہا جاتا، ایسا تنظیمی ڈھانچہ جماعت اسلامی کے علاوہ، سٹالنسٹ اور ٹراٹسکائٹ کمیونسٹ پارٹیوں میں ہی ملتا ہے۔ ایک ایسی جماعت جو کیڈر بلڈنگ کے بعد یہ یقین رکھتی ہے کہ اس کا تربیت یافتہ کیڈر اپنے سماج میں انقلاب کی قیادت کرتے ہوئے ہراول دستہ ثابت ہوگا۔

جماعت اسلامی کا یہ انقلابی تصور اس کے چند بانیان کے لیے اختلاف کا سبب بھی تھا جن میں ڈاکٹر اسرار احمد بھی شامل تھے۔ میرے ایک دوست صفدر صدیقی مرحوم جن کے ساتھ میں نے تقریباً دو دہائیاں مختلف پلیٹ فارمز سے اکٹھی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا، وہ بھی اسی جماعت اسلامی کے اوّلین لوگوں میں شمار ہوتے تھے جو سماج کو انقلاب کے ذریعے بدل دینے پر یقین رکھتے تھے۔ جماعت اسلامی کا سیاسی سفر کئی حوالوں سے متنازع رہا ہے۔ خصوصاً جب کھلے ڈسپلن والی جماعت، آل انڈیا مسلم لیگ جس کی قیادت قائداعظم محمد علی جناح کررہے تھے اور جس کے اندر آغا خان جیسے لبرل رہنما بھی تھے اور اس نے پنجاب میں اپنے سیاسی راستے کے لیے یونینسٹ پارٹی سے بھی تعلق استوار کیا جس کو انگریز سامراج کی طفیلی پارٹی کہا جاتا تھا۔ جماعت اسلامی نے آل انڈیا مسلم لیگ اور اس کی قیادت سے کھل کر اختلاف کیا اور اپنے سیاسی موقف کو برملا عوامی حلقوں میں پیش کی۔، تقسیم ہند پر آل انڈیا مسلم لیگ سے مختلف موقف پیش کیا۔ اس جماعت اسلامی کے نزدیک قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ بالکل مختلف سیاسی کردار کے رہنما تھے جبکہ آج کی جماعت اسلامی ان دونوں شخصیات کو اپنے سانچے میں ڈھال کر پیش کرتی ہے۔ اور اپنے تصورِسیاست اور نظریات کو ان دونوں رہبروں کے عین مطابق قرار دیتی ہے جبکہ حقائق اور تاریخ کا ریکارڈ بالکل مختلف ہے۔

جماعت اسلامی ایک طاقتور تصور کے ساتھ اٹھی، اسی لیے 1940 کے بعد تقریباً دو دہائیوں تک اس کا موقف ایک ریڈیکل موقف تھا۔ جماعت اسلامی پاکستان، پاکستان اور عالم اسلام میں، اسلامی انقلاب کی داعی بن کر اپنے آپ کو پیش کرتی رہی اور اسی لیے چینی ترکستان سے لے کر سابق سوویت ریاستوں، عرب ریاستوں اور دیگر اسلامی ممالک میں اسلامی تحریکوں کے ساتھ اپنا تعلق استوار کرتی نظر آئی ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد جماعت اسلامی نے ایک نئی ریاست کے اندر اپنے آپ کو  منظم کرکے اپنے اثرورسوخ اور دائرہ کار کو مزید پھیلایا۔ سرد جنگ کے زمانے میں پاکستان کے ترقی پسند حلقے جماعت اسلامی پر تنقید کرتے نظر آئے۔ سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ نے Containment of Communism کی پالیسی اپناتے ہوئے مسلم ممالک کی لاتعداد اسلامی تحریکوں کو کھلے عام سپورٹ کیا اور ان تنظیموں اور تحریکوں کو بھی سپورٹ کیا جو اشتراکی روس اور اشتراکی چین میں اسلامی انقلاب کے لیے جلاوطنیوں میں سرگرمِ عمل تھیں۔ مصر میں اگر جمال ناصر عوامی انقلاب برپا کر رہے تھے تو جماعت اسلامی اس کے مخالف دھڑوں کے ساتھ کھڑی تھی۔

لگتا ہے جماعت اسلامی عالمی سیاست کا تجزیہ کرنے میں ناکام رہی۔ اسی لیے جب افغانستان میں سابق سوویت یونین اور امریکہ ایک دوسرے کے خلاف اپنے اپنے انداز میں جنگ آرا ہوئے تو جماعت اسلامی، امریکہ کی کھل کر اتحادی بنی۔ اس وقت  مولانا مودودی مرحوم، جماعت اسلامی سے عملاً لاتعلق ہوچکے تھے اور یہ جماعت میاں محمد طفیل مرحوم کی جماعت اسلامی تھی۔ اسی دور میں جماعت اسلامی پاکستان میں فوجی جرنیل ضیا کی شدت کے ساتھ اتحادی بنی۔ ایک وہ جماعت اسلامی تھی جس کے بانی  مولانا مودودی مرحوم کو سزائے موت سنائی گئی اور ایک یہ جماعت اسلامی جس نے پاکستان کے مقبول لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے والی آمریت کو ہر حوالے سے سپورٹ کیا۔

جماعت اسلامی پاکستان نے 1970ء سے 1977ء تک ایک ایسا سیاسی سفر کیا جس نے اس جماعت کو اس کے تصورِسیاست سے کوسوں دور کردیا۔ یہ جماعت اسلامی میاں طفیل کی قیادت میں سرگرم تھی اور وہ جماعت اسلامی، مولانا مودودی مرحوم کی قیادت میں کام کرتی تھی۔ 1977 کے بعد جماعت اسلامی پاکستان سیاسی طور پر ایسی بھول بھلیوں میں داخل ہوئی کہ اس نے اس شناخت اور مقبولیت کو متاثر کیا جو اس نے دہائیوں کی جدوجہد میں حاصل کی تھی۔ اس میں نام نہاد افغان جہاد میں اس کا کردار اور جنرل ضیا کی آمریت کا ساتھ دینا فیصلہ کن نقصان ثابت ہوا۔ کراچی، حیدرآباد جیسے شہروں میں جہاں یہ ووٹ کے ذریعے اپنا اثرورسوخ بنا چکی تھی، وہ بھی اس کے ہاتھ سے نکل گئے۔ میاں طفیل مرحوم کے بعد  قاضی حسین احمد نے اس جماعت کو یقیناًایک نئی زندگی دی۔ اُن کی شخصیت میں دانش، دلیری اور سیاسی لچک تھی، اسی لیے انہوں نے سیاسی اتحاد بنانے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کی۔ علم وادب اور شعرگوئی تو ان پر ختم تھی۔ وہ  فیض احمد فیض کے اشعار جلسوں میں  روانی سے پڑھتے تھے۔ وہ جماعت اسلامی جو پچھلی چند دہائیوں میں سیاسی حکمت عملی کے سبب تضادات کا شکار ہوچکی تھی، انہوں نے اپنی قدآور شخصیت کے سبب کسی طور پر اِسے پاکستان میں قدم جمانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ جماعت اسلامی جو چینی ترکستان میں بھی اسلامی انقلاب برپا کرنے کا خواب رکھتی تھی اور جمہوریہ چین کے لیے ناپسندیدگی کا سبب تھی۔ انہوں نے اپنی امارت کے دوران اشتراکی چین کو دوست تسلیم کیا اور عملاً چینی ترکستان کی اسلامی تحریک سے لاتعلق کرنے کی چین کو یقین دہانی کروائی۔

مگر اس دوران وہ جماعت اسلامی جس کی بنیاد اس کے بانی  مولانا مودودی مرحوم نے رکھی، وہ جماعت اسلامی اب شاید  دستیاب نہیں تھی۔ جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ تو روزِ اوّل کی طرح سخت گیر ڈسپلن کے تحت تو ویسے ہی مضبوط رہا اور ابھی بھی ہے۔ لیکن عوام میں موجود اپنا اثرورسوخ کھوتی چلی گئی۔ اس جماعت اسلامی کے حمایتی حلقوں کو مسلم لیگ (ن) نے نگلنا شروع کردیا۔ اور ساتھ ساتھ اس کی لیڈرشپ کو بھی جن میں آپا نثار فاطمہ کے صاحب زادے جناب احسن اقبال سمیت ملک بھر کے سینکڑوں شہروں میں جماعت کے مقامی لیڈر  اب مسلم لیگ (ن) میں شامل دیکھے جا سکتے ہیں۔ 1997 میں پاکستان تحریک انصاف نے جنم لیا اور آج یہ جماعت عملاً پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے، اس کے اندر وہ بچا کھچا ووٹر اور مقامی لیڈرشپ متحرک دیکھی جا سکتی ہے جس نے جماعت اسلامی میں جنم لیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ بنانے اور برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ لیکن پاکستان کے مسلمانوں کی ہردلعزیز جماعت نہ بن سکی بلکہ عوامی طاقت جو اس نے دہائیوں کے سیاسی سفر میں بنائی وہ دو سیاسی جماعتیں نگل گئیں، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف۔ آج جماعت اسلامی  سراج الحق کی قیادت میں سرگرمِ عمل ہے۔ جو سرخ ٹوپی پہننے کو برا تصور نہیں کرتے، کبھی یہ سیاسی گالی تھی بلکہ اب تو جماعت اسلامی کے سڑکوں پر لگنے والے بینرز سبز اور آسمانی رنگ کی بجائے زیادہ تر سرخ رنگ سے بنے نظر آتے ہیں۔ کبھی ایسا کرنا سیاسی گناہ تھا۔ کبھی طاقت کا سرچشمہ عوام کہنا گناہ تھا۔آج جماعت اسلامی عوامی سیاست جیسی اصطلاحوں کو استعمال کرتے ہوئے عار محسوس نہیں کرتی لیکن حیرانی کہ وہ پھر بھی عوامی حلقوں میں قبولیت حاصل کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ معاملہ کیا ہے؟

میرے نزدیک جماعت اسلامی اپنے ہر دور میں پاکستان، خطے اور دنیا کے سیاسی حالات کا تجزیہ کرنے میں ناکام رہی۔ سخت گیر تنظیمی ڈھانچہ اس کی طاقت قرار دی گئی لیکن حقیقت میں اس ڈھانچے کا حال سابق سوویت یونین کی سخت گیری سے مختلف نہیں، اسی لیے تو اس کا بنایا ہوا بڑا ووٹر دوپاپولسٹ جماعتوں میں داخل ہوچکا ہے اور اس کا پیداکردہ دانشور طبقہ بھی جماعت اسلامی کے علاوہ اپنے طور پر مختلف پلیٹ فارمز پر متحرک نظر آتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جماعت اسلامی نے افغانستان، عرب دنیا اور اب ترکی کا تجزیہ مکمل طور پر غلط کیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ ترکی میں ہمیں جماعت اسلامی اپنے پرانے اتحادی  نجم الدین اربکان کی پارٹی کی بجائے حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے تو وہیں پاکستان میں مختلف صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے لیے سرگرم۔

جماعت اسلامی کا بحران، جماعت اسلامی کے باہر کے لوگ تو محسوس کررہے ہیں لیکن جماعت اسلامی کے اندر نہایت کم لوگ اس بحران کو محسوس کر پا رہے ہیں یا تسلیم کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ نقصان ان شدت پسند مذہبی تنظیموں نے پہنچایا جو سرد جنگ میں افغان جہاد کی پیداوار ہیں۔ جب جماعت اسلامی افغانستان میں جنرل ضیا کی شدت پسند پالیسی کی اتحادی تھی۔ کیا جماعت اسلامی اپنا تجزیہ کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیا جماعت اسلامی اپنے سیاسی سفر کو کھلے دل سے اپنے تنظیمی ڈھانچے اور عوام میں بحث کے طور پر پیش کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیا جماعت اسلامی میرے جیسے لاکھوں لوگوں کو اس کا تجزیہ پیش کرنے کی حوصلہ افزائی کرے گی کیا جماعت اسلامی رجب طیب اردوآن کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی طرح چہرہ دینے کے لیے تیار ہے، جس کو وہ  پاکستان میں آئیڈیل کے طور پر پیش کرنے میں پیش پیش ہے جوکہ مکمل طور پر ایک سیکولر جماعت ہے اور کسی لحاظ سے بھی مذہبی سیاسی جماعت نہیں ہے۔

کیا جماعت اسلامی پاکستان اپنے دروازے ایسی جماعت کے طور پر کھولنے کے لیے تیار ہے جو اپنے کیڈر میں صالح مسلمان اور گناہ گار مسلمان کی تفریق نہ کرے۔ اس کا جواب صرف جماعت اسلامی ہی دے سکتی ہے۔ اگر جماعت اسلامی کا کوئی  قائد اور ہم نوا اپنا نقطۂ نظر پیش کرنا چاہتا ہے تو راقم اپنے کالم  میں اسے مکمل طور پر شائع کرنے کے لیے تیار ہے۔