جینے کے لئے حوصلہ چاہئے

اپنی پڑھائی سے فرصت پاتے ہی جب ایک نجی تعلیمی ادارے سے وابستگی اختیار کی تو ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد سب سے پہلی کلاس جو پڑھانے کا مجھے شرف حاصل ہوا وہ کلاس تو نہیں البتہٰ اس ادارے کے بگڑے ہوئے لڑکوں کا ایک ایک ایسا جتھا تھا جسے کوڑھ کے مریضوں کی طرح پورے ادارے سے الگ تھلگ رکھا گیا تھا ۔ سٹاف روم سے ادھر ادھر کی آوازوں سے انتظامیہ کی رچی ہوئی اس سازش کی بھنک پڑی کہ ہر نئے آنے والے کی مستقل مزاجی اور قوت برداشت کی آزمائش کے لئے اسے پہلے  اس پرکالہء آتش کلاس میں بھیجا جاتا ہے۔ اگر وہ ان اوصاف کا مظاہرہ کر پائے اور اس میں دیگر تدریسی جواہر بھی ایک خاص درجے سے ذیادہ پائے جائیں تو اسے محض اعلیٰ کلاسوں کے لئے وقف کر دیا جاتا ہے۔ 

سینئر کلاسوں کے یہاں تین درجے تھے۔ اول درجے کے سیکشن میں  ادارے کے انتہائی ذہین و فطین طلبہ تھے جو خاص قسم کے اساتذہ اور خاص قسم کی توجہ کے مستحق قرار پاتے ۔ دوئم درجے پر اوسط ذہانت والے طلبہ تھے۔ اور یہ تیسرا سیکشن ذہنی اور اخلاقی دونوں درجوں سے گرے ہوئے طلبہ پر مشتمل تھا۔ انہیں ادارے کے ایک الگ تھلگ ، تنگ و تاریک گوشے میں رکھا گیا تھا ۔ یہ نہ صرف ہر سال فیل ہوجاتے بلکہ ان پر ڈھیروں دوسرے الزامات بھی تھے۔ مثلاً دنگا فساد ،ادارے کے خاص فرنیچر کی توڑ پھوڑ، حد سے ذیادہ غیر حاضریاں، چھٹی کے وقت  سڑک پر آتی جاتی لڑکیوں سے چھیڑ خوانی ۔ یہاں تک کہ اسلامیات کے سخت مزاج اساتذہ کی ان کے ہاتھوں پٹائی تک کے واقعات رونما ہو چکے تھے۔  ان سب الزامات کے باوجود آخر ادارے کی انہیں برداشت  کرنے کی وجہ کیا تھی۔ ظاہری سی بات تھی ان کی بھاری فیسیں اور والدین کے دئے گئے عطیات۔                                        

ٹیچرز کی طرف ان کا رویہ معاندانہ تھا۔ ان کے ساتھ ایک پیریڈ کے چالیس یا پینتالیس منٹ گزارنا زندگی کے انتہائی کٹھن مراحل سے گزرنے کے مطابق تھا ۔ ایسے ہی ایک پل میں میرے دل میں ادارے سے ہی رخصت لینے کا بھی خیال آیا۔ کیونکہ یہ ملازمت میرے لئے بہت ضروری نہ تھی ۔ اور وہ طلبہ بھی حیلوں بہانوں سے یا  ببانگ دہل مجھے زچ کرنے کے درپے رہتے۔ دوران لیکچر کبھی کسی اوٹ سے تو کبھی کسی دوسری اوٹ سے توہین آمیز کلمات  ابھرتے۔ ایک دن ایک طالب علم نے تو میرے سامنے ہی کمال ڈھٹائی سے کھڑے ہو کر کہہ ڈالا۔ "آپ کچھ بھی کر لیں، آپ یہاں ایک دو ہفتوں سے ذیادہ رک نہیں سکتیں "۔ "آپ کے دل میں یہ خیال کیسے آیا کہ میں یہاں سے چلی جاﺅں گی؟"   " اس لئے کہ آفس والے فی الحال آپ سے ہماری کلاس واپس لینے والے نہیں اور آپ ہمیں دو چار دن سے ذیادہ برداشت کرنے والی نہیں "۔ اس کے لہجے میں بھرپور شرارت بھی تھی اور اپنی کلاس کے لئے عجب طرح کا تفاخر بھی ۔ باقی سبھی لڑکے قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے ۔"آپ کو کیوں ایسا لگتا ہے کہ آپ مجھے یہاں ٹکنے نہیں دو گے ؟" "اس لئے کہ ہم ہیں ہی اتنے برے کہ کوئی ذیادہ دیر ٹک نہیں پاتا"۔ ایک بار پھر قہقہہ ابھرا لیکن اس بار اس کے الفاظ میں شرارت سے کہیں ذیادہ اس کے لہجے کی وہ شکستگی تھی جو مجھے صاف محسوس ہو رہی تھی ۔ ان کے قہقہے میں ایسی بیچارگی تھی جسے سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہ تھی۔ اس لمحے مجھے اپنی ہر دل عزیز آرٹ فلم "دو آنکھیں بارہ ہاتھ " کے بارہ قیدیوں کے کرداروں کی وحشت میں چھپی ان کی بے چارگی اور بے بسی بہت یاد آئی ۔ زندگی کا ان کے لئے بے درد رویہ اور معاشرے کے ہاتھوں دھتکارے جانے کا المیہ، ایسا درد بھرا  تھا کہ ہر بار فلم دیکھنے پر میرے دل کے نہاں خانوں میں اس درد کی ٹیسیں ابھرنے لگتیں ۔

مجھے اپنے اندر پل بھر میں ان طلبہ کو بدلنے جیسے انمول جذبے اور انتھک حوصلے کی کھنک سنائی دی۔ مجھے لگا جیسے ان بظاہر بگڑے اور بھٹکے ہوئے لڑکوں میں دراصل لوگوں کے رویوں نے ایسی کم مائیگی اور بے وقعتی کا احساس کچھ اس طور جگا رکھا ہے کہ جس نے ان کے وجود کو بے حسی اور بے پرواہی کے یخ بستہ گلیشئیر میں دفن کر کے رکھ دیا ہے ۔ پھر یوں ہوا کہ جب میری محنت اور مستقل مزاجی کے اوصاف انتظامیہ پر آشکار ہوئے تو مجھ سے یہ کلاس واپس لے لینے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس بار میں نے خود ایسا کرنے سے انکار کر دیا ۔ اب یہ بچے میرے لئے چیلنج تھے ۔ مجھے ان کے لئے کچھ خاص کرنا تھا ، یہ کہ ان کے وجود کے گرد لپٹی برف کو ہٹانا تھا ۔ پہلے تو میں نے اس آرٹ فلم کو دو چار بار پھر سے دیکھا تاکہ اپنے حوصلے بلند کئے جا سکیں ۔ پھر میں نے یہ گر استعمال کیا کہ ہر ایک کو یہ احساس دلانے لگی کہ وہ سبھی بہت خاص ہیں ۔ وہ اپنی صلاحیتوں اور ہنر میں کسی طور بھی کسی اور سے کم نہیں فرق صرف یہ ہے کہ ان پر ابھی تک ان کی اپنی صلاحیتیں اور ہنر آشکار نہیں ہو پائے۔ میں بات بات پر ان کی حوصلہ افزائی کرنے لگی ۔ ہر معمولی سے معمولی کام پر بھی ان کی تعریفوں کے پل باندھنے لگی ۔ اگر ان میں سے کوئی بھی سبق کی ایک لائن بھی سنا دیتا تو میں اس بھرپور طریقے سے داد دیتی کہ وہ سب میں فخر سے اٹھلاتا پھرتا ۔

یہ بہت ہی دشوار تھا کہ ان کی سوچ کو بدلا جائے۔ انہیں ان کی ذات پر اعتماد دیا جائے لیکن میں نے ایسا کیا ۔ یہ حوصلہ افزائی کی ہی دوا تھی جو ان کے ہر طرح کے مرض کے علاج میں کارگر ثابت ہوئی اور سال بھر کی محنت کے بعد وہ سب، وہ نہ رہے جو وہ کبھی تھے۔ میری محنت کا نتیجہ تھا کہ سال کے آخر میں وہی بچے بچھڑنے کے احساس سے آنکھوں میں آنسو لئے رخصت ہوئے ۔ وہ جن کی گردنوں میں پرنسپل کو دیکھ کر بھی خم نہ آتا تھا ان کے سر احساس تشکر سے میرے آگے جھکے ہوئے تھے ۔                                       

زندگی کی سچائی یہ ہے کہ زندگی کسی ایک کروٹ کبھی نہیں بیٹھتی ۔یہ ہمیں متعدد بار توڑتی اور لاتعداد بار جوڑتی ہے۔ کئی بار ہماری امیدوں اور خواہشوں کے پنچھی ہمت و حو صلوں کے بلند و بالا چناروں کی ڈالیوں پر جا بیٹھتے ہیں اور کبھی ہمارے اعصاب کب چٹخنے لگتے ہیں خود ہمیں بھی علم نہیں ہو پاتا۔ ہمیں ، ہر انسان کو ، ہم سب کو ہر لمحہ ، ہر پل ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی نرم و گداز ہاتھ ہمارے حوصلوں کے شانوں پر اپنا ہلکا پھلکا لمس محسوس کرواتا رہے۔ کوئی ہمارے ٹوٹتے لمحوں میں ہماری ڈھارس بنے یا دو بول حوصلہ افزائی کے کہے۔ لیکن افسوس ہے کہ ہم دوسروں کی حوصلہ شکنی کرنا تو اپنا فرض سمجھتے ہیں لیکن کسی کی ہمت افزائی سے یوں بچتے پھرتے ہیں جیسے یہ کوئی انتہائی نامناسب کام ہو۔ ہمارے اندر خود اپنے لئے بھی کوئی نرم گوشہ نہیں ۔ مطلب ہم خود اپنی حوصلہ افزائی سے بھی عاری ہیں ۔ ہر نئی آنے والی صبح، ہمارے جذبوں ، ہمارے خوابوں ، ہماری محنتوں ، ہمارے ارادوں کو یہاں تک کہ ہماری ہر آتی جاتی سانس کو ہمارا حوصلہ درکار ہوتا ہے جو ہمارے اندر ہمارے لئے جینے کی جوت جگاتا رہے ۔ اس کے بعد وہ سب لوگ ہیں جو ہم سے وابستہ ہیں۔ ہمارے دوست احباب ، ہمارے والدین ، عزیز رشتے دار ، ہمارے اساتذہ  اور وہ سبھی لوگ جو ہمارے لئے اچھا سوچتے ہیں۔ ہمیں ان سب کی حوصلہ افزائی درکار ہوتی ہے ۔ ایک بیوی کو اپنے شوہر کی اور ایک شوہر کو اپنی بیوی کی ، بچوں کو والدین کی، طالب علم کو اپنے اساتذہ کی، ایک فنکار کو فن کے قدردانوں کی ، ایک لکھاری کو اپنے قاری کی اور ایک مریض کو اپنے ڈاکٹر کی حوصلہ افزائی درکار ہوتی ہے۔  یعنی ہر انسان کو زندہ رہنے کے لئے اپنی ذات کی تکمیل کے لئے اور اپنی محنتوں اور ریاضتوں کی تسلیم و توقیر کے لئے دوسروں کی داد و تحسین درکار ہوتی ہے۔                              

لیکن جب نظر اپنے چاروں اطراف دوڑائیں تو ہر طرف ہانپتے کانپتے، اکھڑتی سانسوں کے آزار میں جکڑے انسان نظر پڑتے ہیں۔ جیسے اپنی آبلہ پائی کے درد میں مبتلا، گرد آلود چہرے لئے دھندلائے منظروں پر عکس ڈھونڈنے کی جستجو میں گھبرائے ہوئے لوگ ہیں یہ ۔ ان کے جذبوں اور ارادوں پرعجب مردنی چھائی رہتی  ہے ۔ ہم بے زار لوگ بن چکے ہیں۔  ہمارے احساس کھردرے  ہو چکے ہیں ۔ کیونکہ ہم ایک دوسرے میں زندگی کے حوصلے تقسیم کرنا چھوڑ چکے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں دوسروں کی تعریف و توصیف کا رواج ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ ہمیں یوں لگتا ہے کہ ایسا کرنا دوسروں کے بگڑنے یا کام کی صلاحیت سے منہ پھیرنے کا باعث بن جائے گا جیسے کسی اور کی حوصلہ افزائی سے ہمارا قد چھوٹا ہو جائے گا ۔ حوصلہ افزائی اور کوشش کے اعتراف سے محروم لوگ بہت جلد زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جاتے ہیں۔ کسی انتہائی نگہداشت کی وارڈ کے بستر پر پڑے اس مریض کی طرح ، جس کی ڈوبتی ٹوٹتی سانسوں میں اٹکی جان اسے ایسے دوراہے پہ لا کھڑا کرتی ہے کہ ڈاکٹر کو کہنا پڑتا ہے "مریض کو ہر ممکن طبی امداد دی جا رہی ہے ۔ اسے بظاہر کوئی مسئلہ  نظر نہیں آتا لیکن وہ جینے کی امید چھوڑ چکا ہے اس لئے موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ شاید اس نے موت کے منہ میں جانے سے بہت پہلے ہی جینے کی امید چھوڑ رکھی تھی اسی لئے وہ اب اپنے اندر جینے کا حوصلہ اور امید پیدا کرنے سے قاصر ہو چکا ہے۔۔۔