فیض اور قومی تعمیرِ نو
- تحریر
- اتوار 12 / فروری / 2017
- 4606
فیض احمد فیض نے جب سے قیام پاکستان کو اپنے ایمان کا جزو بنا کر برطانوی ہند کی فوج کو خیرباد کہا اور” پاکستان ٹائمز“ کی ادارت اختیار کی تب سے لے کر سن اکاون میں راولپنڈی سازش کیس میں اسیری تک وہ پاکستان کے تصور ، پاکستان کی تحریک اور پاکستان کے قیام کے بعد ہماری قومی تعمیرِ نو کے خواب و خیال کو اپنے قارئین کے دل و دماغ میں جاگزیں کرنے میں ہمہ تن منہمک رہے تھے- ہرچند اِس زمانے میں وہ کسانوں اور مزدوروں کی آزادی، خوشحالی اور سربلندی کی سیاسی تحریکوں میں بھی قائدانہ کردار ادا کرتے رہے تاہم اِس مختصر تحریر کا بنیادی موضوع اُن کا صحافتی اور ثقافتی کردار ہے-
”پاکستان ٹائمز“ کے مدیر کی حیثیت میں فیض نے وقتاً فوقتاً جتنے اداریے بھی قلمبند کیے ہیں اُن میں دو موضوعات کو مرکزی اہمیت حا صل ہے- اوّل : تصورِ پاکستان کی روشنی میں پاکستانی سیاست اور معاشرت کی نئی تشکیل و تعمیر - دوم: قومی تعمیرِ نو کے اِس مشن کی تکمیل میں حائل قوتوں سے پنجہ آزمائی- ہر دو محاذوں پر انہوں نے ممدوٹ اوردولتانہ حکومتوں کی زبردست مزاحمت کی- برطانوی سامراج کی زائیدہ اور پروردہ یونینسٹ پارٹی اِس معرکہء حق و باطل میں عوام دشمنی اور سامراج پرستی میں پیش پیش رہی تھی- خضر حیات ٹوانہ کے سے مسلم لیگ مخالف یونینسٹ ہوں یا مسلم لیگ میں پناہ گزیں یونینسٹ، ہر دو گروہ تحریکِ پاکستان کے خواب و خیال کے حقیقت بن کر رہ جانے کے امکانات سے خوف و خطر میں مبتلا تھے- فیض اُن دانشوروں میں نمایاں ترین شخصیت تھے جو بانیانِ پاکستان کے اُن خوابوں کو حقیقت بنانے میں کوشاں تھے جو تحریکِ پاکستان کے دوران عوامی انقلابی خواب بن چکے تھے-
اِس صورتِ حال کا المناک ترین پہلو یہ تھا کہ یہ یونینسٹ مسلم لیگی ذاتی اور گروہی بنیاد پرباہمی اختلافات کے باوجود برطانوی سامراج سے ورثے میں ملے ہوئے نظامِ استبداد کی حفاظت میں متحد اور منظم تھے- یہاں مجھے قائداعظم کے نام علامہ اقبال کا نومبر 1938 کا وہ خط یاد آیا ہے جس میں اقبال نے قائداعظم کو اِس حقیقت سے باخبر رکھنا ضروری سمجھا تھا کہ جب سے سرسکندر حیات مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کر کے لکھنؤ سے واپس آئے ہیں تب سے وہ پنجاب میں مسلم لیگ کے نام پر اپنی ایک الگ” زمیندارہ لیگ“ بنانے میں مصروف ہیں- 1 فیض صاحب اقبال اورقائداعظم کے فکر و عمل سے عبارت مسلم لیگ سے وفاداری بشرطِ استواری کا حق ادا کرنے میں منہمک تھے- چنانچہ وہ زمیندارہ لیگی ممدوٹوں اور دولتانوں کی استبدادی سیاسی اور معاشی حکمتِ عملی کے خلاف شمشیرِ برہنہ بن گئے تھے- ہر صبح کے پاکستان ٹائمز کا اداریہ اِن زمیندارہ لیگیوں کے لیے ایک چیلنج بن کر طلوع ہوتا تھا-
یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستانی پنجاب کی جاگیردار قیادت نے کسی بھی سیاسی جلسے میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سن چھیالیس کا منشور پڑھنا جرم قرار دے رکھا تھا- ایسے میں فیض صاحب ہر صبح اِس منشور کی یاد تازہ کرتے چلے آ رہے تھے- ۱۲12 اپریل 1948 کے اداریہ کا عنوان تھا:’اقبال‘- یہ اداریہ اِس حقیقت کا شاہدِ عادل ہے کہ فیض، اقبال کے تصورات کو پاکستانی زندگی کے حقائق میں ڈھلتا دیکھنے کے آرزو مند تھے- اقبال کے فکر و فن کی سچی تفہیم و تعبیر کی اہمیت اُجاگرکرتے وقت وہ اُن اصول واقدار کو قومی زندگی میں زندہ اور سرگرمِ کار دیکھنے کی تمنا میں ریاست اور قوم ہر دو کی غفلت پر نالاں ہیں- ایک عہد آفریں شاعر ، فلسفی اور سیاسی مدبر کی حیثیت میں اقبال کے کارہائے نمایاں کو اُجاگر کرتے ہوئے وہ اِس امر پر مضطرب ہیں کہ نہ تو ریاستی سطح پر اور نہ ہی قومی سطح پر اقبال کے انقلابی تصورات کو حقائق کا رُوپ بخشنے کی مساعی عمل میں لائی جارہی ہیں- 2
یہ تو ہوئی پاکستانی معاشرے میں مفکرِ اسلام اورمصورِ پاکستان علامہ اقبال کے انقلابی تصورات کو زندگی، حرکت اور حرارت بخشنے کی آرزومندی - اب آئیے بانیء پاکستان ، قائداعظم محمد علی جناح کے افکار و نظریات اور کردارو عمل کو پاکستان کی سیاسی ، معاشی اور معاشرتی زندگی کے رہنما اصول بنانے کی اہمیت کی جانب-فیض نے31 ستمبر 1948 کو بابائے قوم کی وفات پرTo God We Return کے عنوان سے پاکستان ٹائمز میں ایک دلگداز اداریہ لکھا تھا- 3۔ پیشتر ازیں مہاتماگاندھی کے سفّاکانہ قتل کی مذمت میں اُنہوں نے یکے بعد دیگرے تین اداریے لکھے تھے- پاکستان ٹائمز میں اِس دلخراش سانحہ کی مذمت میں یہ اداریے دو، تین اور چار فروری کوشائع ہوئے تھے- بعد ازاں اُنہوں نے قائداعظم کی وفات حسرتِ آیات پر اپنے قلم کو خونِ دل میں ڈبو کرجو اداریہ لکھا تھا اُس میں بھی راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ (RSSS) کے ایک غنڈے کے ہاتھوں مہاتما گاندھی کی زندگی کا چراغ گُل ہو جانے کا نوحہ شامل ہے- 4۔ اپنے اِس اداریہ کی اختتامی سطور میں وہ انتہائی حوصلہ مندی اور مستقل مزاجی کے ساتھ پاکستانی قوم کو قائداعظم کے مشن کو پایہء تکمیل تک پہنچانے کی خاطر ایک خودمختار، ترقی پسند اورمستحکم پاکستان کی تعمیر کا حق ادا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں- 23 مارچ 1949 کے اداریہ بعنوان Progress of a Dream میں گہرے دُکھ کے ساتھ اپنے قارئین کی توجہ اس حقیقت کی جانب منعطف کرتے ہیں کہ قراردادِ پاکستان کے آئیڈیلز کو حقیقت میں بدلنا ہمارا اوّلیں فرض ہے- چنانچہ اِس قومی فرض سے روگردانی کے جرم کا ارتکاب ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانا چاہیے-5
پنجاب یونیورسٹی کے جلسہء تقسیمِ اسناد کی تقریب میں وزیراعظم لیاقت علی خاں کے خطاب کے بنیادی نکات کی تائید میں The New Challenge کے عنوان سے اپنے اداریہ میں تصورِ پاکستان کی معنویت اور تحریکِ پاکستان کے بنیادی عقیدہ و عمل کو پاکستانی زندگی کی روحِ رواں بنانے میں کوتاہی پر شدید گرفت کرتے ہیں- وہ پاکستانیوں کو خبردار کرتے ہیں کہ جب تک تحریکِ پاکستان کے خواب و خیال اور پاکستان کے حقائق میں روح فرسا تضاد ختم نہیں ہوجاتا تب تک پاکستان کی جدوجہد تشنہء تکمیل ہی رہے گی- 6
قائداعظم انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے تحفظ میں ہمیشہ سربکف رہے تھے- پاکستانی پنجاب میں سیفٹی ایکٹ کے ناروا استعمال کے خلاف پاکستان ٹائمز میں بہ اعادہ و تکرار احتجاج کی صدائیں بلند کی جاتی رہیں، گورنر جنرل اور خضرحیات ٹوانہ کی ملاقات کے خلاف غیض و غضب سے سلگتی ہوئی تحریر کے ساتھ ساتھ ممدوٹ اور دولتانہ کے اتحادِ فکر و عمل کو چوروں میں گٹھ جوڑ (Unity Among Thieves) قرار دینا، مقتدر قوتوں کی جانب سے تصورِ پاکستان سے انحراف کی جانب عوام کی توجہ مبذول کرانے کی سعیء مشکور ہے- مسئلہء ملکیتِ زمین پر دوٹوک انداز میں لکھتے ہیں کہ زمین کا اصل مالک کاشتکار ہے ، جاگیردار نہیں-جو شخص جتنی زمین کاشت کرتا ہے وہ اُس زمین کا مالک ہے- بانیانِ پاکستان کی تفہیم و تعبیر ِ اسلام کے مطابق دینِ اسلام میں جاگیرداری کا کوئی وجود ہی نہیں- 7
جاگیرداری کا خاتمہ تحریک پاکستان کے محرکات و مقاصد میں سے ایک ہے- قیامِ پاکستان کے فورا بعد جب قائداعظم نے زرعی اصلاحات کی کمیٹی تشکیل دی اور قائداعظم کی رحلت کے بعد میاں افتخار الدین کے سے جاگیردار اور شیخ محمد رشید کے سے کسان نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے جاگیرداری کے خاتمہ کی جدوجہد شروع کی تو ممدوٹ، دولتانہ وغیرہم نے ان لوگوں کو سوشلسٹ قرار دے کر مسلم لیگ سے نکال باہر کیا- یہ لوگ چلاتے رہے کہ ہمارا مطالبہ اسلام کے زریں اقتصادی تصورات اور کل ہند مسلم لیگ کے منشور سے عبارت ہے- ہم سوشلزم نافذ نہیں کرنا چاہتے ہم تو تحریکِ پاکستان کے دوران اسلامیانِ ہند کے ساتھ کیے گئے وعدے وفا کرنا چاہتے ہیں، ہم تو اسلام کے معاشی انصاف کے تصورات کو پاکستان کی عملی زندگی میں جلوہ گر دیکھنا چاہتے ہیں مگر اس وقت کی مرکزی اور صوبائی حکومت نے کہا کہ نہیں آپ لوگ یہاں سوشلزم قائم کرنا چاہتے ہیں- یہاں مجھے1943 میں کُل ہند مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ دہلی میں قائداعظم کاخطاب یاد آتا ہے جس میں انہوں نے دو ٹوک اعلان فرمایا تھا :
’یہاں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ایک ایسے ظالمانہ اور شرپسند نظام کی پیداوار ہیں، جس کی بنیادیں ہمارے خون سے سینچی گئی ہیں- عوام کا استحصال ان کی رگوں میں خون بن کر گردش کر رہا ہے، اس لیے ان کے سامنے عقل اور انصاف کی کوئی دلیل کام نہیں کرتی- ہمارے ہاں لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں انتہائی مشقت کے باوجود صرف ایک وقت کی روٹی میسر ہے- کیا یہ ہے ہماری شاندار تہذیب؟ کیا پاکستان کا مطلب یہ ہے؟ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ لاکھوں مسلمان معاشی ظلم کا شکار ہو کر ایک وقت کی روٹی کو بھی ترستے رہیں؟ اگر پاکستان کا مطلب یہ ہے تو میں ایسے پاکستان سے باز آیا-“
قیامِ پاکستان کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کے منشور میں کیے گئے معاشی انصاف کے وعدوں کو وفا کرنے کی خاطر اپریل سن اُنچاس میں زرعی اصلاحات کمیٹی قائم کی گئی جس نے موروثی جاگیرداری اور زمینداری سسٹم کو ختم کرنے سمیت متعدد اہم اصلاحات کی سفارش کی- موجودہ پاکستان کے ہر صوبے نے اِن اصلاحات کو نافذ کرنے سے انکار کر دیا-اِسی پر بس نہیں - ملتان کے پیر نوبہار شاہ ، جھنگ کے کرنل سیّد عابد حسین اور ڈیرہ غازی خان کے نوابزادہ نصر اللہ خان نے اِن زرعی اصلاحات کی مخالفت میں جاگیرداروں کا اتحاد قائم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں- بالآخر یہ مساعی” انجمن تحفظ حقوقِ زمینداراں تحت الشریعہ“ کی صورت میں رنگ لائیں- وزیراعظم لیاقت علی خاں بذاتِ خود پنجاب تشریف لائے اور اُنہوں نے جاگیردار سیاستدانوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ ”اگر آج وہ رضاکارانہ طور پر زرعی اصلاحات کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد نہ کریں گے تو کل عوام اُن سے اُن کی زمینیں چھین لیں گے-“ جاگیردار سیاستدانوں سے اپنے اِس خطاب کے صرف چھ ماہ بعد لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیا اور یوں آل انڈیا مسلم لیگ کے منشور پر عملدرآمد کی کوششیں بھی شہیدِ ملت کے ساتھ ہی دم توڑ گئیں- فیض احمد فیض اپنے اداریوں کے ذریعے علامہ اقبال اور قائداعظم کے اِس تصور کو عام کرنے میں سرگرمی کے ساتھ مصروف رہے کہ زمین کا اصل مالک اللہ تعالی ہے - اللہ تعالی کی یہ زمین کسان کے پاس ایک امانت ہے- جتنی زمین اُس کے زیرِ کاشت ہے وہ اُس کی اپنی ہے- یوں اسلام میں جاگیرداری کا کوئی وجود نہیں- چنانچہ پاکستان میں جاگیرداری کا نظام بیخ و بُن سے اُکھاڑ پھینکنا تصورِ پاکستان کو حقیقت میں بدلنے کی خاطر لازم ہے- فیض تحریکِ پاکستان کے خواب و خیال کو زندگی کے حقائق میں ڈھالنے کی جدوجہد میں اسی جذب و جنوں کے ساتھ سرگرمِ عمل تھے کہ مارچ پچپن میں اچانک راولپنڈی سازش کی انہونی گھڑی آ پہنچی- خود فیض نے اِس سازش کو سازشِ اغیار سے تعبیر کیا ہے:
قصہء سازشِ اغیار کہوں یا نہ کہوں
ذکرِ مرغانِ گرفتار کروں یا نہ کروں
٭٭٭
وہ بات، سارے فسانے میں جس کا ذکر نہیں
وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے
برسوں بعد رہائی نصیب ہوئی تو ڈیڑھ دو سال کے اندر اندر پروگریسو پیپرز سرکاری تحویل میں چلے گئے اور فیض وقتا فوقتا جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیے گئے- جن وقفہ ہائے زماں میں بھی اُنہیں پاکستان میں رہنا نصیب ہوا وہ بڑے ذوق و شوق کے ساتھ ، کبھی لاہور آرٹ کونسل میں اور کبھی بھٹو شہید کے قائم کردہ تہذیب و ثقافت کے اداروں میں قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے پاکستانی تہذیب و ثقافت کو ثروت مند بنانے میں مصروف رہے-
پاکستان کی تہذیبی زندگی کی شیرازہ بندی اور ثروت مندی کے باب میں فیض کی بیش قیمت خدمات کی شایانِ شان تحسین ہم پر آج تک قرض چلی آ رہی ہے- احمد سلیم نے اپنی مختصر کتاب بعنوا ن”فیض: یادیں ، باتیں“ میں فیض کے تہذیبی فیضان پر روشنی ڈالی ہے- محترمہ شیما مجید نے اِس ضمن میں فیض کی انگریزی تحریروں کو Culture and Identity میں یکجا کرکے شائع کر دیا ہے- اِس کے ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے اِس موضوع پر فیض کی اُردو تحریروںادر تقریروں کو بھی ”فیض احمد فیض اور پاکستانی ثقافت“ کے عنوان سے کتابی صورت میں یکجا کر دیاہے- بھٹو شہید نے اقتدار سنبھالتے ہی فیض کو اپنی سربراہی میں نیشنل کونسل آف آرٹس قائم کرنے کی ذمہ داری سونپ دی تھی-احمد سلیم نے فیض کی یاد میں اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ:
” 1982میں شہید بھٹو کا ’نیا پاکستان‘ وجود میں آیا تو نئے نئے ادارے وجود میں آئے- بھٹو نے فیض سے درخواست کی کہ وہ اس سلسلے میں ان کی مدد کریں..... فیض کلچر رپورٹ کا مسودہ، جو انہوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے دانشوروں کے ساتھ مل کر مرتب کیا تھا، کی بنیاد پر فیض نے نیشنل کونسل آف دی آرٹس کا ادارہ قائم کیا جس کے پہلے چیئرمین وہ خود مقرر ہوئے-“ 8
دو برس کے قلیل ترین وقفہء زماں میں فیض نے جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ اپنے ثمرات کی بدولت صدیوں پربھاری ہیں- خود احمد سلیم نے زیرِ نظر کتاب کے ایک باب بعنوان ” ثقافت کے سو رنگ، میں لوک ورثہ کے ادارے کی دو برس کی کارکردگی پیش کرکے فیض صاحب کے بے مثال حسنِ کارکردگی کا ثبوت فراہم کر دیا ہے:
”جلد ہی فوک لور ریسرچ سنٹر، کونسل کا انتہائی اہم شعبہ ثابت ہوا- فیض کلچر رپورٹ کی رُوح کے مطابق اس نے نہ صرف عوامی ثقافتی ورثے کے تحفظ و ترویج کا کام شروع کر دیا تھا بلکہ لوک فنکاروں، عوامی گائیکوں اور دھرتی سے جڑے دستکاروں کو، جو بتدریج صفحہء ہستی سے نابود ہو رہے تھے، کو بچانے کی مقدور بھر کوششیں شروع کر دیں- فیض صاحب کی ذاتی دلچسپی کے باعث لوک ورثے اور لوک روایات کی جمع بندی، تحفظ، ترویج اور توسیع کے لیے سنٹر میں مطبوعات لوک ادب کی ایک جامع لائبریری ٹیپ آرکائیوز، لوک ورثے کی ساونڈ لائبریری، علاقائی تحقیق اور شعبہء مطبوعات ، فیلڈ سروے کے لیے موبائل ریکارڈنگ یونٹ، اسلام آباد میں ساونڈ سٹوڈیوز اور لوک میلوں اور دیگر سرگرمیوں کے انعقاد کا شعبہ قائم کیا گیا-“
خود احمد سلیم فوک لور ریسرچ سنٹرکے ایک اہم کارکن تھے- جس تفصیل کے ساتھ اُنہوں نے اِس عوامی مرکز کی کارکردگی بیان کی ہے ویسا ہی بیانیہ کونسل کے متعدد دیگر شعبوں پر قرض ہے- پاکستان کی منفرد ثقافتی شخصیت کو اُجاگر کرنے ، نکھارنے اور سنوارنے میں عوامی دانش سے استفادہ کرنے کی مہم جس جوش وخروش کے ساتھ شروع کی گئی تھی وہ بعد ازاں فیض صاحب کی قیادت سے محروم ہو کر رہ جانے والے اِن اداروں میں سست پڑنے لگی اور رفتہ رفتہ ختم ہو کر رہ گئی- ڈاکٹر ایوب مرزا نے اپنی دو کتابوں ... ہم کہ ٹھہرے اجنبی ... فیض نامہ... میں فیض صاحب سے باتوں باتوں میں بہت کچھ سیکھا اور قلمبند کر دیا ہے- اپنی کتاب ”فیض نامہ“ کے دو ابواب :”پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کی سرگرمیاں“ اور ”پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس سے کُوچ“ میں فیض صاحب کے ثقافتی فیضان کے موضوع سے انصاف کیا ہے- فقط دو سال کی قلیل مدت میں فیض صاحب نے آرٹس کونسل ، لوک ورثہ ، فلم اکادمی، نیشنل تھیٹر، اکادمی ادبیات کے سے متعدد اداروں کی بنیادیں اُستوار کر دی تھیں- ڈاکٹر ایوب مرزا نے فیض صاحب کی بیزاری اور دستبرداری کی کہانی درج ذیل الفاظ میں بیان کی ہے:
”ایک دن میں فیض صاحب کے دفتر پہنچا- وہ منسٹری کے ایک سیکشن آفیسر کے نام ایک سخت گیر قسم کا مراسلہ لکھوا رہے تھے- غصہ لفافے میں بند کرتے ہی اُٹھے اور ہم دونوں اسلام آباد کلب کی پُررونق رومانوی فضا میں سوئمنگ پول کے کنارے بیٹھ گئے- فیض صاحب چپ تھے- انہوں نے غصہ تھوکنے کی بجائے بیئر کے ٹھنڈے گھونٹ کے ساتھ نگل لیا- بولے ”اس ملک کا نظام نہ جانے کیسے چل رہا ہے- بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ہم کلچر کا سلسلہ آگے بڑھائیں مگر سیکشن آفیسر ایک ایسی چٹھی لکھ دیتا ہے کہ کلچر کی بیخ کنی کر دے- وہ تو پروجیکٹ کے مفہوم ہی کو نہیں جانتا- اُسے خبر ہی نہیں اس کی قومی اور بین الاقوامی اہمیت کیا ہے-“ پوچھا کیا ہوا ہے؟ بولے ”بھئی ہونا کیا ہے، وہ ہم سے پوچھتا ہے کہ ناچ گانے پر اس قدر رقم کیوں خرچ کی جائے- وہ ناچ گانے کو معیوب سمجھتا ہے اور اُسے کلچرل ونگ میں آفیسر بنا کر بٹھا دیا گیا ہے- بھئی ناچ گانا تو کلچر کا ایک معمولی سا حصہ ہوتا ہے- مگر ضروری ہے- ایسے لگتا ہے کہ ملک سیکشن افسروں کی زد میں ہے- بھئی فائل تو وہی چلاتا ہے- سیکریٹریٹ میں تو اُسی کا سکہ چلتا ہے نا“- جھلا کر بولے ”یہ کونسل نہیں چلے گی“- وہ کچھ زیادہ ہی پژمردہ دکھائی دے رہے تھے-“ 10
ایسے میں فیض صاحب کو رہ رہ کر وہ زمانہ یاد آتا ہوگا جب کلچر کے یہ تمام ادارے وزارتِ تعلیم سے منسلک تھے اور سیکرٹری تعلیم قدرت اللہ شہاب خود اُن کے دفتر میں آ کر تمام فائلوں پر دستخط ثبت کرکے چلے جایا کرتے تھے- اب اُن کی فائلیں سیکشن آفیسر کے پاس رُکی رہتی تھیں یا پھر منفی ریمارکس کے ساتھ واپس آجایا کرتی تھیں- اِس صورتِ حال سے دلبرداشتہ ہو کر فیض صاحب لاہور جا بیٹھے تھے- یوں کلچر کے یہ تمام ادارے فیض صاحب کی قیادت سے محروم ہو کر رہ گئے- سیّد مظہر جمیل نے اپنی کتاب ”ذکرِ فیض“ میں ہماری قومی تعمیرِ نو کے متعدد منصوبوں کا ذکر کیا ہے جو ہنوز تشنہ ءتکمیل ہیں- یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیض صاحب چلتے پھرتے ، سوتے جاگتے پاکستان کی تعمیرِ نو کے خوابوں کو حقیقت کا رُوپ بخشنے کی جستجو میں سرگرداں رہا کرتے تھے!
حواشی
1. Letters of Iqbal to Jinnah, M. A. Jinnah, Lahore, 1942, p.32:
Strictly Private & Confidential. Lahore, 10th Nov., 1937
"My dear Mr. Jinnah,
........My impression is that they want to gain time for their own Zamindara League to function in the province. Perhaps you know that on his return from Lucknow Sir Sikandar constituted a Zamindara League whose branches are now being made in the province. In these circumstances please let me know what we should do. Kindly wire your view if possible. If this is not possible write a detailed letter as early as possible.
Yours sincerly,
(Sd,) Muhammad Iqbal
Bar-at-Law"
2. Coming back home, Faiz Ahmed Faiz, Edited, Sheema Majeed, Oxford, 2008, p.7
"Neither the state nor the nation have paid much attention so far to cultural, literary, scientific or intellectual uplift, that in fact our traditional cultural values are being steadily vulgarized and the domain of our intellectual acitivty is being gradually usurped by plausible charlatans and half-baked obscurantists. We hope all this will soon be set right and both the State and the nation will earnestly strive to make our collective life clean, healthy and beautiful, for only thus can a cultural renaissance come about."
۳- اِس اداریہ سے متعلق مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے” فیض نامہ “ڈاکٹر ایوب مرزا، پٹنہ ، ۲۰۰۲ئ، صفحات ۳۹ تا ۶۹
4. Coming back home, Faiz Ahmed Faiz, Edited, Sheema Majeed, Oxford, 2008, p.7
"It is a cruel irony of history that at precisely this time both countries have been deprived of the two wisest and most humane men in the sub-continent. Ours is very much the greater and more grievous loss. We can show no greater devotion to the beloved leader and give no greater proof of our loyalty to his memory than to base our conduct on the pattern that he has immortalized and to conduct ourselves in a manner that accords with his life-long preaching."
5. Ibid.
"The ideals implicit in the Lahore Resolution have yet to be realized, although unfortunately this realization depends as much and more on the good sense of our neighbours as on our
own rectitude.....The failures that we have witnessed and shall continue to witness in the fight to realize the dream that Pakistan stands for have also been and will be failures of individuals. Pakistan came in spite of Khizar, and its people will progress in spite of his successors."
6. Ibid:
"The people must realize that the battle for Pakistan is only half-won as long as today's grave disparity between unpleasant reality and our original hopes continues. They are called upon to bring forth the same old zeal and devotion, with which they had answered every call of the Quaid-i-Azam, to clean up the present mess. This second phase of the struggle is as important as the first, and if we find that certain prominent persons are no longer of any use, they must be thrown out in the same way as Khizar was in the first phase."
7. Ibid:
"While ultimately the only just solution is that land should belong to him who tills it.....but the primary question it that of liquidating the big landlords and jagirdars, without which little progress is possible on other fronts. We appeal to those in power to stop tinkering with the problem in a way which brings no real relief to the tenant and solves no other problem. They must adopt a bold, almost revolutionary policy, so clearly necessary in the interests of Pakistan and her people."
۸- فیض : یادیں ، باتیں، احمد سلیم، لاہور، ۱۱۰۲ئ،صفحہ ۶۰۱-
۹- ایضا، صفحہ ۶۳ -
۰۱- فیض نامہ، ڈاکٹر ایوب مرزا، پٹنہ، ۲۰۰۲ئ، صفحہ ۲۱۳