برسلز کا یادگار سفر
یہ 28جنوری کی ایک انتہائی سرد صبح تھی اور صبح کے چار بجنے کو تھے جب ہم جرمنی سے بلجیم کے لئے روانہ ہوئے ہماری منزل بر سلز تھی مجھے ایک بار پھر افنان خان کی رفاقت میسر تھی اس سے پہلے ہم دونوں بنکاک کا بھی یاد گار سفر کر چکے تھے۔ خان کا تعلق بڑے انگریزی اخبار سے ہے اور ایک دبنگ انٹر نیشنل صحافی ہیں جس کا قلم انسانی حقوق ، انسانیت اور انسانی اقدار کے لئے ہی وقف ہے۔
باتیں کرتے کرتے سفر کا کچھ پتہ نہ چلا۔ بی ایم ڈبلیو سپورٹس گاڑی نے پانچ گھنٹے کا سفر ساڑھے تین گھنٹے میں طے کر لیا اور جب ہم برسلز میں داخل ہوئے تو صبح کے تقریبا ساڑھے آٹھ ہو رہے تھے ابھی ہم شہر سے باہر تھے لیکن خاں صاحب کی گاڑی تیزی سے ہمیں اس شہر کی طرف لئے بھاگی چلی جا رہی تھی جس کے بارے میں بہت کچھ سن چکا تھا اور پڑھ چکا تھا اور اس عظیم شہر کو دیکھنے کی ایک دلی اور پرانی تمنا تھی جو اب پوری ہو رہی تھی۔ شہر کے اندر داخل ہوتے ہی بلند بالا عمارتوں اور ان کے فن تعمیر کو دیکھتے ہی مجھے پہلے پیرس کی یاد آگئی۔ پیرس میں جب آپ نپولین بوناپارٹ کے عظیم الشان میوزیم کو دیکھتے ہوئے باہر نکلیں تو آپ کو اولڈ پیرس دیکھنے کو ملے گا۔ اسی قسم کا فن طرز تعمیر مجھے برسلز میں دیکھنے کو ملا۔ گاڑی میں گھومتے ہوئے ہمیں ہر طرف انتہائی خوبصورت و پر شکوہ عمارتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ دیکھنے کو ملا جس کے باہر بلجیم اور یورپ سمیت مختلف تنظیموں کے جھنڈے بھی لہرارہے تھے جس سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ بلاشبہ برسلز اس وقت یورپ سمیت پوری دنیاکی سیاست کا مرکزبن چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سی عالمی انسانی حقوق، سائنس، سفارتی ،معاشی اور اقتصادی فورموں کی سرگرمییاں یہاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اوردوسری جنگ عظیم کے بعد برسلز بہت سی عالمی تنظیموں کا ہیڈ کوارٹر بن چکا ہے جس میں نیٹیو بھی شامل ہے اس کو یورپین یونین کا دارالحکومت کہلانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہاں کی بڑی زبان فرانسیسی ہے۔ بہت سے عالمی اداروں کے دفاتر کا مرکز بھی یہ شہر ہے بلا شبہ یہ ایک عظیم شہر ہے جو اپنے اندر سینکڑوں برس کی تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔
افنان خان کا ایک شوق فوٹو گرافی ہے اور انہوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف مواقع پر اہم عمارتوں کی تصاویر لیں اب ہم ناشتہ کے لئے کسی ریسٹورنٹ کی تلاش کے ساتھ ساتھ فوٹو گرافی کا شوق پورا کررہے تھے۔ جرمنی کی نسبت برسلز میں ہمیں سردی بہت کم محسوس ہوئی۔ دس بجے کے قریب ہم نے ایک فرنچ ریسٹورنٹ میں ہلکا پھلکا ناشتہ کیا۔ ٹیبل کے پاس جاتے ہی ہماری خوشی اس وقت دوبالا ہو گئی جب ہم نے ٹیبل پر وائی فائی مع پاسورڈ موجود پایا۔ اس کے بعد ایک گھنٹہ تک ہم ایک دوسرے کے لئے اجنبی بنے رہے اور جونہی وائی فائی کے حصار سے باہرنکلے تو ہمیں اس تقریب کی یاد آئی جس کے لئے ہم برسلز پہنچے تھے۔ آج یہاں پاکستانی اہل قلم کی پہلی رائٹرز کانفرنس منعقد ہورہی تھی جس میں یورپ کے مختلف شہروں میں مقیم پاکستانی ادیب، صحافی کالم نگار اور شعراء کرام نے شرکت کرنا تھی۔
برسلز میں داخل ہوتے ہی بلجیم پریس کلب کے صدر ثاقب عمران سے رابطہ ہوگیا تھا تو انہوں نے بتایا کہ جس پریس کلب میں کانفرنس منعقد ہونا ہے وہ 11 بجے کھلے گا لہذا ہم نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا ۔ برسلز میں آمد اور خوشی کی ایک وجہ اور بھی تھی وہ شیراز راج سے برسوں بعد ملاقات تھی جو برسلز میں مقیم تھے۔ شیراز راج ایک ترقی پسند انسانیت نواز دانشور، صحافی، کالم نگار اور انسانی حقوق کا کارکن ہے جس کی سوچ اور قلم نے ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیا۔ لاہور میں قیام کے دوران ان کے ساتھ ملاقاتیں اس وقت سے شروع ہوئی تھیں جب وہ لاہور سے شائع ہونے والے ایک معتبر ماہنامہ نوائے انسان کے لئے لکھا کرتے تھے جو کہ وجاہت مسعود کے سرپرستی میں شائع ہوا کرتا تھ۔ا شیراز راج سے ملاقات ہوئی بہت اچھا لگا تھا بہت پرجوش اور خلوص سے ملا۔
وہی اپنا پن اور وہی خلوص تھا اور پہلے سے زیادہ محبت کے ساتھ ملے تھے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد کانفرنس کا آغاز ہوا تھا اور اس کا اختتام رات کے کھانے کے ساتھ ہوا۔ اس دوران صحافت ، ادب، موسیقی اور شاعری کی جو نششتیں منعقد ہوئیں ان سب نے اس کانفرنس کو یاد گار بنادیا تھا ۔یورپ ایک ایسی سرزمیں ہے جہاں درجنوں رنگ و نسل اور مختلف کلچر رکھنے والی اقوام رہتی ہیں اور درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں ایسے ماحول میں اردو زبان، ادب اور صحافت کو زندہ رکھنا اور اس کو فروغ دینا سب پاکستانیوں کی اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہے تاکہ ترقی پسند اور دور حاضر کے مطابق نئی نسل کو پروان چڑھایا جا سکے۔ اردو کی حفاظت کی جا سکے۔ اسی سوچ اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی طرز کی پہلی رائٹرز کانفرنس کا انعقاد برسلز میں کیا گیا تھا جس کے پس پردہ ثاقب عمران صدر پاکستانی پریس کلب بلجیم، ترقی پسند دانشور شیراج راج اور دور حاضر کے تقاضوں کی سوچ کے علمبردار خالد حمید فاروقی تھے۔ چار نششتوں پر مشتمل یہ فکری ادبی، صحافتی تقریب بکھرے اور دور بیٹھے اہل قلم کو قریب لانے کا باعث بنی۔