پاک بحریہ امن مشقیں اور بھارت
- تحریر چوہدری ذوالقرنین ہندل
- سوموار 13 / فروری / 2017
- 5682
مل جل کر ارض پاک کو رشک چمن کریں
کچھ کام آپ کیجئے کچھ کام ہم کریں
دس فروری سے پاکستان بحریہ کی دوسرے ممالک کے ساتھ پانچویں مجموعی امن مشقوں کا آغاز ہوگیا ہے جو دس روز تک جاری رہے گا۔ پاکستان نے ان امن مشقوں کا آغاز 2007 میں کیا۔2017 امن مشقوں کی خاص بات یہ ہے کہ اس بار دنیا کے 37 ممالک کی بہترین بحری افواج اپنے لڑاکا جہازوں کے ساتھ شریک ہورہی ہیں، جن میں امریکہ، روس، چین برطانیہ، جاپان، سعودی عرب، آسٹریلیا، اٹلی، سری لنکا، بحرین اور دیگر کئی ممالک شامل ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا پاکستان کی امن کوششوں کو سراہتی ہے اور پاکستان کے ساتھ مل کر امن کے لئے کام کرنا چاہتی ہے۔ پاک بحریہ امن مشقیں ہر دو سال بعد کرواتی ہے۔ روس پہلی مرتبہ اپنے تین بڑے بحری جہازوں سمیت شرکت کر رہا ہے۔
پاکستان میں اس وقت سی پیک اور گوادر بندرگاہ پر کام جاری ہے جو پاکستانی معیشت کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ مخالفین کو پاکستان کی یہ اقتصادی ترقی ہضم نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے یہ مخالفین راہداری منصوبے میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔ اور پاکستان میں سازشی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان اس وقت ماضی کی نسبت بہت مضبوط ہے اور انشاء اللہ دن بدن مزید مضبوط ہوتا جائے گا ۔ گوادر بندر گاہ پاک چین سمیت بہت سے مشرقی و مغربی ممالک کے لئے بھی تجارت کا مرکز بن رہا ہے۔ اسی بنا پر پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں چاہیں دشمنی کی ہوں یا دوستی کی۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ جیسا عظیم ملک بھی پاکستان چائنہ راہداری میں شریک ہونا چاہتا ہے اور ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 2017 امن مشقیں بھی اسی بنا پر بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ پاکستان پوری دنیا کو محفوظ بحری راستہ مہیا کرنا چاہتا ہے۔ یہ بحری راستہ صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا راستہ ہے اور اس کی حفاظت بھی پوری دنیا پر فرض ہے۔
امن مشقیں مختلف بحری مشکلات اور رکاوٹوں سے مل کر نمٹنے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ جس میں 37 ممالک کی بہترین بحری فوجیں اپنے اپنے تجربات شیئر کریں گی، جس سے تمام ممالک کی افواج کوایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ ہر ملک کی فوج کا اپنا تجربہ ہے اور دیکھا جائے تو سب کے تجربات ملا کر قریب ایک ہزار سال سے زائد کا تجربہ بنتا ہے۔ یوں مل جل کر امن مشقوں سے تمام بحری فوجوں کو ایک ہزار سال سے زائد کے تجربات سے استفادہ کا موقع ملا ہے۔ اس کا سہرا پاک بحریہ کے سر جاتا ہے جو پل کی حیثیت اختیار کر رہی ہے۔ مخالفین کو علم ہونا چاہئے کہ پاکستان کسی بھی بحری جارحیت کے خلاف نمٹنے کے لئے ہراول دستے کا کردار ادا کرے گا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا پر پاکستان کی امن کوششیں واضح ہورہی ہیں۔ اور دوسری طرف بھارت کی انتہا پسندانہ سوچ سے بھی دنیا آگاہ ہو رہی ہے ۔
بھارت نے اپنا دفاعی بجٹ گزشتہ سال سے بڑھا کر 45کھرب کرلیا ہے جو پاکستان سمیت بہت سے ملکوں کے مجموعی بجٹ سے بھی بہت زیادہ ہے۔ بھارت دنیا میں خطرے کا بگل بجارہا ہے ۔ بھارت تھرمونیوکلیئر بم جوکہ ایٹم بم سے بھی دو گنازیادہ تباہی پھیلا سکتا ہے کو بنانے میں مصروف ہے۔ عالمی برادری کو فوری طور پر بھارت کو روکنا ہوگا۔ تاکہ دنیا کسی بھی بڑی تباہی سے دور رہے۔ یوں تو بھارت پاکستان کے وجود سے ہی حسد کرتا ہے مگر گزشتہ دن شروع ہونے والی امن مشقوں سے بھی بھارت کو خاصی تکلیف پہنچی ہے۔ جس کے جواب میں بھارتی نیوی کے چیف سنیل لانباہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں امن مشقیں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتیں۔ یہ معمول کی مشقیں ہیں اور اس میں صرف سولہ ممالک شریک ہو رہے ہیں۔ بھارت اپنی انتہا پسندانہ سوچ اور آمرانہ خواہش کی بدولت دن بدن نقصان کی طرف جا رہا ہے جس کی تلافی برسوں پوری نہیں ہو سکے گی۔ بھارتی عوام بھوک و افلاس اور بہت سی پچیدگیوں میں مبتلا ہیں اور حکومت اسلحے کی دوڑ میں مصروف ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ انتہا پسندانہ سوچ ہمیشہ بکھیر دیتی ہے اور ایسا بکھیرتی ہے کہ سنبھلنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔
بھارت اپنی ملکی سلامتی خلاف مصروف عمل ہے۔ بھارتی حکومت کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا اور دانشور بھی اس احمقانہ رویہ کو فروغ دے رہے ہیں۔ اگر بھارت اپنی نمبرداری سے بعض نہ آیا تو ایک دن بھارت کا شیرازہ بکھر سکتا ہے۔ گزرا ہؤا وقت واپس نہیں آتا۔ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ بھارتی دانشور ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور ملامت کریں گے کہ عوام کو حقیقت سے کیوں دور رکھا گیا۔ پاکستانی عوام اور حکومت کو ثابت قدمی سے مزید محنت کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو فی الفور اپنے اندرونی معاملات سے نمٹنا چاہئے جو کہ وقت کی بڑی ضرورت ہے۔ اگر داخلی حالات درست ہوں گے تو مخالف ٹکرا کر خود گر جائے گا۔ پاکستان کو پوری دنیا کے سامنے اپنا مثبت موقف پیش کرنے کی ضرورت ہے۔