بھارت میں متناسب انتخابی نظام ضروری ہے!
- تحریر محمد آصف اقبال
- سوموار 13 / فروری / 2017
- 4541
یہ بات بارہا کہی جا چکی ہے کہ ہندوستان میں بیشتر ایسے مقامات ہیں جہاں مسلمان اور سماج کے کمزور طبقات کے ووٹ حد درجہ اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود آغاز ہی سے مسلمانوں کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ کسی بھی الیکشن میں اپنے مطالبات، حقائق پر نہیں رکھتے۔ حقائق سے مراد مخصوص علاقہ اور مقام پر جن مسائل سے وہ دوچار ہیں، سیاسی جماعتیں اور ان کے نمائندوں کے ذریعہ انجام دی جانے والی سرگرمی اور نتائج کے اعدادوشمار، ریاستی اسکیمیوں اور ان سے مستفید ہونے والے افراد کا تقابل اور قانون نے جو خصوصی و عمومی اختیارات فراہم کیے ہیں، انہیں اِن منتخب نمائندوں نےکس طرح نظر انداز کیا ، وغیرہ۔ ان کی بنیاد پر فراہم کیے جانے والے حقائق ۔
گزشتہ الیکشن میں برسراقتدار سیاسی جماعت نے اپنے انتخابی منشور میں جو وعدے کیے تھے، مقامی سطح سے لےکر ریاستی سطح تک وہ کس حد تک پورے ہوئے۔ اور جو نہیں ہوئے ، قبل از وقت اس کی وجوہات اُنہیں سے معلوم کرکے ان کے سامنے رکھنے کا عمل بھی اہم ہے۔ ہر مرتبہ الیکشن سے قبل مسلمانوں کو آخر کار اپنے مذہبی وسیاسی رہنماؤں کا منہ تکنا پڑتا ہے۔ یہ رہنما خود حقائق پر مبنی تجزیہ اور کیے گئے وعدوں کی روشنی میں جائزے سے نابلد ہوتے ہیں۔ یا یہ کہیں کہ ان حضرات کا خودجائزے کے عمل سے واسطہ نہیں ہوتا۔ وہ مقامی سطح پر عوامی احساسات ، جذبات اور توقعات سے بھی نا واقف ہوتے ہیں ۔ وہ ان مراحل کو طے کرنے کا کوئی منظم نظام بھی قائم نہیں کرتے۔ لہذا وہ چند بڑے مسائل اورواقعات کو کسی حد تک بحث کا موضوع بنانے کی کوشش توکرتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی ایسا نظام نہیں ہوتا جس کے ذریعہ وہ اپنی بات عوام تک پہنچا سکیں۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ اُن مسائل کو پیش کرنے کا جو طریقہ اختیار کرتے ہیں وہ رائج الوقت برسراقتدار حکومتوں پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ اس لئے جس عجلت، بے توجہی اور تیاری کے بغیر وہ میدان سیاست میں قدم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اس میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔
اس کے باوجود کہ وہ کافی حد تک عوام پر گرفت رکھتے ہیں اور عوام بھی نہ صرف ان سے توقعات رکھتے ہیں بلکہ ان ہی کے ذریعہ اپنے مسائل پیش کرنے اور حل کرنے کی امید یں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ لیکن اس دو طرفہ بے توجہی اور نااہلی کی وجہ سے عموماً ہر مرتبہ ،الیکشن میں یہی صورتحال سامنے آتی ہے۔ مسملان نمائیندگی اور اثر و رسوخ سے محروم رہتے ہیں۔ سیاسی محاذ پر سرگرم عمل سیاسی جماعتیں اور ان کے نمائندے حقیقی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے عمومی مسائل کے حل کے خوب وعدے کرتے اور خواب دکھاتے ہیں۔ ان وعدوں کو عموماً ہر الیکشن میں کامیابی کے بعد نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ چونکہ عوام ان کا محاسبہ نہیں کرتے ، خصوصاً مسلمان ، لہذا وعدے کرنے اور انہیں نظر انداز کرنے کا کھیل جاری ہے۔
گفتگو کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ موجودہ انتخابی نظام میں حد درجہ نقائص موجود ہیں۔ موجودہ نظام میں اقلیتی گروہوں کی تعداد اور حیثیت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ دوسرے اس نظام کی خرابی یہ بھی ہے کہ یہاں سیاسی جماعتیں وقتی مسائل کو زور و شور کے ساتھ اٹھاتی ہیں لیکن حقیقی مسائل دب جاتے ہیں ۔ تیسری خرابی یہ ہے کہ اس نظام کے تحت دولت کا بے تحاشہ استعمال ہی طے کرتا ہے کہ کون کامیاب ہو گا۔ ان تینوں وجوہ کے نتیجہ میں موجودہ دور میں سیاسی نظام میں داخل ہونا، ملک اور اہل ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنا، فلاح و بہبود کے اداروں کو بہتر بنانے اور امن و امان اورقیام وعد ل وانصاف میں جدوجہد کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔اس کی بڑی وجہ موجودہ انتخابی نظام ہی ہے، جہاں دولت اور قوت بازو کا استعمال ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے کرپشن، بے ایمانی اور رشوت خوری اور غنڈہ گردی اور مافیا کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دونوں ہی قسم کے لوگ اب سیاست میں سرگرم ہیں۔ ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جن کے ہاتھ میں ریاست کی باگ ڈور ہے تو وہیں کچھ ایسے جو شراکت داری کا کام انجام دیتے ہیں۔ اس پس منظر میں لازم ہے کہ موجودہ سیاسی انتخابی نظام میں تبدیلی لائی جائے اورموجودہ انتخابی نظام کو متناسب انتخابی نظام سے تبدیل کیا جائے۔
متناسب انتخابی نظام(Proportional Electoral System) کی ہندوستان میں سب سے پہلے جواہر لال نہرو نے حمایت کی تھی۔ نہرو نے مئی 1930 میں اس نظام کو ملک کے لئے سب سے زیادہ مناسب انتخابی نظام قرار دیا تھا۔ آئین ساز اسمبلی میں دو مسلم ارکان، محمد علی بیگ بہادر اور قاضی سید کریم الدین نے کہا تھا کہ اگر اسے اپنا لیا جائے توکچھ خاص پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن کی ضرورت بھی نہیں رہ جائے گی۔ لیکن اُس وقت ڈاکٹر امبیڈکر کا خیال تھا کہ چونکہ ہندوستان کی شرح خواندگی صرف15%فیصد ہے لہذا اُن کے خیال میں متناسب نظام کی تفصیلات کو ناخواندہ عوام پر مسلط کرنا مناسب نہیں ۔ لیکن بعد میں انہوں نے اپنی رائے تبدیل کی۔ 1974 میں جے پرکاش نارائن نے جسٹس تارکنڈے کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی، جس نے ہندوستان کے لئے ملے جلے ارکان پارلیمنٹ والی جرمن متناسب انتخابی نظام کی سفارش کی۔ 1999 میں ہندوستان کے نیشنل لاء کمیشن نے تفصیلی غور و خوض کے بعد سنگل بیلٹ (single ballot)کے ساتھ جرمن متناسب نظام کی حمایت کی۔ 2003 میں مسلم لیگ کے بنات والا نے اور2009 میں کمیونسٹ پارٹی (مارکسوادی) کے سیتارام یچوری نے پارلیمنٹ میں متناسب انتخابی طریقہ کار کو اپنانے کی تجویز پیش کی۔ لیکن یہ دونوں ہی تجاویزنقار خانے میں طوطی کی آواز بن کے رہ گئیں ۔
اس مسلسل سعی و جہد اور اٹھنے والی آوازیں یہ بات واضح کرتی ہیں کہ جو قرارداد 1930میں انتخابی نظام کو اختیار کرنے کی جواہر لعل نہرو نے پیش کی تھی وہ آج بھی اہم ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ آواز پارلیمنٹ میں آخری مرتبہ 8 سال پہلے اٹھائی گئی تھی۔ ارکان پارلیمنٹ اگر اس نظام کے لئے کام کریں تو اسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اس نئے طریقہ انتخاب سے ملک میں مختلف مذہبی ، سماجی ، معاشی اور تہذیبی گروہوں کے مفادات کا تحفظ ممکن ہوگا۔ اِس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ نہ صرف اس نظام کے قیام سے سیاسی میدان میں موجود کرپشن، دولت کا بے تحاشہ استعمال ، غنڈہ گردی ختم ہوگی بلکہ اس سے ملک کے معاشی نظام میں اصلاح کی صورت بھی پیدا ہوگی۔ عام لوگوں کے لیے بھی سیا ست میں داخل ہونا آسان ہو جائے گا۔ ایسے ہی نظام سے امید کی جاسکتی ہے کہ جمہوریت کوبھی بقا حاصل ہو۔ بصورت دیگر موجودہ انتخابی نظام کی اندورنی خامیوں کے نتیجہ میں ملک داخلی طور پر کمزورہوتا رہے گا۔ ضرورت ہے کہ ایک بار پھر فوائد و نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے قیادت آواز اٹھائے اور جمہوریت کو حقیقی معنوں میں جمہور کے حوالہ کیا جائے!