موجودہ عہد فیض کی آواز بن گیا ہے!

فیض صاحب کی شاعری کے بارے میں جیسا میں سوچتا ہوں اور ان کی یادوں کی لہر کو لفظوں میں منتقل کر رہاہوں جو اکثر میرے ذہن کے دروازے پر دستک دیتی رہتی ہیں۔ میرے گھر ایمسٹرڈیم میں ان سے ہوا مکالمہ میری یادوں کی سلیٹ پر جم کر رہ گیا ہے۔ ان کے چہرے پر ذہانت اور ملائمت، محبت اور شفقت اور اس کے ساتھ ساتھ ایک دائمی مسکراہٹ ہر دم سجی رہتی تھی۔

تاریخ کے سفر میں انسانیت کی سرفرازی کیلئے اٹھنے والی آوازیں، انسانیت کو اذیتوں اور تکلیفوں کی دلدل سے نکالنے کے نصب العین پر چلنے والی تحریکیں اور شاعری کبھی نہیں مرتیں اور پھر فیض کی شاعری اور فیض جیسا شعر تو کبھی نہیں مرتا، اس کی ہر دور میں ضرورت رہی ہے اور رہے گی۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ فیض احمد فیض کے سامنے کسی دوسرے کا چراغ نہیں جلتا تھا مگر میرے خیال میں فیض صاحب کی موجودگی میں چھوٹے موٹے چراغ جلے تو سہی مگر روشن نہ ہو پائے۔ فیض نے اردو شاعری کو ایک نیا نسب ہی نہیں دیا بلکہ نئی شریعت کی بشارت بھی دی ہے۔ فیض نے اپنے سرمایہ شعری سے یہ ثابت کیا ہے کہ اشعار کی تخلیق صرف جمالیاتی فعل ہی نہیں ہے بلکہ افادی فعل بھی ہے۔ ان کی شاعری میں جمالیاتی لوازم کے ساتھ ساتھ معنویت اور نفس مضمون کے عناصر بھی ساتھ چلتے ہیں، فیض کی شاعری انسانیت کا پیغام دیتی ہے اور  یہ تزکیہ نفس کیلئے کافی ہے۔

فیض بہت پڑھا لکھا شاعر تھا۔ 1928 میں مرے کالج سیالوٹ کی ادبی تنظیم ’’اخوان الھنا‘‘ کے پہلے طرحی مشاعرے کیلئے فیض نے جو غزل کہی اس کا پہلا شعر تھاِ

لب بند ہیں ساقی میری آنکھوں کو پلا دے
وہ جام جو منت کش جیسا نہیں ہوتا

یہ شاعر کا پہلا شعر تھا جو بے حد مقبول ہوا اور اسی مشاعرے سے فیض کی ادبی شہرت کا آغاز ہوا۔ میرے نزدیک شاعری تمام تر ’’فن‘‘ نہیں ہے کہ اس پر قابو حاصل کرکے کوئی شاعر بن جائے۔ یہ تمام تر ایک مملکت خداداد کی طرح خداداد صلاحیت یا قابلیت بھی نہیں ہے اس کا ایک گہرا رشتہ اور تعلق شاعر کی شخصیت اور اس کی فکری کمٹمنٹ سے بھی ہے۔ فیض صاحب نے کسی جگہ لکھا ہے ’’شاعر یا عام آدمی اس کے لئے زندگی اور موت، جنگ و امن، آسودگی و بھوک، انصاف و ظلم، مساوات اور طبقاتی استحصال، ترقی پسندی اور رجعت پسندی میں انتخاب کرنا ضروری ہے‘‘۔ کوئی بھی شاعر ی پیغمبرانہ نہیں ہوتی چونکہ ادب میں کوئی چیز وحی کا درجہ نہیں رکھتی۔ اسی سبب ادب کو انسانی معاشرے میں بلاتفریق مذہب و ملت قبولیت اور زندگی حاصل ہے اور پھر ادب ایمان کا نام ہے بھی نہیں کہ اس میں اقرار سے انکار کی طرف سفر ہوتا ہے اور ایمان ہے کہ صرف اقرار چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم سب فیض سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔

فیض صاحب عہد جدید کے کلاسک صاحب طرز شاعر ہیں۔ ان کے کلام کی اثر پذیری اور تاثر انگیزی ایک عجیب نمونہ ہے کہ وہ پڑھنے والوں کو متاثر تو بے حد کرتے ہیں مگر ان کے تاثر کی تقلید آسان نہیں بلکہ مشکل تر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا طرز فغاں اور طرز بیاں لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں جاگزیں ہو گیا مگر ان کے بعد آنے والوں میں کوئی  کوشش بسیار کے باوجود ان کی تقلید نہ کر سکا۔ اس امر پر غور کریں تو یہی وہ نقطہ ہے جو سمجھ میں آتا ہے کہ ادب میں استفادہ تو عام طور پر ممکن ہے مگر اس شعبے میں جانشین ایک سراب ہے وہ چاہے احمد فراز ہی کیوں نہ ہو۔ فیض کے سامنے کسی کا چراغ نہیں جل پایا۔ وہ چاہے ن م راشد ہو یا احمد ندیم قاسمی، حجاز ہو، علی سردار جعفری ہو یا کیفی، فیض اپنے عہد کی آواز ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم سب فیض کے عہد میں جی رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں فیض کی ہمہ گیر مقبولیت، شہرت، عزت اور چاہت کے باعث ان کے معاصر شعرا پر کم کم توجہ دی گئی ہے۔ جہاں تک احمد ندیم قاسمی کا تعلق ہے وہ نہ تو اتنے بڑے شاعر تھے کہ ان کو اپنے عہد میں اس قدر مقبولیت حاصل ہوتی اور نہ ہی اتنے غیر اہم شاعر تھے کہ ا ن کو یکسر نظرانداز کر دیا جاتا جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔

معاصر سے یاد آیا کہ سابق کارکن جماعت اسلامی عطا الحق قاسمی کے جریدے ’’معاصر‘‘ میں فیض صاحب کے حوالے (یا مخالفت) سے احمد ندیم قاسمی کا ایک انٹرویو شائع ہوا تھا۔ شاید آپ نے بھی پڑھا ہو۔ اسے پڑھنے کیلئے ہر قاری کو اپنی ناک پر رومال رکھنا ہوگا کہ ’’بو‘‘ کی شدت جہاں دوسروں نے محسوس کی وہاں میں نے بھی کی۔ عجیب اتفاق ہے کہ فیض احمد فیض اور فیض شکل (احمد ندیم قاسمی) کا تعلق ماہ نومبر سے ہے۔ فیض کی وفات 20 نومبر کو ہوئی تو احمد ندیم قاسمی کی پیدائش کا تعلق بھی 20 نومبر ہی سے ہے۔ فیض کے باب میں کچھ کہنا تو سورج کو چراغ دکھانا ہے البتہ قاسمی صاحب زندگی بھر اپنے گوناگوں نظریات اور بہت زیادہ نظرانداز کئے جانے پر سیخ پا ہوتے رہتے تھے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ اس کیلئے وہ خود بھی بڑی حد تک ذمہ دار تھے۔ دوسروں کو برا بھلا کہہ کر (وہ بھی فیض جیسے شاعر کو) برا بھلا سننا ہی پڑتا ہے جو سلسلہ ان کی وفات کے بعد بھی جاری ہے۔ ہماری تہذیبی روایات کے مطابق بعد مرگ یہ سلسلہ موقوف ہو جاتا ہے اگرچہ احمد ندیم قاسمی نے فیض کے بعد از مرگ بھی یہ سلسلہ جاری رکھا تھا اس لئے کوئی بھی شخص یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ قاسمی کی آنکھیں بند ہو جانے پر بھی یہ سلسلہ رک پائے گا۔ مجھے بہرحال یہ نہیں دیکھنا کہ احمد ندیم قاسمی کے بارے میں کس نے کیا کہا اور کون کیا کہہ رہا ہے۔  قاسمی صاحب کا المیہ یہ تھا کہ وہ شعوری یا لاشعوری طور پر خود کو فیض کے ہم پلہ سمجھتے تھے اور دوسری وجہ ان کی فکر کی بلندی اور حوصلوں کی پستی نے انہیں نفسیاتی مریض بنا دیا تھا۔ یوں وہ تنہا جئے اور تنہا ہی اس دنیا سے سدھار گئے اور قصہ پارینہ بن گئے۔

آل احمد سرور نے لکھا ہے ’’فیض صاحب طرز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باشعور شاعر بھی ہے اور اب کم از کم برصغیر کی حد تک تو کوئی دوسرا شاعر نہیں ہے‘‘۔

اثر لکھنوی کا کہنا ہے کہ فیض احمد فیض کی شاعری ترقی کے مدارج طے کرکے اس نقطہ عروج پر ہے جہاں تک شاید ہی کسی دوسرے ترقی پسند اور کمیٹڈ شاعر کی رسائی ہو‘‘۔

فیض کی شاعری ابتدا کا انتہا اعجاز ہے اگر بذات خود فیض پر نزول آغاز ہے تو انتہا یہ ہے کہ حرف مبین کے عجائب آج لگ بھگ تین دہائیوں کے بعد بھی برقرار ہیں اور آئندہ بھی اس کے تمام ہونے کے ہلکے سے بھی آثار نظر نہیں آتے۔ بلکہ ماضی میں اس کی شاعری کی تفسیر و تشریح بھی ہوتی رہی ہے، آئندہ بھی ہوتی رہے گیِ

کوئی ساعت، کوئی لمحہ، کوئی پل اپنا نہیں
وقت شاید پھنس گیا ہے دشمنوں کے درمیاں