کراچی ٹریفک میں ارزاں انسانی زندگی

انسان نے ترقی کےلئے سب سے پہلے وقت کو لگام ڈالنے پر کام کیا اور وقت کے استعمال کو اہمیت دی۔ یعنی کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کام کیا جاسکے۔  جہاں انسان نے وقت کو قید کرنے کی کوششیں کی وہیں ان کوششوں کے کچھ منفی اثرات بھی عیاں ہونا شروع ہوئے۔ کیونکہ میرا موضوع ذرائع آمد و رفت ہے اس لئے ہم  بس، ویگن، کار، ٹرک، رکشہ، ٹیکسی، موٹر سائیکل اور سائیکل کی بات کریں گے۔

مذکورہ ذرائع آمد و رفت کا مطلب صرف بطور سواری نہیں ہے۔ کمرشل گاڑیوں کو نکال دیں جن میں ٹرک کی تمام اقسام، پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ہمارے ملک میں تمام شہروں کی سڑکیں کم و بیش ایک جیسی ہی ہیں۔ لیکن کراچی کی حالت شاید پاکستان کہ تمام بڑے شہروں میں سب سے ابتر ہے۔ ایک طرف یہ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور دوسری طرف ان پر دندناتا گاڑیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا رش۔ یہ بھی قابلِ برداشت ہوسکتا ہے اگر اس میں کوئی نظم و ضبط ہو۔  ٹریفک کی صورتحال دیکھ کر تو ٹریفک پولیس والوں پر رحم آتا ہے جو اپنی بے بسی کے سبب ٹریفک کے اژدہام میں ایک کنارے کھڑے نظر آتے ہیں اوران کے آلودہ چہروں پر بہت آسانی سے پڑھا جاسکتا ہے کہ یہ ہمارے ملک کے پڑھے لکھے جاہلوں کی طویل قطاریں ہیں جو جلد سے جلد اپنی منزل کی جانب پہنچنا چاہتے ہیں۔ کبھی کبھار یہ قطاریں گھنٹوں لگی رہتی ہی۔ں ان قطاروں کے لگنے کی وجہ بھی ہم لوگ ہی ہوتے ہیں جو آڑی ترچھی گاڑیاں پھنسا لیتے ہیں۔ ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ کتنا ایندھن ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔ اس ٹریفک  جام ہونے کی وجہ سے ایمبیولینس بھی اپنی منزلِ مقصود پر پہنچنے سے قاصر رہتی ہیں اور معلوم نہیں کتنے مریض  ان لمبی لمبی قطاروں میں اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

ہمیں بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم سب ایک جیسے ہی ہیں، کوئی کتنا ہی پڑھا لکھا کیوں نہ ہو ٹریفک کے قوانین کی پاسداری کو اپنے لئے جرم سمجھتا ہے۔ جھڑکنے میں، ایک دوسرے کو لعن طعن کرنے میں اور کہیں کہیں تو مارپیٹ کرنے میں بھی ہم بالکل ایک جیسے ہیں۔ ایک وہ جو سوٹ بوٹ میں بڑی چمکتی اور ٹھنڈی گاڑی میں سوار ہے اور دوسرا وہ جو اپنی شور مچاتی موٹر سائیکل یا پھر کار میں بیٹھا ہے جب کسی بات پر اڑ جائیں گے تو دونوں کا مزاج ایک جیسا ہی معلوم ہوگا۔ ہم سب ٹریفک کے معاملے میں ایک جیسے ہیں بس ذرا سی جگہ ملنی چاہئے۔

کار یا پھر اس سے کوئی بھی بڑی گاڑی چلانے یا بیٹھنے والے کسی حد تک محفوظ ہوتے ہیں۔ اگر کوئی خطرہ ہوتا بھی ہے تو گاڑی کو نقصان پہنچنے کا ہوتا ہے۔ مگر ہم سب اس بات سے بھرپور اتفاق کریں گے کہ موٹر سائکل وہ سواری ہے جسے خطرناک ترین سواری کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس سواری کی مثال خربوزے کی سی ہے جیسے چاہے خربوزہ چھری پر گرے یا چھری خربوزے پر نقصان خربوزے کا ہی ہوتا ہے۔ ہم اور ہمارے وہ تمام دوست احباب اپنے آپ سے یہ وعدہ کرلیں کے ہم کم از کم موٹرسائیکل بہت محتاط انداز سے چلائیں گے۔ زندگی ایک ایسی نعمت ہے جس سے لطف اندوز ہونا چاہئے۔ اور اس کی قدر اور اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔ ہماری زندگیاں صرف ہماری نہیں ہوتیں، ان پر ہمارے خاندان والوں کا بھی حق ہوتا ہے۔ ہماری ذرا سی جلد بازی ہمارے پیاروں پر بجلی بن کے گرتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں، اپنے والدین  اور اپنے تمام چاہنے والوں کا خیال کرنا چاہئے۔ گاڑی ہو  یا کوئی دوسرا ذریعہ آمد و رفت،  جلد بازی سے پرہیز میں ہی عافیت ہے ۔ ہمیشہ یاد رکھئا چاہئےکہ دیر سے پہنچنا کبھی نہ پہنچنے سے بہتر ہے۔

اربابِ اختیار سے بھی گزارش ہے کہ وہ گاڑیوں کی خریدو فروخت پر بھی دھیان دیں اور لائنسس اور دیگر کاغذات کو لازمی قرار دیں۔  شاید ان اقدامات کی بدولت ٹریفک کے حالات میں کوئی خاطر خواہ بہتری ہوسکے۔