محبت کا دن

14 فروری  کو دنیا محبت کے دن کے طور پر مناتی ہے۔  اس دن کو ویلنٹائن ڈے  کہا جاتا ہے۔ میری کم علمی آڑے آتی ہے اور میں اس دن کے حوالے سے کچھ زیادہ نہیں جانتا۔ ویسے بھی اس حوالے سے مختلف روایات ہیں جن میں زیادہ قریب قیاس یہ ہے کہ یہ 2 عیسائیوں کی یاد میں شروع ہوا تھا جن میں ایک پادری اور دوسرا بشپ تھا۔ زیادہ مشہور بشپ ہے جس کا نام ویلنٹائین  تھا۔  اس نے ایک بادشاہ Claudius ii  کی نافرمانی کی تھی جس کی پاداش میں اسے پہلے جیل میں ڈال دیا گیا اور بعد میں پھانسی دے دی گئی۔  اس نے پھانسی سے پہلے اپنی محبوبہ یا بیوی کو ایک محبت نامہ لکھا تھا جس کے آخر میں لکھا تھا آپ کا  ویلنٹائن۔ 

دوسری روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اس  دن سے پرندوں کی جوڑیاں بننا شروع ہوئی تھیں۔ کچھ کا خیال یہ بھی ہے کہ فروری کا مہینہ شجرکاری کا مہینہ ہے اس میں پھل پھول لگتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے کی ابتدا 16 ویں صدی سے ہو گئی تھی جو شروع میں انگلینڈ اور فرانس میں منایا جاتا تھا لیکن بعد میں بیشتر ممالک میں منایا جانے لگا۔  اب سب سے زیادہ اہتمام سے امریکہ اور یورپ میں منایا جاتا ہے۔ اس دن لوگ اپنے پیاروں کے لیے تحفے تحائف، پھول اور میٹھی چیزیں خریدتے اور دیتے ہیں۔ 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق صرف امریکہ میں تقریبا 19 ارب ڈالر کے تحائف،  پھول،  کارڈز اور کھانے پینے کی چیزوں پر خرچ کئے گئے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس دن کی اہمیت اور مقبولیت کیا ہے۔

اب ہم  آتے ہیں اپنے وطن عزیز کی طرف جہاں اس دن کی وبا بیسویں صدی سے شروع ہوئی اور ابھی تک حسب روایت اس دن کے حوالے سے بھی ہم  تقسیم کا شکار ہیں۔ دو مختلف انتہاؤں پر کھڑے ہیں۔ مزید لکھنے سے پہلے میں یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے ذاتی طور پر کبھی اس دن کو نہیں منایا۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مجھے کسی سے کبھی محبت نہیں ہوئی میں نے محبتیں بھی کی ہے اور شادی بھی۔ لیکن  میں ان لوگوں میں سے ہوں جو سال میں 365 دن محبت کرتے ہیں اور کبھی کسی بھی حالت میں کسی سے بھی نفرت نہیں کرتے۔ پھر ایک مخصوص دن محبت کے نام کیوں کروں۔  میں ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہوں جو ویلنٹائن ڈے کاپورے خشوع سے اہتمام کرتے ہیں۔ مجھے اپنے پاکستانیوں کی سمجھ نہیں آتی کہ وہ دنیا کے ہر معاملے میں بلاوجہ ٹانگ کیوں اڑاتے ہیں اور ہر مسلے کو گہرائی میں سمجھے  بغیراسے کیوں  اپنی انا یا عزت بے عزتی کا مسئلہ بنا کر دوسروں پر لعن طعن اور سنگ باری کیوں شروع کر دیتے ہیں۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ویلنٹائن ڈے کے مخالف لوگوں نے کیسے کیسے گل کھلا رکھے ہیں اور طعنہ زنی میں دوسروں کی ماؤں اور بہنوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ پاکستانیوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ ترقی یافتہ ممالک بالخصوص یورپ اور امریکہ کی نقل کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ان کو نہ تو اپنی روایات پسند ہیں اور نہ ہی اپنے ملک کی تعلیم، نہ ملکی پیداوار کو سراہتے ہیں اور نہ کوئی اپنا فیشن ہے۔ ہر غیر ملکی چیز اور فیشن کو بڑے فخر سے اپناتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ہر بات پر ان کی غیرت بھی سب سے زیادہ جوش مارتی ہے۔ ستم در ستم یہ کہ ترقی یافتہ ممالک کی اچھی عادات اور خوبیوں سے مکمل اجتناب برتیں گے اور ان کی غیر مہذب اور غیر ضروری روایات کو فوری اپنا لیتے ہیں۔  مذہب کے ٹھیکیدار لاٹھیاں اٹھا کر اپنی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمودار ہوتے ہیں اور اغیار کی سازشوں کی بو سونگھتے عجیب و غریب آوازیں نکالنا شروع کر دیتے ہیں۔  آج کے دن کو ہی لے لیں، جو پاکستانی یہ دن منانے کا اہتمام کر رہے ہیں، ان کو اس کی تاریخ تو یاد ہے مگر اس کا تاریخی پس منظر پتہ نہیں اور نہ ہی محبت کے مطلب سے واقفیت ہے۔ بس اندھا دھند دوسروں کی تقلید پر فخر ہے۔ اور اسی طرح اس دن کی مخالفت کرنے والے بغیر کسی تحقیق کے لاٹھیاں لے کر یورپ اور امریکہ کو کوسنے دے  رہے ہیں۔

اگر کوئی محبت کا دن منانا چاہتا ہے تو کسی کو کیا تکلیف ہے۔  جب تک اس دن کو منانے والے اپنے ملک کے اور اسلام کے کسی قانون و قاعدے کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہوتے۔  ایک طرف انگلینڈ کے انگریزوں کے کھیل کرکٹ کا پورا ملک دیوانہ، یورپین اور امریکی اشیاء  کے حصول کی خاطر  ہر اصول کی خلاف ورزی پر تیار، ان ممالک میں داخلے کے لیے تمام جمع پونجی کے ساتھ اپنی جان بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں تو دوسری طرف اگر ان کی کسی روایت یا دن کو کچھ لوگ منانا چاہیں تو اس  کی اس قدر شدید مخالفت کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔  آج کے دن کے حوالے سے ایسے ایسے طعنے دیئے جا رہے ہیں جن میں سب سے زیادہ یہ کہ جو یہ دن مناتے ہیں اور اپنی محبوباؤں کو تحفے دیتے ہیں اگر ان کی بہنوں کو کوئی اسی طرح تحائف یا پھول دے تو کیا ہو۔ انسان کو کوئی بات کرنے سے پہلے کچھ سوچ لینا چاہیے۔ اب اگر ان لوگوں سے یہ پوچھا جائے کہ کیا کسی کی کوئی بہن ایسی بھی ہے جو شادی نہیں کرنا چاہتی یا اس کے لیے محبت کرنا منع ہے۔ جن ممالک نے ویلنٹائن ڈے کی روایت اپنائی ہے ان ممالک میں شاید ہی کوئی ایسا مرد ہوگا جو خود تو سب کچھ کرتا پھرے اور اپنی بہنوں پر قدغن لگا ئے یا ان کو برقعے کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ دے۔ اگر پاکستانیوں کے نزدیک محبت کا مطلب بےحیائی اورسیکس ہی ہے تو وہ پہلے خود اپنی اصلاح کر لیں تو بہتر ہوگا۔ کیوں کہ کسی بھی تہذیب کی شکل بگاڑ کر اس پر لعن طعن شروع کرنا کسی کو زیب نہیں دیتا۔

محبت آپ اپنی بیوی یا ہونے والی بیوی سے بھی کرتے ہیں جس پر اسلام منع کرتا ہے نہ پاکستان کا قانون قدغن لگاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ محبت کے نام پر یا  محبت کے دن کی آڑ میں آپ اور گل کھلاتے رہیں۔ ہمارے ہاں تو لوگوں کی غیرت اور عزت اپنے خاندان کی خواتین کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔ جیسا کہ وہ انسان نہیں بلکہ مردوں کی ملکیت ہیں۔ ایک طرف تو ہم مسلمان دوسرے مسلمانوں کے بھائی اور بہن ہیں اور دوسری طرف ایک لمحے کے لیے بھی اپنی بہن کو اکیلا چھوڑنے یا دوسرے مرد سے بات کرنے سے بھی گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں۔ کیا یہ بھی کھلا تضاد نہیں ہے۔ 

پیارے ہم وطنو پہلے اپنی اپنی منجھی تھلے ڈانگ پھیرو پھر اپنی روایات کو روشناس کرو، اپنی پیداوار میں خود کفیل بنو، عالمی برادری میں اپنا مقام پیدا کرو، اس قابل بنو کہ دنیا آپ سے فائدے اٹھا سکے۔ ابھی کل کی بات ہے میں نے اپنے مالی سے لان میں نئی گھاس لگانے کا کہا تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ کوریا کی گھاس لگوانی ہے یا ڈھاکہ کی۔ ان دونوں کی قیمت میں بہت  فرق ہے۔ میں نے پوچھا کہ پاکستان کی کوئی گھاس نہیں یا پھر گھاس کے بیج مل جائیں تو اس نے کہا کہ پاکستان کی کوئی گھاس نہیں اور نہ ہی گھاس کے بیج ملتے ہیں۔ یہ تو حالت ہے۔ خربوزے چائنیز بک رہے ہیں اور باجرے کا بیج انڈیا کا۔ ٹماٹر کے بیج ہم ترکی سے لاتے ہیں۔  اے میرے ہم وطنو اپنے اندر قومی غیرت کا بیج بھی بولو اور خود بھی اپنی حالت بدل لو۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہیں تو پھر گھاس، خربوزے، بیج اور کرکٹ کے ساتھ ویلنٹائن ڈے کو بھی خوش آمدید کہو۔

تاہم  اس دن کو اس طرح منایا جائے کہ حدود سے تجاوز نہ ہو۔  اپنے دین اور وطن کو شرمندہ نہ کیا جائے۔ بلکہ اغیار کی روایات میں بہتر تبدیلی لا کر اسے خوبصورت بنا ئیں۔ اغیار نے آپ کو کمپیوٹر دیا ہے آگے آپ کی مرضی ہے کہ اس کے جائز استعمال سے فائدے اٹھائیں یا اس کے ناجائز استعمال سے تباہی کو آواز دیں۔