میرا الیکشن: 10فروری 1972
- تحریر باصر کاظمی
- جمعرات 16 / فروری / 2017
- 4755
انتخابی مہم
میرے دوستوں کا حلقہ انتہائی محدود تھا۔ میں نے گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین کی سیکرٹری شپ کے لیے اپنی انتخابی مہم شروع کی تو کسی نے بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ سب یہ سوچ رہے تھےکہ میں کسی مرحلے پر کنارہ کش ہو جاؤں گا۔ پاپا کوالیکشن میں حصہ لینے کا بتایا تو انہیں نے سختی سے یہ ارادہ ترک کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے میری پڑھائی میں بہت حرج ہوگا ۔ انہیں یہ بھی تشویش تھی کہ ملکی سیاست اور سیاسی جماعتوں کے تعلیمی درسگاہوں میں بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث میں کسی جھمیلے میں نہ الجھ جاؤں۔ لیکن میں اپنی ضد پہ اڑا رہا۔
دراصل ہوا یوں تھا کہ ہمارے انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں معاشیات کے پرچے کے دن، طلبہ کی اکثریت کی خواہش کے برعکس، چند غیر سنجیدہ طلبہ کے مطالبے پر ینگ سٹوڈنٹس یونین کے صدر پرویزبیگ نے بائیکاٹ کرادیا۔ پرچہ منسوخ ہوا اورہمیں نہ صرف دوبارہ امتحان کا کشٹ اٹھانا پڑابلکہ دوسرا پرچہ پہلے سے بھی زیادہ مشکل نکلا۔ اس تجربے نے ہم دوستوں کاا اندازِ فکر بدل دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اگر ہم سیاسی عمل سے لاتعلق رہیں تو اختیار ایسے فرد یا گروہ کو مل سکتا ہے جو ہماری زندگی اجیرن کر دے۔ چنانچہ موردِ الزام تقدیر کو نہیں بلکہ خود کو ٹھہرا نا چاہئے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ اگلے الیکشن میں کوئی اپنا امیدوار میدان میں اتاراجائے۔ جب اگلا الیکشن ، جو نسبتاً کہیں بڑا الیکشن تھا، قریب آنے لگا تو یکے بعد دیگرے ہمارے دو امیدوار ذاتی وجوہ کی بنا پر کنارہ کش ہو گئے۔ایک دن مجھے خیال آیا کہ میں خود کیوں نہ میدان میں اتر جاؤں، آخر سکول میں جناح گروپ کا منتخب سیکرٹری اور پھر صدر رہ چکا تھا، گزارے لائق تقریر کر لیتا تھا، وغیرہ وغیرہ ۔
اب صورتِ حال یہ تھی کہ بائیں بازو کی تنظیمیں، این ایس ایف اور پی ایس ایف بشارت اللہ امجد کو، جو یونین کا اسسٹنٹ سیکرٹری تھا، تیار کر رہی تھیں۔ اسلامی جمعیتِ طلبہِ نے صدر یونین میر اعجازالحق کے بھائی میر اکرام الحق کا انتخاب کیا۔ چند روز مہم چلانے کے بعد یا تو وہ خود دستبر دار ہو گیا یا پھر جمعیت نے اسے ڈراپ کر دیا۔ دیگر دو امیدوار سلیم شیخ اور عابدحفیظ انقلابی تھے جو میری طرح سیاسی غیر وابستگی کی بنیاد پر انتخاب میں حصہ لے رہے تھے۔۔ اول الذکر ہوسٹل میں رہتا تھا اور اس کا ذاتی حلقہء احباب بہت وسیع تھا جبکہ موخرالذکر ایک اتھلیٹ اور دلچسپ شخص ہونے کی وجہ سے مقبول ہو رہا تھا۔
ناصِر کھوسہ کا امیدوار بننا
ایک دوپہر، جب میں ہوسٹل پہنچا توڈیوڑھی میں موجود چند لڑکوں میں سے ایک نے کہا:’’حضور، کیا لینے آئے ہیں آپ؟ اب یہاں آپ کے لیے کچھ نہیں رکھا۔‘‘
’’کیا ہوا، میں نے ایسا کیا کر دیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’آپ نے تو کچھ نہیں کیا لیکن ادھر ناصِر کھوسہ میدان میں آگیا ہے۔‘‘
یہ خبر میرے لیے واقعی ایک دھچکے سے کم نہیں تھی۔ ناصِر کا بڑا بھائی، طارق کھوسہ اور چھوٹا بھائی آصف کھوسہ ہوسٹل میں مقیم تھے۔ ان کے دوستوں کا حلقہ بھی وسیع تھا اور سابقہ امتحانات میں اعلی کار کردگی کی بنا پر ان کا بہت احترام بھی کیا جاتا تھا۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ جمعیت بھی ناصِر کی حمایت کر رہی تھی۔ مجھے رہ رہ کے احساس ہونے لگا کہ میں اپنا وقت ضائع کر رہا تھا لیکن صرف یہ سوچ کے دستبردار ہونے سے باز رہا کہ وہ لڑکے سچے ثابت ہو جائیں گے جو یہ کہتے تھے کہ دیکھ لینا یہ ایک دن بیٹھ جائے گا۔ معلوم ہوا کہ ساتھیوں کی حوصلہ افزائی سے زیادہ طعنہء اغیار زیادہ قوت بخش ہوتا ہے۔ ہوسٹل میں میری ایک پرانی مشغولیت کامن روم میں کیرم بورڈ، شطرنج اور تاش کھیلنا رہی تھی۔ کھیل کے کچھ ساتھیوں نے کہا کہ وہ مجھے ووٹ دیں گے، اگرچہ اب کھُل کے حمایت کرنا ان کے لیے مشکل تھا۔ مشاغل، بالخصوص کھیلوں ،کا یہ فائدہ تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔
جگتو فرنٹ
مختلف دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے دس بارہ کا لڑکوں کا یہ گروپ، جگتو فرنٹ کہلاتا تھا۔ پتا چلاکہ یہ لوگ ناصِر کی، مذاق میں کہی گئی، ایک پرانی بات سے قدرے دل فگار تھے اوراس کے کسی مخالف امیدوار کا انتخاب کرنا چاہتے تھے۔ ان میں سے دو ایک میرے کامن روم کے شناسا تھے ۔ فرنٹ کا فیصلہ میرے حق میں ہوا۔ میرا چھوٹا بھائی حسن سالِ سوم میں تھا اور اس کے ہم جماعتوں کا ایک گروپ بھی ہمارے ساتھ آ ملا۔
ناصِر کھوسہ کی دستبرداری
سو میرے قدم کچھ جمنا شروع ہو گئے۔ پھر وہ ہوا جس کی مجھے قطعاً توقع نہ تھی۔ کالج پہنچا تو گیٹ پہ ہی خبر ملی کہ ناصِر نے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ اتنی اچھی خبر تھی کہ سچی نہیں لگ رہی تھی، کسی دشمن کی اڑائی ہوئی معلوم دیتی تھی۔ لیکن جلد ہی اس کی تصدیق ہو گئی، ایک قائل کرتی ہوئی ٹھوس وجہ کے ساتھ۔ ناصِر کو مشورہ دیا گیا تھا، اور اُس نے خود بھی سوچا ہو گا، کہ الیکشن کے نتیجے میں تعلیمی پوزیشن ہاتھ سے جائے گی۔ اِس لحاظ سے اُس کا فیصلہ درست تھا۔ چند ماہ بعد ہونے والے بی اے کے امتحان میں وہ یونیورسٹی بھرمیں اول آیا ۔ میں فرسٹ ڈویژن بھی نہ لے سکا: اس دن کو ہی کہے تھا اکثر پدر ہمارا۔
اسلامی جمعیتِ طلبہ کے ووٹ
باالآخر اسلامی جمعیتِ طلبہ نے فیصلہ کیا کی اُس سال صدر کے انتخاب پہ تو جہ مرکوز کریں اور سیکرٹری شپ کے لئے بائیں بازو کے امیدوار کے اُس مخالف کو صرف ووٹ دیں جس پہ وہ کم از کم یہ بھروسہ کر سکیں کہ وہ ان کے اراکین کو کالج کی سرگرمیوں میں مساوی حصہ دلائے گا اور اگر ا ن کا صدر منتخب ہو جائے تو اس کے ساتھ ہم آہنگی کا مظاہرہ کرے گا۔ عابد حفیظ کے ساتھ ’انقلابی‘ کا لقب گویا ’خطرے کی گھنٹی‘ جیسا تھا، لہذا جمیعت کو اپنے ووٹ یا شیخ سلیم کو دینے تھے یا مجھے۔ صدارت کے لیے جمیعت اشرف عظیم کی حمایت کر رہی تھی جو شاعر تھا، ’راوی‘ کا مدیر تھا (میں نائب مدیر تھا) اورمیرا مشاعروں کا ساتھی تھا ۔ ہم کئی معاملوں میں ہم خیال بھی تھے۔ اختلاف تھا تو یہ کہ وہ نون میم راشد کو زیادہ بڑا شاعر سمجھتا تھا اور میں فیض احمد فیض کو۔ جمیعت کا ایک بہت فعال رکن راشد فارانی میرے دوست ساجد علی کا دوست تھا۔ راشد کا بھائی طارق فارانی میوزک سوسائٹی کا صدر تھا جس سے میں نے ہارمونیم کے ابتدائی سبق لیے تھے۔ یہ سارے عوامل جمیعت کے بیشتر ووٹ میرے حق میں لے آئے۔
پی ایس اوکی حمایت
بائیں بازو کی تیسری تنظیم، پی ایس او میں میرے کچھ دوست تھے جو میرے ساتھ آنا چاہتے تھے لیکن کہتے تھے کہ جو تنظیم کا فیصلہ ہوگا انہیں تسلیم کرنا پڑے۔ تنظیم کی مجلسِ عاملہ نے، جس میں دیگر کالجوں کے کچھ طلبہ بھی تھے، میرے سیاسی رحجانات کے بارے میں تفصیلی جرح کے بعد میری حمایت کا فیصلہ کیا۔ شاید ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ جمیعت اور پی ایس او کے ارکان ایک ہی میدوار کو ووٹ دے رہے تھے۔
بائیں بازو کی تینوں تنظیموں کا صدارتی امیدوار محمود اعوان تھا جو کالج گزٹ کا سابق مدیر ، ایک بوائے سکاؤٹ اور ایک نمایاں راوین تھا ۔ ایک تیسرا امیدوار ، ہاکی کا نمایاں کھلاڑی رانا احتشام ربانی شامی بھی تھا جو سیاسی وابستگیوں سے بے نیاز، اپنے ذاتی تعلقات کے بھروسے پر میدان میں اترا تھا۔ آغاز میں اس کی حمایت کا دائرہ کھلاڑیوں تک محدود نظر آتا تھا لیکن پھر بہت سے لبرل طلبا اس کے ساتھ آنے لگے۔ محمود کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ شامی ایک spoiler تھا جو ان کے ووٹ خراب کررہا تھا لیکن جب شامی کے حمایتیوں میں اضافہ ہوتا گیا تو اُس کے ساتھی کہنے لگے کہ محمود اُن کے ووٹ توڑ رہا تھا۔ ایک بات واضح تھی؛ صدارتی انتخاب کے لئے ترقی پسند اور لبرل ووٹ تقسیم ہو رہے تھے۔
’طاقت‘ کا مظاہرہ
الیکشن کے قریب پہنچ کے دیگر امیدواروں کے حامیوں نے جلوس نکال کے اپنی ’قوت‘ کا مظاہرہ کیا تو ہمیں بھی اس کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کسی امیدوار کے حق میں دل سے قائل ہونے کے باوجود ووٹریہ دیکھتے ہیں کہ ان کا ووٹ ضائع تو نہیں ہو جائے گا۔ آپ جیت بھی رہے ہوں لیکن اگر جیتتے ہوئے نظر نہ آئیں تو ہار جاتے ہیں۔ ہارتے ہوئے کا کوئی ساتھی نہیں ہوتا۔ دوستوں نے دوستوں سے کہا اور ہمارا جلسہ توقع سے کہیں زیادہ بڑا ہوا۔ پھرہم نے جلوس کی صورت میں کالج کا چکر لگایا۔ اس کے بعد کئی طلبہ نے کھل کے کہنا شروع کر دیا کہ وہ مجھے ووٹ دے رہے تھے۔
الیکشن کا دن
اشرف عظیم ساڑھے تین سو ووٹ لے کر صدر منتخب ہوا جبکہ محموداعوان نے اس سے صرف پانچ ووٹ کم لئے۔ رانا احتشام نے واقعی سرپرائز دیا اور تین سو سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ مجھے ، بشارت ، سلیم شیخ اور عابد حفیظ کو بالترتیب، ساڑھے چار سو ، ڈھائی سو، ڈیڑھ سو اور سوا سو کے قریب ووٹ ملے۔ مجھے نو منتخب صدراشرف عظیم سے ایک سو ووٹ زیادہ ملنے کی وجہ یہ تھی کہ پی ایس سو کے اراکین سمیت بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والے متعدد طلبہ میری حمایت کر رہے تھے۔ اس کا ایک سبب ہمارے خاندان کی پیپلز پارٹی سے وابستگی تھی۔ میری والدہ 1970کی انتخابی مہم میں ہمارے حلقے (95) میں پارٹی کے خواتین ونگ کی انچارج تھیں۔
دو دو چھٹیاں
نتائج کے اعلان کے بعد، حسبِ روایت ، نو منتخب صدر نے پرنسپل صاحب کی اجازت سے اگلے دن چھٹی کا اعلان کیا۔ اگلا دن جمعہ تھا۔ ہاسٹل کے طلبہ نے سوچا کہ اگر ایک چھٹی اور مل جاتی تو اتوار کو شامل کرکے انہیں گھر جانے کے لئے تین دن مل جاتے۔ سو انہوں نے ’’ایک اور، ایک اور‘‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ پرنسپل ، ڈاکٹر محمد اجمل صاحب، بس مسکراتے رہے۔ اچانک دو تین طلبا نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ ایک چھٹی صدر نے کرائی تھی، ایک سیکرٹری کرائے۔ میں نے ڈاکٹرصاحب کی طرف دیکھا ، انہوں نے شفقت سے سر اثبات میں ہلا دیا۔ یہ ہماری یونین کا پہلا مطالبہ تھا جو منظور ہوا۔
داتا دربار حاضری
ہمارے ہاں ایک روایت رہی تھی کہ الیکشن میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کے حامی انہیں کندھوں پہ اٹھا کے ڈھول کی تھاپ پہ رقص کرتے ہوئے داتا دربار تک لے جاتے اور وہاں پھول چڑھاتے۔ ایسا اُس دن بھی کیا گیا۔
طلبا کا ہسپتال پہ ’دھاوا‘
پاپا میو ہسپتال میں داخل تھے۔ جلوس کے ایک بڑے حصے نے انہیں یہ خوشخبری سنانے کا پروگرام بنایا۔ ہم وہاں پہنچے تو اس ہجوم کو دیکھ کے ہسپتال کا عملہ گھبرا گیا۔ وہ سمجھے کہ شاید کوئی سانحہ ہو گیا تھا جس پہ احتجاج کے لئے یہ طلبہ اکٹھے ہو گئے تھے۔البرٹ وکٹروارڈ کے کوریڈور طلبا سے بھر گئے۔ پاپا بہت خوش تھے۔ رات کو انہوں نے ڈائری میں لکھا: ’’ باصِر سیکرٹری (گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین ) ہو گیا۔ شام کو ایک جلوس کی شکل میں میری عیادت کو آیا۔۔۔۔ مطلع ابر آلود۔ انتظار اور احسن آئے۔‘‘ سوموار کو میں کالج پہنچا تو میرے دوست خلوص کے ہار لئے میرے منتظر تھے۔
(زیرِ اشاعت کتاب، ’ایک شاعر کی سیاسی یادیں‘ سے اقتباس)